Raheel Qureshi Today's Columns

قیام پاکستان کا درخشندہ ستارہ بابائے صحافت از راحیل قریشی ( اٹھو جاگو )

Raheel Qureshi
Written by Raheel Qureshi

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بھجایا نہ جائے گا

بابائے اردو صحافت مولانا ظفر علی خان کی ایک جدمسلسل اور قربانیوں کی لمبی داستان رقم کرنے والے قیام پاکستان کے مجاہد جن کی خدمات کردار گر انقدر کی نگاہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور جدوجہد آزادی کی تاریخ کا انمول باب ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا المیہ کہ بات قیام پاکستان کے درخشندہ ستاروں کی ہو یا،پاکستان میں رہنے والے محسنوں کی ہم ایک ایک کر کے ان کی خدمات کو، کاوشوں کو فراموش کرتے جا رہے ہیں حالانکہ جو قومیں اپنی ہیروز، محسنوں کو ایک ایک کر کے بھول جاتی ہیں وہ زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔آج وطن عزیز کے کسی بھی طالب علم کوکھڑا کر کے مولانا ظفر علی خان مرحوم کے متعلق پوچھے تو اس کا جواب سکوت ملے گا اور ذمہ دار ہمار ا تعلیمی نظام ہے جو نصاب میں ان ہیروز کی دن،رات چوگنی کی کئی گئی کاوشوں کو اہم ہی نہیں سمجھتے۔18جنوری کو سیالکوٹ کے دیہات مہر تھ میں پیدا ہونے والے مولانا ظفر علی خان کی صحافتی، سیاسی اور شاعری ان کے غیر معمولی دماغی صلاحیتوں، تحریک حریت میں انکے جرات مندانہ کردار، ان کا اردو صحافت میں خود ایک دبستان اور درسگاہ کی حیثیت اختیار کر جانا، تحر یک پاکستان میں ان کا بہادر مجاہد کی طرح انگریز حکمرانوں کو للکارنا اور آزادی کی تقریر و تحریر کے جرم میں طویل عرصہ تک قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنا یہ سب وہ حقائق ہیں جس سے مولانا ظفر علی خان کا بڑے سے بڑا سیاسی مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا۔برصغیر پاک و ہند میں کوئی آپ کا ہم پلہ شعلہ بیاں مقرر نہیں تھا۔مولانا ظفر علی خان فرمایا کرتے تھے۔
”انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزادی ان کا پیدائشی حق ہے خدائے لم یزل کے روبرو جھکنا چاہیے کیونکہ وہی عباد ت کے قابل ہے۔“
مسلمانوں کے لیے ان کی انقلابی سوچ نے ہندوستان میں انگریز سماج کے اوسان خطا کیے رکھے۔آپ کے والد محترم کا نام سراج الدین تھا انہوں نے اپنے بیٹے کا نام علی رکھا۔ علی ایک ایسا نام ہے جو جنگ ہو یا جلسہ، مسلمانوں میں حوصلہ، جرات اور جوش وجذبہ پیدا کرتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیرآباد اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔بعد ارزاں حید رآباد میں محکمہ داخلہ میں بحیثیت اسسٹنٹ سیکرٹری ملازمت کی۔ مگر یہ مرد حق نے حیدر آباد میں ایک برطانوی کمپنی کے حیا سوچ رقص کے بائیکاٹ کی پُر زور حمایت کی جس پر ریاست کے انگریز ریذیڈنٹ سر مائیکل اوڈوائر نے حکومت ہند سے مولانا کی شکایت کی جس سے انہیں ملازمت سے فوری برخاست کر دیا گیا۔ مولاناظفر علی خان کے والد شعبہ صحافت سے منسلک تھے اور ”زمیندار اخبار“ کے ایڈیٹر تھے۔ ان کی وفات کے بعد شعبہ صحافت اور زمیندار اخبار مولانا ظفر علی خان کو ورثہ میں ملا مگر صحافیانہ زندگی کی شروعات انتہائی دشوار گزار اور ناموافق حالات میں کرنی پڑی۔ اس زمانے میں لاہور میں اشاعت کا بڑا مرکز تھا اور تینوں بڑے اخبار (پرتاب، محراب، وی بھارت) ہندو مالکان کے پاس تھے۔ اس دور میں مولانا ظفر علی خان اور”زمیندار اخبار‘‘ نے تحریک پاکستان کے لیے بے لوث خدمات سرانجام دیں۔ 1934 میں جب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان نے اپنی جرات اور شاندار عزم کے ساتھ وقت حکومت پر عدالت میں کیس دائر کیا اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور انہیں احکامات واپس لینے پڑے۔ زمیندار اخبار کا خاص مقصد مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنا تھا۔جسے انہوں نے مثالی کاوشوں اور انتھک محنت سے اس بطل حریت نے عملی جامعہ پہنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے والد کے دوست وکیل چوھدری شہاب الدین کے مشورہ سے ”زمیندار اخبار“ کو لاہور منتقل کر کے ہفت روزہ سے روزنامہ بنایا۔1914 میں یہ مرد حُر انگلستان گئے وہاں ہندوستانی پریس کے قوانین کی مخالفت پر اس وقت کے لیفٹیٹنٹ گورنر سرمائیکل اوڈوائر نے ذاتی مخاصمت رکھتے ہوئے ان کی کیمبل پور میں تقریر کو بنیاد بنا کر ان پر مقدمہ چلایا اور پانچ سال قید و بامشقت سنا دی گئی۔ جو بعد ازاں ان کی نظر بندی میں تبدیل ہوئی ۔تحریک آزادی کی صف اول کا اگر ذکر کیا جائے تو ظفر علی خان آپ کو قائداعظم، علامہ اقبال اور مولانا محمد علی جوہر جیسے جلیل القدر مشاہیر کے ساتھ کھڑے نظر آئینگے۔ انگریز کے دور استبداد میں کلمہ حق کہنے کی پاداش میں جتنی قربانیاں مولانا ظفر علی خان نے برداشت کیں اور جتنی دفعہ پابندیاں انکے اخبار زمیندار پر لگیں ایسی مثال کسی اور صحافی کے ساتھ ناروا سلوک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اہل صحافت میں جیسا جذبہ ظفر علی کی شاعری میں تھا اس کی بھی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ 1940 سے لیکر1947 تک مولانا ظفر علی خان نے مسلم لیگ کو منظم کرنے اور حصول پاکستان کی جدوجہد کی کامیابی کیلئے ہندوستان کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا اوار اپنی ایمان افروز تقاریر سے تحریک پاکستان کیلیے مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ پیدا کیا۔ ان کی جرات و استقامت نے انہیں قائداعظم محمد علی جناح کا معتمد ترین ساتھی بنا دیا تھا۔ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے علامہ اقبال جیسی شخصیت کی یہ رائے ہی کافی ہے کہ ظفر علی خاں کے قلم میں مصطفی کمال کی تلوار کا بانکپن ہے۔مظلوم کی داد رسی اور انگریز کی غلامی کے خلاف روزنامہ زمیندار کا کردار تاریخ صحافت کا ایک درخشندہ باب ہے۔ مولانا ظفر علی خان اور روزنامہ زمیندار اخبار کے خلاف جتنے مقدمات قائم ہوئے تاریخ ہو یا دور حاضر کی صحافت کسی ایڈیٹر یا اخبار کے خلاف قائم نہیں ہوئے۔ اس دلیر، نڈر، بے باک صحافی نے جوانی کے پندرہ برس جیل میں گزارے۔ مولانا ظفر علی خان کی زندگی کا بیشترحصہ صحافت میں گزرا مگر آپ کو بچپن سے شعر وسخن کا بھی شوق تھا۔ہنگامی نظمیں خوب کہتے تھے۔ کلام کا ایک مجموعہ بہارستان، دوسرا نگارستان اور تیسر چمنستان کے نام سے شائع ہوا اور اب تک ان کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، منظوم ڈرامہ جنگ روس و جاپان، معاشیات، خیابان فارس، لطائف الادب آپ کی مشہور تضنیفات ہیں۔ مولانا ظفر علی خان کی علمی، ادبی،شعری جذبات کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ عاشق رسول تھے آپ کا ایک مشہور شعر دلوں کو دہلا دیتا ہے۔
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تم ہی ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی ہو۔
آخر کار 1946 کے آخر میں وہ ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو گئے اس سے افاقہ ہوا تو فالج نے آن گھیرا۔ زبان میں لکنت اور بدن میں رعشہ پیدا ہوگیا۔حافظہ بھی بدریج جواب دینے لگا۔ جب صحت اجازت دیتی تو کسی محفل میں شریک ہو لیتے۔ 27 نومبر 1956 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور وہ صحافت کا خلاء آج تک پُر نہیں ہو سکا۔مولانا ظفر علی خان کو وزیرآباد کے قریب ان کی آبائی شہر کرم آباد میں دفن کیا گیا۔ تحریک پاکستان کے اس ناقابل فراموش کردار کی عظمت کاجتنا بھی تذکرہ کیا جائے کم ہے۔اس مرد حُر کو کوئی طاقت اعلائے الحق سے باز نہ رکھ سکی اور انہوں نے زندگی بھر وہی کیا جو، ان کے ضمیر کی آواز تھی۔آج ہماری نوجوان نسل مایوسیوں کا شکار ہے کیونکہ نہ تو ہمارے نصاب میں کوئی متاثر کن اسباق ہیں جن کو پڑھ کر طلبہ کہ اندر کا شاہین بیدار ہو اور نہ ہمارے ہاں ایسے والدین ہیں جو رات سونے سے پہلے بچوں کو تاریخی واقعات سنا کر ان کے اندر کے شاہین کو بیدار کر سکیں لہذا پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔ حکومت، والدین،استاتذہ ہر ایک کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ وطن عزیز کے نوجوانوں کو مولانا ظفر علی خاں جیسے ہیروز کی انتھک کاوشوں کو قائم دائم رکھ سکیں

نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

٭…٭…٭

About the author

Raheel Qureshi

Raheel Qureshi

Leave a Comment

%d bloggers like this: