Muhammad Akram Amir Today's Columns

صحافت ! کانٹوں کی سیج نہیں؟ از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

بد قسمتی سے شروع دن سے وطن عزیز پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس میں اہل اقتدار اپنے اقتدار کے نشے میں دھت رہتے ہیں انہیں عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اکثر و بیشتر واقعات میں مظلوم کی فریاد ان کے ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہے جس سے عام آدمی مایوسیوں کے سپرد ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کیلئے میڈیا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، معاشرتی نا ہمواریوں اور جرائم کے خاتمے کیلئے مختلف اداروں میں ہونے والی کرپشن کے خلاف صحافی ہی تو ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کرپٹ مافیا کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، حکومتی کوتاہیوں اور کرپشن کو عوام کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کرپٹ مافیا اور حکومتی جبر اور غضب کا شکار بھی صحافی ہی ہوتے ہیں، مگر پھر بھی جذبہ حب الوطنی سے سرشار قلم کا مزدور اگلے دن نئے جوش، جذبے سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے، معاشرے میں عدم برداشت کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکمران اور بیورو کریٹس اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے مسائل کی نشاندہی پر صحافیوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں، کئی بار تو کرپٹ مافیا، سرکاری مشینری، سرکاری وسائل اور اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے حق اور سچ کی آواز دبانے کیلئے صحافیوں پر ظلم و تشدد پر اتر آتے ہیں، مگر قلم کے مزدور محب وطن پھر بھی اپنے ملک کے عوام کو ان ظالموں سے نجات دلانے کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، اسی وجہ سے صحافت خطرناک شعبہ اور کانٹوں کی سیج بن کر رہ گیا ہے، 1995ء سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کیخلاف تشدد، قتل اور سفاکانہ سلوک جیسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز (RSF) کی طرف سے شائع ہونے والے صحافیوں کے خلاف ناروا سلوک اور تشدد کے سالانہ راونڈ اپ کے دوسرے حصے کے مطابق، 2020 میں دنیا بھر میں کل 50 صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونا پڑے، جب کہ جنگ والے ممالک میں جاں بحق ہونے والے صحافیوں کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے، صحافیوں کے قتل ان ممالک میں ہو رہے ہیں جو حالت جنگ میں نہیں ہیں، RSF نے 1 جنوری سے 15 دسمبر 2020 تک اپنے فرائض کے سلسلے میں جاں بحق ہونے والے صحافیوں کے 50 واقعات کی تعداد رپورٹ کی ہے، جو کہ 2019 کے برابر ہے (جب 53 صحافی جاں بحق ہوئے تھے) حالانکہ اس سال کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے صحافی فیلڈ میں کم رہے، ان ممالک میں زیادہ صحافی مارے جا رہے ہیں جنہیں "پر امن" سمجھا جاتا ہے۔ 2016 میں صحافیوں کی 58 فیصد اموات جنگی علاقوں میں ہوئیں۔ 32 فیصد اموات جنگ زدہ ممالک جیسے شام ،یمن، یا درمیانی شدت کے تنازعات جیسے افغانستان اور عراق میں ہوئیں، دوسرے لفظوں میں، 68% (دو تہائی سے زیادہ) اموات "پرامن" ممالک میں ہوئیں، سب سے بڑھ کر میکسیکو میں (آٹھ صحافی قتل کیے گئے)، ہندوستان (چار)، فلپائن (تین) اور ہونڈوراس میں (تین)۔
2020 میں اپنے کام کے سلسلے میں مارے گئے تمام صحافیوں میں سے، 84% کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور جان بوجھ کر قتل کیا گیا، جب کہ 2019 میں یہ تعداد 63% تھی۔ کچھ کو خاص طور پر وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا، میکسیکو میں روزنامہ ایل منڈو کے رپورٹر جولیو والڈیویا روڈریگز کا مشرقی ریاست ویراکروز میں سر قلم کیا گیا جبکہ مقامی نیوز ویب سائٹ Punto x Punto Noticias کے ایڈیٹر وکٹر فرنینڈو الواریز شاویز کو مغربی علاقے میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ ہندوستان میں، راکیش "نربھیک" سنگھ، جو راشٹریہ سوروپ اخبار کے رپورٹر ہیں، کو دسمبر میں شمالی ریاست اتر پردیش میں ان کے گھر میں ایک انتہائی آتش گیر، الکحل پر مبنی ہینڈ سینیٹائزر سے نہلانے کے بعد زندہ جلا دیا گیا تھا۔ جب کہ جنوب مشرقی ریاست تامل ناڈو میں ایک ٹی وی رپورٹر اسراویل موسیٰ کو چھریوں سے مارا گیا۔ ایران میں، یہ وہ ریاست تھی جو جلاد کے طور پر کام کرتی تھی۔ عمادنیوز ویب سائٹ اور ٹیلی گرام نیوز چینل کے ایڈیٹر روح اللہ زم کو غیر منصفانہ مقدمے میں موت کی سزا سنائے جانے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ اگرچہ ایران میں پھانسی عام ہے لیکن 30 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی صحافی کو اس قدیم اور وحشیانہ عمل کا نشانہ بنایا گیا ہو۔
آر ایس ایف کے سیکرٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوئر نے کہا کہ صحافیوں پر دنیا بھر میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ صحافی صرف اپنے پیشے کے لئے خطرات کا شکار ہیں، لیکن صحافیوں کو اس وقت زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے جب وہ حساس موضوعات کی چھان بین کرتے یا رپورٹ کرتے ہیں۔‘‘ ماضی کی طرح، سب سے خطرناک کہانیاں مقامی بدعنوانی یا عوامی فنڈز کے غلط استعمال کی رپورٹنگ پر 2020 میں 10 صحافی مارے گئے، منظم جرائم کی سرگرمیوں کی تحقیقات پر چار صحافی جاں بحق کر دیئے گئے، 2020 میں ایک نئی پیش رفت میں، سات صحافی احتجاج کی کوریج کرتے ہوئے جاں بحق کر دیئے گئے۔ عراق میں بالکل اسی طرح تین صحافیوں کو قتل کر دیا گیا، جب صحافی کوریج کر رہے تھے تو نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا، چوتھا صحافی عراق کے شمالی کردستان کے علاقے میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہوا، نائیجیریا میں دو صحافی مظاہروں کے درمیان تشدد کے ماحول کا شکار ہوئے، جنہوں نے خاص طور پر جرائم کا مقابلہ کرنے والے پولیس یونٹ کی بربریت کے خلاف احتجاج۔ کولمبیا میں ایک کمیونٹی ریڈیو سٹیشن کے رپورٹر کو مقامی زمین کی نجکاری کے خلاف مقامی کمیونٹی کے احتجاج کی کوریج کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، 14 دسمبر کو شائع ہونے والے سال کے آخر میں حراست میں لیے گئے، یرغمال بنائے گئے یا لاپتہ ہونے والے صحافیوں کے 2020 کے سالانہ راونڈ اپ میں RSF نے رپورٹ کیا کہ فی الحال 387 صحافی اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی وجہ سے حراست میں ہیں۔ یہ عملاً ایک سال پہلے جیسا ہی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں حراست میں لیے گئے صحافیوں کی تعداد تاریخی طور پر اب بھی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
2020 میں من مانی طور پر حراست میں لیے گئے خواتین صحافیوں کی تعداد میں بھی 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، اور دنیا بھر میں کووِڈ 19 کے پھیلاوکے پہلے تین مہینوں کے دوران صحافیوں کی گرفتاریوں میں چار گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چودہ صحافی جنہیں وبائی بیماری کی کوریج کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا وہ ابھی تک زیر حراست ہیں۔
پاکستان میں بھی صورت حال اسی طرح کی ہے، کئی صحافی اپنی فرائض کی انجام دہی کے باعث پابند سلاسل ہیں اور کئی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، صحافتی تنظیمیں اس پر سراپا احتجاج ہیں، اس ضمن میں صحافیوں کو یکجان کرنے کیلئے کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، انہی میں ایک پاکستان میڈیا کونسل کا ہے، جو بلا شبہ صحافیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم ہے اور پاکستان میں صحافیوں اور صحافت سے وابستہ لوگوں کے حقوق کی مسلسل جنگ لڑ رہی ہے ، اس تنظیم میں زیادہ تر علاقائی رپورٹر شامل ہیں ، جو گاہے بگاہے ملک کے کسی نہ کسی مقام پر اپنا اکٹھ کر کے صحافیوں کو درپیش مسائل پر سیرحاصل گفتگو کرتے ہیں، اسی تنظیم کے تحت گزشتہ دنوں پاکپتن تنظیم کے سر پرست اعلی حبیب اللہ عاصم بلوچ، تجزیہ نگار ادیب چیئرمین اے ڈی شاہد ، صدر محمد علی رحمانی و دیگر کی جدوجہد سے میڈیا کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، پروگرام میں حکومت پنجاب کی جانب سے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر محمد اختر ملک، ذیب سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ صدر علماء مشائخ اہلسنت پنجاب دیوان حامد مسعود چشتی فاروقی ، تنظیم کے مرکزی صدر مہر حمید انور، جنرل سیکرٹری اکرم عامر، ایم پی اے میاں فرخ ممتاز مانیکا، ڈپٹی کمشنر پاکپتن، احمر سہیل کیفی، ڈی پی او پاکپتن فیصل مختار، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس ملک مشتاق احمد ٹوانہ ،چیئرمین مارکیٹ کمیٹی پیر اسلم قریشی ، سابق صدر بار راو محمد اکرم ایڈووکیٹ ، سرکل آفیسر انٹی کرپشن رانا ندیم اقبال ، اس ایچ او تھانہ چکبیدی مہر نوشیر احمد کاٹھیا ، صدر ایپکا یونین محمد عتیق بٹ ، صوبائی صدر کسان اتحاد کیپٹن ریٹائرڈ خالد حسین، پنجابی میڈیا گروپ کے مدثر اقبال بٹ، معروف شاعر بابا نجمی، چوہدری سہیل، ظہیر عباسی، مشتاق شاکر، اینکر پرسن ارسلان فاروق، اینکر پرسن حسان ہاشمی ، مجاہد علی بخاری ، منظور ملک ، صدر پی ایم سی پنجاب چوہدری رشید سمیت ملک کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے اخبارات و ٹی وی چینلز کے اینکرز، و صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور صحافیوں کو درپیش مسائل پر سیرحاصل گفتگو ہوئی، صوبائی وزیرڈاکٹر محمد اختر ملک نے صحافیوں کو باور کرایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت صحافیوں بالخصوص علاقائی صحافیوں کے تحفظ کیلئے وفاق میں بل پاس کرنے جا رہی ہے، جس سے ورکر صحافیوں کو تحفظ ملے گا، جب کہ وزیرا علی پنجاب نے پنجاب بھر کے تمام چھوٹے اضلاع میں صحافی کالونیوں کے قیام کا اعلان کردیا ہے، اور یقین دلایا کہ وہ کنونشن میں پیش کردہ صحافیوں کو درپیش مسائل من و عن وزیرا علی پنجاب عثمان بزدار کو پیش کریں گے۔ پاکستان میڈیا کونسل رجسٹرڈ پاکستان کی قیادت نے ملک میں صحافت اور صحافیوں کو درپیش مسائل بارے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا اور کہا کہ بڑے شہروں کی نسبت چھوٹے شہروں میں صحافیوں کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صوبہ پنجاب سمیت ملک بھر میں ورکر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے تا کہ وہ آزادی سے عوام کی رائے حکومت تک پہنچا سکیں، تا کہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ نیز ملک میں صحافیوں پر ہونے والے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت اس سلسلہ میں واضح لائحہ عمل مرتب کرے۔ تاکہ صحافیوں میں پائی جانے والی بے چینی کی فضا ختم ہو اور وہ ملک و قوم کی صحیح معنوں میں خدمت کر سکیں۔ آخر میں کنونشن کو کامیاب بنانے کے تعاون پر شہر کو دلہن کی طرح سجا نے والی ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر احمر سہیل کیفی ، سینٹری انسپکٹر بلدیہ صدر ایپکا یونین محمد عتیق بٹ اور میڈیا کنونشن میں دور دراز کے علاقوں سے آنے والے صحافیوں اور معزز مہمانوں کی سیکورٹی کے حوالے سے شہر بھر میں ہائی الرٹ فول پروف سکیورٹی اور واک تھرو گیٹ وغیرہ کے لگوانے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل مختار اور اس کامیاب ترین تاریخی کنونشن کروانے پر معروف کالم نگار شاعر "چنتا " کے خالق
اے ڈی شاہد اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا گیا اور ملکی سلامتی کی دعا کی گئی۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: