گناہوں کی معافی

کتاب وسنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی پر گناہوں کے بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان کی آخروی زندگی کا گناہوں اور نیکیوں کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ جو انسان تسلسل کے ساتھ گناہ کرتا رہتا ہے اور اس کی برائیاں اس کو گھیر لیتی ہیں‘ اس کا انجام آخرت میں نہایت خطرناک ہوگا۔اس حقیقت کو سورہ بقرہ کی آیت نمبر 81 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یوں بیان فرمایا:’ہاں کیوں نہیں جس نے برائی کمائی اور گھیر لیا‘ اُس کو گناہ نے تو وہ لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ‘‘
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ قارعۃمیں بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ کل قیامت کے دن نیکیوں اور گناہوں کو تولنے کے لیے میزان عدل کو قائم کیا جائے گا اور جس کا دائیاںپلڑا بھاری ہو گا ‘وہ جنتی ہو گا اور اس کے بالمقابل جس کا دائیاں ہلکا اور بائیاں بھاری ہو گیا‘ وہ جہنمی ہو گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ قارعۃ کی آیت نمبر 7 سے 11 تک میں ارشاد فرماتے ہیں: ‘پس رہا وہ جو (کہ) بھاری ہو گئے اس کے پلڑے۔ تو وہ پسندیدگی زندگی میں ہو گا۔ اور رہا وہ جو (کہ) ہلکے ہو گئے اس کے پلڑے۔ تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔ اور آپ کیا جانیں وہ (ہاویہ) کیا ہے۔ آگ ہے‘ دہکتی ہوئی۔‘‘
کتاب وسنت کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آنے والی مشکلات کا بھی اس کے گناہوں سے بہت گہرا تعلق ہے؛ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 30 میں ارشاد فرماتے ہیں :’اور جو (بھی) تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے ‘تو وہ اسی کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ درگزر کر دیتا ہے‘ بہت سی باتوں سے۔ ‘‘
سورہ روم کی آیت نمبر 41 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کے اجتماعی گناہوں کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ‘فساد ظاہر ہو گیا خشکی اور سمندر میں اس وجہ سے جو کمایا لوگوں کے ہاتھو ںنے تاکہ (اللہ) مزہ چکھائے انہیں بعض (اس کا) جو انہوں نے عمل کیا ‘تاکہ وہ رجوع کریں (یعنی باز آجائیں)۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک بستی کا ذکر کیا ‘ جس کو امن اور رزق کی نعمتیں میسر تھی‘ لیکن جب انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناشکری کی ‘تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سے رزق اور امن کو چھین کر ان پر خوف اور بھوک کو مسلط کر دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نحل کی آیت نمبر 112 میں ارشاد فرماتے ہیں: ‘اور بیان کی اللہ نے مثال ایک بستی کی (جو) تھی ‘امن والی اطمینان والی ۔آتا تھا‘ اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے ‘تو اس نے ناشکری کی اللہ کی نعمتوں کی‘ تو چکھایا (پہنایا) اس کو اللہ نے بھوک اور خوف کا لباس اس وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔ ‘‘
گویا کہ گناہوں کے اثرات آخرت کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی میں بھی مرتب ہوتے ہیں اور انسان کی زندگی کو تباہ وبرباد کر دیتے ہیں۔ ان اثرات بدسے بچنے کے لیے کتاب وسنت میں بہت سے مفید طریقے بھی بتلائے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں:۔
1۔توبہ: جب انسان کسی گناہ کے ارتکاب کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آکر توبہ کا طلب گار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے سے بڑے گناہوں کو بھی معاف فرما دیتے ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر کیا جن میں سے سورہ فرقان کادرجہ ذیل مقام انتہائی توجہ طلب ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ فرقان کی آیت نمبر 68 سے70 میں ارشا د فرماتے ہیں : ‘اور وہ لوگ جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو اور نہ وہ قتل کرتے ہیں اس جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے ‘مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔ اور جو یہ (کام) کر ے گا وہ ملے گا سخت گناہ(کی سزا) کو۔ دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب قیامت کے دن اور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل کیا نیک عمل تو یہی لوگ ہیں (کہ) بدل دے گا اللہ ان کے گناہوں کو نیکیوں سے اور اللہ بہت بخشنے والا رحم والا ہے۔‘‘
2۔استغفار: توبہ کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے سے بھی انسان کی خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں؛ چنانچہ سورہ نساء کی آیت نمبر 110میں ارشا د ہوا: ‘اور جو کرلے کوئی برائی یا ظلم کرلے اپنے نفس پر پھر بخشش مانگے اللہ سے وہ پائے گا اللہ کو بخشنے والا‘ رحم کرنے والا۔‘‘
3۔ تقویٰ : جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈر کر گناہوں سے باز آ جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی خطاؤں کو بھی معاف فرمادیتے ہیں؛ چنانچہ سورہ طلاق کی آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوا:’اور جو اللہ سے ڈرے گا (تو) وہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیاں اور وہ زیادہ دے گا اس کو اجر۔‘‘
4۔قرآن مجید پر پختہ ایمان: قرآن مجید پر پختہ ایمان لانے سے اللہ تبارک تعالیٰ انسان کی خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ پختہ ایمان کا اہم تقاضا یہ ہے کہ انسان قرآن مجید کی صحیح طریقے اور بھرپور انداز میں تلاوت کرے اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر121 کے مطابق یہی لوگ اس پر ایمان لانے والے ہیں۔ قرآن مجید پر پختہ ایمان کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ محمد کی آیت نمبر 2 میں ارشاد فرماتے ہیں: ‘اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر جو نازل کیا گیا محمدﷺ پر اور وہی حق ہے‘ اس کے رب کی طرف سے۔ (اللہ نے) دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور ان کے حال کی اصلاح کر دی۔ ‘‘
5۔اتباع رسول اللہﷺ : قرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو بھی معاف فرما دیتے ہیں۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر31 میں ارشاد ہوا:’آپ کہہ دیں اگر ہو تم محبت کرتے اللہ سے تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگا گا اور وہ معاف کر دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘
6۔ سیدھی بات کرنا: سچی اور سیدھی بات کرنے سے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں؛ چنانچہ سورہ احزاب کی آیت نمبر 70‘ 71 میں ارشاد ہوا: ‘اے (وہ لوگو) جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ درست کر دے گا ‘تمہارے لیے تمہارے اعمال اور وہ بخش دے گا‘ تمہارے لیے تمہارے گناہ ۔‘‘
ان خوبصورت اعمال پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں بھی بہت سے ایسے اعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن پر عمل پیرا ہو کر انسان کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ ہر روز صبح 100 مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ کہنے سے انسان کے گناہ چاہے‘ سمندر کی جاگ کے برابر بھی کیوں نہ ہوں‘ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو معاف کر دیتے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے روزے رکھنے سے بھی انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔رمضان المبارک کے قیام سے بھی انسان کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ لیلۃ القدر کے قیام سے بھی انسان کی سابقہ خطائیں معاف ہو جاتی ہیں۔خلوص نیت اور سنت طریقے سے حج کرنے سے بھی انسان گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ کی ذات اقدس پر بکثرت درودبھیجنے سے بھی انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بکثرت صدقہ کرنے سے بھی انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔گناہوںـ کے ارتکاب کے بعد مسلسل نیکیاں کرنے سے بھی انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں؛ چنانچہ انسان کو ان تمام اچھے اعمال کو بجالانے کی کوشش کرنی چاہیے‘تاکہ گناہوں کی عقوبت سے نجات حاصل ہو سکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہمارے گناہ معاف ہو جائیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ زندگی کی تنگیاں اور آخرت کی پریشانیاں بھی دور فرما دیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو گناہوں سے محفوظ فرمائے اور نیک اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

Leave a Reply

%d bloggers like this: