عوام کو اتنا نہ ستاؤ۔۔۔۔!!

پاکستان تحریک انصاف جسے اقتدار میں تولے آیاگیا لیکن شائد یہ نہیں بتایا گیا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے جو دعوے اور وعدے کیے ہیں انہیں پورابھی کرنا ہوتاہے، جو جو الزامات لگائے گئے ہیں انہیں ثابت بھی کرنا ہے اور جو جو بڑھک بازی اور گالی گلوچ کی ہے اس کی واپسی کے لیے تیار بھی رہنا چاہئے۔
عمران خان صاحب کی وزیراعظم بننے کی ضد تو پوری کردی گئی لہذا اب انہیں چاہیے کہ جتنا بھی عرصہ اس کرسی پر براجمان ہیں عوام کی بہبود کے لیے نہ سہی کم از کم اپنے وعدوں اور دعووں کی پاسداری کے لیے ہی غریب لوگوں کی بہتری کے لیے کچھ کر جائیں۔ ان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تھوڑا بہت حکومت کرنے کا گر بھی سیکھ لیں کیونکہ ناتجربہ کاری، لاعلمی اور سازشوں جیسے بہانے اب مزیدکارگر ثابت نہیں ہونے والے۔
موصوف کی حکومت آتے ہی عوام کے لیے مہنگائی اور لاقانونیت میں اضافہ کا پیغام لائی۔ لاقانونیت کا تو خیر اب تک کوئی معقول بہانا نہیں تراشا گیا لیکن مہنگائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سابق حکومت کی لوٹ مار، کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے انہیں خزانہ خالی ملا ہے لہذا یہ اپنے آپ کو اس بات کے لیے حق بجانب سمجھتے ہیں کہ یہ گزشتہ حکومت کی بدعنوانیوں کی سزا عوام کو دیں اور ان کی ہڈیوں تک کا جوس نکال لیں۔
اگر خزانے کی بات کی جائے تو وزیر اعظم بننے کے جنونی عمران خان صاحب اور اپنے آپ کو بڑا ستاد سمجھنے اور موقع ملنے پر اپنے ہی ادارے کا بیڑہ غرق کر دینے والے اسد عمر صاحب کی خدمت میں عرض کر دوں کہ اب حقائق کو توڑ مڑوڑ کے پیش کرنے سے جان چھوٹنے والی نہیں۔ محمود صادق صاحب کے ایک تجزیہ کے مطابق جب 2013 ؁ میں نواز لیگ کی حکومت بنی تو اس وقت قومی خزانہ میں صرف ساڑھے چھ ارب ڈالر تھا جس میں سے تقریباً تین ارب ڈالر کی فوری ادائیگیوں کے بعد خزانہ میں صرف ساڑھے تین ارب ڈالر بچا جس سے نواز لیگ نے کسی رونے دھونے اور وا ویلا مچانے کے بغیر اپنی اننگ کا آغاز کیا۔ اور دو ہی سال میں معاشی پالیسیوں کی بدولت خزانہ چوبیس ارب ڈالر پر چلا گیا۔ خان صاحب کو جب اقتدار میں لایا گیا تو اس وقت تمام ابتدائی ادائیگیاں کرنے کے بعد سرکاری خزانے میں سولہ ارب ڈالر موجود تھا لیکن پھر بھی خان صاحب اور اسد عمر کے اوسان خطا ہیں۔اس وقت جانے کیوں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ،سانس اکھڑی ہوئی اور ٹانگیں کانپتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں اور اس ساری گھبراہٹ کا نزلہ عوام پر گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تبدیلی لانے کے ان دعویداروں سے میرا سوال ہے کہ بقول انکے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور انکے حواری روزانہ کروڑوں ڈالر کی چوری کر رہے تھے۔ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو اب چونکہ نیک، پرہیزگار اور ایمانداری کے قطب مینا ر پر چڑھے ہو ئے لوگوں کی حکومت آ چکی ہے لہذا وہ کروڑوں ڈالر جو روزانہ کی بنیاد پر چوری ہوتا تھا کی بچت شروع ہو گئی ہو گی۔ ان کروڑوں ڈالروں کی ترسیل بھی یقیناًشروع ہو گئی ہو گی جو بقول انکے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ان کی ایمانداری کے نام پر بھیجنے تھے، اور اس کے علاوہ معاشیات کے جادو گر اسد عمر کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنا شروع ہو گیا ہوگا۔
اگر اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود خزانہ خالی ہونے کی دھائی دی جا رہی ہے اور پہلے سے مہنگائی کے ہاتھوں ستائے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ کے نیچے دبایا جا رہا ہے تو کیا اس سے یہ تاثر لینا درست نہ ہو گا کہ اول تو یہ کہ نالائقوں اور نااہلوں کے ٹولے کو ایوان اقتدار میں داخل کر دیا گیا ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو بات اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس صورتحال میں ان سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ اگر خزانہ خالی ہے تو پہلی بات کہ وہ سولہ ارب ڈالر کہاں چلے گئے، دوسری بات کہ نوازشریف اینڈ کمپنی کی جانب سے روزانہ کا کروڑوں ڈالر، جو اب یقیناًچوری نہیں ہو رہا ہو گا، کدھر ہے اور پھر جادوگر صاحب کی جادوگریوں کے بارے میں بھی تو سوال بنتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ معاملات کو کسی اور ہی جانب لے جایا جا رہا ہو۔
عمران خان صاحب کے دھرنے کے دوران انہوں نے جو رویہ اور زبان استعمال کی، جس طرح یہ روزانہ حکومت کوایک نئی وارننگ اور ڈیڈ لائین دیتے تھے اور وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری املاک پر قبضہ کرنے کے عزائم کا اظہار کرتے تھے تو میں نے اس صورتحال پر ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں کہا تھا کہ لگتا ہے کہ اب چوروں کو ہٹا کر ڈاکوؤں کی حکومت بن جائے گی۔ اگر واقعی قومی خزانے کی چوری رک چکی ہے، بیرون ملک سے پیسہ آ رہا ہے اور جادوگر اپنی جادوگریاں چلا رہا ہے تو پھرپہلے سے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ کیوں لادا جا رہا ہے؟
اگر عمران خان کی حکومت فوری طور پر ٹیکسوں کی اس یلغار کو نہیں روکتی اور مہنگائی کے اس سیلاب کے آگے بند نہیں باندھتی توپھر کیا ان تجزیات کو درست مان لیا جائے کہ جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ اگر عمران خان کو حکومت مل گئی تو یہ عوام کو بری طرح مایوس کرے گایا پھر اس خیال پے یقین کر لیا جائے کہ حکومت چوروں کے ہاتھ سے نکل کر ڈاکوؤں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: