Dr Sajid Khakwani Today's Columns

لوح و قلم تیرے ہیں از ڈاکٹر ساجد خاکوانی ( قلم کاروان )

Dr Sajid Khakwani
Written by Dr Sajid Khakwani

منگل9نومبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست G6/2اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں یوم اقبال کے حوالے سے ’’علامہ محمداقبال کی چار نسبتیں‘‘کے عنوان سے جناب ڈاکٹرضمیراخترکامقالہ طے تھا۔معروف ادیب اورنقاداور شہراقبال فورم کے معتمدجناب سیدظہیراحمدگیلانی نے صدارت کی۔ڈاکٹرآغانورمحمد نے تلاوت قرآن مجیدکی،جناب ڈاکٹرصلاح الدین صالح نے نعت رسول مقبول ﷺ ترنم سے شرکاء نشست کے سامنے پڑھی،جناب حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ پیش کیا اورجناب عالی شعاربنگش نے گزشتہ نشست کی کاروائی حاضرین کوپڑھ کرسنائی۔
صدرمجلس کی اجازت سے جناب ڈاکٹرضمیراخترنے اپنامقالہ پڑھ کر سنایا،انہوں نے علامہ محمداقبالؒ کی چارمضبوط نسبتوں کواجاگرکیاجن سے متعلق ان کے کلام کابیشرحصہ معمورہے۔انہوں نے پہلی نسبت قرآن مجیدکے ساتھ بتائی،اسی نسبت سے علامہ کے تعلق باللہ اور عشق رسولﷺ کابھی ذکر کیا،انہوں نے اقبال کی دوسری نسبت کے ذیل میں مولاناجلال الدین رومی ؒکاذکرکیا اوربتاکہ اقبال خود کوان کا مرید گردانتے تھے،تیسری نسبت ان کی تصورپاکستان کی ہے ،فاضل مقالہ نگارنے بتایا کہ علامہ نے اس وقت یہ خواب دیکھاجب کوئی تقسیم توکیاآزادی کابھی تصورتک نہ کرسکتاتھا۔چوتھی اورآخری نسبت امت کے ہدی خواں کی ہے جہاں ماضی کامرثیہ پڑھتے ہوئے وہ روشن مستقبل کاروشن چراغ پیش کرت نظرآتے ہیں،یہ مقالہ علامہ اقبال کے بہترین و برموقع اشعارسے مزین تھااورصاحب مقالہ نے صدرمجلس کی اجازت سے اقبال کا ملی ترانہ بھی گایاہواسنوایا۔مقالہ کے بعض مندرجات پر عالی شعاربنگش،ڈاکٹرساجدخاکوانی،میرافسرامان اور حبیب الرحمن چترالی نے سوالات اٹھائے اور فاضل مضمون نگارسے بڑی خوبصورتی سے سب سوالوں کے تفصیلی جواب دیے۔مقالے پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب عالی شعاربنگش نے بتایاکہ قائداعظم نے کہاتھاکہ ریاست اوراقبال میں سے ان کاانتخاب اقبال ہوں گے۔جناب ساجد حسین ملک نے اپناتحریری تبصرہ پیش کیااور اقبال کی نثری کتب کاذکرکیاجوابھی تک اکثریت سے پردہ اخفامیں ہیں۔جناب آصف محمودنے ملی ترانے کے اشعارپر اپنی رائے پیش کی۔جناب حبیب الرحمن چترالی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں علامہ کے اشعارکی اہمیت بیان کی۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہا جب تعلیم قومی زبان میں دی جانے لگے گی تب ہی ہماری نسل تفہیم اقبال کے راستے اپنے شاندارماضی سے آگاہ ہوپائے گی۔جناب جمال زیدی نے کہاکہ لوگ اقبال کو صرف مصورپاکستان اور شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں جب کہ اقبال اس سے کہیں باہرہیں۔پروفیسرڈاکٹرعبدالباسط نے کہاکہ دوسری اسلامی دنیاؤں کے لوگ اقبال کی وجہ سے پاکستان کوجانتے ہیں۔سوئزرلینڈسے تشریف لائے ہوئے راجہ حفیظ احمدنے بھی اظہارخیال کیا۔شعراء میں سے جناب عبدالرازق عاقل ایڈوکیٹ،جناب ڈاکٹرآغانورمحمد،جناب گلزاراحمدگلزار،جناب جمال زیدی اور جناب عالی شعاربنگش نے اپنا اپناکلام سنایا۔ معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپنا حاصل مطالعہ شرکاء نشست کے ساتھ تازہ کیا۔
آخرمیں صدرمجلس جناب سیدظہیراحمدنے صدارتی خطبے میںقلم کاروان کے ذمہ داران کوشاندارطریقے سے یوم اقبال منانے پر مبارک بادپیش کی،انہوں نے کہاکہ اقبال نے دعاکی تھی کہ ’’میرانوربصیرت عام کردے‘‘صدرمجلس کے مطابق آج کی نشست میں یہ نوربصیرت انہوں نے اپنی آنکھوں سے عام ہوتے مشاہدہ کیا،انہوں نے مقالہ کے تحقیقی اسلوب اور موضوع کی مناسبت سے بہترین مواد کی جمع پر صاحب مقالہ کی تعریف کی۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔
بسم ا ﷲالرحمن الرحیمٍٍ
(عالمی مجلس) بیداری فکراقبالؒ
(مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ)
مجلس مشاورت:
میرافسرامان
دکتورساجدخاکوانی
رانااعجاز کارروائی ادبی نشست،بدھ10نومبر2021ء
بدھ 10نومبر2021 بعد نمازمغرب (عالمی مجلس)’’بیداری فکراقبالؒ ‘‘کی ہفت روزہ ادبی نشست لہروںکے دوش پر منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں’’عام کردے(نصف آخر)‘‘کے عنوان پرفروغ قرآن اکادمی اسلام آبادکی چئرپرسن محترمہ لبنی فروغ ،ایم فل اقبالیات کاخطاب طے تھا۔اسلام آباد سے معروف ماہرتعلیم ،گورمنٹ کالج برائے خواتین اسلام آباد کی پرنسپل اور حیاتیات کی پروفیسر محترمہ فریدہ یاسمین نے صدارت فرمائی۔ضلع پلواما مقبوضہ کشمیرسے نوجوان ناول نگارعاقب شاہین میر نے تلاوت قرآن مجیدکی ،ملتان سے پروفیسرڈاکٹرغازی عبدالرحمن قاسمی نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیااورملتان سے ہی محترمہ ڈاکٹرفارحہ جمشید نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کر سنائی۔
صدرمجلس کی اجازت سے محترمہ لبنی فروغ نے اپنے خطاب کاآغازکیا،انہوں نے اپنے خطاب کی شروعات پنے والد محترم مفسرقرآن حضرت مولانافروغ احمدؒکی تفسیری مساعی سے کی اوربتایاکہ جب انہوں نے اقبال کو پڑھناشروع کیاتوانہیں تفہیم اقبال میں اس لیے دقت نہیں ہوئی کہ والد محترم کاپڑھایاہواقرآن پس منظرمیں موجودتھا،فاضل مقررہ نے بتایا کہ ہر ہرشعرکے ساتھ ذہن میں قرآنی آیات تازہ ہوجاتیں۔انہوں نے قرآن مجیدکا ہندسیاتی ولسانی تجزیہ پیش کیااور بتایاکہ ان کے والدمرحوم نے قرآن مجیدکی آسان تفہیم کے لیے چالیس اسباق مرتب کیے تھے،خطاب کے آخر میں انہوں نے کہاکہ جس طرح اقبال نے قرآن مجیدکوعربی زبان میں براہ راست سمجھااسی طرح آج کی نسل کوبھی ترجمے کی بجائے عربی میں براہ راست سمجھناہوگا۔ان کے خطاب کے بعض حصوں پرپر شرکاء میں سے محترمہ فارحہ جمشید،محترمہ فریدہ یاسمین،پرفیسرنوراور جناب نعیم قریشی نے سوالات اٹھائے جن کافاضل مقررہ کی طرف تفصیلی جواب دیاگیا۔خطاب پرتبصرہ کرتے ہوئے قصورسے پروفیسرنور نے کہا کہ گزشتہ دفعہ کی تشنگی دورہوگئی،انہوں نے کہا اللہ تعالی نے عربی کو عالمی حیثیت دی لیکن ہمارے نظام تعلیم میں یہ اجنبی زبان ہی رہی۔ڈاکٹرضمیراخترخان نے کہاکہ علامہ نے قرآن مجیدکوصرف مذہبی کتاب کی حیثیت سے نہیں لیابلکہ اسے نظام حیات کے طورپر پیش کیا۔لاہورسے جناب اسداعوان نے اقبال پر لکھی ہوئی ایک مختصرتحریرپڑھ کرسنائی اور انتخاب کلام بھی پیش کیا۔بھیرہ شریف سے جناب اعظم شیرنے نشست کوپسندکیالیکن تاخیرسے شامل ہونے کے باعث تبصرے سے گریزکیا۔بزم عروج ادب کے صدرنشین جناب نعیم اکرم قریشی نے خطاب کوبے حدپسندکیااورتجویزدی کہ مکالماتی اندازاپنایاجائے اورکہاکہ اپنے آپ سے تعارف قرآن مجیدکے ذریعے ہی ہوسکتاہے۔سوات سے جناب بہاراحمد نے کہاکہ قرآن اورعشق رسولﷺ ہی کلام اقبال کاخاصہ ہیں۔ملتان سے ڈاکٹرفارحہ جمشیدنے کہاکہ فاضل مقررہ نے قرآن کومرکزبنایا اور امت کوجگانے والاخطاب کیا۔دبئی سے جناب پروفیسرسیدعلی یارنے بتایا ان کو محترمہ لبنی فروغ کے والدمرحوم نے اپنے دست مبارک سے اپنی تفسیرپیش کی تھی ۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے علامہ اقبال کے فارسی کلام سے اپناحاصل مطالعہ شرکاء نشست کے ساتھ تازہ کیا۔
آخر میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے صدرمجلس محترمہ پروفیسرفریدہ یاسمنین نے مقررہ کوشاندارخطاب پر مبارکبادپیش کی،انہوں نے کہاکہ قرآن مجیدجیسی کتاب کو تھوڑی کوشش سے زیادہ سے زیادہ سمجھاجاسکتاہے،انہوں نے دعاکہ اللہ تعالی محترمہ لبنی فروغ کو اپنے والد مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے،انہوں نے کہاکہ خطاب میں اقبال کاذکرکم اور قرآن مجیدکاذکرزیادہ تھاجوکہ موضوع کا تقاضابھی تھااوراس طرح گزشتہ دفعہ کی تشنگی بھی جاتی رہی۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

٭…٭…٭

About the author

Dr Sajid Khakwani

Dr Sajid Khakwani

Leave a Comment

%d bloggers like this: