جنے میرے نال ویر پایا

بھائی جی ہم سے تو ابھی نیا پاکستان پوری طرح ہضم نہیں ہو رہا اب نئے عمران خان کو بھی سنبھالنا پڑے گا۔ نیا عمران خان ٹارزن کی واپسی ایک ہی فلم کے دو نام ہیں اور یہ بھی امید ہے کہ شرطیہ نوا پرنٹ ہو گا۔ فلم انٹرول کے بعد زیادہ تھرلنگ ہو گی، جس میں سسپنس بھی ہو گا ایکشن بھی اور دل دھڑکانے والی میوزک بھی۔ لگتا ہے وزیر اعظم عمران خان بڑے میاں صاحب کی بات کو کچھ زیادہ ہی سیریس لے گئے ۔ اچھی بات ہے لیکن خاں صاحب اب آنیوجانیوں کا وقت نکل گیا۔ قوم کو سستا آٹا چاہئے چینی اور پٹرول چاہئے۔ جنرل باجوہ اپنا دفاع کرنا بھی جانتے ہیں اور طریقے سے جواب دینا بھی۔ باقی قوم سنبھال لے گی، میرا دعویٰ ہے اپوزیشن کا ہر جلسہ کامیاب اورسٹیج پر بیٹھنے والے ناکام ہونگے۔ اس لئے عمران خان آرمی چیف کی فکر چھوڑ کر غریب عوام کی فکر کریں، وہ ان کے دفاع کے لئے منتخب ہوئے ہیں، سنتا سنگھ فال نکالتا تھا اور جب رش بڑھتا تو اس کا ٹرینڈ طوطا زور زور سے بولتا ”لین لاﺅ تے باری باری آﺅ“، ایک دن طوطا اڑ گیا سنتا سنگھ ڈھونڈتا ایک درخت پر پہنچا تو دیکھا کالے سیاہ کاں سنتا کے طوطے کو ٹھونگیں مار رہے ہیں اور وہ کہہ رہا ہے لین لاﺅ تے واری واری آﺅ۔بندے کو رٹو طوطا نہیں ہونا چاہئے۔ ایک ہی بات سن سن کر کان پک جاتے ہیں۔ یہ کرپٹ ،وہ کرپٹ، یہ منی لانڈرر، وہ ڈاکو۔ بھائی عوام کو آسان زندگی دو، ”اللہ والیو کیہڑے پاسے ٹر پئے او“، اس میں کوئی شک نہیں کہ کپتان دھن کا پکا ہے یہ بھی یقین ہے کہ وہ اس معیشت کو ”کھچ تھرو“ کے لائن پر لے آئے گا۔ یہ بھی یقین ہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ لیکن خان صاحب اب بہت ہو گئی عوام کو ریلیف دیں۔ تقریروں کا وقت نکل چکا ۔رہے ہمارے بڑے بھیا تو کل کی ان کی تقریر کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تو وزیر اعظم بننا نہیں اور سٹیج پر بیٹھے کسی شخص کو بننے بھی نہیں دینا۔ ان کی تقریر کا مطلب یہ تھا کہ وہ اب نہ ہی سمجھیں، خیر وہ جتنی مرضی کوشش کر لیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ تمام برائیوں کی جڑ اسٹیلشمنٹ کو اسٹیبلش کرنے میں ناکام رہے گی۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ میاں صاحب بہت سمجھ کر اپنے پتے کھیل رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اقتدار کے چکر میں اداروں کو متنازعہ بنانا خوفناک اور خطرناک ہو گا ۔میاں صاحب جب بھی خطاب کرتے ہیں میلہ لوٹ لیتے ہیں ،لیکن اس دن سے ڈریں جب ان کی رہی سہی عزت کی بھی ڈکیتی ہو جائے گی یہ قوم بھوک و ننگ سب پر کمپرومائز کرے گی پاک فوج پر کبھی نہیں کرے گی۔
شہزاد اکبر نے تو نیا کٹا کھول دیا ہے ، کہتے ہیں شہباز شریف نیب کی حراست کے دوران رات کو بڑے گھر جا کر منت ترلا کیا کرتے تھے، یعنی کہ” اتوں رولا پائی جاﺅ اندرو اندری کھائی جاﺅ “اس لئے تو ہماری بڑے بھیا کی پھوکی بھڑکیں سن کر وکھیاں“ درد ہونے لگتی ہیں کہ اندر کھاتے شہباز بھیا اور کبھی کوئی زبیر بھیا منتیں ترلے کرتے ہیں اور بظاہر میاں صاحب جلسوں میں کہتے ہیں ”او جینے میرے نال ویر پایا اودھی ماں نے ویہن ہی پایا“سیاسی مظہر شاہوں کی کیا بات ہے ۔ٹیچر نے سنتا سنگھ سے پوچھا سکندر اعظم مرنے سے پہلے کیا تھا سنتا سنگھ نے جواب دیا میڈم او ”مرن توں پہلے زندہ سی“، بڑے بھیا ہوں یا چھوٹے بھیا نیب سے پہلے اور نیب کے بعد بھی زندہ ہیں اور ہماری دعا ہے کہ چاہے ان بائیس کروڑ عوام کی جانیں چلی جائیں لیکن ان کے ماتھے پر بھی کبھی شکن نہ آئے۔ بہتر سال سے یہی کھیل ہو رہا ہے کہ جب آپ اقتدار میں ہوں تو آپ کو یہ ہوش ہی نہیں رہتی ہے کہ آپ نے حساب بھی دینا ہے آپ نے اپنی لٹ مار پر عدالتوں کا بھی سامنا کرنا ہے ۔جب آپ کے پلے ککھ نہیں رہتا تو آپ جلسوں میں تقریریں کرتے ہیں کہ میں ”امب چوپن لئی گئی باغ وچ پھڑی گئی“۔ بھائی آپ کو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کب تک امب چوپتے پھڑے جاتے رہیں گے۔ بس کر دو بس، یہ مخلوق کو معاف کردو یہ آپ کو اپنے کندھوں پر بٹھا کے اقتدار تک لاتے ہیں یہ اور ان کے بچے صبح سے شام دو روٹی کے چکر میں مر جاتے ہیں، اس قوم کی لاکھوں بچیاں جہیز نہ ہونے پر گھر میں ہی بوڑھی ہو جاتی ہیں، یہ بجلی کے بل کے خوف میں شدید گرمی میں پنکھا ،چلاتے ڈرتے ہیں، آٹا ، چینی، گھی ان کا خواب بن جاتا ہے، بھوک ننگ ان کے گرد ”جھینگا لالا ہوم “گاتی پھرتی ہے، انہیں صاف فضا میسر ہے نہ پانی ،کونسی بیماری ہے جو ان کے جسم پہ قبضہ نہیں کرتی، پھر بھی ان کی وفاداری دیکھو گوجرانوالہ بلاﺅ وہاں بھاگے چلے جاتے ہیں کنونشن سنٹر بلاﺅادھر پہنچ جاتے ہیں، خیر نال گوجرانوالہ میں آپ انہیں شیر کہتے ہیں اور کنونشن سنٹر میں ٹائیگرز، سنتا سنگھ نے فون کیا بولے کون بول رہا ہے دوسری طرف سے آواز آئی میں بول رہا ہوں۔ سنتا سنگھ حیرانگی سے بولے ،،،ہیں ….ایتھے وی میں ہی بول رہا ہوں۔ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ کو سنتو بنتو کی فوج میسر ہے کہ جو نہ یہ پوچھتی ہے کہ آپ کروڑوں کی گاڑیوں میں جن فٹ پاتھوں سے گزرے ان پر پڑے بے یارو مددگار لوگ کن کی ذمہ داری تھے۔ نہ وہ آپ کے قیمتی جوتوں پر س اور لباس کو دیکھ کر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں جہیز کے انتظار میں کیوں بیٹھی ہیں۔ نہ ہی وہ پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج پر زخمی جسموں کے ساتھ یہ خیال کرتے ہیں کہ جمہوریت کے لئے غریب کے بچوں کے لاشے ہی کیوں ضروری ہیں، آپ کے بچے کیوں برطانوی پاسپورٹ کو لیکر ”میرا جوتا ہے جاپانی یہ پتلون انگلستانی “گاتے پھرتے ہیں۔
تیرا رتبہ بہت بلند سہی
دیکھ میں بھی خدا کا بندہ ہوں

Leave a Reply

%d bloggers like this: