Muhammad Akram Amir Today's Columns

گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا کے ڈاکٹرز میں تنائو؟ از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

پاکستان بالخصوص پنجاب بھر میں سرکاری ہسپتالوں پر نظر ڈالی جائے تو اکثریت میں طبی سہولیات کا فقدان ہے، صوبہ کے ٹیچنگ ہسپتال ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ، تحصیل ہیڈ کوارٹر ، بی ایچ یو ہسپتالز کی نوعیت ایک جیسی ہے، ملک کا 60 فیصد سے زائد علاقہ دیہی آبادی پر مشتمل ہے جس میں علاج معالجہ کیلئے سرکاری ہسپتال یا ڈسپنسریاں نہ ہونے کے برابر ہیں، یہی وجہ ہے کہ غریب طبقہ بیمار ہونے کی صورت میں سسک سسک کر دم توڑ رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے برسر اقتدار آنے سے پہلے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آئے تو تعلیم کے فروغ اور غریب عوام کو مفت جدید طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے، عوام نے شاید یہی سوچ کر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا کہ وہ (عمران خان) اقتدار میں آ کر ان کی تقدیر بدل دیں گے، کپتان کی حکومت نے آتے ہی سندھ، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان کے بڑے اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں کو خود مختار بنانے کیلئے ایم ٹی آئی ایکٹ لاگو کرنے کا اعلان کیا، جس پر محکمہ صحت کی نمائندہ تنظیمیں شدید رد عمل کا اظہار کر رہی ہیں، اور اس ایکٹ کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ اگر یہ ایکٹ لاگو ہوا تو عوام کو صحت کی سہولت کی فراہمی مزید مہنگی ہو جائے گی۔
راقم کا گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا میں جانا معمول ہے، کبھی کسی مریض کی تیمار داری کیلئے اور کبھی کسی مریض کو علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے۔ اس ہسپتال میں قرب و جوار کے اضلاع سرگودھا، خوشاب، بھکر، میانوالی، لیہ، منڈی بہائوالدین سمیت دیگر سے مریض آتے ہیں، اس بارے انکشاف ہوا کہ گورنمنٹ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ تو دید یا گیا لیکن اس کیلئے بنیادی اقدامات نہ کیے گئے اور نہ ہی میڈیکل کالج کیلئے الگ سے ہسپتال بنایا گیا، جس میں میڈیکل کے طلباء کو جدید طبی سہولتوں سے آگاہ کیا جاتا۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں 4 نومبر 2021 کو پنجاب کابینہ کے 49 ویں اجلاس میں سرگودھا میڈیکل کالج کو پنجاب حکومت کی تحویل میں لینے کا معاملہ زیر غور لایا گیا، یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں اسی ایجنڈے پر بحث ہوتی ہے جس کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہو اور اب صرف اسے کابینہ سے منظور کروانا مقصود ہو۔ جیسے ہی اس اجلاس کے نکات منظر عام پر آئیں گے تو سرگودھا کے شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے ملازمین خصوصا صوبائی گورنمنٹ (ڈسٹرکٹ ہسپتال) کے ڈاکٹرز میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی، میڈیکل کالج کو پنجاب حکومت اپنی تحویل میں لے گی تو اس کے بعد سرگودھا کے صحت کے شعبہ میں مثبت تبدیلیاں واقع ہونگی، جس کا انتظار یہاں کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے کر رہے ہیں۔ اس صورت میں ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال میں محکمہ صحت کی جانب سے مقرر کردہ فیکلٹی کی تعیناتی سے جہاں پوسٹ گریجوایٹ طلباء کو بہترین پروفیسر پڑھانے کیلئے ملیں گے وہاں چین آف کمانڈ بھی قائم ہو گی، ساتھ مریضوں کو معمولی بیماری کے علاج کی صورت میں لاہور اور دوسرے شہروں کا سفر کرنے کی اذیت سے بھی چھٹکارا مل جائے گا، اس فیصلے کے نتیجہ میں تتر نہ بٹیر والی صورتحال منطقی انجام تک پہنچ جائے گی۔ اور صحت کی سہولتوں کے مستقبل کا منظر نامہ بھی واضح ہو جائے گا، اس سے صوبائی حکومت کے تعینات کردہ ڈسٹرکٹ کنسلٹنٹ (سپیشلسٹ ڈاکٹرز) کو ٹیچنگ ایکسپرینس نہ دینے کا بھی خاتمہ ہو جائے گا؟ لیکن ہسپتال کا ایک گروپ جسے خدشہ ہے کہ وہ اس صورت میں متاثر ہو گا غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے، ڈسٹرکٹ کنسلٹنٹ کو تدریسی تجربہ کی سند نہ دینے کے باوجود فیکلٹی کا رکن ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، وہ گروپ موجودہ حالت میں پی ایم سی افسران اپنے دورے پر میڈیکل کالج کو پنجاب حکومت کی تحویل میں دیئے جانے تک موخر کرنے کیلئے حکمت عملی طے کر رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ وہ عدالت سے اس ضمن میں حکم امتناعی کیلئے بھی رجوع کر سکتے ہیں؟ تا کہ میڈیکل کالج پنجاب حکومت کی تحویل میں نہ جائے اورمعاملہ جوں کا توںرہے، اور مریض خجل خوار ہوتے رہیں۔
یاد رہے کہ سرگودھا کے شہری وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو بار بار باور کرا رہے ہیں کہ سرگودھا میڈیکل کالج کو صوبائی حکومت اپنی تحویل میں لے کر میڈیکل کالج کیلئے الگ سے ہسپتال قائم کرے جس میں میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات کو میڈیکل کی بہترین تعلیم کی سہولت میسر ہو، اس سے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا میں ڈسٹرکٹ اور ٹیچنگ کے ڈاکٹرز میں پایا جانے والا تنائو بھی ختم ہو جائے گا اور ڈسٹرکٹ اور ٹیچنگ کے سپیشلسٹ و ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف عوام کو بہترین طبی سہولیات بھی فراہم کر پائیں گے کیونکہ دونوں ہسپتالوں میں کشیدگی کا ماحول نہیں ہو گا، ہسپتال کے حالات کو بھانپتے ہوئے پیپلز پارٹی کے دور میں سرگودھا سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم احمد قریشی نے میڈیکل کالج کیلئے الگ سے 500 بستر کا ہسپتال قائم کرانے کی منظوری دلوائی تھی، لیکن اہل سرگودھا کی بد قسمتی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہو گئی اور (ن) لیگ نے آ کر اس منصوبے کو ٹھپ کر دیا اور پھر میڈیکل کالج کیلئے الگ ہسپتال کی تعمیر کا معاملہ لٹک گیا، 2018ء میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو اہل سرگودھا توقع کرنے لگے کہ کپتان اس اہم مسئلہ کا کوئی حل نکالیں گے، کیونکہ کپتان نے اقتدار میں آنے کی صورت میں تعلیم اور صحت کے شعبہ میں اصلاحات لانے کا اعلان کیا تھا لیکن کپتان کے اقتدارکو تین سال سے زائد عرصہ گزر گیا، نہ وزیر اعظم نے اس معاملہ پر توجہ دی اور نہ ہی وزیر اعلی پنجاب نے؟ اب پنجاب کابینہ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث لایا جا چکا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد اس کی کابینہ سے منظوری لے کر سرگودھا میڈیکل کالج کو پنجاب حکومت اپنی تحویل میں لے لے گی اور اس کیلئے یا تو 500 بیڈز کا الگ ہسپتال قائم کیا جائے گا اور یا گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ کر کے یہاں جدید اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا جو اہل سرگودھا کیلئے غنیمت سے کم نہیں ہو گا۔ کیونکہ موجودہ حالات میں سرگودھا کا یہ سرکاری ہسپتال وہ سہولتیں فراہم نہیں کر پا رہا جو لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیچنگ سطح کے ہسپتالوں میں فراہم کی جا رہی ہیں۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: