Muhammad Riaz Today's Columns

باادب باملاحظہ ہوشیار سیزن2 از محمد ریاض ( امید سحر )

Muhammad Riaz
Written by Muhammad Riaz

نئے پاکستان میں ڈالر، چینی اور پٹرول کی قیمتوں میں جاری مقابلہ میں اس وقت ڈالر ریٹ پہلے نمبر پر، دوسرے نمبر پر چینی اور تیسرے نمبر پر پٹرول کی قیمتیں جارہی ہیں۔ مقابلہ کی اس دوڑ میں باقی اشیاء بھی ان تینوں کا خوب مقابلہ کرتی دیکھائی دے رہی ہیں۔آٹا، گھی، دالیں، سبزیاں، گوشت و دیگر ضروریات زندگی بھی اپنی صلاحیتیوں کا خوب مظاہرہ کرتی دیکھائی دے رہی ہیں۔ سونے پہ سہاگہ ہمارے ارباب اختیار اس مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کرنے کی بجائے مہنگائی کے ہاتھوں لٹی ہوئی عوام کے زخموں پر آئے روز نمک چھڑک رہے ہیں۔ نئے پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور نئے پاکستان کے حکمرانوں کے طرزحکمرانی کی صحیح ترجمانی و پیشنگوئی آج سے بہت عرصہ پہلے پاکستان ٹیلی ویژن کے اک بہت ہی مشہور ڈرامہ ”باادب باملاحظہ ہوشیار” میں کردی گئی تھی۔یوٹیوب پر موجود ڈرامہ کو ملاحظہ فرمائیں کہ اس ڈرامہ میں دیکھائی جانے والی طرزحکمرانی اور نئے پاکستان میں طرزحکومت میں کس حد تک مطابقت پائی جاتی ہے۔کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہورہا ہوتا ہے کہ شائد ہم باادب باملاحظہ ہوشیار سیزن2 دیکھ رہے ہیں۔ افسوس نئے پاکستان کے حکمران مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی بجائے مہنگائی کا دفاع کرنے پر اپنی توانیاں صرف کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں کوئی مہنگائی نہیں ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے، ادھر مہنگائی کا نوٹس لیا اُدھر سونامی مہنگائی کی اک اور لہر حملہ آور ہوجاتی ہے۔ شائد عمران خان صاحب پاکستانی تاریخ کے واحد حکمران ہیں جو قوم کے نام خطاب میں مہنگائی کرنے کے اعلانات کرتے دیکھائی دئیے۔ اب تو جب کبھی میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی ہے کہ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے تو عوام الناس خوف زدہ ہوجاتی ہے کہ ”آئی آئی اور مہنگائی آئی”۔ اور یقینا یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے جب کبھی مہنگائی کا نوٹس لیا ہے تو اس کا نتیجہ مزید مہنگائی ہی کی شکل میں عوام الناس کو بھگتنا پڑا ہے۔ پاکستان کی تمام تر معاشی سرگرمیاں ”ڈالرریٹ” کی مرہون منت ہیں۔ روپے کے مقابلہ میں ڈالر ریٹ ایک روپیہ بڑھ جانے سے پاکستانی معیشت اور پاکستان پر بیرون دینا سے لئے گئے قرضوں پر کیا اثرات پڑتے ہیں اس کا جواب توموجودہ وزیراعظم اور پرانے پاکستان کے اپوزیشن لیڈر جناب عمران خان صاحب اور نئے پاکستان کے معاشی گرو جناب اسد عمر صاحب کے کیلکولیٹرز پرانے پاکستان میں بہت اچھی طرح سے بتایا کرتے تھے، نجانے آج انکے کیلکولیٹرز خراب ہوچکے ہیں یا پھر ان کیلکولیٹرز کو جان بوجھ کر استعمال ہی نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درآمد کردہ گورنر صاحب نے ڈالر ریٹس کے بڑھنے کے کیا خوب فوائد بتائے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ جب ڈالر ریٹس بڑھتے ہیں تو سمندر پار پاکستانیوں کے پاکستان میں موجود رشتہ داروں کو بہت فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ جب سمندرپار پاکستانی اپنے پیاروں کو پہلے رقم بھیجا کرتے تھے تو پاکستان میں موجود رشتہ داروں کو کم پیسے ملتے تھے اور اب ڈالر ریٹس کی بدولت پاکستانی رشتہ داروں کو زیادہ رقم ملتی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک صاحب کے جواز کے کیا ہی کہنے۔ گورنر صاحب سے انتہائی ادب سے اک سوال پاکستان میں رشتہ داروں کو جو چیز پہلے 100روپے کی ملتی تھی کیا ڈالر ریٹس کی بدولت اب بھی وہی چیز 100 روپے میں ملتی ہے یا پھر 150 یا 200 روپے کی ملتی ہے؟ ڈالر ریٹس پر گورنر اسٹیٹ بینک کے بیان کے بعد پاکستان کے معاشی حالات اور ان معاشی حالات کو کنٹرول کرنے والوں کی قابلیت کا اندازہ لگانے کی مزید جستجو اور تگ ودو کرنے کی ضرورت باقی نہیں بچتی۔ اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ جناب عمران خان صاحب کی حمایت میں سمندرپارپاکستانی ہمیشہ ہی صف اول کے سپاہی کا کردار ادا کرتے دیکھائی دیئے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات، مہنگائی کے طوفان بدتمیزی میں چیخیں مارتی عوام الناس کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے لئے جناب عمران خان کے کچھ سمندر پار پاکستانی ٹائیگرز سوشل میڈیا پر بیرون ملک میں پٹرول و دیگر ضروریات زندگی کی قیمیتوں کا پاکستانی روپوں میں موازنہ کرکے پاکستانی عوام کو ناشکرا پن کا مظاہرہ کرنے والی قوم قرار دے رہے ہیں۔ یہ کم عقل مگر انتہائی شاطر ٹائیگرز یورپ امریکہ میں ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کا پاکستانی روپے میں موازنہ کرتے تو ضرور دیکھائی دئیے، مگر آپکو کوئی سمندرپار ٹائیگر اپنی ویڈیوز میں یورپ امریکہ میں اپنی تنخواہ پاکستانی روپوں میں بتاتا دیکھائی نہیں دے گا۔ یہ ٹائیگرز اپنی ویڈیوز میں یورپ امریکہ میں مہنگائی کا اتنا رونا پیٹنا کرتے اور پاکستان کو دنیا کا سستا ترین ملک ثابت کرتے نظر آئیں گے، ان کم عقل، مگر شاطر اور انتہائی چالاک ٹائیگرز سے مہنگائی کے ہاتھوں چیخییں مارتی عوام الناس یہ درخواست کرتی ہے کہ جناب والا یورپ اور امریکہ میں اگرواقعی حد سے زیادہ مہنگائی ہے اور پاکستان دینا کا سستا ترین ملک ہے تو پھر ہجرت کرکے بیرون ملک کیوں ذلیل اور کھجل خوار ہورہے ہو؟ چھوڑو امریکی گرین کارڈ اور چھوڑو یورپی ممالک کی نیشنلٹی؟ دنیا کے سستے ترین ملک پاکستان میں واپس کیوں نہیں آجاتے؟ نئے پاکستان میں جس طریقہ سے مہنگائی کا دفاع کرتے ہوئے یہ جواز دیئے جاتے ہیں دیکھیں جی یورپ میں بھی مہنگائی ہے امریکہ میں بھی مہنگائی ہے خدانخواستہ کل کو کہیں یہ بھی سننے دیکھنے کو نہ مل جائے کہ دیکھیں جی وہاں پر بھی تو قحط ہے وہاں پر بھی تو بھوک افلاس ہے اگر پاکستان میں ایسا ہے تو کون سی قیامت آگئی ہے۔ اللہ کریم پاکستان اور پاکستانیوں کے حال پر رحم فرمائے۔ آمین ثم آمین

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Riaz

Muhammad Riaz

Leave a Comment

%d bloggers like this: