Today's Columns

بدلتا ہوا افغانستان از شہروز بیگ

پاک افغان تعلقات کی نوعیت پچھلے پینتالیس برسوں میں دراصل جنگی تعاون کی سی رہی ہے ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی جاتی رہی تو دونوں اطراف سے وہی لوگ ذمہ دار ہے جو اس طرح کے معاملات میں تربیت اور تجربے کے حامل ہیں ۔ اس کے بعد افغان مجاہدین کی باہمی لڑائیاں شروع ہوئیں تو بھی جنگی امور کے ماہرین ہی پاکستان کی طرف سے ان میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ۔ ان باہمی لڑائیوں کے خاتمے کے لیے 1990 کی دہائی میں طالبان آگے آئے تو ان کی جدوجہد بھی درحقیقت ایک جنگ ہی تھی اس لیے حالات و واقعات پر پاکستان کی طرف سے نظر رکھنے کا فریضہ جنگی و دفاعی ماہرین کے پاس ہی رہا ۔ 2001 ء میں افغانستان پر امریکی حملہ ہوا تو پاکستان میں جنرل پرویزمشرف کی حکومت تھی اس لیے فطری طور پر ہمارے دفاعی ادارے پالیسی سازی سے لے کر اس کو عمل میں لانے تک کے بھی مراحل کے نگران بن گئے ۔ جنرل مشرف کے بعد آنے والوں کی رائے اور معلومات کی بنیاد صرف اور صرف امریکی میڈیا میں آنے والے خبریں تھیں ان کی اپنی کوئی رائے تھی نہ پالیسی ۔ اس لیے سب کچھ ویسا ہی چلتا رہا جیسے پہلے چلا آرہا تھا ۔ یعنی افغانستان یا اس سے متعلق پاکستان کے بھی رابے عسکری دائرے میں ہی رہے ۔ پارلیمنٹ سیاسی جماعتیں منتخب اراکین اسمبلی کا تعلق اول افغانستان سے بن ہی نہیں پایا اور کچھ بنا بھی تو تعمیری نہیں بنا کبھی ان تعلقات کو عوامی نیشنل پارٹی نے استعمال کر کے پاکستان میں سیاست کرنے کی کوشش کی بھی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اپنی بے معنی کی راگنی الاپتے رہے اور بھی مولانافضل الرحمن یا دیگر انہیں سیاسی جماعتیں افغانستان میں اپنے تعلقات جتا جتا کر مسائل الجھاتی رہیں ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ پچھلے سال تک افغانستان میں جو کچھ ہوا دراصل سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے تسلسل میں رونما ہونے والے واقعات کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ امریکہ کا طالبان کے ساتھ ایک سیاسی معاہدہ کر کے نکالنا اور طالبان کا شعوری طور پر اپنے ماضی کے باکس اندرونی و بیرونی طور پر سیاسی انداز میں معاملاتطے کرنا ہی ظاہر کر رہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں ایک نیا افغانستان ابھر رہا ہے ۔ ماضی کے برعکس عالی امدادی اداروں کو ہرمکن سہولت فراہم کرنا وادی پنچ شیر میں گولیاں چلانے سے پہلے کا راستہ نکالنے کی کوشش کرنا اور پھر جنگ کے خاتھے کیلئے عام معافی کا اعلان اس کے علاوہ امریکہ سمیت ایران چین اور روس کے ساتھ سفارتی مراسم قائم کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہی ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ طالبان کی موجودہ قیادت شعوری طور پر اختلاف کے خاتمے کیلئے سیاسی راستہ ہی اختیار کرنا چاہتی ہے ۔ افغان قیادت کے رویے میں اس تبدیلی کا آغاز تو قطر میں دفتر کے قیام سے ہی ہو گیا تھا لیکن پچھلے ایک سال میں یہ تبدیلی مکمل انقلاب کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ امریکہ روس اور چین کے ساتھ جتنے بھی مذاکرات طالبان نے کیسے ہیں وہ زیادہ تر غیرعسکری پس منظر کے حامل عہدیداروں سے کیے ہیں ۔ چونکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک خاص پس منظر سے جڑے ہیں اس لیے فوری طور پر تو شاید ان کے میکانزم میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی لیکن ہمیں بھی ان تعلقات کو سیاسی رنگ دینے کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے ۔ اس خاکسار کی معلومات کے مطابق طالبان بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سیاسی شکل دینے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اس کا اظہار دے لفظوں میں بند دروازوں کے پیچھے تو ہوتا ہی رہا ہے لیکن اب اس کیلئے باقاعدہ کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ کسی درجے میں طالبان کی یہ خواہش درست بھی ہے کہ انہیں دنیا میں خود کو ایک سیاسی قوت کے طور پر منوانا ہے ایسے میں اگر ان کا قریب ترین ہمسایہ ان کے ساتھ اپنے تعلقات کی ظاہری صورت کو بھی سیا کیا نہ بنائے تو یہ ان کیلئے خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ اس لیے افغانستان کی آئند حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ جب ہوگا تب ہوگا لیکن اس مرحلے پر بھی طالبان سے رابطوں میں ہماری طرف سے سیاستدان بھی شامل ہوجائیں تو مستقبل کی صورت گری کہیں بہتر انداز میں کی جاسکتی ہے ۔ اس کی ابتدائیوں بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی پارلیمانی وفد کا بل جا کر حالات کا جائزہ لے لے تو بہتر ثابت ہو سکتاہے.

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: