Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi Today's Columns

محسن انسانیت آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں از صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

عید میلا د النبیﷺ خصوصی تحریر!

اگر ہم تاریخ اسلام اور تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو ہمیں طرح طرح کے مسلمین دکھائی دیتے ہیں جن کی تعلیمات صرف خیر و فلاح تک دکھائی دیتی ہیں اور ان کے اثرات زندگی کے کسی ایک پہلو یا گوشہ پر اثر انداز ہوتے ہو ئے نظر آتے ہیں مگر محسن انسانیت آقائے دوجہاںحضرت محمد ﷺ کے سوا کوئی شخص پوری تاریخ انسانیت میں ہمیں ایسا دکھائی نہیں دیتا جس نے نہ صرف پورے کے پورے انسان کو بلکہ پورے معاشرے کو اجتماعی طور پر اندر سے بدل نہ دیا ہو درحقیقت آنحضور ﷺ کے کردار اور تعلیمات سے انسانیت کو نہ صرف نشاۃ ثانیہ حاصل ہوئی بلکہ آپ نے اپنے قول و فعل سے تہذیب و تمدن اسلامی کو روشن کرتے ہو ئے بین الاقوامی دور تاریخ کا آغاز بھی کیا یہ محسن انسانیت کی ذات کا ہی کمال اور انقلاب تھا کہ جس نے انسانیت کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اس بناء پر آپ بہت بڑے عظیم ترین معمار انسانیت کہلائے آپ کے لائے ہوئے سماجی ،سیاسی ،معاشی،مذہبی اور اخلاقی انقلاب کا یہ اثر ہوا کہ معاشرہ ہر اعتبار سے نہ صرف مربوط اور مستحکم ہوا بلکہ ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو گیا اور اس کے اثرات سے پوری عالم انسانیت پر مرتب ہوئے سرکار دوعالم ﷺ کی ذات با برکات اور نافذ کردہ اصلاحات اور انقلابات کا اعتراف وقتا قوفتا غیر مسلم دانشوروں ،محققوں ،صحافیوں اور سیاسی رہنمائوں نے بھی کیا ہے جو ذیل کی سطور میں قارئین کی نذر ہیں
نپولین بونا پارٹ !محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی اور انقلابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محمدﷺ کی ذات مرکزی حیثیت اور اہمیت کی حامل تھی جن کی طرف لوگ رجوع کرتے تھے ان کی تعلیمات نے لوگوں کو ان کا گرویدہ بنا دیا اور ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا تھا کہ جس نے چند ہی سال میں دنیا کو جھوٹے خدائوں سے نجات دلادی انہوں نے بت سر نگوں کر دئیے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں نے پندرہ سوسال میں کفر کی نشانیاں اتنی نہ مٹائیں ہوں گی جتنی نبی پاک ﷺ کے پیروکاروں نے صرف پندرہ سال میں مٹا دیں حقیقت یہ ہے کہ محمد ﷺ کی ذات اور ہستی بہت ہی بڑی ہے
ازمنہ وسطیٰ میں عیسائی راہبوں نے اپنی جہالت تعصب اور تنگ نظری کی بدولت مذہب اسلام کی بڑی بھیانک تصویر پیش کی ہے بات یہیں تک ختم نہیں ہو جاتی انہوں نے حضرت محمدﷺ اور آپ کے مذہب کے خلاف باضابطہ تحریک چلائی میں نے ان باتوں کا بغور مطالعہ کیا اور مشاہدہ کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچاہوں کہ محمد ﷺ عظیم ہستی تھے اور حقیقی معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ ہیں برصغیر پاک و ہند کی معروف خاتون سیاستدان ہوم اول لیگ کی رہنما مسز اینی بسنت نے ۱۹۱۲ء میں ایک تصوف کانفرنس میں سرکار دوجہاں ﷺ کی حیات طیبہ پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے بانی حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں وہ عنصر نہیں پایا جاتا جس نے دوسرے بڑے مذہبی پیشوائوں کی زندگی پر پردہ ڈال رکھا ہے آپ کی زندگی ایک ایسے زمانے میں بسر ہوئی جسے تاریخی زمانہ کہا جاتا ہے آپ کی زندگی اپنے خدوخال کے اعتبار سے کس قدر سادہ کس قدر بہادرانہ تھی آپ تاریخ کے ایک ایسے نہایت نازک دور میں پیدا ہوئے تھے جو سرتا پا اوہام پرستی میں ڈوبا ہو ازمانہ تھا ہمیں آپ کی زندگی اس قدر شریفانہ اوراس قدر سچی نظر آتی ہے کہ ہم فورا معلوم کر لیتے ہیں کہ کیوں آپ کو اپنے گردوپیش کے لوگوں کے لئے خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے منتخب کیا گیا مکہ کے تمام مرد،عورتیں اور بچے آپ کو صادق اور امین دیانتدار کہہ کر پکارتے تھے اس سے زیادہ پائے کا اور کوئی شریفانہ لقب کسی کو نہیں ملا نہ ملے سکتا ہے جس سے وہ ان کو پکارتے مسڑگبن لکھتے ہیں کہ ہر انصاف پسند شخص یہ یقین کرنے پر مجبور ہے کہ محمد ﷺ کی تبلیغ و ہدایت خالص سچائی اور خیرخواہی پر مبنی تھی پنڈت گوپال کرشن ایڈیڑ بھارت سماچار بمبئی مہاپرش کے عنوان سے آنحضرت ﷺ کی سیرت یوں بیان کرتا ہے رشی محمد صاحب کی زندگی پر جب ہم وچار کرتے ہیں تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ ایشو نے ان کو سنسار سدھار نے کے لئے بھیجا تھا ان کے اندر وہ شکتی موجود تھی جو ایک گریٹ ریفارمر (مصلح اعظم) اور ایک مہاپرش (ہستی عظیم) میں ہونی چاہیے وہ عرب کے فاتح اعظم تھے مگر مفتوح عوام کے لئے پیغام رحم و کرم تھے آپ کی تعلیمات میں ایک چمکتا ہوا ستارہ یہ بھی ہے کہ وہ امیر و غریب کو ایک ہی سطح پر زندگی بسر کرنے کا ڈھب سکھلاتے تھے آپ کا کہنا ہے کہ غریب کے پہلو میں بھی دل ہے جو اچھے سلوک سے خوش اور برے سلوک سے ناخوش ہوتا ہے مشہور روسی محقق کائونٹ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ دنیا میں مصلح عظیم بن کر آئے تھے اور آپ میں ایسی برگزیدہ قوت پائی جاتی تھی جو قوت بشری سے بہت زیادہ اعلیٰ و ارفع تھی مشہور یورپین محقق لین پول کہتا ہے کہ محمدﷺ نہایت بااخلاق اور رحم دل بزرگ تھے ان کی بے ریا خدا پرستی ،عظیم فیاضی مستحق تعریف ہے آپ اس قدر انکسار پسند تھے غریبوں سے زیادہ محبت کرتے اور اپنے کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دیتے تھے بے شک آپ مقدس پیغمبر تھے انگلستان کا مشہور اہل قلم مسڑ ٹامس کار لائل لکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا لقب نہایت صاف وشفاف اور ان کے خیالات بے لوث تھے وہ نہایت سرگرم ریفارمر اور برگزیدہ بزرگ تھے آج بھی محمد ﷺ کی صداقت کا میاب نظر آتی ہے الغرض غیر مسلم دانشوروں ،ادیبوں،صحافیوں اور محققوں کے محسن انسانیت آقائے دوجہاںﷺ کے بارے میں اظہار خیال پڑھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ آپ کی ذات بابرکات اور سیرت طیبہ نہ صرف ہمارے لئے باعث نجات ہے بلکہ آپ واقعی محسن انسانیت اور ڑحمتہ اللعالمین ہیں اللہ ہم سب مسلمانوں کو اپنے پیارے نبی پاک ﷺ کی سچی تعلیمات پر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے میں ہماری سب مشکلات کو آسان فرمائے آمین

٭…٭…٭

About the author

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Leave a Comment

%d bloggers like this: