M Sarwar Siddiqui Today's Columns

کپتان جی، عافیہ صدیقی کی رہائی کب ہو گی؟ از ایم سرور صدیقی ( جمہور کی آواز )

M Sarwar Siddiqui
Written by M Sarwar Siddiqui

سوچوں میں گم بیٹھا تھا کہ آج کس موضوع پر قلم کشائی کی جائے کہ اچانک ذہن میں 2018ء کی انتخابی مہم کے دوران ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر ہونے والی پی ٹی آئی کے کپتان عمران خان کی تقریر ذہن میں گردش کرنے لگی جس میں کپتان نے دعوی کیا تھا کہ اقتدار میں آ کر امریکہ کی گوانتاناموبے جیل میں بند امت مسلمہ کی بیٹی پاکستانی عافیہ صدیقی کو امریکہ کی قید سے رہائی دلا کر پاکستان لائیں گے۔ اس بات کو ساڑھے تین سال سے زائد کاعرصہ گزر چکا ہے، کپتان کی حکومت کو بھی 3 سال دو ماہ ہونے کو ہیں، نہ ہی قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی ہوئی اور نہ ہی اس کیلئے کوئی تحرک کیا گیا؟ جس سے ذہن میں بہت سے سوال ابھرنے لگے، پھر سوچا کہ کپتان نے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے وعدے کیے تھے جن میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور بے گھر افراد کو لاکھوں گھر بنانے کے وعدہ سمیت کئی دیگر بھی شامل تھے جن پر ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا، جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت کی مدت صرف 22 ماہ کے لگ بھگ باقی رہ گئی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 30 مارچ 2003ء کو امریکی ایجنسیوں نے پاکستان سے حراست میں لے کر غائب کر دیا تھا لیکن حکومت کو کئی ماہ تک اس کا پتہ نہ چلا، یا حکومت نے مصلحت کے تحت اس بات کو خفیہ رکھا؟ یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ پاکستان کی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جھوٹا اور بے بنیاد الزام یہ لگایا گیا کہ اس نے دھماکہ خیز مواد سمگل کرنے کی کوشش اور ایک کالعدم تنظیم کو بائیولوجیکل ہتھیار بنا کر دینے کی پیشکش کی تھی، عافیہ صدیقی کی عمر اس وقت 25 سے 30 سال کے درمیان تھی کہ امریکہ کی عدالت نے اسے 85 سال قید کی سزا سنائی، عافیہ صدیقی اب گوانتاناموبے جیل میں ہے جس پر مبینہ طور پر امریکی ایجنسیوں نے اتنا تشدد کیا اب وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی ہے، جس کی تصدیق برطانوی صحافی یوون ریڈلی نے بھی ایک رپورٹ میں کی تھی، جن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی حفاظتی مرکز میں قیدی نمبر 650 ایک مسلمان خاتون ہیں جس کے ساتھ وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکار ناروا سلوک کر رہے ہیں، یاد رہے کہ یوون ریڈلی نے پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی بارے یہ انکشاف 28 اکتوبر 2008ء کو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے متحرک آمنہ جنجوعہ کے ہمراہ میڈیا پر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پینٹاگون نے انہیں بتایا ہے کہ اس خاتون (عافیہ صدیقی) کو 2 سال تک بگرام حراستی مرکز میںکسی مقدمہ کے بغیر رکھا گیا تھا، مزید انکشاف کیا کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو 2003ء میں اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کی اجازت پر پاکستان سے تین بچوں سمیت اغواء کر کے بگرام ایئر بیس افغانستان لے جایا گیا تھا، جہاں امریکی عقوبت خانے میں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے، 2009ء میں انہیں امریکہ منتقل کیا گیا، عمران خان نے اس ایشو کو 2018ء میں اپنی انتخابی مہم میں منشور کے طور پر شامل کیا جس میں قوم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ’’پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار آنے کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور بیرون ملک قید دوسرے پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس لانے کی پوری کوشش کرے گی‘‘۔ عمران خان انتخابی مہم میں عافیہ صدیقی کی گرفتاری کو حساس ایشو کے طور پر سامنے لائے، اور عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے مسلسل آواز بھی اٹھاتے رہے۔
یاد رہے کہ عافیہ صدیقی مارچ 1972ء میں کراچی کے صدیقی خاندان میں پیدا ہوئی، اللہ تعالی نے اسے سیرت اور صورت دونوں سے نوازا تھا، وہ کالج اور پھر کراچی یونیورسٹی میں بھی زیر تعلیم رہی مگر نہ تو اس نے کبھی سر سے حجاب اتارا اور نہ ہی کبھی سر اٹھا کر کسی سے گفتگو کی، وہ شرم و حیاء کی پیکر، جو بعد ازاں اپنے بھائی اور بہن کے پاس امریکہ چلی گئی، جہاں عافیہ صدیقی نے مائیکرو بائیولوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، بعدازاں عافیہ صدیقی کی ڈاکٹر محمد امجد خان سے شادی ہو گئی، جن کے تین بچے پیداہوئے، دجالی تہذیب کے علمبردار امریکہ نے معصوم عافیہ صدیقی کو بے گناہ حراست میں لے کر اب گوانتاناموبے جیل میں بند کر رکھا ہے، یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہر نچلی عدالت کے فیصلہ کیخلاف اپیل کا حق ہوتا ہے، لیکن امریکی عدالت کی جانب سے عافیہ صدیقی کو سنائی جانے والی 85 سال سزا کیخلاف اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا، پوری قوم عافیہ صدیقی کی امریکی جیل میں بندش پر دل گرفتہ ہے اور عوام اور عافیہ صدیقی کے لواحقین ہر آنے والی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے عملی اقدام اٹھائے جائیں، لیکن کسی بھی حکومت نے امریکہ سے کھلے لفظوں میں عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا، یہی صورتحال موجودہ حکومت کی ہے، حالانکہ انتخابی مہم کے دوران کپتان نے برملا کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر امریکہ سے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے بات کریں گے، لیکن تین سال دو ماہ کے دوران عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا جا سکا، جس پر پوری پاکستانی قوم بلکہ امت مسلمہ کی اکثریت نوح و کناں ہے۔
کپتان جی آپ اب حاکم وقت ہیں، اگر آپ سپر پاور کے سامنے کلمہ حق ادا کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی واپسی کے حوالے سے کوئی بات کرتے تو پوری قوم آپ کو شاباش دیتی، اور آپ کا وعدہ بھی وفا ہوجاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا؟ عافیہ صدیقی کی گرفتاری کو ساڑھے اٹھارہ سال ہونے کو ہیں، لیکن بظاہر ابھی تک عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے نہ تو کسی سابقہ حکومت نے کوئی موثرقدم اٹھایا اور نہ ہی آپ کی حکومت کی جانب سے کوئی تحرک کیا گیا، قوم آپ سے سوال کر رہی ہے کہ کیا عافیہ صدیقی پاکستان اور امت مسلمہ کی بیٹی نہیں؟ قوم کی نظریں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کیلئے اسی طرح جدوجہد کی جاتی، جس طرح بھارت اپنے دہشتگرد کی رہائی کیلئے کر رہا ہے اور بھارت نے مقدمہ عالمی عدالت میں دائر کیا ہے، عافیہ صدیقی تو دہشتگرد نہیں ہے؟ اس پر تو الزام محض جھوٹ کی بناء پر لگائے گئے ہیں، کپتان جی! پوری قوم کی آواز ہے کہ عافیہ صدیقی کو رہائی دلائی جائے تو اسی تناظر میں آپ کو چاہئے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکہ سے بات چیت کی جائے اور اگر امریکہ مطالبہ نہیں مانتا تو پھر عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے، کیونکہ امت مسلمہ کی بیٹی پابند سلاسل ہے اور پوری قوم کی نظریں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ آپ یا آپ کی حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کیا تحرک کرتی ہے۔ کپتان جی آپ نے ایسا نہ کیا تو جب مورخ سیاسی تاریخ لکھے گا تو آپ کا نام بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح اسی فہرست میں شامل ہو گا جو حکمران عافیہ صدیقی کی رہائی کے وعدے تو کرتے رہے لیکن ان کی حکومت کا دورانیہ گزر گیا مگر وعدہ وفانہ کر سکے، آئندہ الیکشن میں کپتان جی کس منہ سے اپنی انتخابی مہم چلائیں گے، کیونکہ ان کا کوئی ایک وعدہ بھی سوا تین سال میں پورا نہیں ہوا اور عوام کا یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ عمران خان عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے اقدام اٹھائیں ورنہ ہمارا پرانا پاکستان واپس لوٹا دیں، ہمیں نئے پاکستان کی ضرورت نہیں، جس میں سانس بھی محال ہو چکا ہے۔

٭…٭…٭

About the author

M Sarwar Siddiqui

M Sarwar Siddiqui

Leave a Comment

%d bloggers like this: