Today's Columns

صبح بہاراں ابراہیم کی دعا،عیسیٰ کی بشارت اور سیدہ آمنہ کا خو اب از صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

ربیع الائول شریف کی وہ مبارک گھڑی جب وجہ تخلیق کائنات اس دنیا میں تشریف لائے عاشقان مصطفیﷺ کے لئے لیلتہ القدر سے بھی زیادہ افضل ہے کیونکہ لیلتہ القدر بھی اسی مبارک ساعت کے وسیلہ سے ملی اگر آمد مصطفیﷺکو حصول نعمت کا آغاز سمجھ لیں تو باقی نعمتیں خود بخود اس کے تابع ہو جاتی ہیں بارش کا پہلا قطرہ دریائوں اور سمندروں کے لئے ابتداء ہے دریائوں کا شور،سمندورں کی طغیانی،چاندنی راتوں میں دریا کاجوبن اور لہروں کی اٹکھلیاں سب سے پہلے قطرے کی مرہون منت ہیں اب اگر سارے سمندر کی اصل وہی پہلا قطرہ قرار دے لیں تو یہ عین منطق کے اصولوں کے مطابق ہے کیونکہ اسی سے نہریں ،دریا،سمندر وجود میں آئے یہی بات ربیع الائول میں آمد مصطفیﷺ کی ہے کہ اگر یہ گھڑی نہ ہوتی تو نونعمتوں کا آغاز کیسے ہوتا؟لیلتہ القدر جیسی رات کیسے ملتی؟قرآن مجید جیسی نعمت کیسے ملتی؟ایمان اور ایمان کی حلاوت کیسے نصیب ہوتی؟گویا جس مبارک گھڑی میں رسول اکرم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے وہ گھڑی نعمتوں کا آغاز تھا باقی سب کچھ اسی کے طفیل امت رسول ﷺ کے دامن میں آیا تمازت آفتاب سے جھلستی زمین ہو یا آسمان کی شعلہ ریزیوں کا سامنا کرنے والا پھول ،ٹوٹی گردنوں والے شگوفے ہوں یا سوکھی پتیاں،خشک کھتیاں ہوں یا لُو کی دھشت سے ہانپتے راستے ان سب کے لئے بارش کا پہلا قطرہ ہی بارش کی اصل ہے جل تھل کا سماں اس قطرے کے وسیلے سے ہے محسن ہے یہ قطرہ سروصنوبر کا،لہلاتے کھیتوں کا ،تابندہ چشموں کا،مرمریں ندیوں کا مہکتے پھولوں کو ،کیونکہ اس اصل کا فیض ہر کسی کو حسب حال پہنچ چکا ہے یہی بات نور انیت مصطفیﷺ سے سمجھ میں آتی ہے بقول اقبالؒ
ازدم سیراب آں لقب لالہ لالہ رست ازریگ صحرائے عرب
دین اوآئیں او تفسیر کل در جبیں او خط تقدیر کل
رسول پاکﷺ امی لقب کے مالک ہیں آپ کی سانس مبارک نے انسانیت کو اس طرح سیراب کیا ہے کہ ریت کے ٹیلوں بھرے عرب جیسے صحرا میں گلاب کے پھول کھل اٹھے ہیں آپ کا دین اور قانون ہر چیز کو بیان کرنے والا ہے اور آپ کی پیشانی مبارک میں پوری کائنات کی تقدیر لکھی ہے یعنی جس سے آپ خوش وہ کامیاب ہو جائے گا اور جس سے آپ ناراض وہ ناکام و نامراد ہوگا اس نور مصطفیﷺ کو کائنات کی اصل کہا گیا اسی بات کو اقبال کے لفظوں میں پڑھنے سے ایمان کو زیادہ حلاوت نصیب ہوگی فرماتے ہیں
دشت میں ،دامن کہسار میں ،میدان میں ہے بحر میں ،موج کی آغوش میں طوفان میں ہے
چین کے شہر ،مراکش کے بیاباں میں ہے اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے رفعت شان ورفعنا لک ذکرک دیکھے
نبی پاک ﷺ اصل الموجودات ہیں اور آمد مصطفیﷺ کی گھڑی افضل الاوقات ہے ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے اب اس ساعت کی شان ملاحظہ ہو جس ساعت میں حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہوئی حدیث مبارکہ کے مطابق حضرت آدم ؑ کی تخلیق یوم جمعہ بعد نماز عصر ہوئی حضرت بی بی فاطمہؓ کو معمول تھا کہ آپ نماز عصر سے نماز مغرب تک کسی سے کلام نہ فرماتی بلکہ ذکر واذکار میں مشغول رہتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ اس وقت کی گئی کوئی دعا رد نہیں ہوتی کیونکہ یہ وہ وقت ہے جس وقت حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا گیا گویا جس گھڑی آدمؑ کی تخلیق کی گئی اس وقت کی دعا کو اللہ رد نہیں فرماتا تو اس گھڑی کی کیا شان ہوگی جس گھڑی آقائے دوجہاں ﷺ تشریف لائے بقول اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلویؒ
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
حضرت سیدہ فاطمہؓ کا روزہ حضرت آدمؑ کا میلاد تھا حضور پاکﷺ کے میلاد کو بدرجہ اوُلیٰ سعادت ہے میلاد کا عنوان آج کی تراش نہیں ہے بلکہ یہ تو ہمیشہ سے اہل ایمان کے محبوب وظائف میں شامل رہاہے یہ عنوان حرز جاں ،وردزباں بن کر قلم مسلمانوں کی مشقتوں کا حاصل رہا ہے بلکہ مسلماں کے عقیدے کی روح اسی ایک عنوان کو کہا جاسکتا ہے میلاد مصطفیﷺ کو عقیدہ و عمل کی جان کہہ کر قلب مسلماں کو سکون نصیب ہوتا ہے اور یہی عشق کا کمال ہے بقول اقبالؒ
ہر کہ عشق مصطفیٰ سامان اوست بحر و بر در گوشہ دامان اوست
روح را جز عشق او آرام نیست عشق او روزیست کہ را شام نیست
جس خوش نصیب انسان کو عشق رسول ﷺ کی گراں بہا دولت نصیب ہو گی یہ کائنات بحر و بر اس کے گوشہ دامان کی وسعت سے زیادہ نہیں رہے گی انسان کی روح کو حضور ﷺکے عشق کے بغیرقرارنہیں مل سکتا یہ ہر وقت مضطرب رہتی ہے اور آپ کا عشق ایسے دن کی مانند جس کی تابانی اور تابناکی کو کبھی زوال نہیں آسکتا ابن آدم کی تاریخ کے سکالر چودہ سو سال سے اس باقابل فراموش انقلاب پر اپنی تحقیقات کو تھکا رہے ہیں جس نے اقوام عالم کے قلب پر ایک نرالہ لیکن دائمی نقش ثبت کر دیا چند ہی سال کے عرصہ میں نہ صرف جذباتی کلچر بدلہ بلکہ بنی نوع انسان کو ایک ایسے نقطہ پر جمع کردیا کہ انسانی تاریخ کے دامن میں سوائے حیرت و استعجاب کے کچھ بھی نہیں اسی بات کو اقبال اپنے مخصوص انداز میں بیان فرماتے ہیں
مثردہ صبح دریں تیرہ شبانم داند شمع کشنند و زخورشید نشانم داند
حضور انور ﷺ نے میری تاریک راتوں کو صبح بہار جاوداں کا مثردہ جا نفزا سنایا شمع محبت کی جگہ عشق کا خورشید جہاں تاب بخش کر میرے دل کو نورانی نشان سے متصف کر دیا اس خورشید جہاں تاب کا طلوع ربیع الائول میں پیر کے مبارک دن کو ہوا پیر کے دن کے بارے میں حدیث پاک میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے درختوں کو پیر کے دن پیدا فرمایا درخت منبع رزق ہیں تازہ ہو اکا باعث ہیں جانداروں کی خوراک ہیں امراض کے دفعیہ کے لئے ان سے ادویات تیار ہوتی ہیں درخت احساسات کے لئے فرحت کا باعث ہیں موسم بہار میں ان پر پھوٹنے والی ننھی ننھی کو نپلیں قلوب انسانی میں عجیب احساس جگا دیتی ہیں گویا پیر کادن اصحاب ذوق کے لئے صبح بہار کا نقتب ہے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو جب مشام جاں معطر کر دے تو ایک لمحے کے لئے پیر کے دن کی عظمت کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے اور پیر کے دن کی عظمت کو سلام کرنا چاہیے کیونکہ یہ سب کچھ پیر کے دن کا صدقہ ہے رسول اللہ ﷺ سے پیر کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی اس دن وہ تشریف لائے جن کا لقب ہی کریم و رحیم ہے لہذا ان کی آمد کا دن رحمت ہی رحمت ،بہار ہی بہار،امن ہی امن ،احسان ہی احسان کا حامل ہے یہ دن بھی رحمتوں سے بھر پور ہے اور جس کی اس دن آمد ہے وہ بھی سراپائے رحمت ہے اللہ اکبر وہ کیسی مبارک ساعت ہو گی جب اللہ نے اپنے نور سے نور محمدیﷺ کو پیدا کیا ہو گا رسول کریم ﷺ کے صحابی حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں مجھے بتائیں کہ اللہ نے تمام اشیاء سے پہلے کس شے کو پیدا فرمایا حضورپاک ﷺ نے فرمایا اے جابر اللہ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ نورانیت مصطفیٰﷺ آج کی تراش نہیں بلکہ حقیقت ہے اور صدیوں سے مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے

٭…٭…٭

About the author

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Leave a Comment

%d bloggers like this: