Today's Columns

عید میلا د النبی ﷺ کا تقاضا حضورصاحب لولاک نبی پاک ﷺ کی اخلاق ی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا از صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

میرے حضور پاک، صاحب لولاک، آقائے دوجہاں، باعث وجہہ تخلیق کائنات، جان کائنات،تنویر کائنات،حسن کائنات، مہتاب کائنات، محبوب خدا ،حبیب کبریا ،رحمت جن و بشر ،ہادی و معلم ،مرشد کائنات محسن امت حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی اس عالم و رنگ و بو میں آمد جلوہ گری تشریف آوری ولادت باسعادت یقینا اللہ تعالیٰ کا پوری دنیا پر بالعموم اور مومنین پر خصوصا احسان عظیم ہے ظاہر ہے جن کو کوئی نعمت عطا ہوئی ہو وہی تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو آج مومنین کے عید کا دن ہے اور اللہ کی سب سے بڑی اور سب سے عظیم نعمت اعظمیٰ کے شکریہ ادا کرنا کا یوم سعید ہے بلکہ آج تو وہ مقدس دن ہے جس کے صدقے میں اللہ نے پوری کائنات کو تمام نعمتیں تقسیم کیں اور حضور پاک ﷺ کی ذات تو خود جان نعمت ہیاور عاشقان زلف وللیل ﷺخدا کی اس نعمت کاشکریہ کر رہے ہیں اور خوب چرچا کر رہے ہیں کیونکہ ان کے لئے نبی پاک ﷺ کی ذات بابرکات سے بڑھ کر کوئی اور اللہ کی عطا کردہ نعمت نہیں اس لئے اہل ایمان آج بارہ ربیع اول شریف کے اس مقدس دن نعمت کا شکرانہ جشن عید میلاد النبی ﷺ منا کر اپنی اپنی بساط کے مطابق کر رہے ہیں اور یہ میرے نبی پاک ﷺ کا ذکر ان کی رفعت و عظمت کا چرچہ بڑھتا ہی جائے گا اور ان کے دیوانے اپنی جانیں ان پر قربان تا قیامت کرتے رہیں گے اللہ کی اس نعمت کے ملنے پر تمام انسان بالعموم اور جملہ اہل ایمان بالخصوص جتنا بھی تشکر و امتنان بجا لائیں کم ہے اور جملہ مومنین پر شکر بجا لانے تو اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول انسانیت ،فخر آدم وبنی آدم،پیکر الفت ﷺ کی تشریف آوری کو مومنین پر اپنا عظیم احسان قرار دیا ہے ارشاد ربانی ہے کہ یقینا اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا جب اس نے ان میں سے ایک عظیم الشان رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ ضروراس (ایمان لانے اور آپ کی آمد سے)قبل کھلی گمراہی میں تھے (سورۃآل عمران آیت ۱۶۴)اگرچہ آپ کی بعثت سب کے لئے یکساں ہے آپ کا وجود مسعود تمام انسانوں کے لئے رحمت اور نفع بخش ہے بلکہ تمام جہانوں کے لئے سراپا رحمت ہے جیسا کہ اس حقیقت کو اللہ نے خود قرآن پاک میں یوں بیان فرمایا کہ (اے حبیب!)ہم نے آپ کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا ہے (سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۷)مگر چونکہ حضور اکرم ﷺ کے نور ہدایت اور آپ کے فیضان رحمت سے پوری طرح اہل ایمان مستفیض و مستفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور بالخصوص حضور رحمت کائنات ﷺ کی تشریف آوری کو اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان گردانتے ہوئے تشکر و امتنان بجالانے کے ساتھ ساتھ فرحت و مسرت کا اظہار بھی یہی اہل ایمان کرتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کی بعثت کا احسان انہی سے جتلایا ہے تاکہ وہ اس احسان عظیم کی زیادہ سے زیادہ قدر کریں او ر اس طرح آپ ﷺ کی رحمت بیکراں سے زیادہ سے زیادہ بہرور ہوں حضور معلم کائنات کی دنیا میں تشریف آوری کے مقاصد و اہداف کیا ہیں اور آپ کی نبوت و رسالت کے فرائض و وظائف کیا ہیں نبوت کے مقاصد و اہداف اور فرائض و مناصب کو اول الذکر ارشاد ربانی کے علاوہ درج ذیل ارشاد میں یوں بیان فرمایا گیا ہے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے عظیم رسول بھیجا وہ ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے اور انھیں (اخلاق رزیلہ)سے پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ لوگ اس (ایمان لانے اور آپ کی تشریف آوری سے ) قبل وادی ضلالت و گمراہی میں بھٹک رہے تھے (سورۃ الجمعہ ۲)ان ارشادات رباینہ سے واضح ہو گیا کہ حضور معلم انسانیت ﷺکی بعثت مبارکہ کے مقاصد میں اور آپ کے نبوی فرائض میں (۱)تلاوت آیات(۲)تذکیہ نفوس (۳) تعلیم کتاب (۴)اور تعلیم حکمت ہے اور پھر خود اللہ کے پاک نبی ﷺ نے اپنی زبان وحی ترجمان سے اپنی بعثت کے عظیم مقاصد کو بیان فرمایا کہ مجھے تو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ تاکہ میں اخلاقی خوبیوں کی تکمیل کروں حضور پاک صاحب لولاک ﷺ نے لوگوں کو پنی پیاری اور مسحورکن آواز سے آیات ربانی سنا کر انکو ہر طرح کی فکری ،اقتصادی،عملی،اخلاقی،ظاہری ،اور باطنی نجاستوں اور کثافتوں سے پاک فرما کر اور کتاب و سنت کی تعلیم سے جہالت و ضلالت کی تاریکیاں مٹا کر عرب جیسے خطے اور معاشرے میں ایسا انقلاب برپا کیا جس کی مثال تاریخ عالم پیش کر سے قاصر ہے اور پھر معاشرہ بھی ایسا جہاں کفر و شرک کا راج تھا جہالت کا غلبہ تھا ضلالت کا تسلط تھا ظلم و استبداد کا دور دورہ تھا قتل و غارت کا بازار گرم تھا ایمان و یقین کا بحران تھا اخلاق حسنہ کا فقدان تھا تکریم انسانیت معدوم تھی صداقت و امانت ناپید تھی عدل و انصاف مفقودتھا خلوص عنقاء تھا رحمت و شفقت نادالوجود تھی انسان صلہ رحمی اور ہمدردی کے مفہوم سے نا آشنا تھا عفو درگزر کے مطلب سے نابلد تھا انسانیت کے معنی سے نا واقف تھا کوئی نظام تمدن نہ تھاکوئی اخلاقی ضابطہ نہ تھا کوئی دستور حیات نہ تھا کوئی سیاسی قانون نہ تھا کوئی قابل ذکر معاشی نظام نہ تھا بلکہ سود پر تجارت ہوتی تھی کوئی تعلیمی پروگرام نہ تھا غرض یہ کہ انسان انسانیت سے مقام سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آچکاتھا چھوٹی چھوٹی باتوں پر باہم دست و گریباں ہونا ان کا محبوب مشغلہ اور تلواریں کھینچ لینا پسندیدہ شعار تھا ایسے عالم میں اللہ نے چیختی چلاتی ہوئی انسانیت پر رحم کرتے ہوئے اپنے محبوب کریم ﷺ کو سراپا رحمت اور معلم اخلاق وحکمت بنا کر مبعوث فرمایا آپ ﷺ نے اپنے اعلیٰ اخلاق ،عمدہ کردار،حکیمانہ گفتار اور مثالی تعلیم و تربیت سے ایسے غیر مہذب ،اجڈ،گنوار اور امی لوگوں کو دنیا کی مثالی اور مہذب قوم بنا دیا بت پرستوں کو معبود حقیقی کے آگے جھکا دیا کمینوں کو شریف النفس بنا دیا اونٹوں کے چرواہوں کو جہانگیر بنا دیا گلہ بانوں کو جہاں بین بنا دیا دشمنوں کو باہم دوست بنا دیا خونخواروں کو باہم غمخوار بنا دیا چوروں ،لیڑو ں اور رہزنوں کو رہنما بنا دیا سچ تو یہ ہے کہ صحرا نوردوں کو آپ نے بادشاہ بنا دیا غلاموں کو آقا بنا دیا ڈاکوئوں کو قوم کا نگہبان بنا دیا شرابیوں کو تقویٰ کی حلاوت سے آشنا کر دیا بدکاروں کو پرہیز گاربنا دیا جاہلوں کو امت کا استاد اور زمانے کا تاجدار بنا دیا آپ کی اس دنیا میں تشریف آوری یوں تو تمام جہانوں کے لئے باعث رحمت ثابت ہوئی بالخصوص انسانوں کے لئے بہت بڑی رحمت واقع ہوئی صدیوں سے کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کو ان کے ہاتھوںسے تراشے بتوں کے آگے جھکنے کی بجائے انہیں معبود حقیقی کے حضور جھکا دیا انہیں توحید کا ایسا جام پلا یا کہ ان کے سارے نشے اتر گئے چونکہ ہر پیغمبر اور ہر رسول کی دعوت و تبلیغ میں توحید کو اولیت و مرکزیت حاصل رہی ہے اس لئے آقا ومولا سرکار ﷺ نے ہر ہر قدم ہر ہر مرحلے ہرہر موقع پر امت کو توحید کا درس دیا بار بار اپنے ایمانی اور نورانی خطبات میں فرمایا کی اے اللہ کے بندو صر ف اسی کی عبادت کرو صرف اسی کے آگے جبین نیاز جھکائو جو معبود حقیقی ہے اور وہ فقط اللہ وحدہ لا شریک ہے جو سب کا خالق و مالک ہے اس کے در پر جھکنے سے ہر در پر جھکنے سے نجات مل جاتی ہے حضور پیکر صداقت ﷺ نے اپنی اخلاقی و انقلابی تعلیمات میں جس اخلاقی تعلیم پر بار بار زور دیا وہ صداقت سچائی ہے آپ نے اپنے اعلیٰ قول و فعل وعمل اور اپنے بلند گفتار و کردار سے اس قدر صداقت کو فروغ دیا کہ آپ کے دشمن بھی اس کے معترف ہو گئے حضور معلم انسانیت نے صداقت کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم پر سچائی لازم ہے کیوں کہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں صدیق (بہت سچ بولنے والا یا جو گفتار و کردار میں برابر سچا ہو )لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی جانب لے جاتی ہے آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے نزدیک کذاب (بہت جھوٹ بولنے والا )لکھا جاتا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر ہم اپنے آقا ﷺ کی تعلیم و ہدایت کے مطابق اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں سچ کو شعار بنا لیں اور صرف سچائی کی اساس و بنیاد پر لوگوں کا ساتھ دیں جھوٹے لوگوں کا بائیکاٹ کریںتو انشاء اللہ یہ جھوٹ کا جو طوفان برپا ہے ختم ہو جائے گا آج ہم نے جھوٹے وقار اور عارضی عزت کے خود ساختہ پیمانے مقرر کر رکھے ہیں کوئی عزت و وقار کا معیار مال و دولت کو قرار دیتا ہے اور کوئی حکومت و اقتدار کو ۔اورآج یہی عزت کا معیار بس بن کر رہ گیا ہے جبکہ حضور آقائے دوجہاں ﷺ نے ان تمام عزت و وقار کے جھوٹے اور غلط تصورات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے معزز وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور گناہوں سے بچنے والا ہے کاش ہم مسلمان بھی محسن انسانیت ﷺ کے اس فرمان ذیشان کو حرز جاں اور خضر راہ بناتے ہوئے کسی کی عزت اس کے مال و دولت کوٹھی کار بنگلے سرکاری عہدے اور دنیاوی جاہ و منصب کے پیش نظر نہ کریں بلکہ اس لئے کہ اس کے دل میں تقویٰ کا نور ہے خدا خوفی ہے اور اسے اعلیٰ ذوق طہارت حاصل ہے حضور نبی پاک ﷺ کی اخلاقی تعلیمات میں شرم و حیا ء کی تعلیم کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے آپ ﷺ اس وصف جمیل کے حوالے سے خود بھی اتنی رفعتوں پر فائز ہیں کہ افلاک کی بے کراں بلندیاں بھی جھک جھک کر سلام کرتی ہیں اور اپنے غلاموں سے بھی یہی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ بھی شرم و حیاء سے متصف نظر آئیں کیونکہ یہ خوبی تو ہر خیر و بھلائی کا سر چشمہ ہے چنانچہ سرکا ر دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ حیاء خیر کے علاوہ دوسری کوئی چیز نہیں دیتی اور ایک روایت میں ہے کہ حیاء ساری خیر ہی خیرہے حضرت انس سے مروی ہے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ فحش گوئی (بے حیائی کی بات)ہر چیز کو عیب دار بنا دیتی ہے اور حیاء ہر چیز کو خوبصورت بنا دیتی ہے آپ ﷺ کی مقدس اخلاقی تعلیمات میں عفو درگزر کی بھی بڑی اہمیت ہے اور یہ ایسا وصف ہے جو اپنے اندر بے پناہ خوبیاں رکھتا ہے بلاشبہ کسی بھی انسان کی ایذا رسانی اور ظلم و زیادتی کے باوجود اس سے بدلہ یا انتقام نہ لینا بڑی قابل ستائش بات ہے آپ ﷺ کی پوری حیات طیبہ عفو درگزر سے عبارت ہے آپ نے اپنے دامن عفو درگزر رحمت میں ایسے ایسے مجرموں کو پناہ دی جن کی معافی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا چنانچہ وہ ہندہ جس نے آ پ کے پیارے چچا سیدنا حضرت امیر حمزہ سید الشہداء کا جگر کچا چبا یا تھا اسے بھی معاف فرمادیا وہ وحشی جس نے حربہ پھینک کر امیر حمزہ ؓ کو شہید کیا تھا اسے چھوڑ دیا وہ ہبار بن اسود جس نے آپ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کو نیزہ مار کر اونٹ سے گرا دیا تھا جس کے صدمے سے ان کا حمل تک ساقط ہو گیا تھا اور اسی تکلیف سے یہ اللہ کو پیاری ہو گئیں تھیں اسے بھی اپنے دامن عفو درگزر میں پناہ دی وہ لبید بن اعصم کہ جس بے رحم نے آپ پر جادو کیا تھا مگر آپ اس کے شر سے محفوظ رہے اسے بھی معاف کر دیا اور جس عورت نے خیبر کے موقع پر زہر آلود کھانا دیا تھا اس کو بھی عفودرگزر سے آپ ﷺ نے محروم نہ رکھا سبحان اللہ اس سے بڑھ کر آپ کے عفو درگزر کی کیا مثال ہو سکتی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر وہ تمام اعداداور مخالفین جنہوں نے قدم قدم پر کانٹے بچھائے تھے پتھر برسائے تھے گالیاں دیں تھیں راہ حق میں روڑے اٹکائے تھے طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں انہیں پوری طرح گرفت میں پا کر بدلہ لینے کی بجائے آپ نے اپنے جانی خون کے پیاسے دشمنوں کو مخاطب ہو کر یوں فرمایا کہ جائو آج تم سب آزاد ہو تو ایسے کریم و رحیم آقاﷺ اپنے غلاموں سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی دامن عفو درگزر تنگ نہ کریں بلکہ ہر ایک کے لئے اسے کشادہ کریں چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے غلاموں کو عفودرگزر کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ جو تم پر زیادتی کرے تم اس سے عفو درگزر کے ساتھ پیش آئو بلکہ آپ نے یہاں تک تعلیم دی کہ تم ہر ایک کی رائے پر نہ چلو یعنی یوں نہ کہوکہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ اپنے اوپر اعتماد رکھو اگر لوگ بھلائی کریں بھلائی کا مظاہرہ کرو اگر وہ ظلم کریں تو اس کے مقابلے میں ظلم نہ کرواگر ہم محسن امت اور معلم کائنات ﷺ کی اس تعلیم کے مطابق عفودرگزر کو اپنا شعار بنائیں اس سے نہ صرف دلوں میں عداوت و کدورت کے دہکتے ہوئے انگارے بجھیں گے بلکہ باہمی محبت و خلوص کے جذبات پید اہونگے اور معاشرے میں انس و مودت کے پھول کھلیں گے اللہ کے بنی پاک ﷺ نے اپنی بصیرت افروز اور ایمان پرور تعلیمات میں حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی پر بڑا زور دیا ہے بلکہ یہ آپ ﷺ کی تعلیمات کا خاصہ ہے کہ حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی پر زیادہ زور دیا گیا ہے تاکہ اہل حق کو اپنے حقوق کے لئے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے حاکم و محکوم اپنے اپنے فرائض کی اہمیت کا احساس کریں تو ان میں کبھی بھی کشمکش پید انہ ہو جلسے جلوس نہ ہوں حقوق کے حصول کے لئے ہڑتالیں نہ ہوں سرکاری املاک کو گزند نہ پہنچے ملک میں انتشار نہ ہو ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے فرائض کو سمجھیں اور انہیں صحیح اور بروقت ادا کریں تو کہیں بھی کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو اللہ ہمیں اس عید میلاد النبی ﷺ کے مقدس دن کے صدقے اپنے نبی پاک ﷺ کی ان احکامات پر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

٭…٭…٭

About the author

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Leave a Comment

%d bloggers like this: