Abdul Khaliq Chaudhry Today's Columns

تھانیدار کا اختیار ۔جنت سے جہنم تک از عبد الخالق چوہدری ( صدائے مشرق )

Abdul Khaliq Chaudhry
Written by Todays Column

اللہ تعالی نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے مختلف قسم کے فطری قوانین بنائے ہیں تاکہ نظام بہترین طریقے سے چلتا رہے اور نظام کی مضبوطی اور امن و سلامتی کے لئے خاندان گروہ قبیلے بنائے تاکہ خوشی غمی دکھ سکھ میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اسطرح انسانی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ طاقت ور کمزور کے وسائل پر قابض ہونے لگے تو ایسے افراد کو جرائم سے روکنے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور پر امن لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس کا محکمہ بنایا گیا اور شہر یا علاقے کی آبادی کے لحاظ سے تھانے اور چوکیاں قائم کی گئی تھانہ یا چوکی کے انچارج کو کوتوال، داروغہ، محافظ ،نگہبان ،نگران، مہتم ،منتظم، نگہدار، تھانیدار جبکہ انگریزی میں SI Sub Inspector of police اور SHO Station House Officer کہتے ہیں ۔ایک تھانہ اس وقت ایک لاکھ کے قریب آبادی پر مشتمل ہے جبکہ بڑے تھانے جن کو صدر تھانہ کہا جاتا ہے ان کی آبادی دو لاکھ کے لگ بھگ ہوتی ہے اور تھانے کی حدود میں واقع مساجد مذہبی عبادت گاہیں تعلیمی ادارے بینک سرکاری ادارے مذہبی تہوار جلسے جلوس سیاسی سماجی مذہبی پروگراموں کے ساتھ ساتھ حکومتی شخصیات عوام کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی ملزمان کی گرفتاری اور علاقے میں امن و امان قائم رکھنا فرائض میں شامل ہے ۔گزشتہ دنوں ایک تقریب میں ایک تھانیدار دوست سے ملاقات ہوئی حال و احوال کے بعد پوچھا کہ نوکری کیسی چل رہی ہے بس یہ پوچھنے کی دیر تھی کہ تھانیدار صاحب نے ایک ہی سانس میں شکایات کے انبار لگا دئیے کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے جبکہ نفری نہ ہونے کے برابر ہے ہم دن رات ڈیوٹی کرتے ہیں نہ دن کو آرام نہ رات کو سوتے ہیں ہمیں کبھی وردی اتارنے کا وقت نہیں ملتا آخر ہم بھی انسان ہیں تم ہی بتا کہ ہم کسی طرح اتنی کم نفری سے ملزمان کو گرفتار کریں جبکہ سپاہی گشت پر ہوتے ہیں کچھ چرچ اور مذہبی عبادت گاہوں کی حفاظت پر کچھ بنکوں کے باہر سیکورٹی پر مامور ہوتے ہیں جو ایک آدھا بچتا ہے وہ ڈاک لے کر ہیڈ کوارٹر چلا جاتا ہے اگر اوپر شکایت کریں تو کہا جاتا ہے کہ آپ انہی سے کام چلائیں جبکہ ہم خوشی و غمی عید شب رات مذہبی تہوار آزادی ڈے پر بھی چھٹی نہیں کرتے کیا ہمارے جذبات نہیں ہمارے بھی بیوی بچے ہیں ان کی بھی خواہشات ہیں لیکن ہم نے اپنے اور گھر والوں کے جذبات خواہشات کو نوکری پر قربان کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہماری مشکلات اور مسائل کو کوئی نہیں سنتا ہم کدھر جائیں کس کو حال دل سنائیں ۔میں نے تھانیدار صاحب کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بہت محبت اور خلوص سے کہا کہ آپ بہت اعلی درجے پر فائز ہیں تھانیدار صاحب آپ کا مقام بہت اونچا ہے آپ کا کام بہت اچھا ہے جنت کی حفاظت اور چابیاں بھی تھانیدار (داروغہ جنت )جس کا نام رضوان ہے اس کے پاس ہوں گی جنت الفردوس میں ہونے والی تمام تیاریوں کے متعلق اسی سے جنت کی حوریں دریافت کرتی ہیں ۔جبکہ جہنم کی تمام ذمہ داری تھانیدار (داروغہ جہنم )جس کا نام مالک ہے اس کے سپرد ہو گی جیسا کہ قرآن مجید کی سورہ الزخرف آیت نمبر 77 میں فرمایا ہے ترجمہ اہل جہنم دوزخ کے تھانیدار (داروغہ )کو پکار کر کہیں گے کہ اے مالک کچھ ایسا ہو جائے کہ تمھارا رب ہمارا خاتمہ کر دے ۔میں نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ دوزخ مجرموں سے بھری ہو گئی اور وہاں بڑے بڑے ظالم جابر اور شیطانوں کے سردار بھی ہونگے جن کو ہروقت مختلف قسم کی سزائیں دی جائیں گئیں اور وہاں بھی ایک تھانیدار (داروغہ )اور اس کے ساتھ 19 فرشتے ہونگے جو تمام دوزخیوں کو ان کے جرائم کے مطابق سزائیں دیں گے اور کسی کو بھاگنے بھی نہیں دیں گے ۔میں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی نسبت آپ کا کام آپ کا عہدہ کتنے عظیم الشان عہدے دار فرشتوں سے ملتا ہے آپ کیوں پریشان اور مایوس ہو کر شکایات کر رہے ہیں ۔میری باتیں بڑے غور اور توجہ سے سنتے تھانیدار صاحب نے اپنا چہرہ میری طرف کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میری کوشش اور خواہش ہے کہ اپنا فریضہ انتہائی ایمانداری اور فرض شناسی خوش اسلوبی سے ادا کروں تاکہ روز قیامت جنت الفردوس کی حفاظت پر مامور تھانیدار رضوان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو اور مجھے بھی اپنے تھانیدار ہونے پر فخر اور راحت محسوس ہو لیکن میری تمام کوششوں کے باوجود ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا ایسا آپ کیوں سوچ رہے ہیں جس پر اس نے مجھے پوچھا یہ بتا کہ جنت میں نیک اور صالح اعمال والے لوگ ہونگے جبکہ جہنم میں بدکردار کافر مشرک ظالم و جابر قاتل اور دیگر برے اعمال والے لوگ ہونگے اور اللہ نے وہاں دونوں گروہوں کو علیحدہ علیحدہ کر رکھا ہے اور علیحدہ علیحدہ ان پر تھانیدار مقرر کر رکھے ہیں میں نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے ایسے ہی ہے پھر اس نے کہا کہ ان پر سوائے رب العالمین کے کسی قسم کا کوئی دبا نہیں کسی وزیر مشیر ایم این اے ایم پی اے یا کسی بڑے عہدیدار کی سفارش نہیں ۔اور یہاں اوپر سے سیاسی دبا وزیروں مشیروں کے ٹیلی فون چوبیس گھنٹے میں دس لیڑ پڑول سے دن رات گاڑی چلاو پیڑول جیب سے ڈالیں کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے منشیات چرس شراب وغیرہ کا مقدمہ درج کرو پھر اسے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے فورینزک لیب لے کر جاو گاڑیوں کی مرمت اپنی جیب سے کرو تفتیش پر آنے والے اخراجات سب سے پہلے اپنی جیب سے کرو اور پھر تفتیشی اخراجات حاصل کرنے کے لیے رشوت دو چالان پاس کرانے کے لئے اپنی جیب سے پیسے دو ملزمان کو جیل میں بند کروانے کے لیے اپنی جیب سے پیسے دو پراسیکیوٹر بھی پیسے لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا ہم کس طرح نوکری کرتے ہیں یہ ہم جانتے ہیں کہ تھانیدار کن مشکل حالات سے دوچار ہے ہمارے بہت سے ساتھی ذہنی مریض بن چکے ہیں خدا راہ ہمیں بھی دوسرے محکموں کی طرح چھٹی دی جائے اور ہمارے بھی اوقات کار طے کیے جائیں آخر ہم بھی انسان ہیں مشین نہیں ہمیں بھی آرام کی ضرورت ہے معمولی سی غلطی پر ہماری سروس کاٹ لی جاتی ہے ۔میرے دوست تھانیدار نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بہت سے مسائل اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تم ہی بتا کہ ان حالات میں نہ تو ہم اپنے بیوی بچوں کو خوش رکھ سکتے ہیں نہ ان کی خواہشات کی تکمیل ممکن ہے جبکہ عوام بھی ہم سے خوش نہیں جبکہ ہم کوہلو کے بیل کی طرح دن رات جتے ہوئے ہیں ۔تو پھر آپ ہی بتائیں کہ ان حالات میں رضوان جنت سے نہیں البتہ جہنم کے تھانیدار (داروغہ جہنم مالک سے ملاقات ممکن ہے ہو جائے اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر اپنے مسائل حکمرانوں کے کانوں تک پہنچانا چاہتا ہے میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ آئی جی پولیس بڑے فرض شناس اور درد دل رکھنے والے ہیں اور وہ آپ کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں وہ پولیس میں بہترین اصلاحات لارہے ہیں بہت جلد آپ کو درپیش مسائل حل ہو جائیں گے آپ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور ملک و قوم کی خدمت جاری رکھیں جس پر میرے تھانیدار دوست نے کہا کہ ہم کبھی بھی اپنے عوام کو مایوس نہیں کریں گے ان کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب ۔ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: