Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

میلاد مصطفیٰ ﷺبزبان مصطفیٰ ﷺ از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ اِنِّیْ عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوْبٌ خَاتِمَ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ اَدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَِتِہٖ وَسَاُخْبِرُکُمْ بِاَوَّلِ اَمْرِیْ دَعْوَۃُ اِبْرَاھِیْمَ وَبَشَارَۃُ عِیْسیٰ وَرُئْ یَا اُمَّی الَّتِیْ رَأْتِحِیْنَ وَضَعْتَنِیْ وَقَدْ خَرَجَ لَھَا نُوْرًا اَضَائَ لَھَا مِنْہُ قُصُوْرُ الشَّامِ۔ ترجمہ: حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ کے نزدیک آخری نبی لکھا ہوا تھا جب آدم اپنی خمیر میں لوٹ رہے تھے، میں تم کو اپنی پہلی حالت بتاتا ہوں، میں دعائِ ابراہیم ہوں اور بشارت عیسیٰ ہوں، میں اپنی ماں کا وہ نظارہ ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ ان کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ان کے لئے شام کے محل چمک گئے۔ (مشکٰوۃ)
(1) حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللّٰہ عنہ : آپ مشہور صحابی رسول اور اصحاب صفہ سے ہیں۔ بہت زیادہ گریہ زاری کرتے تھے۔
(2) حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ حضور کریم ﷺ کا میلاد شریف پڑھنا جیسے سنتِ خدا اور سنتِ ملائکہ ہے ویسے ہی سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں حضور علیہ السلام نے خود ذکر میلاد فرمایا۔
(3) خاتم النبین :۔ معنی آخری نبی حضور ﷺ نے خود اپنی زبان اطہر سے ارشاد فرمایا ہے کہ میں آخری نبی لکھا ہو اتھا۔ اس کے علاوہ صحاح ستہ میں کئی مقامات پر حضور علیہ السلام کا ارشاد ’’اَنَا خَاتَمَ االنَّبِیِّیْنَ ‘‘ میں آخری نبی ہوں۔ ملتا ہے۔ اس سے پتہ چلا ، سرکارِ دوجہاں ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفرو گمراہی ہے اسی طرح حضور علیہ السلام کے بعد مدعی نبوت کو حق پر ماننے والا بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(4) دعاء ابراہیم :حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دعاء ابراہیم ہوں۔ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیھم السلام نے دیوارِ کعبہ بلند کرتے وقت نبی کریم ﷺ کی بعثت کی دعا کی تھی جسے قرآن کریم نے ’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا ‘‘کے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔
(5) بشارتِ عیسیٰ: آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا میں بشارتِ عیسیٰ ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نبی رحمت ﷺ کی آمد سے سینکڑوں سال قبل اپنے حواریوں میں بیٹھ کر حضور ﷺ کے آنے کی بشارت دی تھی قرآن پاک نے اس بشارت کو ’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِ اِسْمُہٗ اَحْمَد کے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔
(6) بوقت ولادت نظارے:۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اپنی ماں کا وہ نظارہ ہوں جسے انہوں نے بوقت ولادت ولادت دیکھا کہ ان کے لئے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ان کے لئے شام کے محلات چمک گئے۔ اس نظارے کو کئی محدثین نے اپنے کتب میں ذکر کیا ہے۔
میلاد شریف منانا:۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا میلادِ پاک منانا۔ ذکر میلاد پاک کرنا، میلاد پاک پر حضورﷺ کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا سنت مصطفیﷺ ، سنت صحابہ و اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین اور سنت سلف صالحین ہے۔
٭ میلاد شریف کا مطلب :۔ میلاد شریف سے ہماری مراد یہ ہے کہ حضور پر نورﷺ کا ذکر ولادت کرنا اور سیرت طیبہ بیان کرنا۔ آپ کی بارگاہ اقدس میں صلوٰۃ وسلام پیش کرنا۔ آپ کے محامد و اوصاف علایہ سننا۔
٭ میلاد شریف کا وقت :۔ حضور علیہ السلام کے لئے میلاد شریف منعقد کرنا صرف ولادت والی رات ہی ضروری نہیں بلکہ سارا سال جب بھی چاہے محفلِ میلاد شریف منعقد کی جا سکتی ہے کیونکہ حضور پرنورﷺ کا ذکر پاک کرنا اور آپ کی ذاتِ اقدس سے ہر لمحہ اور ہر وقت تعلق رکھنا واجب ہے لیکن ماہِ مبارک ربیع الاول شریف میں میلادِ پاک کا اہتمام دوسرے وقتوں سے زیادہ افضل ہے۔
حضور علیہ السلام سے پیر شریف کو روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایاـ’’فِیْہِ ولدت و فیہ انْزَل عَلی’’ترجمہ:اسی روز ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر کلام الٰہی نازل ہوا۔ (مشکوٰۃ بحوالہ مسلم شریف)
محفل میلادشریف پر اقوالِ بزرگان دین:ویسے تو تمام بزرگان دین کا محفل میلاد پاک کے انعقاد اور ولادتِ سرکار ﷺ کی خوشی پر عمل تو تمام بزرگان دین کا محفل پاک کے انعقاد اور ولادتِ سرکار دو عالم ﷺ کی خوشی پر عمل رہا ہے۔ یہاں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے۔
(1) علامہ محدث ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ:۔ فرماتے ہیں اہل مکہ و مدینہ ، اہل مصر ، یمن، شام اور تمام عالمِ اسلام مشرق تا مغرب ہمیشہ سے حضور ﷺ کی ولادت مبارکہ کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام حضور ﷺ کی ولادت تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں۔ (المیلاد النبوی)
(2) امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ربیع الاول چونکہ حضور علیہ اسلام کی ولادت باسعادت کا مہینہ ہے لہٰذا اس میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے آر ہے ہیں اس کی راتوں میں صدقات اور اچھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں محفل میلاد کی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا ففل و احسان کرے جس نے آپ کے میلادِ پاک کو عید بنا کر اپنے شخص پر شدت کی جس کے دل مرض ہے۔ (المواہب الدنیہ)
(3) امام ابن حجر مکیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میلاد اور اذکار کی محافل جو ہمارے ہاں منعقد ہوتی ہیں اکثر خیر ہی پر مشتمل ہیں۔ کیونکہ ان میں صدقات، ذکر الٰہی اور حضور علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ درودوسلام عرض کیا جاتا ہے۔ (فتاویٰ حدیثیہ)
(4)شیخ عبدالحق محدث دہلویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپﷺ کی ولادت با دسعادت کے مہینہ میں محفل میلاد کا انعقاد تمام عالم اسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے ۔ اسکی راتو ں میں صدقہ و خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خصوصاً حضور علیہ السلام کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خصوصی معمول ہے۔ (ماثبت من السنہ)
(5) شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔ مکہ معظمہ میں حضور علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے دن میں ایک ایسی محفل میلاد میں شریک ہوا جس میں آپ ﷺ پر لوگ درود و سلام پڑھ رہے تھے اور وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ کی ولادت کے موقع پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہوا تو اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر انوار و تجلیات کی برسات شروع ہو گئی۔ انوار کا یہ عالم تھا کہ مجھے اس بات کی ہوش نہیں کہ میں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تھا یا باطنی آنکھوں سے ۔ بہرحال جو بھی ہوا میں نے غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ انوار ان ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس میں شرکت پر مامور ہوتے ہیں اور رحمت کا نزول بھی ساتھ ہو رہا تھا۔ (فیوض الحرمین)
(6) حاجی امداد اللّٰہ مہاجر مکیرحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں : فقیر کا مشرب یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ)
٭…٭…٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: