Today's Columns Zeeshan Rasheed Rashdi

اللہ خالق و مالک کی پہچان از ذیشان رشید راشدی ( افکار راشدی )

Zeeshan Rasheed Rashdi

اللہ تعالیٰ واحدہ لا شریک ذات ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ اللہ تعالٰی ازل سے ہے ابد تک رہے گا۔ اس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔ اس میں زمین کا فرش بچھایا ، پہاڑوں کی میخیں لگائیں اور آسمان کی نیلی چھت بنائی ۔ چرند پرند ، مویشی ، انسان ، جنات اور ایسی مخلوقات کی خلقت فرمائی جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ۔ کائنات کی تمام مخلوقات اس کی عبادت کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کو پیدا کیا تو ان کی پیدائش کا مقصد اپنی عبادت کو ٹھہرایا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے آخری نبی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سینہ اطہر پر نازل ہونے والی آخری اور حتمی کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔
الذاريات : 56
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اور بھی بہت سے مقامات پر اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جن میں سے چند ایک آیات یہاں درج کی جاتی ہیں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔
البقرة : 21

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔
البقرة : 172
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔
النساء : 36
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمھاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میں اس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔
الأنعام : 56
إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ
بے شک جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
الأعراف : 206
زمین اور آسمان کی تخلیق کے بارے میں خالق کائنات نے فرمایا
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد، وہی اللہ تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
يونس : 3
اللہ خالق و مالک نے انسان کو دو راستے دکھائے اور ان کا انجام بھی بتایا ۔ اللہ نے بتایا کہ اگر نیکی کے راستے پر چلو گے تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں جنتیں ہیں جہاں لازوال نعمتیں ہوں گی۔ اور اگر برائی کے راستے پر گامزن ہو جاؤ گے تو تمہارے لیے دوزخ کا دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
البقرة : 82
جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی قرار دیا ہے
اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
آل عمران : 185
وہ لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کو نہیں مانتے اس سے اعراض کرتے ہیں ان کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہنم کا درناک عذاب تیار کیا ہوا ہے
اللہ مالک کائنات نے قرآنِ حکیم فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا
قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا کہ تم جلد ہی مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
آل عمران : 12
اللہ تعالٰی کی معرفت کا حاصل کرنا ایک انسان خصوصاً مسلمان کے لیے لازم ہے ۔ اگر کائنات اور اس کی وسعتوں ، چرند پرند ، جانور اور انسان کو تفکر اور تدبر سے دیکھا جائے تو خالق اور مالک کی پہچان ہوجاتی ہے کہ کوئی تو ذات ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہ ذات اللہ وحدہ لا شریک ذات ہے‍ ۔ اللہ کی حمد و ثناء لکھنے کے لیے اگر سارے سمندروں کو سیاہی بنادیا جائے اور تمام درختوں کی قلمیں بنادی جائیں تو پھر بھی اس پروردگار کی تعریفیں اور حمد و ثناء ختم نہیں ہوتی ۔
اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے
قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا
کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔
الكهف : 109
وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔
لقمان : 27
(ترجمہ از تفسیر القرآن الکریم حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

٭…٭…٭

About the author

Zeeshan Rasheed Rashdi

Zeeshan Rasheed Rashdi

Leave a Comment

%d bloggers like this: