Today's Columns Zeeshan Rasheed Rashdi

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پرملال از ذیشان رشید راشدی

Zeeshan Rasheed Rashdi

10 اکتوبر 2021ء کو پاکستانی ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگئے ۔ محسنِ پاکستان ، مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ عظیم شخصیت تھے جنہوں نے ایٹم بم بنا کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ۔ ان کی کاوشوں سے پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا ۔ آج اگر پاکستان دشمنانِ وطن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہا ہے تو اسی عظیم شخصیت کی وجہ سے کررہا ہے ۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بعد ایک عظیم شخصیت تھے جن کے احسانات کا بدلہ ہم پاکستانی چکانے سے قاصر ہیں ۔ قائد نے پاکستان بنایا تو محسنِ پاکستان نے اس پاکستان کو دشمن کے لیے ناقابل تسخیر بنایا ۔آپ نے ملک و ملت کی بے لوث خدمت کی ۔ لیکن ان کی جو قدر ہمیں کرنی چاہیے تھی ہم نے وہ نہ کی ۔ انہوں نے غیروں کی خوشنودی کی خاطر اپنے ہی وطن میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ آج ہم ان کی وفات پر بطورِ قوم کے شرمندہ ہیں کہ ہم اپنے محسن کی قدر نہ کرسکے ۔ یہ شاید ہمارا قومی وطیرہ بن چکا ہے کہ کوئی شخص جب زندہ ہوتا ہے ہم اسے وہ اہمیت نہیں دیتے ۔ اس کی وہ قدر نہیں کرتے لیکن جب وہ وفات پا جاتا ہے تو ہم غمگین ہوجاتے ہیں ۔ ہمیں اس کی قد و منزلت یاد آتی ہے ۔ دنیا محسنین کی قدر کرتی ہے لیکن ہم اپنے محسنین کے ساتھ ان کی زندگی میں وہ سلوک کرتے ہیں جو شاید کوئی اپنے دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا ۔ کچھ ایسا ہی سلوک ہم نے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان رحمہ اللہ کے ساتھ بھی کیا ۔ موت تو سب کو آنی ہے لیکن کچھ لوگ ہوتے ہیں جو مر کر امر ہوجاتے ہیں انہی میں سے ایک ڈاکٹر عبدالقدیر خان رحمہ اللہ بھی تھے ۔ ان کی پاکستان کے لیے خدمات سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان رحمہ اللہ نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل بیماری کی حالت میں جہاں قوم سے دعائے صحت کی اپیل کی تو ساتھ ہی وصیت کی کہ میں جب فوت ہو جاؤں تو پاکستان کے ہر شہر ، ہر گاؤں ، ہر محلے اور ہر گلی کوچے میں میری نماز جنازہ ادا کرنا اور دعائے مغفرت کرنا ۔
پیارے پاکستانیوں ! محسنِ پاکستان کی یہ وصیت یاد رکھنا اور ہر شہر ، ہر گاؤں ، ہر گلی کوچے میں ڈاکٹر صاحب کا جنازہ ادا کرنا اور دعائے مغفرت کرنا ۔ اللہ تعالٰی ان کی بشری لغزشوں سے درگزر فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

اللھم اغفرلہ وارحمہ

٭…٭…٭

About the author

Zeeshan Rasheed Rashdi

Zeeshan Rasheed Rashdi

Leave a Comment

%d bloggers like this: