Maulana Muhammad Ilyas Ghuman Today's Columns

بعثت نبوی کا حقیقی مقصد از متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

اللہ تعالیٰ کا لاکھ احسان و ہزار ہا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور اپنی عظیم کتاب ’’قرآن مجید‘‘ آپ پر نازل فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت کا نور پوری دنیا میں پھیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دین متین کی زبانی تعلیم دی وہاں اس کی عملی شکل بھی اپنے اعمال مبارکہ سے بیان فرما دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو قرآنی نمونہ قرار دیا گیا۔ دین اسلام کی تعلیمات پر ایمان اور اس کے تقاضوں پر عمل چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیے کلمہ شہادت میں جہاں اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار ضروری ہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ماننا بھی لازم ہے۔ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے قبل جب گرفتار ہو کر آئے تو انہیں مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ یا گیا۔ کچھ دن انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ اور مشفقانہ سلوک کا بغور مشاہدہ کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں رہا کیا گیا تو انہوں نے بقیع کی ایک جانب کھجوروں کے ایک باغ میں غسل کیا اور پھر خدمت نبوی میں حاضر ہو کر کلمہ شہادت پڑھااور حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔(سنن ابی داؤد،باب فی الأسیر یوثق، حدیث نمبر 2681)
توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کیے بغیر ایمان قابلِ قبول ہی نہیں۔اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اس وقت تک کامل ہو ہی نہیں سکتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی محبت نہ ہو۔ اگر دل محبتِ نبوی سے خالی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا دعویٰ محض زبانی دعویٰ ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اس بات پر عذاب کی وعید سنائی ہے کہ انسان؛ اللہ تعالیٰ، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے حکم یعنی جہاد فی سبیل اللہ کی بنسبت اپنے ماں باپ، اولاد، رشتہ داروں، تجارت او مال و دولت وغیرہ کے ساتھ زیادہ محبت کرے۔
مفہوم آیت: (اے پیغمبر! مسلمانوں سے) فرما دیں کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے نقصان کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔
(سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 2)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاداور باقی تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحیح بخاری)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے کچھ تقاضے ہیں۔ ان تقاضوں پر پورا ااترنا اور اس کے لیے پوری کوشش کرنا ہی عشق ومحبت کی حقیقی علامت ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا حقیقی اور اہم تقاضا؛ اطاعتِ رسول ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کے کرنے کا حکم فرمایا ہے ان پر عمل کیا جائے اور جن کاموں سے روکا ہے ان سے یکسر اجتناب کیا جائے۔
مفہوم آیت: (اے پیغمبر!) آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔(سورۃ آل عمران، آیت نمبر31)
یعنی اطاعتِ رسول کے بغیر محبتِ الہیہ کا دعویٰ بھی بے حقیقت ہے۔
مفہوم آیت: تم میں سے جو کوئی اللہ سے ملاقات اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لئے رسول اللہ کی ذات والا صفات میں اچھا نمونہ ہے۔(سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 21)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کا ہر شخص جنت میں داخل ہو گا سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے جس نے (جنت میں جانے سے) انکا ر کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔(صحیح البخاری)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے۔(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر167)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس ادا کو دیکھا اس کو اپنا لیا۔ پوری امت میں سب سے زیادہ اطاعت و اتباعِ نبوی کا مظہر حضرات صحابہ کرام رضی االلہ عنہم کی برگزیدہ ہستیاں ہیں۔ ان کا عمل باقی امت کے لیے مشعل راہ ہے۔ حضرت عبد ا? بن عمر رضی ا? عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور فرمایا: اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔(صحیح بخاری)
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر فرمایا: میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے؛ نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع۔ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔(صحیح بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں ہر ہفتے کے دن پیدل اور سوار ہو کر تشریف لایا کرتے تھے۔ خود حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے۔(صحیح بخاری)
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود کو ہاتھ لگایا پھر ہاتھ کو چوم لیا اور فرمایا: جب سے میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے کبھی اس (عمل) کو ترک نہیں کیا۔(صحیح مسلم)
اطاعت گزاروں پر انعامات:
مفہوم آیت: اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری باتوں پر عمل کرو خود اللہ تم سے محبت فرمائے گا مزید یہ کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بہت مہربان ہے۔(سورۃ آل عمران، آیت نمبر 31)
اس آیت مبارکہ میں دد انعاموں کا تذکرہ موجود ہے:پہلا اللہ رب العزت کی محبت کا ملنا جو کہ تمام انعامات میں سے سب سے بڑا انعام اور مقصد حقیقی ہے جس خوش نصیب کو یہ انعام مل جائے تو اسے اور کسی چیز کی ضرورت ہی کہاں رہتی ہے؟دوسرا انعام گناہوں کی بخشش کرنے کی صورت میں عطا فرمایا ہے کہ تمہاری زندگی میں جو گناہ ہو گئے ہیں ان کا تقاضا تو یہی تھا کہ تمہیں اس کی سزا دیتا لیکن تم نے میرے رسول کی اطاعت کر کے مجھے خوش کیا ہے اس لیے میں تمہارے گناہوں کو بھی معاف کر تا ہوں۔
مفہوم آیت: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(سورۃ آل عمران، آیت نمبر 132)
اس آیت مبارکہ میں اطاعت پر ملنے والا انعام یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ دنیا میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ہمارے اوپر مصائب ومشکلات آتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی اسے ہی عذاب ہو گا جس سے اللہ ناراض ہوں گے اطاعت کی وجہ سے اللہ کا رحم فرماتے ہیں دنیا میں مشکلات اور مصائب و حوادثات سے پناہ عطاء فرماتے ہیں جبکہ آخرت میں عذاب سے محفوظ فرمائیں گے۔
مفہوم آیت: یہ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں بہتی ہوں اور یہ ہمیشہ ہمیشہ اسی جنت میں رہیں گے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔(سورۃ النساء، آیت نمبر 13 )
اس آیت مبارکہ میں اطاعت پر ملنے والا انعام یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایسی جنت عطاء فرمائیں گے جس میں نہریں بہتی ہوں۔ اور اسے ہی بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔
مفہوم آیت: اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ایسی ہو گی کہ اس میں پانی کی نہریں ہوں گی جو پانی خراب نہیں ہوگا ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں خراب ہوگا ایسی شراب طہور کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذیذ اور مزے دار ہوگی اورایسے صاف شہد کی نہریں ہیں جس کے اوپر سے جھاگ اتار لی گئی ہے اور ان جنت والوں کے لیے وہاں ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش کا اعلان۔ بھلا یہ ان لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ کے رکھ دے گا۔(سورۃ محمد، آیت 15)
مفہوم آیت: جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے یہی وہ لوگ ہیں جو اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے وہ انبیاء، صحابہ، شہداء اوراولیاء ہیں۔ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی اچھی ہے۔(سورۃ النساء، آیت نمبر69)اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اطاعت اختیار کرنے والوں کا یہ انعام ذکر کیا ہے کہ ان کو انبیاء، صحابہ، شہداء اور صلحاء)نیک لوگوں(کی معیت نصیب ہو گی جہاں وہ جائیں گے وہاں یہ بھی جائیںگے اور اللہ رب العزت نے اس کو بہت ہی خوبصورت رفاقت قرار دیا ہے۔
مفہوم آیت: اے نبی تمہارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور ان اہل ایمان کے لیے بھی جو آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں۔(سورۃ الانفال، آیت نمبر 64)اس آیت مبارکہ میں یہ انعام مذکور ہے اللہ رب العزت اطاعت گزاروں کو تسلی دے رہے ہیں میں اللہ تمہارے لیے کافی ہوں کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
مفہوم آیت: اے میرے پیغمبر! (صلی اللہ علیہ وسلم )آپ ان سے کہہ دیجییکہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم نے اس سے منہ موڑا تو اس کا وبال تمہارے اوپر ہی ہوگا اور اگر تم نے اطاعت کر لی تو ہدایت پا لو گے اور رسول کے ذمے تو بات واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔(سورۃ النور، آیت نمبر 54)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جس انعام کا تذکرہ فرمایا ہے وہ ہے ہدایت۔ اللہ کے خزانوں میں ہدایت سب سے قیمتی خزانہ ہے اطاعت کی وجہ سے اللہ کامل ہدایت عطا فرماتے ہیں ہدایت کی وجہ سے انسان کے عقائد، اعمال، اخلاق اور طرز معاشرت سب درست ہوتے ہیں۔
اطاعت سے منہ موڑنے والوں کی سزا:
مفہوم آیت: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے آگے بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آگ میں ڈال دیں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہو گا۔(سورۃ النساء، آیت نمبر 14)
مفہوم آیات: بے شک اللہ رب العزت اپنے دین کے نہ ماننے والوں پر لعنت بھیجتے ہیں اور ان کو سزا دینے کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا اس دن منہ کے بل وہ آگ میں ڈالے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ اے کاش کہ ہم اللہ اور اور کے رسول کی اطاعت کر لیتے۔(سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 66،65،64)
ان آیات مبارکہ میں اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کے لییاللہ کی لعنت، ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم اور آخرت میں اپنی بدبختی پر حسرت کا تذکرہ ہے۔
اطاعت اس وقت ہوتی ہے جب دل میں اس کے بارے احترام اور محبت کے جذبات ہوں۔ بحیثیت مسلمان ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں،بلکہ اپنے والدین، اولاد اور ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرتے ہیں، یہی محبت ہمارا ایمان ہے، اسی محبت پر شفاعت کی امیدیں وابستہ ہیں، یہی محبت ہی ہمارے کل دین کی اساس و بنیاد ہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں گے تو ہمارا دعویٰ محبت سچا ثابت ہو گا اس کے لیے ہمیں اسلامی تعلیمات کا علم حاصل کرنا ہوگا کیونکہ بغیر علم کے یہ ممکن نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہماری زندگیوں میں اسلامی تعلیمات کس قدر ضروری ہیں۔ علم کے بعد عملاً ایسے طرز پر زندگی گزارنی چاہیے جو سنت رسول کی عکاس ہو، خیر کی باتیں بھی معلوم ہوں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے اور شر کی باتیں بھی معلوم ہوں تاکہ ان سے بچا جا سکے۔ آپ کی محبت جب تک تمام محبتوں پر غالب رہے گی، آپ کی سنت جب تک تمام معاشرتی طور طریقوں پر غالب رہے گی، آپ کی تعلیمات جب تک تمام تعلیمات پر غالب رہیں گی اور سب سے بڑھ کر آپ کی ناموس کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ جب تک دلوں میں باقی رہے گا ہم اور ہماری نسلوں کا ایمان باقی رہے گا۔ ورنہ خاکم بدہن اس میں کمی آ گئی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

٭…٭…٭

About the author

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

Maulana Muhammad Ilyas Ghuman

Leave a Comment

%d bloggers like this: