Muhammad Akram Amir Today's Columns

کرونا کی چوتھی لہر اور عوام کا رویہ از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر نے دنیا بھر کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور پاکستان سمیت پوری دنیا کے عوام اس بیماری کے ساتھ جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، یہ وائرس پچھلے دو سالوں میں دنیا بھر میں لاکھوں زندگیاں نگل گیا اور اس موذی مرض کی چوتھی لہر کے سائے اب بھی پاکستان سمیت دنیا بھر کو اپنے حصار میں جکڑ چکے ہیں، اس وائرس نے بڑی بڑی سپر پاور طاقتوں (ممالک) کے عوام اور حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور آئے روز کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جو عوام میں موت کے سائے کا خوف بنا ہوا ہے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی حکومت بھی اس موذی مرض سے نمٹنے کیلئے متحرک ہے اور پنجاب، سندھ، کے پی کے سمیت دیگر صوبوں کے کئی شہروں میں سمارٹ لاک ڈائون لگا ہوا ہے، کئی بڑے شہروں میں تعلیمی ادارے بالخصوص یونیورسٹیاں ، کالجز اور دیگر بڑے ادارے کرونا کی چوتھی خطرناک لہر کے باعث بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں کرونا وائرس کا خوف پھیلا ہوا ہے، پاکستان میں آئے روز کرونا وائرس سے شرح اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جس نے قوم کو خوف میں مبتلاء کر کے رکھ دیا ہے۔
کرونا کی چوتھی لہر (انفیکشن وائرل) مرض بابت بتانا ضروری ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے مریض کی کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے کہ اسے پہلے تین دن سر، جسم میں درد مسلسل قے آنا، جسم کا لاغر رہنا، ناک کا بہنا، آنکھوں، پیشاب میں جلن، مسلسل بخار، گلے میں خارش سمیت دیگر علامات ہوتی ہیں، دوسرے مرحلہ میں (چوتھے سے آٹھویں دن تک) متذکرہ دیگر علامات کے ساتھ کھانے پینے کے باوجود منہ سے ذائقہ کا نہ آنا، بغیر کوئی کام کیے تھکاوٹ محسوس کرنا، سینے (پسلی کا پنجرا) میں درد، سینے میں جکڑن، جسم کے نچلے حصہ میں درد کا ہونا شامل ہیں، کورونا وائرس سے ایک بار متاثر ہونے والے مریضوں کو دل کی تکلیف، جسمانی، اعصابی کمزوری، قوت مدافعت میں کمی، سانس، بلڈ پریشر، شوگر، مردانہ کمزوری جیسی تکالیف میں مبتلاء کر دیتا ہے، یہ خطرناک وائرس مریض کے جسم سے وٹامن سی کی بڑی مقدار نچوڑ لیتا ہے، اس کا حملہ 14 روز تک رہتا ہے، مناسب اور مستقل علاج سے مریض صحت یاب تو ہو جاتا ہے لیکن اس میں متذکرہ بالا بیماریوں کی علامات رہتی ہیں۔
حکومت پاکستان کرونا وائرس سے جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور سندھ، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان، خیبر پختونخواہ بشمول آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمین کے بعد اب عوام حتی کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن ویکسین لگوانے کی شرح دیگر ملکوں کی نسبت انتہائی کم ہے، لوگ ویکسین لگوانے سے گھبرا رہے ہیں، جسکی ایک وجہ ویکسین کے بارے میں منفی پروپیگنڈا ہے، ایسا پروپیگنڈا پھیلانے والے دہشتگردوں سے بھی خطرناک ہیں، کیونکہ منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے ویکسین لگوانے والوں کی شرح کم رہ رہی ہے۔ حکومت سمیت پورے معاشرے کو ملک بھر کے ایسے عوام جنہوں نے ابھی ویکسین نہیں لگوائی میں شعور بیدا کرنا ہو گا کہ ویکسین لگوانے کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں، ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان میں ویکسین کم لگنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ویکسین مفت لگائی جا رہی ہے جن ملکوں میں ویکسین فیس وصول کر کے لگائی جا رہی ہے ان ملکوں میں ویکسین لگوانے کی شرح پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی اور قوم نے ویکسین لگوانے سے گریز کیا تو آنے والے وقت میں کرونا کا وائرس اس حد تک پھیل جائے گا کہ حکومت پاکستان کو اس پر کنٹرول کرنا مشکل ہو گا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم زیادہ سے زیادہ ویکسین لگوائے، ویکسین لگنے سے کرونا کامرض لاحق ہونے کا خطرہ کم ہے۔ لیکن ویکسین لگنے والے مریضوں کو بھی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کی ضرورت ہے ورنہ انہیں بھی کرونا وائرس اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
پاکستان میں اب تک 19,639,052 مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے1,252,656 مریض اس موذی مرض کا شکار ہوئے، جن میں سے 1,178,883 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ 27,947 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جبکہ ملک میں ابھی بھی 45826 مریض کرونا وائر س کے مرض میں مبتلاء ہو کر موت و حیات کی کشمکش میں پڑے ہیں، یہ شرح اموات سرکاری اعداد و شمار کی ہیں، جبکہ اس کے علاوہ کئی ہزار افراد ایسے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں تک نہ پہنچ پائے اور ان کی اموات گھروں میں ہوئیں، جسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا اور ان اموات میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کی ہونے والی اموات بھی شامل نہیں ہیں، پاکستان میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض سندھ میں دیکھنے میں آئے جہاں 460,748 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے، آزاد کشمیر میں اب تک 34,253 مریض سامنے آئے، اسی طرح بلوچستان میں 32,992 مریض سامنے آئے، جبکہ گلگت بلتستان میں 10,334 مریض دیکھنے میں آئے،خیبر پختونخواہ میں 174,841 کرونا کے مریض اب تک سامنے آئے، پنجاب میں 433,687کرونا وائرس کے مریض سامنے آئے، راقم پھر وضاحت کرتا چلے کہ یہ وہ تعداد ہے جو سرکاری ریکارڈ میں تحریر ہے۔ ایسے مریضوں کا ان میں اندراج نہیں جن کا علاج معالجہ گھروں یا ملک کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ہوا۔
یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ پاکستان میں اس مرض کے اپنے تئیں درجنوں نہیں سینکڑوں علاج دریافت کر لئے گئے ہیں، اگر کوئی کرونا وائرس کا شکار ہو جائے تو کوئی رشتہ دار اسے لیموں کا قہوہ پینے کا کہتا ہے، اور کوئی لہسن کھانے کا مشورہ دیتا ہے، تو کوئی سنامکی کا قہوہ تجویز کرتا ہے تو کوئی انناس،گریپس واٹر، سنگترہ جیسے نسخے مریض کو بتاتا ہے، اور مریض اسی سوچ و بچار میں رہ کر وہ کیا دوائی استعمال کرے ڈاکٹر تک نہیں پہنچ پاتا اور اکثر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اس لئے کرونا کے مریضوں کو ٹوٹکوں پر عملدرآمد کی بجائے فوری طور پر اپنے قریبی سرکاری ہسپتال میں منتقل ہونا چاہئے کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال کی نسبت ضلع کی سطح پر موجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں جن میں آکسیجن کا پریشر پرائیویٹ ہسپتالوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے جو مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی نسبت زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے، یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ کرونا کے مریضوں سے نفرت کی بجائے ان کا حوصلہ بڑھانا چاہئے اور خود احتیاطی تدابیر ہر صورت اختیار کرنی چاہئے تا کہ خودبیماری سے بچ سکیں اور مریض کاحوصلہ بڑھا سکیں۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا کے آئسولیشن وارڈ کے انچارج ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ کا کہنا ہے کہ کرونا کی چوتھی لہر نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، پاکستان کے کئی شہروں میں سمارٹ لاک ڈائون جیسی صورتحال ہے، جبکہ وائرس سے متاثرہ دنیا کے دیگر ممالک میں حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ یورپی اور ایشیائی ممالک میں نا صرف لاک ڈائون چل رہا ہے بلکہ کئی ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں کرونا وائرس کے موذی مرض کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہیں کیونکہ ان کے ممالک میں مریضوں کی اتنی بہتات ہو چکی ہے جن پر قابو پانے کیلئے کئی یورپی ممالک نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر رکھا ہے۔
اس طرح پاکستان سمیت دنیا بھر کی اقوام کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے ساتھ جنگ لڑنے میں مصروف ہیں دنیا کے طب پر تحقیق کرنے والے ادارے خطرے کا الارم بجا رہے ہیں کہ چوتھی لہر کا وائرس انتہائی خطرناک ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ اسی طرح کے ہسپانوی فلو کے باعث1917 سے 1919 تک 2 سالوں میں کروڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، اب بھی ایسی ہی صورتحال کا عندیہ نظر آ رہا ہے، اس لئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ عوام بھی کرونا وائرس کے ساتھ جنگ لڑنے میں متحد ہو کر حکومت کا ساتھ دے، تا کہ اس موذی مرض پر قابو پایا جاسکے، حکومت کو چاہئے کہ وہ کرونا ایس اوپیز پر ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں سختی سے عملدرآمد کروائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دے تا کہ قوم کرونا وائرس کے موذی مرض سے محفوظ رہ سکے اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں حالات اس حد تک گھمبیر ہو جائیں گے کہ اس موذی مرض پر قابو پانا نہ حکومت وقت کے بس میں ہو گا اور نہ عوام کے اور پھر ہمیں اپنے پیاروں کی لا تعدادلاشیں اٹھانا پڑیں گی ابھی بھی وقت ہے کہ سنبھل جائیں اور کرونا ایس او پیز پر عمل کریں۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: