Today's Columns

ملاوٹ والا عشق از عبدالخالق چوہدری

ساری کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالی ہے اور ہمارا جینا مرنا اسی کے لیے ہے اور اللہ کے ہر حکم پر خوشی سے عمل پیرا ہونا محبت الہی کی دلیل ہے رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم سے عقیدت و محبت ہی ہمارا ایمان ہے جبکہ عشق مر مٹنے کا نام ہے یعنی جس سے عشق و محبت کیا جائے اس کی ہر ادا اور حکم پر دل و جان سے عمل کرنے کا نام عشق ہے جبکہ علامہ محمد اقبال عشق و محبت کی معراج ہی نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم سے محبت کو کہتے ہیں نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسین وہی طہ حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم سے عقیدت و محبت اور عشق رسول سے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور دیگر اہل ایمان کے واقعات سے سیرت اور تاریخ کی کتب بھری پڑی ہیں یہاں ایک صحابی رسول کا واقعہ پیش کرتے ہیں ۔ایک دن صحابی رسول حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں رنگت زرد پڑ چکی ہے آنکھوں سے آنسو رواں ہیں پرشانی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔عاشق راہ سہ نشانی است اے پسر آہ سرد رنگ زرد چشم تر ترجمہ (اے بیٹے عاشق کی تین نشانیاں ہوتی ہیں اس کا رنگ زرد ٹھنڈی سانسیں اور آنکھیں نم ہوتی ہیں )۔اپنے پیارے صحابی کی یہ حالت دیکھ کر رسول اکرم صل اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کیوں پرشان ہو کوئی تکلیف ہے یا مرض ۔انھوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم اور تو کوئی دکھ درد نہیں ۔صرف ایک چیز کے احساس نے زندگی کو تلخ بنا دیا ہے میرے عشق و محبت کا تقاضا ہے کہ ہر وقت آپ کی زیارت کرتا رہوں جب میں کچھ دیر کے لیے آپ سے دور جاتا ہوں پھر دل بیقرار ہوجاتاہے پھر دوڑتا ہوا آتا ہوں اور آپ کے چہرہ انور کی زیارت کر کے دل کو سکون ملتا ہے اب مجھے یہی دکھ پرشان کر رہا ہے کہ جب تک زندگی ہے میں آپ کے چہرہ انور کی زیارت کر کے دل کے قرار کا سامان کرتا رہوں گا لیکن جب قیامت قائم ہو گی تو اگر مجھے جنت میں جگہ مل بھی گئی تو آپ کا مقام بہت اونچا ہو گا اور معلوم نہیں میں جنت میں کہاں ہوں گا تو جس جنت میں آپ صل اللہ علیہ و سلم کی زیارت نہ ہو گی اس جنت سے جہنم بہتر ہے بس یہی احساس ہے جو مجھے گھائل کر رہا ہے حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم اپنے صحابی کی بات سن کر خاموش ہو گئے ۔اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ خوشخبری لے کر حاضر ہوتے ہیں قرآن مجید النسا آیت نمبر 69 ترجمہ ۔جو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانتے ہیں وہ ان نبیوں صدیقوں شہیدوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے اور وہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔یہ مژدہ جانفزا حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے لئے ہی نہیں تھا بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے کہ جو بھی یہ بلند ترین مرتبہ و مقام چاہتا ہے وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرے آپ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے اللہ تعالی نے ہمیں مہلت دی ہوئی ہے لیکن ہم نفس کی خواہشات پر چل رہے ہیں اور عشق حقیقی کے دعویدار بھی ہیں جبکہ محبت الہی کا تقاضا ہے ارشاد باری تعالی ہے سورہ آل عمران آیت نمبر 31 ترجمہ ۔میرے حبیب آپ فرما دیجئے کہ اے لوگو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو پھر اللہ بھی تم سے محبت کرے گا ۔اتباع رسول صل اللہ علیہ و سلم کیا ہے آپ نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی کبھی کسی کے ساتھ فریب نہیں کیا جو عہدوپیمان باندھا اسے پورا کیا کبھی کسی کے ساتھ خیانت نہیں کی کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کی اور یہی تعلیمات آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو دیں ۔جس پر انھوں نے عمل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی ۔ایک روز آپ مدنیہ منورہ کی منڈی میں گئے اور آپ نے گندم کے ڈھیر لگے ہوئے دیکھے آپ نے گندم کے ایک ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو نیچے سے انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی آپ صل اللہ علیہ و سلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے ڈھیر کے مالک نے کہا کہ یا رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم میں نے یہ گندم فروخت کے لیے گھر میں رکھی تھی جب منڈی فروخت کے لیے لایا تو رات کو بارش ہو گئی جس سے اوپر والی گندم بھیگ گئی تو میں نے اس کو نیچے کر دیا اور خشک گندم اوپر کر دی تاکہ یہ فروخت ہو جائے ۔اس کی یہ بات سن کر نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے صرف ایک ہی بات فرمائی ۔(من غش فلیس منا )ترجمہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔تو نے دھوکہ کیا ہے کہ خشک اوپر رکھی اور تر نیچے رکھی ہے یعنی جس نے کسی انسان کے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں یعنی ایک فرد کے ساتھ زیادتی دھوکہ کو اپنی ذات گرامی کی طرف منسوب کیا اور اس سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کیا کہ جو کسی ایک مسلمان کے ساتھ دھوکہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ دھوکہ کرتا ہے ۔حالانکہ گندم بھیگ جائے تو اسے دھوپ میں سکھایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے بھیگنے سے اس کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی اور نہ مضر صحت ہوتی ہے لیکن آپ نے اتنی بات بھی پسند نہیں فرمائی ۔اور ہم سرخ مرچوں میں اینٹیں رنگ چائے کی پتی میں بھورا رنگ کر کے ملاتے ہیں نقلی مضر صحت اور کیمیکل سے دودھ تیار کرتے ہیں پھلوں سبزیوں کھانے پینے کی چیزوں میں زیادہ نفع کی خاطر زہروں اور جان لیوا چیزوں کا استعمال کرتے ہیں حتی کہ جانوروں کے کھل اور خوراک میں بھی خوب ملاوٹ سے کام لے رہے ہیں جس سے انسانی اور حیوانی زندگی مختلف امراض میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں جا رہی ہے ۔معصوم فرشتہ صفت ننھے بچے کو دودھ کی جگہ زہر دیا جارہا ہے جس سے پیدا ہوتے ہی بچوں کو مختلف امراض میں مبتلا کیا جارہا ہے ۔ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے یہ تعلیم نہیں دی اور نہ ہی یہ اتباع رسول ہے آپ کی تو یہ تعلیمات ہیں ۔ایک دن نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم خانہ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے طواف کرتے کرتے آپ ٹھہر گئے اور رخ مبارک کعبہ کی طرف کر کے کہا ۔اے اللہ تعالی کے گھر تو بڑا پاکیزہ ہے اور تو بڑی عزت والا ہے تیری پاکیزگی عزت اور شان کی کوئی حد نہیں ۔لیکن مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ مومن کی جان اور مومن کا مال اور مومن کی آبرو تجھ سے بھی خدا کے حضور زیادہ شان والی ہے ۔حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم نے انسانیت کو جو شرف عطا فرمایا وہ کسی اور نے نہیں دیا ۔اسلام سے قبل لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ظلم و ستم کرتے عزتیں پامال کرتے زیادہ سے زیادہ مال جمع کرتے حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ ہوتی کیونکہ جس کے پاس زیادہ مال و دولت ہوتی اس کی زیادہ عزت اور احترام ہوتا لیکن ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے انسانیت کو وہ شرف بخشا کہ عزت و ذلت کے پیمانے بدل گئے ۔اب عزت دار وہ نہیں جس کے پاس مال و دولت کے خزانے ہوں بلکہ عزت دار وہ ہے ارشاد باری تعالی ہے سورہ الحجرات آیت نمبر 13 ترجمہ ۔بیشک اللہ کے نزدیک عزت و تکریم والا وہی ہے جو زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے ۔اگر ہم اپنے دعوے میں سچے ہیں اللہ اور رسول سے عشق و محبت کرتے ہیں تو پھر اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اپنے قول و فعل لین دین معاملات زندگی خرید و فروخت عبادت و ریاضت کسی بھی کام میں ملاوٹ نہیں کریں گے اور اپنے مسلمان بھائی کی عزت و آبرو مال و جان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے کسی کے ساتھ دھوکہ ناانصافی نہیں کریں گے کسی کی حق تلفی نہ کریں گے اللہ اور رسول صل اللہ علیہ و سلم کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے یہی عشق حقیقی اور محبت رسول ہے تو پھر یہ دنیا کیا آخرت بھی ہماری ہو گی ۔کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: