Rohail Akbar Today's Columns

بدمعاش ڈاکٹر یا مسیحا؟ از روہیل اکبر ( میری بات )

Rohail Akbar
Written by Rohail Akbar

چنیوٹ کے ہسپتال میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا فرش پر پیدا ہونے والے بچے کی نگہداش نہ ہوسکی اور وہ فوت ہوگیا ڈاکٹروں نے تین دن تک مردہ بچے کو ماں کے ساتھ ہی لٹائے رکھا اس خبر کی تفصیل آخر میں لکھوں گا پہلے ان مسیحاؤں کے کارنامے پڑھ لیں جو آجکل پھر ہڑتال پر ہیں یہ وہ بدمعاش طبقہ ہے جو ہر حکومت کو بلیک میل کرتا آیا ہے اسلام آباد میں احتجاج اور مار کٹائی کے بعد انہوں نے ہسپتالوں کی او پی ڈی بند کردی اگر ان میں اتنی ہی جرات اور بہادری ہے تو پھر یہ اپنی نوکری پر دو حرف بھیجیں اور اپنا کوئی دھندہ کرلیں ہسپتالوں کے اندر گردن میں چھ انچ کا سریا لیے کسی مریض سے سیدھے منہ بات کرتے ہیں اور نہ ہی انکے کسی لواحقین سے۔ اپنے کمروں میں ایسے بیٹھتے ہیں جیسے یہ ہسپتال انکے والد صاحب نے بنوا کر حکومت کو تحفے میں دیدیا ہوکہ یہاں پر میرا بیٹا غریبوں پر اپنا ہاتھ سیدھا کرکے ایک دن بڑا سرجن یا فزیشن بن جائیگا سرکاری ہسپتالوں میں ان چھوٹے چھوٹے ڈاکٹروں کے نخرے اور رعونت اس حد تک بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ آپ انہیں ایک سے دوسرے بار جا کریہ نہیں کہہ سکتے کہ جناب ہمارا مریض مر رہا ہے پلیز آکر ایک بار دیکھ ہی لیں ان سے جو بڑے ہیں پروفیسر وغیرہ وہ تو ہسپتال کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور باقی سب انکے مزارعے دل کیا تو چکر لگا لیا ورنہ اللہ کے سہارے یہ نظام تو چل ہی رہا ہے آجکل سوشل میڈیا باقی سب میڈیا کو مات دے رہا ہے جو سٹوریاں اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چلنی چاہیے وہ سوشل میڈیا کے زریعے ہم تک پہنچ رہی ہیں اور بعض اوقات تو سرکاری ہسپتالوں کے اندر ہونے والے دلخراش واقعات کو دیکھ کر آنسو نکل آتے ہیں سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف نہ جانے کس بات کا بدلہ غریب عوام سے لیتے ہیں حالانکہ یہ خود نہیں تو انکے والدین زرور غربت کی دلدل میں ڈبکیا لگاتے رہے ہونگے اور جس مشکل سے اخراجات انہوں نے اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کے لیے پورے کیے ہونگے یہ وہی جانتے ہونگے یا انکے بدمعاش ڈاکٹر پتر جانتے ہونگے ڈاکٹر بننے کے بعد سرکاری نوکری کے لیے جو جتن انہیں کرنے پڑتے ہیں وہ تو الگ ہاؤس جاب کیلیئے انہیں معلوم ہوگا کہ کس کس کی منتیں اور ترلے کرنا پڑتے ہیں مگر جیسے ہی یہ پکے ڈاکٹر بن جاتے ہیں تو پھر یہ ہر کام کچا کرنا شروع کردیتے ہیں بے دلی سے مریضوں کا علاج انکا وطیرہ بن جاتا ہے پیسے کی ہوس میں اندھا ہونے والا یہ طبقہ کبھی ادویات کی فروخت میں میڈیسن کمپنیوں کا حصے دار بن جاتا ہے تو کبھی موت کے منہ میں بیٹھے ہوئے مریضوں کے ٹیسٹوں پر بھی اپنا کمیشن لیتا ہے بڑے بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹر اپنی مرضی سے کام کرتا ہے اور جو ہمارے دیہی علاقوں کے ہسپتال ہیں وہاں پر تو ڈاکٹر کبھی کبھار جب اسکا دل آؤٹنگ کرنے کو چاہے تو ہسپتال کا چکر لگا لیتا ہے ورنہ تو وہاں کا پیرامیڈیکل سٹاف ہی علاقے کے مریضوں کے لیے ڈاکٹروں کا درجہ رکھتا ہے وہی ڈسپنسر اپنے اپنے گاؤں میں مکمل ڈاکٹر بن کر ہر قسم کے مریض کا علاج کررہے ہوتے ہیں یہاں ہم رونا روتے ہے سیاستدانوں کا،پولیس کا،واپڈا کا،پٹواریوں کا نہ جانے کس کس محکمے مگر ڈاکٹروں کو ہمیشہ ہم نے مسیحا ہی سمجھا اور لکھا کہ ہمارے جیسے کرپٹ معاشرے میں چلوں یہ بھی کوئی انیس بیس کرلیتے ہیں تو کوئی بات نہیں حکومت کے پاس وسائل نہیں اور عوام کی ہمت نہیں اسکے باوجود یہ طبقہ عوام کی خدمت میں لگا ہوا ہے مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں آپکی بدمعاشیاں یاد نہیں مریضوں،لواحقین سمیت وکلاء اور صحافیوں کے آپ گلے پڑ چکے ہیں لڑائی مار کٹائی آپ کا پیشہ بن چکا ہے جوں جوں آپ تجربہ کار ہوتے جاتے ہیں اتنی ہی آپ میں سے انسانیت غائب ہوتی جاتی ہے اللہ تعالی نے درد دل کے لیے انسانوں کو پیدا کیا ہے ورنہ عبادت کے لیے تو فرشتے کم نہیں تھے آپ لوگ فرشتے بننے کی کوشش نہ کریں صرف انسان بن کر غریب انسانوں کی خدمت کرلیں یہی آپکا فرض اور ڈیوٹی ہے اسی کام کی آپکو تنخواہ ملتی ہے یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ آپ تنخواہ اپنی مرضی کی لیں اور کام بھی اپنی مرضی سے کریں جب دل کیا مریض کو چیک کرلیا ورنہ تو موبائل کے ساتھ مصروف رہے موبائل کا استعمال ضرور کیجیئے مگر اپنی ڈیوٹی کے بعد دوستوں سے گپیں ضرور لگائیں مگر اپنی ڈیوٹی کے بعد اور مخصو ص مقامات پرکچھ خاص کاموں کیلیئے آپ لوگوں نے جوکمرے اور گھر کرائے پر لے رکھے ہیں انہیں بھی اپنے استعمال میں لائیں مگر اپنی ڈیوٹی ٹائم کے بعد آپ اچھی خاصی اور معقول تنخواہ لے رہے ہیں خدا کے لیے کسی اور کے لیے نہیں صرف اپنے پیسے کو رزق حلال بنانے کے لیے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں حکومت نے یا کسی فرد نے آپ کے پیروں میں زنجیریں تو نہیں ڈالی ہوئی آپ جب چاہیں چھوڑ کر چلے جائیں یورپ میں شفٹ ہوجائیں وہاں جاکر کام کرلیں مگر پاکستانیوں پر مہربانی فرمائیں جو 50روپے کے موبائل لوڈ پر بھی ٹیکس دیتے ہیں تاکہ آپ لوگوں کو بروقت تنخواہیں اداکی جاسکیں آپ مسیحا ہیں مسیحا بن کردکھائیں بدمعاش تو ہم نے بہت سے پیداکیے اب آتے ہیں چنیوٹ والی خبر پر جسکے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال کے عملہ کی مبینہ غفلت سے نومولود بچہ فرش پر دم توڑ گیا نعش تین دن فرش پر پڑی رہی لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی چنیوٹ کے نواحی علاقہ پتراکی کی رہائشی نورین کی حالت خراب ہوئی تو اس کے اہل خانہ اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال لائے جہاں اے بیڈ فراہم نہ کیا گیا تو اس نے زمین پر ہی بچے کو جنم دے دیا اور فی الفوز طبی امداد نہ ملنے پربچہ فرش پر ہی دم توڑ گیاجس پر ہسپتال عملہ نے نورین کو بیڈ فراہم کرکے مردہ بچے کوبھی اس کے ساتھ ہی لیٹا دیا تین دن مردہ بچہ ماں کے ساتھ پڑا رہا یہ ہے ہمارے مسیحاؤں کا کردار اور اب یہ سڑکوں پر ہیں ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کررکھی ہے اور خود مزے سے بیٹھے گپیں لگا کر مہینے کی آخری تاریخوں کا انتظار کرہے ہیں کہ کب حق حلال کی تنخواہ انکے بنک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو اور پھر وہ ان پیسوں سے اپنے والدین اور بیوی بچوں کی خدمت کرسکیں۔

٭…٭…٭

About the author

Rohail Akbar

Rohail Akbar

Leave a Comment

%d bloggers like this: