Today's Columns Zarar Jagwal

8 اکتوبر 2005 زلزلہ مجھے اک قیامت لگی جو گزر گئی از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

صبح جیسے ہی شروع ہوئی میری آنکھ کھلی میں نے جلدی سے بستر کو خدا حافظ کیا اور واش روم کی طرف بھاگ گیا،جلدی سے منہ دھویا ناشتہ کرنے بیٹھ گیا،ناشتے سے فارغ ہو کر جلدی جلدی یونیفارم پہن کر بیگ چیک کیا اور اٹھا کر دادی اماں کی طرف چلا گیا دادی اماں سے بوسہ لے کر سکول جانا روزانہ کا معمول تھا۔دادی اماں سے کچھ روپے ملنے کی امید ہوتی تھی اور یہ امید کبھی خالی ہاتھ واپس نہ آئی تھی،دادی اماں کے پاس پہلے سے میرا تایا زاد بھائی اور کلاس فیلو شراز کھڑا تھا اسے سکول جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا میں نے دادی اماں سے بوسہ لیا پانچ روپے جیب میں ڈالے شراز کا ہاتھ پکڑا اسے کہا جلدی کر ورنہ تیری وجہ سے مجھے بھی اسمبلی کے بعد سب کے سامنے مار پڑھے گی۔ وہ سوچتا ہی تھا کہ میرا دوسرا تایا زاد بھائی جابر بھی جلدی سے دادی اماں سے ملا اور سکول کی طرف بھاگ گیا ، میں اور شراز ہم ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔سکول گھر سے 5 منٹ کی مسافت پر تھا جابر کا سکول دوسرے گاؤں تھا،وہ ویسے بھی ہر کام میں جلدی ہی کرتا رہتا تھا،ہم تینوں ہم عمر ہی تھے۔شراز کو میں نے زور سے دھکا مارا کہا جابر پہنچنے والا ہو گا ہم گھر کے ساتھ سکول میں نہ پہنچ سکے اسے زبردستی ساتھ لیا سکول روانہ ہو گیا۔میری عمر 8 اکتوبر 2005 کو 8 سال تھی شراز 10 سال کا تھا ہم تیسری جماعت میں گورنمنٹ سکول میں پڑھتے تھے،اسمبلی میں دعا کے بعد ہمارے سر طارق محمود صاحب نے کچھ اچھی باتیں بتائی اور سب سے کہا اگر کوئی بات کرنا چاہتا ہے سٹیچ پر آ جاے مجھے کہانیاں سنانے اور سننے کا بہت شوق ہوتا تھا میں سٹیچ پر گیا 2 منٹ کی کہانی سنائی اور سب کلاس میں چلے گئے ۔۔۔۔۔ اچانک زمین کانپنے لگی ہمارے سکول کی عمارت گرنے لگی سب اپنی اپنی جان عمارت سے نکالنے لگے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو گیا نہ پہلے کبھی دیکھا نہ پہلے کبھی سنا سب بھاگ رہے تھے،مجھے ایک کلاس فیلو حامد نے دھکا دے کر برامدے سے باہر گرایا سب بھاگ رہے تھے نہ مجھے شراز ملا نہ میں شراز کو ملا میں نے بھی حامد کے پیچھے دوڑ لگا دی کوئی کس طرف بھاگ رہا تھا کوئی کس طرف،کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا جانا کہاں ہے جا کہاں رہے ہیں۔میں بھی اپنے گھر کا راستہ چھوڑ کر اپنے والد صاحب کے ماموں کے گھر کی طرف بھاگ گیا تھا،وہاں ابو کے ماموں نے مجھے دیکھ کر اپنے پاس گھر کے صحن میں بٹھایا رہا میں غمگین بھی بہت تھا،اس وقت کچھ سمجھ بھی نہیں آ رہا تھا گھر والوں کی یاد آئی تو رونا شروع کر دیا آنسوں تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ابو کے ماموں نے مجھے اپنی گود میں لیا وہاں انکے بھتیجے بھی تھے انہوں نے مجھے کہا آپ رونا بند کرو میں 5 منٹ میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑتا ہوں انکی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ میری امی نے مجھے دیکھا وہ مجھے ہی تلاش کر رہی تھیں وہ جلدی سے میری طرف آئیں مجھے گلے لگایا زوروقطار رونا شروع کر دیا خود بھی زخمی حالت میں تھیں مجھے پیار کیا ہم گھر آ گئے دیکھا مکان گر چکا تھا ہر طرف ملبے کے ڈھیر لگے ہوے تھے۔میری نظر دادی اماں پر پڑی مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا انہوں نے پیار کیا،سب رو رہے تھے دادی اماں تلاوت قرآن کر رہی تھیں،باقی ہمارے گھر کی عورتیں ذکر خدا کرنے میں مگن تھیں میں گھر کی عورتوں کی طرف گیا وہاں میرے چاچا ذاد بھائی اور چاچا ذاد بہن ناصر اور زاہدہ کی نعش تھی زاہدہ سکول میں ہی شہید ہو گئی تھی ناصر پاؤں میں درد ہونے کی وجہ سے مکان کے ایک کمرے میں آرام کر رہا تھا کہ مکان گرا وہ مکان کے نیچے آ کر شہید ہو گیا۔زاہدہ اور ناصر بھی ہم عمر اور میرے بچپن کے ساتھی تھے،وہاں بیٹھی عورتوں کو شراز پانی پلا رہا تھا جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا تھا میں اور شراز ہمیں گھر والے صبح سحری کو جگاتے ہی نہیں تھے روزہ رکھنے کی تڑپ تو بہت ہوتی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد جابر کی سکول کے نیچے آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ابھی زندہ تھا باتیں بھی کر رہا تھا،میرے ابو گھر سے چار کلو میٹر دور کام پر تھے وہ بھی دن کو ہی آ گئے تھے،چاچو بھی جلد ہی پہنچ آے تھے اور باقی ابو کے چار بڑے بھائی بھی پہنچ آے تھے ایک تایا زاد بھائی جہانگیر بھائی پاکستان کے شہر تھے جو لیٹ واپس آے اور دو اور تایا زاد بھائی سعید بھائی،نعیم بھائی راولپنڈی مدرسے میں تھے جو تین یا چار دن بعد واپس گھر پہنچے جابر زلزلے کے تیسرے دن شہید ہوا جابر کی درد ناک کہانی لکھنے سے راقم قاصر ہے تیسرے چوتھے دن ہی میرے تایا زاد بھائی کی بیٹی کی نعش بھی آئی تھی آج 16 سال گزر گئے میرے گھر سے ایک چاچا ذاد بھائی ناصر ، چاچا زاد بہین زاہدہ ، تایا زاد بھائی جابر اور تایا زاد بھائی کی بیٹی شیزا نے 8 اکتوبر 2005 کے اس حدثے میں شہادت کا تاج پہنا اور ہمیشہ کے لیے ہم سب سے جدا ہو گئے ۔۔ یہ چاروں میرے بچپن کے ساتھی تھے،جو ایک دم ساتھ چھوڑ گئے ، ناصر کا صبر وہ مسکراہٹ آج بھی رونے پر مجبور کرتا ہے۔کھیل کود میں زاہدہ سے جیتنا آج بھی یاد آتا رہتا ہے،کھیل کود میں جابر کی جلدی اور والدین سے ڈرنا بھی ابھی تک میں نہیں بھلا پایا جابر کی ذہانت اور ہنسی زندگی بھر اس کا وہ چہرہ آنکھوں سے جدا نہیں ہو سکتا،اور شیزا کی ہمدردی کب بھولی جا سکتی ہے،زندگی تو کسی کے ساتھ چھوڑنے سے نہیں رکتی مگر جینے کا ہنر انسان سے غائب ہو جاتا ہے خوشحالی چہرہ اچانک ان کی یادوں سے غمگین ہو جاتا ہے۔8 اکتوبر 2005 کو آنے والے بھیانک زلزلے نے ہم سے جو کچھ چھینا اس کو بھولنا اتنا آسان نہیں ، ایک بہترین صبح جو قیامت میں بدل گئی تھی،آن کی آن میں گاؤں کے گاوں اور بستیوں کی بستیاں خاک ہو گئی تھی۔لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے راستے معدوم ہو چکے تھے میلوں پیدل دشوار راستوں پر سفر کر کے میرے تایا زاد بھائی جہانگیر بھائی،سعید بھائی،نعیم بھائی اپنے گھر پہنچے تا کہ اپنے کسی کو زندہ سلامت دیکھ سکیں باقی لوگوں نے بھی ایسی پریشانیوں کا سامنہ کیا۔بعد میں جب سکول کھل گئے میں تو سکول کے نام سے گھبراتا تھا اور مجھے سکول کا نام سنتے ہی خوف آ جاتا تھا،خوف کیسے نہ محسوس ہوتا اپنے ہی بچپن کے کئی ساتھیوں اور ہم جماعتوں کو اپنے اردگرد جس حال میں دیکھ کر آیا تھا میرا معصوم ذہن مانتا ہی نہیں تھا کہ میں سکول جاؤں۔جو لوگ گاؤں سے باہر تھے یقینن انکے کان اچھی خبر سننے کے لیے ترستے رہے ہوں گے مجھے آج بھی یاد ہے میں ابو کے ساتھ رلیف کے سامان کے لیے جا رہا تھا عید کو کچھ دن ہی باقی تھے میں رلیف میں آے کپڑوں کے لیے ابو کے ساتھ زبردستی جا رہا تھا کیونکہ اس عید پر نئے کپڑے تو دور کی بات پرانے بھی مکان سے نہیں نکل سکے تھے،ابو کے کوئی دوست تھے جن سے ہماری ملاقات ہوئی انکا حال احول پوچھنے کا انداز ہی الگ سا تھا اکثر لوگ ملتے وقت پوچھتے تھے کہ زلزلے میں آپ کا کون گیا؟ مگر ابو کے دوست انکل نے ابو کو دیکھ کر خوشی محسوس کی اور کہا شکر ہے آپ زندہ ہیں۔لوگ گھبراہٹ میں تھے کیونکہ 2005 کے قیامت خیز زلزلے نے ہزاروں افراد کو لقمہ سمجھ کر کھا لیا تھا،اور کئی ہزاروں گھر زمین بوس ہو گئے تھے۔ہمارے سکول ہسپتال،سڑکیں،اور دفاتر سب کچھ مٹی کے ڈھیر سا ہو چکا تھا،ہمارے لیے یہ زلزلہ نہیں اک قیامت تھی جس نے کئی والدین کا پیار ،سر سے چھت،بہت سے رشتہ دار اور بہت کچھ چھین لیا۔اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی کھلے میدان میں ملبے کے ڈھیر کے بیچ کھڑے ہوں،جس راستے پر میں سکول جاتا تھا وہ راستہ پتھروں کی رہائش گاہ بن چکا تھا۔ 8 اکتوبر 2005 کا وہ بھاری دن اور وہ خوفناک رات ہم لوگ کبھی نہیں بھلا سکتے،کسی کو کیا معلوم تھا کہ میرے شہر پر قیامت ٹوٹ پڑھے گی؟ کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ گھر آج چھوڑ کر اصلی گھر کی طرف جائیں گے؟ جو لوگ شہروں میں تھے جب ٹوٹی پھوٹی عمارتوں سے گزرتے ہوں گے لٹکتے بچوں کے جسم دل دہلا دینے والے چہرے کیسے دیکھ پاتے رہے ہوں گے وہ پھول جیسے بچے والدین کو زندگی بھر کا دکھ درد دے کر چلے گئے۔پہلی رات لاشوں اور زخمیوں پر طوفانی بارش بھی برسنے لگی بہت لوگ رات کو کھلے آسمان تلے گزرتے رہے جو مکان بچ گئے تھے ان مکانوں میں سے جو کچھ بستر ملے،ان سے ایک سر ڈھانپتا تو دوسرے کے سر سے کمبل غائب ہو جاتا۔میرے حصے میں صرف ایک پتلی سی کسی کی چادر ہی آئی تھی اس چادر کے اندر بھی ہم تین ، چار بچے رہے میں اور میرے ساتھی سردی سے کپکپاتے رہے رات جلدی ختم ہونے کی دعائیں بھی کرتے رہے۔اس رات کو ہمارے لیے یعنی سب محلے والوں کے لیے چاے اور رس ابو کے ماموں کے گھر سے آے تھے ہم سب نے سوغات سمجھ کر کھاے تھے۔زلزلے نے بہت پیاروں کو چھین لیا جنکا ذکر راقم کر چکا ہے اب آج 2021 میں زلزلے کو 16 سال ہو گئے ہیں میری عمر 24 سال ہو چکی ہے میں معصوم ذہن سے زمہ دار ذہن میں شامل ہو گیا ہوں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا کچھ بدل سی گئی ہے۔دنیا میں آنیوالا ہر نیا انسان وہ ہمدردی وہ محبت نہیں دیکھ سکتا جو پیچھے شاید ہم نے دیکھی ہے نیا انسان صرف کھلی آنکھوں سے خود غرضی اور مفاد پرستی ہی دیکھ رہا ہے۔ہر انسان ہی اب اپنے مفادات کی خاطر اپنے ہی ہم جنسوں کو نقصان دیتا نظر آ رہا ہے۔یہ مفاد پرستی اور خود غرضی ہی انسان کو دھوکا دہی،چوری چکاری،ڈاکا زنی،قتل و غارت گری اور دیگر جرائم پر اکساتی و ابھارتی ہے،اور دنیا کا سکون و محبت ہمدردی چھین کر اسے بے سکونی کا تاج پہناتی ہے آج بھی اگر دوسروں کی مدد کی جاے یہ سب کچھ واپس آ سکتا ہے۔کوئی کسی غریب طالب علم کی تعلیم کا خرچ،کسی غریب کی بیٹی کی شادی کا خرچ اور شادی آسان کرنے کی کوشش،کسی بے روزگار کی نوکری کا انتظام،کسی غریب بیمار کے علاج کا انتظام،اور موقع ملنے پر ہر ایسا کام کرے جس سے کسی انسان کی ضرورت پوری ہو جاے تو یقین کریں یہ معاشرہ بہت جلد بدل سکتا ہے اس معاشرے میں سکون ہی سکون کا راج ہو سکتا ہے محبت کی حکمرانی ہو سکتی ہے۔دوسروں کی مدد کرنا صرف دوسروں کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ اس سے مدد کرنے والے کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔سانخہ اکتوبر میں پاکستان کی عوام نے بھی ایثار ،جذبہ،ہمدردی اور اخوت کا بے مثال مظاہرہ پیش کیا زلزلہ متاثرین کی مدد کرتے رہے۔لاہور کراچی میں مقیم ممی ڈیڈی قسم کے لڑکے بھی زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی مدد کرتے دیکھے گئے تھے۔ملک بھر بلکہ دنیا بھر سے رقوم اور امدادی سامان ہمارے علاقوں تک بھجوایا گیا۔فوج سماجی تنظیموں کے اہل کاروں نے بھی امدادی کارروائیوں میں سر گرمی سے حصہ لیا اور محبت و تعاون کی بے مثال تاریخ مرتب کی،بیرون ممالک سے ادویہ،کمبل،خیمے اور دیگر سامان بڑی تعداد میں موصول ہوا ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی مدد کرتی رہی جس جس نے مدد کی ہم آزاد کشمیر کے لوگ انکا شکریہ ادا کرتے ہیں 8 اکتوبر 2005 زلزلے میں تباہ ہونیوالے شہر پہلے سے زیادہ بہتر آباد و خوبصورت ہو چکے ہیں لیکن شہریوں نے اپنے پیاروں کو نہیں بھلا پایا جو ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو کر قبرستان میں جا بسے اللہ تعالی سبکی مغفرت فرمائے آمین۔۔۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: