پاکستان کی ترقی میں نوجوان رضاکاروں کا کردار

0 2

ہم میں سے اکثر افراد چاہتے ہیں کہ وہ کچھ ایسا کام کریں جس سے دوسروں کو فائدہ ہو۔ ہمارے معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر بہت سے افراد سماجی افادیت کی مختلف سرگرمیاں تو انجام دے رہے ہوتے ہیں تاہم ان کے اپنے اپنے نصب العین ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر کچھ کر گذرنے کے خواہشمند نوجوان حضرات ان نجی اداروں میں شمولیت سے ہچکچاتے رہتے ہیں۔ مشاہدے میں آیا کہ جب کبھی بھی حکومتی سطح پر لوگوں سے تعاون کا کہا گیا تو لوگوں نے توقع سے بڑھ چڑھ کر ردعمل دیا جسکی بنیادی وجہ شاید حکومت پر یہ اعتماد ہوتا ہے کہ حکومت کسی ذاتی مقصد کی بجائے قومی مقصد کے تحت ایسے تعاون کی درخواست کرتی ہے۔ حالیہ کچھ عرصے سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اعلی انتظامی عہدوں پر بڑی تعداد میں نوجوان اور اعلی تعلیم یافتہ افراد کو فائز کیا جا رہا ہے جو نوجوانوں کو فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر اوقات سوشل میڈیا پر اپنی مثبت عوامی فلاحی سرگرمیوں کی وجہ سے چھائے رہتے ہیں۔
نوجوان طبقے میں بھی ایسے آفیسرز کو نہ صرف قدروقیمت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے بلکہ یہ نوجوان ان آفیسرز کی راہنمائی میں مختلف فلاحی سرگرمیوں میں پرجوش انداز میں حصہ بھی لیتے رہتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت پر اگر نظر ڈالیں تو وہاں حمزہ شفقات جیسے فعال آفیسر نظر آتے ہیں جو نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملا کر اور ان کی سرگرمیوں میں حصہ لے کر انہیں قومی دھارے کا مفید حصہ بناتے جا رہے ہیں۔ جب بات آئے وفاقی دارالحکومت کی تو جڑواں شہر راولپنڈی قدرتی طور پر ذہن میں آتا ہے۔ حال ہی میں یہاں نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر کیپٹن انوار الحق نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے نوجوانوں کے جذبے کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے مارچ میں وی فورس کے نام سے رضاکار نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور انکی حوصلہ افزائی کی وہ اس فورم میں شامل ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو ضلع کی تعمیر و ترقی کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کریں۔ چونکہ یہ فورم پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد خیال تھا تو نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نے زبردست دلچسپی لیتے ہوئے اس میں شمولیت اختیار کی۔ مختلف صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کو ماحولیات، تعلیم، جانوروں کے تحفظ، منشیات کی روک تھام، صحت و صفائی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ٹریفک کے مسائل جیسے شعبوں کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اگرچہ یہ فورس ابھی مکمل طور پر فعال تو نہیں ہو سکی لیکن تھوڑی ہی سہی مگر وی فورس کی چند ایک ابتدائی سرگرمیوں مثلا تھیلیسیما کے مریضوں کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے خون عطیہ کی مہم کا آغاز کیے جانے ، یونین کونسلز کی سطح پر کرونا سے بچاو کی آگاہی مہمات اور جانوروں کے تحفظ کے متعلق آگاہی سے دکھائی دیتا ہے کہ یہ فورس عنقریب اپنے رضاکاروں کی مدد سے راولپنڈی کو پاکستان کے ایک مثالی ضلع میں بدل دے گی۔ یہ ایک خوش آئند عمل ہے اور کیا ہی بہتر ہو کہ پاکستان کے تمام اضلاع میں اس قسم کی وی فورسز کو تشکیل دے کر وہاں کے نوجوانوں کو اپنے اپنے اضلاع کی بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے مواقع دیئے جائیں۔ اس سلسلے میں راولپنڈی کی وی فورس کے ماڈل کا مطالعہ کرکے اسے باقی اضلاع میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ چونکہ یہ فورس ضلعی انتظامیہ کے تحت ہے لہذا نوجوان افراد تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنی صلاحیتوں کو ضلعی بہتری کے نقطے پر مجمتع کرتے رہیں گے اور ان کے جذبہ خدمت کو بھی تسکین ملتی رہے گی۔ اگر یہ ماڈل کامیابی سے ہمکنار ہو گیا تو وہ وقت دور نہیں کہ اقبال کے یہ شاہین اپنے طوفانی جذبوں کی مدد سے وطنِ عزیز کو دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے ایک قابل ِ تقلید مثال بنا دیں گے۔ بقول شاعر ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی۔ دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالی ہمارے وطن عزیز کے عہدیداروں کو ایسی دل چھونے والی کاوشیں کرنے اور نوجوانوں کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: