Muhammad Siddiq Parhar Today's Columns

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پر پابندی کا بل از محمد صدیق پرہار ( خوشبوئے قلم )

Muhammad Siddiq Parhar

مذہبی جبری تبدیلی کی روک تھام کے نام پر پاکستان میں ایک بل بنایاگیاہے۔ جسے پڑھ کرمعلوم ہوتا ہے کہ اگرخدانخواستہ اس بل کوقانون بنادیاگیا تو اسلام قبول کرنے پرپاکستان میںپابندی لگ جائے گی اوراسلام کی تبلیغ کرنے والے مجرم ٹھہریں گے۔ اگراس بل کوقانون بناکر لاگوکیاجاتاہے توایک توکوئی بھی ۱۸ سال سے کم عمراسلام قبول نہیںکرسکے گا دوسرااٹھارہ سال سے بڑا کوئی بھی شخص آسانی سے اسلام قبول نہیںکرسکے گاکہ اس کے لیے کچھ ایسی سخت شرائط لگادی گئی ہیں کہ اسلام قبول کرناناممکن نہیں تومشکل ضرورہوجائے گا۔
علامہ اشرف آصف جلالی نے قبول اسلام سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اگرکوئی بچہ پانچ سال کاہے دس سال کاہے ۱۵ سال کاہے وہ اسلام قبول کرناچاہتاہے۔ توہمارے ملک میں یہ قانون بنایاجارہاہے کہ والدین اس کے جوہندوہیں ،سکھ ہیںیاکرسچن ہیں ان کوحق ہے کہ اپنے بچے کوروک دیں ۔اگرشراب پیتاہے تونہیں روک سکتے، زناکرتاہے تونہیں روک سکتے۔ اگراسلام قبول کرتاہے توپھراس کوروک سکتے ہیں۔ اور۱۸ سال کے بعدبھی باقاعدہ ایسا موقع دیاجائے گاکہ وہ اپنے بچے کوواپس لاناچاہتے ہیں تواسے مجبورکرکے اپنے مذہب پرلے آئیں۔ جس سٹیٹ نے اسلام کوتحفظ دیناتھا اس کے اندراسلام غریب الوطن ہے۔
سینئر تجزیہ نگارانصارعباسی لکھتے ہیں کہ بل کے مطابق کوئی بھی غیرمسلم جوبچہ نہیں ہے (۱۸ سال سے زائدعمروالاشخص) اوردوسرے مذہب میںتبدیل ہونے کے قابل اورآمادہ ہے اس علاقہ کے ایڈیشنل سیشن جج سے تبدیلیء مذہب کے سر ٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا جہاں عام طورپرغیرمسلم کافررہتاہے یااپناکاروبارکرتاہے۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کے لیے درخواست موصول ہونے کے سات دن کے اندرانٹرویو کی تاریخ مقررکرے گا ۔فراہم کردہ تاریخ پر فرد، ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہوگا۔ جواس بات کویقینی بنائے گا کہ مذہب کی تبدیلی کسی دبائو کے تحت نہیں اورنہ ہی کسی دھوکہ دہی یاغلط بیانی کی وجہ سے ہے۔ایڈیشنل سیشن جج غیرمسلم کی درخواست پراس شخص کے مذہبی سکالرزسے ملاقات کاانتظام کرے گا جومذہب وہ تبدیل کرناچاہتاہے۔ایڈیشنل سیشن جج مذاہب کاتقابلی مطالعہ کرنے اورایڈیشنل سیشن جج کے دفترواپس آنے کے لیے غیرمسلم کو۹۰دن کاوقت دے سکتاہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اس بات کویقینی بنانے کے بعد کہ یہ شرائط پوری ہوجائیں ،مذہب کی تبدیلی کاسر ٹیفیکیٹ جاری کرے گا۔ جبری مذہب کی تبدیلی میںملوث فرد کوکم ازکم پانچ سال اورزیادہ سے زیادہ دس سال تک قیدکی سزااور جرمانہ ہوگا ۔مذہب کی تبدیلی کے لیے مجرمانہ قوت کااستعمال اس شخص کے خاندان ،عزیز،برادری یاجائیدادکے خلاف ہوسکتاہے۔ جوشخص (شادی) انجام دیتاہے۔ کرتاہے، ہدایت دیتاہے یاکسی بھی طرح سے شادی میںسہولت فراہم کرتاہے ،اس بات کاعلم رکھتے ہوئے کہ یاتودونوں فریق جبری تبدیلی کے شکارہیں وہ کم ازکم تین سال قیدیاتفصیل کے مجرم ہوں گے۔ اس میںکوئی بھی شخص شامل ہوگا جس نے شادی کی تقریب کے لیے لاجسٹک سپورٹ اورکوئی دوسری خدمات وغیرہ فراہم ہوںگی۔کسی بھی شخص کے بارے میں یہ نہیںسمجھاجائے گا جب تک کہ وہ شخص بالغ (۱۸سال یااس سے بڑا) نہ ہو جائے ۔ جوبچہ بلوغت کی عمرکوپہنچنے سے پہلے اپنے مذہب کوتبدیل کرنے کادعویٰ کرتاہے اس کامذہب کاتبدیل نہیں سمجھاجائے گااورنہ ہی اس کے خلاف اس قسم کے دعویٰ کرنے پرکوئی کارروائی کی جائے گی۔اگرچہ کچھ بھی ان حالات پرقابل اطلاق نہ ہوگا جہاںبچے کے والدین یاسرپرست خاندان کامذہب تبدیل کرنے کافیصلہ کریں۔ عدالت کی جانب سے جبری تبدیلی کامعاملہ نوے دن کی مدت کے اندرنمٹادیاجائے گا اورعدالت کسی مقدمے کی سماعت کے دوران دو سے زیادہ التواء نہیںدے گی۔ جن میں سے ایک التواء التواء کے خواہاں شخص کے اخراجات کی ادائیگی پرہوگا۔ اس بل کے تحت کسی جرم کی سزایابریت کے خلاف اپیل متعلقہ ہائی کورٹ کے سامنے اس تاریخ سے دس دن کے اندر پیش کی جائے گی جس دن کورٹ آف سیشن کے منظورکردہ حکم کی کاپی اپیل کنندہ کوفراہم کی جائے گی۔جبری تبدیلی کے حوالے سے تحقیقات پو،لیس سپرنٹنڈنٹ کے درجے سے نیچے کاکوئی بھی پولیس افسرنہیںکرے گا۔
تحریک عظمت آل واصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیراہتمام ہنگامی اجلاس تحریک کے سرپرست اعلیٰ سجادہ نشین پیرسیدمنور حسین جماعتی کی زیر صدارت ہوا۔جس میں انسدادجبری تبدیلی مذہب بل کویکسرمستردکرتے ہوئے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاگیا کہ یہ بل مکمل طورپرغیراسلامی، غیرآئینی اوربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورشریعت سے متصادم ہے۔اٹھارہ سال کی عمرسے پہلے اسلام لانے پرپابندی عائدنہیںکی جاسکتی۔ پیرسیدمنورحسین جماعتی کاکہناتھا کہ اس بل کے ذریعے غیرملکی آقائوںکوخوش کرنامقصود ہے۔ تمام غیرآئینی ہتھکنڈے اوراسلام سے متصادم قانون سازی نہیںہونے دیں گے ۔ حکومت ایسی قانون سازی سے بازرہے۔مفتی محمداقبال چشتی نے کہا کہ پاکستان میںاسلام قبول کرنے کوجرم بنانے کے لیے قانون سازی پرکام شرمناک عمل ہے۔ ڈاکٹرمفتی عبدالکریم، مفتی محمدفیصل عباس جماعتی اورمفتی محمدضیاء الحسنین صدیقی نے کہا کہ خداراحکمران ہوش کے ناخن لیں۔
پیراجمل رضاقادری کہتے ہیں کہ حضرت مولاعلی شیرخدانے چھوٹی عمرمیں کلمہ پڑھ لیاتھا۔ آپ کس طرح کے قانون لے کرآرہے ہیں۔ آپ توریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ آپ کوتوچاہیے تھا کہ ایسے قانون لے کے آتے کہ زیادہ سے زیادہ کافرمسلمان کیسے ہوسکتے ہیں اورآپ کیااپنے منہ پرسیاہی ملنے جا رہے ہیں۔ سوچیں، غورکریں یہ جووطن اسلام ہے اس کے توہرفردکومبلغ اسلام بناناآپ کی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے۔ اتناہی ابھرے گاجتناکہ دبادوگے۔یہ دین غلبے کے لیے دنیامیںآیاہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق وفاقی وزارت انسانی حقوق کے مسودہ بل میں شریعت سے متصادم متعدد شقوںکی موجودگی کاانکشاف کیاہے۔ وزارت حقوق انسانی نے اقلیتوںکی جانب سے مذہب کی جبری تبدیلی سے بچانے کے لیے دی گئی سفارشات کوتحفظ اقلیت بل ۲۰۲۱ء میں شامل کیاہے۔ اس سلسلے میںتشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، لال چند، جے پرکاش اوررمیش کمارنے مذہب کی جبری تبدیلی روکنے کے لیے قانون سازی کامطالبہ کررکھاتھا۔اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسودہ قانون کی مختلف شقوںکاجائزہ لیاہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مسودہ قانون کی شقوں پرایک عبوری رپورٹ مرتب کی ہے۔ کونسل نے عمرکی حداورتبدیلی مذہب کے طریقہ کارپراعتراض واردکیے ہیں۔ مسودہ میںکہاگیاہے کہ ۱۸ برس سے کم عمرکاکوئی فرداسلام قبول نہیںکرسکتا، بل میںکہاگیاہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مندفردکے لیے مخصوص طریقہ کاردرج ہے۔ قانونی شرائط کے تحت کسی شخص کوکسی دوسرے مذہب میںداخل ہونے کے لیے عدالت سے سر ٹیفکیٹ حاصل کرناہوگا۔ اس سے پہلے تبدیلی مذہب کے آرزومندکومذہبی کتابیں پڑھنااورعلماء کرام کے ساتھ نشست کرناہوگی۔ تبدیلی مذہب کی درخواست دینے کے ۹۰ روزبعدتبدیلی مذہب کاسر ٹیفکیٹ جاری کیاجائے گا۔اسلامی نظریاتی کونسل کاکہناہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتاہے تواس پرفوری طورپرشرعی احکام نافذ ہوجاتے ہیں اوراس سلسلے میںکوئی تاخیرمناسب نہیں۔اسی طرح ریاست کاعقیدہ یہ ہے کہ پاکستان میںمذہب کی جبری تبدیلی کی اجازت نہیںلیکن اس مجوزہ بل سے تاثرملتاہے کہ پاکستان میںجبری طورپرمذہب تبدیل کرایاجاتاہے جس کی روک تھام کے لیے یہ قانون بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔مذہب کی جبری تبدیلی پاکستان کے قانون کے تحت پہلے سے جرم ہے۔ تبدیلی مذہب کی پرنورمثالیں خود عہدرسالت مآب میںموجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سات سال کی عمرمیں اسلام قبول کیا۔ ان کی طرح بہت سے عرب خاندان تھے جن کے کم سن بچوںنے بھی آزادانہ طورپراسلام قبول کیا۔ پاکستان کاقیام ایک جدیدمسلم سماج کی تشکیل کی غرض سے عمل میںآیا۔پاکستان کے آئین کے آغاز میں یاددہانی موجودہے کہ مملکت خدادادپاکستان میںکوئی ایساقانون اورضابطہ تشکیل نہیںدیاجاسکتا جوقرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہو۔اس سلسلے میں چند چیلنج جدیدبین الاقوامی نظام کی وجہ سے کی وجہ سے سامنے آئے۔امریکی سرکردگی میںدنیاکومہذب بنانے کے لیے انسانی حقوق کاجوبین الاقوامی چارٹرترتیب پایا اس میںفردکی ذاتی آزادی کواس قدراہمیت دی گئی کہ سماج کی اجتماعیت اورریاست کے مفادت تک قربان کردیے گئے۔مغربی معاشرے ہم جنس پرستی اوربرہنہ رہنے کاحق اسی بین الاقوامی چارٹرکے تحت تسلیم کررہے ہیں۔ مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے نظام کے مقابل اسلام اورکمیونزم نے اپنی حیثیت منوائی۔ کمیونزم میںفردکچھ نہیں،سب کچھ ریاست ہے۔ اسلام نے فردکوجان کے تحفظ،حق زندگی، حق اظہاررائے کے ساتھ مذہبی آزادی بھی دی۔بھارت میں انتہا پسندہندو مسلمانوں اوردیگراقلیتی برادریوں کے ساتھ جس جبرکامظاہرہ کررہے ہیں اس کی مذمت پوری دنیاکررہی ہے۔ لیکن بھارت اس طرح کے قوانین کو اہمیت نہیںدے رہا۔ ہمارامسئلہ یہ ہے کہ حکومتوںمیں ایسے گروہوںکااثرورسوخ پراسرارطورپربڑھ جاتاہے جواقلیتوںکے تحفظ کے نام پرسماجی انتشارکی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔پاکستان کاسماج دینی اقدارپرایمان رکھنے والوںپرمشتمل ہے۔ گنتی کے لوگ بیرونی فنڈزاورمفادات کی خاطربے سروپامعاملات کوسنگین بناکرپیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کی تکرارکرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے قانون سازی کے لیے جو مسودات تیارہوتے ہیں ان میںوقفے وقفے سے شرانگیزموادشامل کردیاجاتاہے جس سے بڑے پیمانے پراحتجاج ہڑتال اورہنگاموںکاخطرہ ہوتاہے۔ اسلامی تعلیمات جبرکی نفی کرتی ہیں۔ اسی لیے ایسے معاملات کی گرفت ہوتی ہے۔ اب کسی خاص گروہ یالابی کے دبائومیں قرآن وسنت کے منافی شقوںپرمشتمل مسودہ قانون تیارکرنے کامقصداس کے سواکیاہوسکتاہے کہ بیرونی محاذپرکامیابیاں سمیٹتے پاکستان کوداخلی انتشارکی نذرکردیاجائے۔
اگراس مجوزہ بل کوقانون بناکرنافذ کیاجاتاہے تواسے علماء کرام اورمبلغین اسلام کے خلاف بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔ چندغیرمسلم کی آل رسول، کسی عالم دین کے پاس جائیں گے اوراپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیں گے بعدمیں شورمچادیں گے کہ ہمیں جبری مذہب تبدیل کرایاگیاہے۔بل کے مطابق مذہب کی تبلیغ کرنے والامجرم ہے ۔ اگرکوئی غیرمسلم کسی عالم دین کاخطاب سن کریاکوئی اسلامی مضمون ،کتاب پڑھ کرمسلمان ہونے کی خواہش کااظہارکرتاہے بعدمیں وہ اپناارادہ تبدیل کرلیتاہے توتقریرکرنے والااورکتاب،مضمون لکھنے والامجرم ٹھہریں گے۔مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مندشخص سے اس کے مذہبی سکالرسے ملاقات کرانے کامقصداس کے سوااورکیاہوسکتاہے کہ اسے اسلام قبول کرنے سے روکاجائے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں درست ہی کہاگیاہے کہ اس بل کوتیارکرنے کامقصد پاکستان کوداخلی انتشارکاشکارکرنے کے سوااورکوئی نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں کبھی توہین رسالت کے قانون پراعتراض ہوتا ہے اوراس کے غلط استعمال کاپروپیگنڈہ کیاجاتاہے اوراس قانون میں ترمیم کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کبھی اراکین اسمبلی کے حلف نامہ میں تبدیلی کی کوشش کرکے مسلمانوں کے ختم نبوت کے عقیدہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی کسی بھی غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے پرمذہب کی جبری تبدیلی کاشورمچایاجاتاہے۔کبھی پاکستان میں اقلیتوں کے غیرمحفوظ ہونے اوران پرظلم ہونے کاپروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔یہ سب پروپیگنڈے اورسب کوششیں پاکستان کوداخلی انتشارکی نذرکرنے کے لیے ہیں۔ریاست مدینہ کے داعی وزیراعظم عمران خان کومذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام(پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی) کے بل کے پراسس کوفوری طورپررکوادیناچاہیے۔ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کرملک کو مسلسل انتشارکی نذرکرنے کی کوشش کرنے والوںکوبے نقاب کریں اورایسے سازشیوںکوایسی عبرت ناک سزائیں دلائیںکہ آج کے بعد کوئی بھی ایساکرنے کاسوچ بھی نہ سکے۔ملک میں امن وسلامتی کے قیام کے لیے ایساکرناضروری ہے۔
پاکستان میںتمام مسالک کے علماء کرام کوصدرمملکت جناب عارف علوی سے ملاقات کرکے انہیں مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کے بل کی سنگینی سے آگاہ کرناچاہیے اورانہیں ملک کواس سنگین صورت حال سے بچانے کے لیے ان کامنصبی، مذہبی، قومی اوراخلاقی کرداراداکرنے کی درخواست کرنی چاہیے۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Siddiq Parhar

Muhammad Siddiq Parhar

Leave a Comment

%d bloggers like this: