Muhammad Siddiq Parhar Today's Columns

۴ روزہ ہفتہ اور پاکستان میں کام کے اوقات از محمد صدیق پرہار ( خوشبوئے قلم )

Muhammad Siddiq Parhar

موجودہ دورمیں جب وقت کی قیمت اوربھی بڑھ گئی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ پرموجود ایک خبرنے مجھے حیرت میں ڈال دیاہے کہ آئس لینڈ میں ہفتے میں بس چاردن کام کرنے کاتجربہ کامیاب قرارپایاہے۔ خبرمیں لکھاہے کہ محققین کاکہناہے کہ آئس لینڈ میں چارروزہ ہفتہ بہت کام یاب رہاہے اور اب اس سے کئی ملکوںمیں ملازمین اتنے ہی معاوضے پرکم گھنٹے کام کرسکیں گے۔ چارروزہ ہفتے کی آزمائش سال دوہزارپندرہ سے دوہزارانیس کے درمیان آئس لینڈ میںہوئی تھی۔جس میں ملازمین کوکم گھنٹے کام کرنے کااتناہی معاوضہ دیاگیاتھا۔ماہرین کے مطابق اس دوران اکثرکمپنیوں میں پیداوارکی شرح برقراررہی یا بعض اوقات پیداواربڑھ گئی جب کہ ملازمین نے پہلے جتناکام کرکے دیا۔آئس لینڈ میں اس کی آزمائش سٹی کونسل نے کی اوربعدمیں حکومت نے ۲۵۰۰ سے زیادہ ملازمین کواس کاحصہ بنالیا۔یہ آئس لینڈ میں ملازمین کی کل آبادی کاقریب ایک فیصدبنتاہے۔برطانوی تھنک ٹینک اٹانومی اورآئس لینڈ میںپائیدارجمہوریت کی تنظیم ایلڈا کاکہناہے کہ اس تحقیق میںملازمین سے ہفتے میں چالیس گھنٹے ۳۵ یا۳۶ گھنٹے کام لیاجاتاتھا ۔ محققین کاکہناہے کہ ان آزمائشوں کے دوران یونینز نے کمپنیوںسے کام کاج کے طریقہ کارپرمذاکرات کیے اوراب آئس لینڈ میں ۸۶ آبادی کواتنے ہی معاوضے پرکم گھنٹے کام کرنے کی سہولت حاصل ہے یامستقبل میں ایساممکن ہوجائے گا۔اس تحقیق کے نتیجے میں اب ملازمین کی جانب سے تھکاوٹ یابرن آئوٹ کے خطرے کی شکایات کم ہوئی ہیں۔ جب کہ ان کی صحت اورکام کاج کے درمیان توازن بہترہواہے۔اٹانومی کے ریسرچ ڈائریکٹرول سٹرونج کاکہناہے کہ حکومتی شعبے میں ہفتے بھرکام کے دورانیے میں کمی سے متعلق دنیاکی سب سے بڑی آزمائش سے ثابت ہواکہ یہ ہرطرح سے بڑی کام یابی ہے۔اس سے پتہ چلتاہے کہ سرکاری شعبہ کم گھنٹے کام کے لیے تیارہے۔ایلڈامیںمحقق گڈمنڈورڈی ہارلڈسن کے مطابق آئس لینڈ میں ہفتے میں کم گھنٹوں کے لیے کام کے منصوبے سے پتہ چلتاہے کہ یہ نہ صرف جدیددورمیںممکن ہے بلکہ اس سے اچھی تبدیلی بھی آسکتی ہے۔مئی میں پلیٹ فارم لندن نامی تنظیم کی جانب سے چارروزہ ہفتے کی مہم کے لیے جاری رپورٹ میںبتایاگیاکہ اس سے برطانیہ میں کاربن اخراج میںکمی لائی جاسکتی ہے۔
آئس لینڈ میں ہفتے میں چارروزہ ہفتہ کاتجربہ کام یاب رہا۔ اس کے بہترنتائج سامنے آئے ہیں۔ یہی تجربہ دنیاکے دیگرممالک میں بھی کیا جا رہا ہے ۔ سوال یہ سامنے آتاہے کہ کیاایساپاکستان میں بھی ممکن ہے یانہیں۔اس سوال کاجواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں ان دوباتوں کاجائزہ لیناچاہیے کہ کیاپاکستان کے معاشی حالات اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ہم ہفتے میں چاردن کام کریں اورتین روزچھٹی کریں۔اس کے علاوہ مہنگائی کے اس دورمیں جب لوگوں کے لیے روزہ مرہ کے اخراجات پورے کرنامشکل سے مشکل ہوتاجارہاہے ہفتے میںتین دن کام نہ کرناکیسے ممکن رہے گا۔ملک کے معاشی حالات اورمہنگائی کے اس دورمیں ہفتہ اگردس دن کابھی ہوتا اورہم ہفتہ بھرہی کام کرتے تب بھی وقت کی کمی ہماراقومی مسئلہ رہتی۔یہ حقائق اپنی جگہ لیکن زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی وجہ سے انسانی صحت پرجواثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اس کاایک اثر توبرطانوی نشریاتی ادارے کی مذکورہ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ چارروزہ ہفتے کی آزمائش اورتحقیق کے دوران ملازمین کی جانب سے تھکاوٹ یابرن آئوٹ کے خطرے کی شکایات کم ہوئی ہیں۔ جب کہ ان کی صحت اورکام کاج کے درمیان توازن بہترہواہے۔ آسان الفاظ میں اس بات کویوں سمجھاجاسکتاہے کہ زیادہ دیرکام کرنے سے تھکاوٹ بھی ہوتی ہے اوربرن آئوٹ کاخطرہ بھی بڑھ جاتاہے۔پاکستان میں سرکاری دفاتر میںکام کادورانیہ عام طورپرآٹھ گھنٹے ہے۔ نجی دفاتر ،کمپنیوں، فیکٹریوں، دکانوں، ہوٹلوں، ریسٹورانوں اورورکشاپوںمیں کام کادورانیہ آٹھ گھنٹوںسے بارہ گھنٹوں تک ہے۔ جوانسان ۱۲ گھنٹے کسی کمپنی، کسی فیکٹری یاکسی ورکشاپ میںکام کرے ۔ اس کے علاوہ اس کی ذاتی اورنجی مصروفیات بھی ہیں۔ ان کو گھر کا سود ا سلف بھی لاناہے۔ بیوی بچوںکووقت بھی دیناہے۔ ان کے لیے حسب ضرورت اورحسب خواہش خریداری بھی کرنی ہے۔رشتہ داروں اوردوستوںکی جانب سے منعقدہ تقریبات میں شرکت بھی کرنی ہے۔پاکستان میں اکثرلوگوںکی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ اپنے ذاتی کاموںکے لیے کوئی ملازم وغیرہ رکھ سکیں اس لیے ان کویہ سارے کام خودہی کرنے پڑتے ہیں۔ مسلسل بارہ گھنٹے دفتر، کمپنی، فیکٹری یاورکشاپ میںکام کرنے اورگھریلو، ذاتی اورسماجی ذمہ داریاں اداکرنے کے بعد اس کے پاس سونے کے لیے اس کے پاس کتناوقت باقی رہ جاتاہے۔اسے سونے کے لیے مطلوبہ وقت بھی نہیںملتا ،جس کی وجہ سے اس کی نیند پوری نہیں ہوتی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ پر نیند کی کمی کی وجہ سے انسانی صحت اورکام پرجواثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پرمشتمل ایک رپورٹ موجود ہے جوکچھ یوں ہے کہ راٹرڈیم سکول آف مینیج منٹ کے محققین کے مطابق صرف ایک رات کی ادھوری نیند دفترمیںلڑائی اورخراب رویے کاسبب بن سکتی ہے۔اسی رپورٹ میں لکھاہے کہ حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ میںکہاگیاہے کہ کم نیندکی وجہ سے اربوںکانقصان ہوتاہے۔اس نئی تحقیق کے مطابق نیندپوری نہ ہونے کے باعث کام کرنے والے افرادتھکے ہوئے رہتے ہیں اوراسی وجہ سے وہ غیرارادی طورپربے ضرورت کام کربیٹھتے ہیں۔اس میںمزیدکہاگیاہے کہ کم نیندکی وجہ سے لوگوںمیں قوت ارادی کم ہوجاتی ہے اوران کاصبرکاپیمانہ لبریزہوجاتاہے۔ہالینڈ کی ایراسمس یونیورسٹی کے راٹرڈیم سکول آف مینیج منٹ کی محقق لائوراجئورج نے کہا کہ دفترمیں خراب رویے کی وجہ وہ مطلبی پن ہے جوکم قوت ارادی کی وجہ سے بڑھ جاتاہے۔اس کم قوت ارادی کے باعث لوگ دفترمیں اپنے ساتھیوںکے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اوردفتروںمیں چوری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس تحقیق سے یہ ظاہرہوتاہے کہ کم نیندکے باعث ایسانامناسب رویہ کسی شخص کی فطرت میںنہیںہوتا اورایک ہی شخص میں ہردن مختلف رویہ ہوسکتاہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ کم سونے والے افرادکودفترمیںناکامی کاخوف رہتا ہے۔اوراس کی وجہ سے کام پران کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔اس سے پہلے بھی ایسی تحقیقی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں جن کے یہ دیکھاگیاکہ کم سونے کے بعد لوگوںمیں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔
پاکستان میں لوگ ذاتی، گھریلو اورمعاشرتی ضروریات پوری کرنے کے لیے بعض اوقات بارہ گھنٹوں سے بھی زیادہ وقت کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جن کودیگرمصروفیات کے لیے بھی وقت نہیںملتا۔ جوشخص صبح چھ یاسات بجے سے رات دس بجے تک کام کرے۔اس کودیگرمصروفیات کے لیے وقت کیسے ملے گا۔پندرہ گھنٹے کام کرنے کے بعد اسے کتنی تھکاوٹ ہوجاتی ہوگی اس کااندازہ آسانی سے لگایاجاسکتاہے۔اب ان حالات میں پاکستان میں ایساناممکن لگتاہے کہ ہفتے میں چاردن کام کیاجائے اورتین دن چھٹی کی جائے۔ہم یہ تونہیں کہتے کہ پاکستان میں بھی آئس لینڈ کی طرح ہفتے میں چارروزکام کیاجائے۔ اس کی نہ تو ہمارے معاشی حالات اجازت دیتے ہیں اورنہ ہی سماجی اورمعاشرتی حالات۔لیکن اتنی گزارش ضرورکریں گے کہ ہرکام کی نوعیت کے اعتبار سے اوقات مقرر کر دیے جائیں۔ کسی بھی دفتر، فیکٹری، دکان، ہوٹل اورورکشاپ میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پرپابندی ہونی چاہیے۔ چاہے کسی کاذاتی کام ہویاوہ کسی اورکے پاس کام کرتاہو ،کوئی بھی نمازاورکھانے کے وقفہ سمیت آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہ کرے۔یہ نظام الاوقات اسیسے لوگوں کے لیے ہو جوبیٹھ کرکام کرتے ہیں ۔ اور جو لوگ فیلڈ میںکام کرتے ہیں ان کے کام کرنے کادورانیہ زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے روزانہ ہوناچاہیے۔مسلسل آٹھ گھنٹے کام کرناضروری نہیںہوناچاہیے بلکہ چارگھنٹے صبح اورچارگھنٹے شام کے وقت بھی کام کیاجاسکے۔ ایسی فیکٹریاں ، ورکشاپس، ہوٹلیں اورریسٹوران وغیرہ جہاں آٹھ گھنٹوں سے زیادہ بلکہ ۲۴ گھنٹے کام ہوتاہے۔ ان کے مالکان اورانتظامیہ کوپابندبنایاجائے کہ وہ اپنے ملازمین میں اضافہ کریں۔ اس سے روزگارمیںبھی اضافہ ہوجائے گا۔ جس فیکٹری یاورکشاپ میں اگر ایک ، ایک سو افرادبارہ ،بارہ گھنٹے کام کرتے ہوں ،آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پرپابندی لگادی جائے اورمالکان اورانتظامیہ کوملازمین میں اضافہ کرنے کا پابند بنایاجائے تواس فیکٹری یاورکشاپ میں ایک سوملازمین کااوراضافہ ہوجائے گا۔قارئین یہ سوال کرسکتے ہیں کہ جولوگ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں ان کواوورٹائم ملتا ہے جب وہ آٹھ گھنٹے کام کریں گے توان کواوورٹائم نہیںملے گا ۔یوں ان کی آمدنی کم ہوجائے گی۔ اس کاجواب یہ ہے کہ ایسے لوگ کام سے چھٹی کے بعد ایساکام کرسکیں گے جس سے ان کی تھکاوٹ بھی اترجائے اورآمدنی بھی حاصل ہوتی رہے۔اس کادوسراجواب یہ ہے کہ ایک طرف ان کی آمدنی کم ہوگی دوسری طرف ان کے اخراجات بھی کم ہوجائیں گے۔ وہ اپنے بیوی ،بچوں، رشتہ داروں اوردوستوںکوبھی پہلے سے زیادہ وقت دے سکیں گے۔وہ مذہبی، سماجی اورسیاسی سرگرمیوںمیں بھی پہلے سے زیادہ حصہ لے سکیں گے۔ان کواپنی صلاحیتیں نکھارنے کاموقع بھی مل سکتاہے۔سب سے بڑھ کراپنی ذاتی، گھریلو اورسماجی مصروفیات کے بعد ان کے پاس اتناوقت ضروربچ جائے گا کہ وہ سکون سے اپنی نیندپوری کرسکیں۔تبدیلی کی حکومت کوملک میں یہ تبدیلی بھی لانی چاہیے۔ایساکرلیاجائے تو ذہنی اورنفسیاتی امراض میں کمی آسکتی ہے۔ اس سے گھریلوجھگڑوں کوبھی کم کیاجاسکتاہے۔ اس طرح کے دیگرمسائل بھی اس طرح حل ہوسکتے ہیں۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Siddiq Parhar

Muhammad Siddiq Parhar

Leave a Comment

%d bloggers like this: