Aroosa Munir Jagwal Today's Columns

پہلے بیٹی پھر بہو اور پھر ماں از عروسہ منیر جگوال

بیٹی آنے والی نسلوں کی پہچان ہوتی ہے ایک اسلام پسند بیٹی ہی کامیاب اور جرائم سے پاک معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔ بیٹیاں ماں باپ اور پورے اسلامی معاشرے کی عزت ہوتی ہیں ، یہ والدین کے انمول ہیرے ہیں بیٹیاں بیٹوں کی نسبت محلے میں اچھے اخلاق و حسن سے رہتی ہیں، بیٹی جب والدین کے پاس ہوتی ہے تو کئی زمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیتی ہیں، والدین والدین کے بھائی بہنوں اور باقی رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرتی ہیں ان کی عزت و احترام کرتی ہیں والدین کی ہر بات کو ماننے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں ویسے بھی اولاد کی بھی زمہ داریاں ہیں جو ہر صورت پوری کرنی چاہیے والدین کے سارے حقوق و فرائض کو مدنظر رکھتے ہوے خاموشی اور فیصلہ کرنا چاہیے والدین اولاد کے لیے آخری سانس تک جنگ جاری رکھتے ہیں اولاد پر سب کچھ قربان کرتے ہیں جو جتنا بھی غریب ہے غربت میں ہے لیکن آخری چیز تک والدین قربان کر کہ اولاد کی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب کسی بیٹی کی شادی ہو جاتی ہے بیٹی والدین کے گھر سے رخصت ہو کر شوہر کے گھر قدم رکھتی ہے تو آپ دیکھیں نہ ان والدین کی کیا حالت ہوتی ہے، بیٹی بہو اور بیوی بننے سے پہلے والدین کے ہاں کسی اور طریقے سے زندگی گزارتی ہے شادی کے بعد رخ بدلتے رہتے ہیں شادی سے پہلے بھائی ، بہن ، والد ، والدہ سب تو اس کا خیال رکھتے ہیں اس کی پسند کی اشیاء خرید کر دیتے ہیں، جب بیٹی بہو اور بیوی بنتی ہے تو اس نے شوہر کا شوہر کے والدین بھائی بہنوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے ان کی ضرورت پر خاص نظر رکھنی ہوتی ہے اس مقصد کے لیے ہر وقت کام کاج میں مصروف رہنا ہوتا ہے اور بھائی بہنوں والدین کا پیارا سب کچھ بیوی اپنے شوہر میں تلاش کرتی ہے اگر شوہر بیوی کے حقوق کا خیال رکھتے ہوے وقت گزارنے کی کوشش کرے تو آہستہ آہستہ یہی بیٹی کافی حد تک مضبوط ہونا ، زمہ دار ہونا شروع ہو جاتی ہے اور شوہر کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش کرتی ہے کئی خواتین کامیاب ہو جاتی ہیں کئی آزمائشوں اور گھریلو ناچاکی کی وجہ سے اپنی اور والدین کی پریشانی میں مزید اضافے کا باعث بن جاتی ہیں میں اپنی ایسی بہنوں کو صرف یہی مشورہ دینے کی کوشش کروں گی کہ خدا را اپنے مذہب اسلام میں ایسی پریشانیوں کا حل تلاش کیا کرے یہ ڈرامیں اور فلمیں نسلوں کی تبائی کی جڑ ہیں ان میں نہ کھو جانا یہ ہمارے لیے وقت کی بربادی ہیں یہی بربادی ہماری بڑی بربادی ہے۔ جو خواتین شادی کے بعد کامیاب رہتی ہیں وہ سب کچھ برداشت کر کہ صبر اور استقامت کے جذبے کا استعمال کرتی ہیں اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہیں اس بات سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا کہ پیدا ہونے سے کئی ماہ پہلے سے لے کر جب تک زندہ رہتی ہے ایک ماں کبھی بھی دکھ درد پریشانی میں نہیں دیکھ سکتی چاہے جتنی بھی تنگ حالات میں ہو اپنے بیٹے / بیٹی کو سینے سے ہی لگا کر رکھتی ہے ، رات بھر جاگنے سے نہیں گھبراتی ، بچے کو بیماری کی صورت میں جو تڑپ اللہ تعالی’ نے ماں کو عطاء کی ہے جو درد ماں کو ہوتا ہے وہ کسی کو نہیں ہوتا اگر اس مقام پر وہ بیٹی یا وہ بیٹا پہنچتے ہیں جو والدین کی بات نہیں مانتے تھے تو انہیں سمجھ آ جاتی ہے کہ والدین واقعی ایک بیٹی / بیٹے کے لیے کیا کیا کرتے ہیں ہم سب جو بالغ و نا بالغ ہیں ہم سب کو والدین کا خیال رکھنا چاہیے ان کی ہر بات ماننی چاہیے بے شک میں سکول کی سٹوڈنٹ ہوں ابھی اتنی زیادہ دنیا سے واقف نہیں ہوں لیکن میں یہی سمجھتی ہوں کہ اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگیاں گزاریں والدین سمیت ہر چھوٹے بڑے کے حقوق ادا کریں اس سے بڑھ کر آزاد کشمیر و پاکستان کی خواتین کی اور کیا بدقسمتی ہو گی کہ عورت اگر بیٹی ہے تو اس کے لیے اسلامی قوانین کے مطابق کوئی کسی قسم کی ٹرینگ کا بندوبست نہیں ، اگر بیوی ہے تو پھر بھی اس کی رہنمائی کا کوئی بندوبست نہیں ، اگر ماں ہے تو اس کے لیے بھی صحت کی کوئی بہترین سہولت میسر نہیں اگر مزدور خواتین کی بات کی جاے تو بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی بیٹی،، بیوی ،، ماں چاہے مزدور عورت ہو کاروبار میں دلچسپی رکھنے والی یا آفیسر ان کے لیے آزاد کشمیر و پاکستان میں کوئی خاص تحفظاتی سہولیات میسر نہیں ہیں جو حقوق آفیسر عورت کو میسر ہیں وہ تو کسی حد تک مناسب ہیں لیکن خود کفیل خواتین جو بیواہ یا طلاق یافتہ یا معاشی طور پر کمزور گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کے لیے کوئی اچھی پلانگ آزاد حکومت نہیں کر سکی تاریخ سے پتہ لگتا ہے 1908 میں ہزاروں مزدور خواتین نے شکاگو میں احتجاج کیا تھا جنکا مطالبہ برابر کام برابر تنخواہ اور تحفظ تھا مگر افسوس کی بات 100 سال کے بعد بھی یہ مطالبات ہیں۔ پاکستان میں چند مغربی تہذیب پسند خواتین نے خواتین کے لیے کھوکھلے نعرے لگاے لیکن ان نعروں سے فائدہ کے بجاے نقصان ہوا جو آنے والی نسلیں بھگتیں گی ، نعروں سے صرف فنڈ اگھٹا کرنا اور اسلام مخالف پروپیگنڈا کرنا تھا خواتین کے حقوق سے تحفظ سے اس نعرے کو کوئی کام نہیں تھا اگر ہوتا تو دنیا میں روزانہ 34 ہزار کم عمر لڑکیوں کو شادی کے لیے مجبور نہ کیا جاتا اور مزے کی بات اس میں مغربی ممالک کی لڑکیاں بھی شامل ہیں ، پوری دنیا میں حاملہ خاتون زیاتی جسمانی تشدد کا شکار نہ ہوتیں۔۔ملازمت پیشہ خواتین اپنی آمدنی کا 90% خاندان پر خرچ کرتی ہیں 26% خواتین لیبر فورس کا حصہ ہیں جبکہ حقیقی معنوں میں یہ تعداد بہت زیادہ ہے ہر گھر میں عورت کام کر رہی ہے مگر ابھی تک غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کا اندراج نہیں ہو سکا یہ کوئی خواتین کا مسلہ نہیں بلکہ گھر کے کام کاج کی زمہ داریاں خواتین کی ہیں مسلہ یہ ہے حکومت خواتین کے لیے کوئی بہترین سہولت میسر نہیں کر رہی کوئی اچھا منصوبہ نہیں بناتی ، آزاد کشمیر کی تنظیموں میں بہت کم خواتین کو باڈیز میں رکھا جاتا ہے کوئی ایسی آرگنائزیشن نہیں جو خواتین کے اسلامی اور خوشحال معاشرے کے لیے کام کر سکے ، خواتین پر تشدد ، بلیک میلنگ کے خاتمے کے لیے بھی آزاد حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا جو تحفظاتی ادارے ہیں یہ بھی متاثرہ کو ایک دوسرے کے پاس چکر لگوا لگوا کر تھکتے نہیں اسی وجہ سے ہماری خواتین غیر محفوظ ہیں خواتین بھی پردا کرنے سے ڈرتی ہیں جسکی وجہ سے کئی نقصانات ہو رہے ہیں اگر گھر میں خواتین نیوز کاسٹر کو ٹی وی پر دیکھیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ اسلامی مملکت کا نیوز چینل ہے ایسا لگتا ہے یہ یورپ دیگر غیر اسلامی ممالک کا چینل ہے برہنہ لباس استعمال کرنے سے خواتین کو پرہیز کرنی چاہیے کیونکہ ہم مسلمان ہیں ہمارا معاشرہ اوڑھنا بچھونا بھی اسلامی ہونا چاہیے ۔۔ ایک بیٹی کو عزت والدین کا پیار ، بہن بھائیوں کی سفقت چاہیے ،، ایک بیوی کو شوہر شادی میں مرضی ساس سسر شوہر کے بھائیوں بہنوں سے عزت کی خواہشات ہوتی ہیں جب عورت ماں بنتی ہے تو قدرت اس کو اتنا رحم دل بناتی ہے کہ بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔۔
٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: