Today's Columns Zarar Jagwal

حکومت دکھ بانٹے، مہنگائی کے راستے میں رکھے کانٹے از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

آزاد کشمیر میں جہاں بھی کوئی حادثہ ہوا،،جہاں بھی کوئی دہشت گردی کی اطلاعات موصول ہوئی،دیر سے ضرور،انتظامیہ تھکی ہوئی،،50 کلو کا احسان گلے میں ڈالے ہوے پہنچ ہی جاتی ہے۔۔سوشل میڈیا،الکٹرونک میڈیا ،اور پرینٹ میڈیا،فوری اس خبر کی اشاعت شروع کرتا ہے،،کہ حادثہ میں اتنے لوگ موت کا لقمہ بن گئے،،اتنے لوگ بہت زخمی ہیں،،اتنے لوگ بچ گئے۔۔اس کے بعد کام شروع ہو گیا قانون کا،متعلقہ ڈپٹی کمشنرز،،اسٹیٹ کمشنرز گلہ صاف کرتے ہوے،صحافیوں کو بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ اگر حادثہ کرنے والا مجرم پکڑا گیا،تو وہ قانون سے بچ نہیں سکتا،،اگر قاتل پکڑا گیا یا جن کی سازشوں سے قتل ہوا،انکو سخت ترین سزا دی جاے گی دیگر باتیں جو رسموں رواج ہوتی ہیں وہ بھی کی جاتی ہیں۔۔یہ بیانات،اخبارات،یوٹیوب نیوز چینل کی ہیڈ لاین ہوتے ہیں،،صحافی اپنے اداروں کی کارگردگی پر فخر محسوس کرتے ہیں لیکن جب مہنگائی ایک بڑا دہشت گرد بن کر سامنے آتی ہے،کیا میڈیا،کیا انتظامیہ،کیا ہی سرمایہ دار،کیا اعلی’ افسران،،سب کی زبانوں سے یہ نکلتا ہے اف مہنگائی مچ ہو گئی اے۔۔۔۔میں نے جب بھی بازار کا رخ کیا،مجھے میڈیا مالکان،،سیاست دان،،اعلی افسران،،سرمایہ داروں سے بازار بھرے دکھائی دیتے رہتے ہیں،،یہی لوگ بجلی کے بلات میں ہر ماہ کئے ہوے اضافے کو دے رہے ہوتے ہیں،پڑول ڈیزل کی قیمتوں نے آسمان کو چھونا شروع کیا ہوا ہوتا ہے،،صاحب کی گاڑیاں پورے شہر کا دورہ کرتی رہتی ہیں،،صاحب مہنگا پڑول،ڈیزل جلا کر بھی خوش ہیں،،ان لوگوں کو مہنگائی صرف مچ لگتی ہے باقی کچھ نہیں،،یہ لوگ سیاست دان،،،فوجی افسران،،،پولیس افسران،،،میڈیا مالکان،،،بڑے کاروبار سے منسلک حضرات یہ صرف مہنگائی کو نام سے جانتے ہیں۔۔اور غریب طبقات مہنگائی کو دہشت گرد جانتے ہیں،،،100% مہنگائی ایک ایسا دہشت گرد ہے جس نے غریب کے پیٹ میں جانیوالی خوراک کو روک دیا۔۔غریب کو زخمی کر دیا،،غریبوں کو معذور بنانے کا ذریعہ یہی دہشت گرد مہنگائی ہے۔۔اس مہنگائی نے کئی لوگوں کی جانوں کو اپنے قبضے میں کر دیا،،،کئی لوگوں کے خاندانوں میں بم گرا دئیے،،،ذبردست کرسیوں پر بیٹھنے والے اعلی’ حکمرانوں کو اس مہنگائی سے کوئی دشمنی نہیں ،کیونکہ اس مہنگائی نے انکی صحت پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالا۔۔۔بلکہ بینک بیلنس دوگنا کیا،،،گاڑیوں میں اضافہ ہوا،،،انکی اولاادیں یورپ اور دوبئی میں مستی کرتی رہیں۔۔ان کو مہنگائی دہشت گرد نہیں مچ لگتی ہے۔۔ حکمران طبقہ غریب لوگوں کا خون چوسنے میں جنگلی جانوروں کا کردار ادا کر رہا ہے،،حکمرانوں کے ہاتھ عوام کے پیٹ و جیب پر ہیں۔۔غریب کشمیریوں کی کمائی کا ایک بڑا حصہ، بجلی پروجیکٹ کے نام پر وصول کیا گیا،،کیا جا رہا ہے۔۔حکمران صرف نعروں کی گونج سے خوش ہیں،،ان حکمرانوں کو اتنا بھی پتہ نہیں ہوتا کہ جس نے میرا جاں نثار بن کر میرے لیے کام کیا،،کیا اس کے گھر کا چولہا بھی جل رہا ہے کہ نہیں۔۔۔۔میرے ان کارکنوں کی تعداد کیا ہے جن کے بچے بھوکے سو گئیے،،،جو حکمران آپ کے بارے میں اتنی جانکاری نہیں رکھتے،وہ آپ کو مہنگائی جیسے دہشت گرد سے کیا بچائیں گے قارئین آپ لوگ ویسے ہی زندہ باد ،، مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے،،،،آپ کا حال احول دریافت کرنے کے لیے آپ کے حلقہ کے ایم ایل اےMLA کے پاس وقت نہیں،،،انہوں نے مہنگائی،،،بدعنوانی،،،رشوت ستانی،،،بدکاری،،،بے روزگاری جیسے دہشت گردوں کو کیا کنٹرول کرنا ہےاگر مہنگائی ،،،بدعنوانی،،،رشوت ستانی،،،بدکاری،،،بے روزگاری،،،کسی MLA کو کسی اعلی’ افسران کو کسی سیاست دان کو ذاتی مفادات بخش سکتی ہے تو یہی انکے کام کی چیز ہے یہ ان ہی کو فروغ دیں گے۔۔۔۔۔اگر فروغ نہیں دیں گے تو آئندہ پانچ سال کیسے گزاریں گے،،،،انہوں نے اپنے مفادات کے لیے، قوم کے مفادات کا خیال نہیں رکھا،،،اپنی وی آئی پی گاڑیوں میں گھومنے کے لیے قوم کے مفادات بھلا دیے،،،اپنی زندگی عیش میں گزارنے کے لیے قوم کے مفادات بھلا دیے۔۔۔پھر ہوا یوں کہ قوم پریشانی،،،،بدحالی،،،،بےروزگاری کا شکار ہو گئی۔۔۔۔چوری ،،،،ڈاکہ،،،،، خودکشی کی لذتوں میں کھو گئی۔۔۔غریب والد کے لیے بچوں کا پیٹ پالنا انتہائی مشکل ہو گیا،،،،محدود آمدنی،،،،سر اٹھاتی مہنگائی،،،،ہزاروں کے بجلی کے بلات،،،،پانی کے بل،،،،گیس کے پیسے،،،،بچوں کی تعلیم کے اخراجات،،،،بوڑھے والدین کی ادویات،،،، یہ وہ چیزیں ہیں جو مزدور کے سر کا بوجھ بن رہی ہیں۔۔۔ایک غریب روزانہ پانچ کلو میٹر سے زیادہ پیدل چل کر بھی دو وقت کا کھانا میسر نہیں کر سکتا،،،معاشرے میں مزدور طبقات سے جس طرح افسران اور سرمایہ دار پیش آتے ہیں،یہ صرف مزدور ہی بتا سکتے ہیں۔۔ جب سے کورونا نے سر اٹھایا ہے غریب کی کمر کو مذید جھکایا ہے ۔جھکی کمر مہنگائی سے جب اور جھکے گی،،،مشکل سے آتی جاتی سانس بھی اب رکے گی _بھوکی ننگی لاشوں پر تم راج کرو گے،،،پچھتاؤ گے ہمیں اگر تاراج کرو گے۔۔۔جلتی آگ پہ مہنگا پیڑول نہ چھڑکو،،،بڑھتے ہوے مہنگائی کے طوفان کو روکو۔۔۔پانی ہے گر فتح تو اب مہنگائی کر لو،،،صرف اسے کم کرنے پر دانائی کر لو۔۔۔وہ دانائی جو اب تم سے روٹھ چکی ہے،،،آس اچھائی کی جو تم سے ٹوٹ چکی ہے۔۔۔سب سر جوڑ کے بیٹھو اور اس آس کو جوڑو،،،طوفان سے ساحل کی جانب کشتی موڑو۔۔۔۔ورنہ اسی طوفان میں تم بھی بہہ جاؤ گے،،،کبھی نہ آپس میں لڑنا یہ کہہ جاؤ گے۔۔۔۔اڑتا وقت تماری نہیں سنے گا،،،تمہیں بھلا کر اپنے نئے لیڈر چنے گا۔۔۔۔تم بھولی بسری تاریخ میں کھو جاؤ گے،،،،پھٹے پرانے کسی ورق پر سو جاؤ گے۔۔۔۔مہنگائی کے زور کو توڑو اے نادانو،،،،ٹوٹا دل مفلس کا جوڑو اے نادانو۔۔۔۔دکھ غریب کے بانٹنے والے بن جاؤ،،،مہنگائی کے راستے میں کانٹے رکھنے والے بن جاؤ۔۔۔۔عوام بڑی طاقتور ہے عوام کی طاقت متحد ہونے میں پوشیدہ ہے،،،اگر عوام ظالم حکمران ٹولے کے خلاف متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت غریب طبقہ کو کمزور نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔اگر اسی طرح میں ضرار اور آپ ______ہم اگر تفرقوں میں بٹے رہیں گے تو صرف مہنگائی کا طوفان نہیں اٹھے گا،بلکہ غریب لوگوں کے بھوک کی وجہ سے جنازے بھی اٹھیں گے،خودکشیاں پروان چڑتی رہیں گی،ہمارے دیے ہوے ٹیکس ظالم لوگ اپنے باپ کا پیچھے رہے جانیوالا مال سمجھ کر استعمال کرتے رہیں گے،وہ لوگ جو لالی پاپ لے کر مزے سے چوستے ہوے ظالم کی تعریف و سپورٹ کرتے ہیں،یہ لالی پاپ ختم ہونے پر دوبارہ رونے لگتے ہیں،حکمران پھر انہیں استعمال کرتے ہیں،غریب کا پھر نقصان ہوتا ہے۔۔۔۔اگر سچی بات کی جاے تو ہر کوئی مجبور کی فکر نہیں کرتا،،،اگر سب فکر کریں تو لالی پاپ لے کر حکمرانوں کے جاں نثار نہ بنے،ہر جلسے میں نعرے نہ ماریں،بینر صرف ضروریات کے لیے نہ اٹھائیں،تو بدامنی،،،بے روزگاری،،،مہنگائی کی طرف حکمران نظر ضرور کریں۔۔۔ایک لاکھ لے کر چھے ماہ کے لیے لالی پاپ لے کر چوسنا مہنگائی بدامنی بے روزگاری کو فروغ دیتا ہے،،،،لالی پاپ والے حضرات کی آمدنی کا ذریعہ اگر چیک کیا جاے،،تو نتیجہ کیا نکلے گا یہ آپ تک ہےاگر آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ملے تو یہ گاڑیاں کہاں سے آئیں؟؟؟؟کیا کسی نے انکو کام کرتے ہوے دیکھا ؟؟؟؟پھر یہ مکان کہاں سے آے؟؟؟؟جب تک آزاد کشمیر میں احتساب بہترین نہیں ہوتا تب تک عوام دہشت گردوں سے آپنے آپ کو مخفوظ نہیں مانتی۔۔۔گریڈ 17 کے ملازم بھی دولت کے نشے میں مست ہیں،،ان کا احتساب نہیں،،انکے پاس 30 لاکھ کی گاڑی،،،ایک کڑور کا مکان،،،دو کڑور کا پلازہ کہاں سے آیا؟؟؟؟ایک ایم ایل اے کے پی آر او کے پاس سرکاری گاڑیاں کیا لینے آتی ہیں؟؟؟؟قوم کے پیسے جب فضول پروٹوکول پر خرچ ہوتے ہیں تو مہنگائی نے سر اٹھانا ہی ہوتا ہے۔۔۔میں نے آج تک کسی بھی حلقہ کے ایم ایل اے کی زبان سے نہیں سنا کہ غریب بچوں کی تعلیم کے اخراجات پانچ سال کے لیے میرے فنڈ سے وصول کریں نہیں نہیں اگر یہ تعلیم حاصل کر گئے تو نعرے کون مارے گا۔۔۔۔یہ تو ہمارا حساب لیں گے۔۔اسی لیے بہتر ہے انکو سڑک،،،گلی،،،کالے پائپ،،،10فٹ کی چکوڑ ٹینکی تک ہی محدود رکھیں سڑک،،،گلی،،،کالے پائپ ،،،،ٹینکیاں ہی عوام کا دکھ ہیں،،،ایم ایل اے یہی دکھ بانٹنے میں مصروف ہیں ، بدامنی،،،،بے روزگاری،،،مہنگائی،،،،بھوک،،،تعلیم کی قعلت عوام کے اصل دکھ ہیں جن کو بانٹنے کی ضرورت ہے۔۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: