Today's Columns Zarar Jagwal

آزاد کشمیر و پاکستان کی خواتین اور بھارت از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

1990 کو بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر کے ہزاروں کشمیری لائین آف کنڑول (LOC) پار کر کے پاکستان کے ذیر انتظام آزاد کشمیر میں داخل ہوے کئی سیکڑوں کشمیری آزاد کشمیر اور کئی سیکڑوں کشمیری پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوے پاکستان و آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں ان کشمیری جوانوں نے اپنی تعلیم ،،، اپنا کاروبار اور ملازمتیں شروع کئیں ساتھ ہی پاکستان و آزاد کشمیر کی خواتین سے شادیاں بھی کر لئیں ۔ پاکستان و آزاد کشمیر میں پر سکون زندگیاں گزارنا شروع کیں وقت کی رفتار بھی جاری رہی 2010 میں بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت نے اس وقت بھارتی حکومت کے آشیرباد سے 1989 /// 1990 سے لے کر 2009 تک پاکستان و پاکستان کے ذیر انتظام آزاد کشمیر میں آنے والے کشمیری نوجوانوں کی واپسی کے لیے ایک باز آبادکاری پالیسی کا اعلان کر دیا جو جموں کشمیر کے کشمیری واپس جموں کشمیر جانے کے خواہشمند تھے ان کو آفر دی گئی کہ واہگہ اٹاری ،،، اسلام آباد اوڑی ،،، چکن دا باغ ،،، پونچھ اور اندرا گاندھی انٹرنشنل ائیرپورٹ نئی دہلی میں سے کسی ایک راستے سے واپس جموں کشمیر جا سکتے ہیں۔ تقریبا 4587 یا اس سے کچھ زیادہ ، یا کچھ کم جموں کشمیر سے آے ہوے کشمیری پاکستان و آزاد کشمیر میں رہائش اختیار کر چکے تھے جن میں سے اس پالیسی کے تحت 489 نوجوان ہی واپس جموں کشمیر گئے واپسی کے لیے ان کشمیری نوجوانوں نے نیپال کا راستہ اختیار کیا ان میں سے تقریبا 350///375 نوجوان اپنی پاکستانی و آزاد کشمیر کی پاکستانی و کشمیری بیویوں اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر لے گئے باز آبادکاری پالیسی سے واپس جموں کشمیر جانے والے نوجوانوں کو نوکریاں ، مکان سمیت ضروریات زندگی کے لیے درکار سبھی چیزیں فراہم کرنے کا کہا گیا تھا لیکن اس کے برعکس ان پر مقدمے درج کر دیے گئے ۔ پاکستان و آزاد کشمیر کی خواتین جو اپنے شوہروں کے ساتھ بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر گئی تھیں ان کو آج تک اپنے فیصلے پر پچھتاوا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے جو 11 سال گزر جانے کے باوجود اپنی قسمت کو کوس رہی ہیں ، جب سے پاکستان و آزاد کشمیر سے جموں کشمیر گئی ہیں ایک بار بھی پاکستان و آزاد کشمیر میں اپنے میکے نہیں آ پائیں ، نہ انہیں بھارتی حکومت نے شہریت دی نہ ہی سفری دستاویزات مہیا کیے ، ان میں سے بیشتر خواتین کو شدید مالی دشواریوں کا سامنا ہے اکثر ذہنی مریض بن رہی ہیں ، اب تک دو پاکستانی خواتین خود کشی بھی کر چکی ہیں اور دو جوان لڑکیوں کو طلاق دی جا چکی ہے وہ بھی جموں کشمیر میں پھنس کر رہ گئی ہیں ، چند خواتین پر غیر قانونی مہاجر ہونے کی وجہ سے مقدمات بھی چل رہے ہیں کئی خواتین سفری دستاویزات کے لیے احتجاج کر رہی تھیں ان پر تشدد کیا گیا انہیں آئینی حق سے محروم کر دیا گیا ، کچھ خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ جموں کے مختلف علاقہ جات میں کرایہ دار کے طور پر رہ رہی ہیں ان خواتین کی حالت پر اگر عام سی بھی نظر کرم کی جاے اور ان کی زندگیوں پر غور کی جاے تو یقینن ان کا اب زندہ رہنے کو بھی دل نہیں کر رہا ہو گا۔ بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر میں پھنسی پاکستان و آزاد کشمیر کی خواتین کے لیے عید دیگر خوشیوں کے تہوار اب عذاب کے تہوار ہیں کیونکہ ان دنوں پر انہیں اپنے پاکستانی و آزاد کشمیر کے رشتہ داروں کی بہت یاد آتی ہو گی اور یہاں گزارے گئے لمحات کی یادیں بہت تڑپاتی ہوں گی ، پاکستان و آزاد کشمیر میں عید کے موقع پر بچوں کو صبح صبح سجا کر مسجدوں کی طرف روانہ کرنا ، واپسی پر مل کر شیر خورما نوش کرنا ، مختلف اقسام کے پکوان بنا کر کھانا اور بڑوں سے زبردستی عیدی لینا وہ یادیں عید پر بہت ستاتی ہوں گی کیونکہ پاکستان و آزاد کشمیر میں ساری دنیا کی ساری فکروں سے آزاد ہو کر عید کے ایام خوشی خوشی گزارے جاتے تھے لیکن بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر میں جب عید آتی ہے تو ہماری ان بہنوں کے پاس اپنی تقدیر کو کوسنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ، ہماری ان بہنوں کی زندگیاں بھی بڑی عجیب ہو گئی ہیں اسلامی تہوار کے موقع پر اپنے بھی ساتھ نہیں ہوتے جب اپنے ساتھ نہ ہوں تو یہ تہوار خوشیاں نہیں بلکہ بے چینیاں لے کر آتے ہیں ، دل کا سکون تباہ کر جاتے ہیں لوگ کہتے ہیں عید خوشیوں کا تہوار ہے یقین کریں جموں کشمیر میں پھنسی ہماری بہنوں کے لیے یہ عذاب کا تہوار ہے بس یہی ہماری بہنیں اپنے آپ کو تسلی دے کر خاموشی اختیار کر جاتی ہیں کہ شاید اگلی عید تک پاکستان و آزاد کشمیر جانے کی اجازت مل جاے ، ہماری ان بہنوں میں سے اکثر کے والدین بھی انتقال کر چکے ہیں لیکن غم کی اس مجلس میں ہماری بہنیں شرکت نہیں کر سکیں ، ایسے موقع پر ہماری ان بہنوں کا کیا حال ہوتا ہو گا یہ غم رو رو کر اور خوشیاں سو سو کر گزار جاتی ہیں یہی ان خواتین کا معمول بن چکا ہو گا 10//11 سال سے مسلسل دکھ درد برداشت کر رہی ہیں مطالبات منوانے کے لیے مسلسل 11 سال سے جاری جدوجہد میں بظاہر ناکامی کے بعد پاکستانی و آزاد کشمیر کی خواتین میں سے کئی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر ملک بدر کیا جاے اگر ان کا یہ مطالبہ فوری طور پر پورا نہیں کیا جاتا تو وہ مجبورا کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائین آف کنڑول (LOC) کی جانب مارچ کریں گی ، پاکستان و آزاد کشمیر کی خواتین نے بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر میں احتجاج کے ذریعے کئی مرتبہ دنیا کو آگاہ کیا کہ ہمیں جموں و کشمیر کا شہری قرار دے کر سفری دستاویزات جاری کی جائیں تاکہ وہ پاکستان آ کر اپنے والدین اور دوسرے رشتے داروں سے مل سکیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ، سفری دستاویزات حاصل کرنا ان خواتین کا حق ہے پتہ نہیں بھارت نے کیوں آئینی خلاف ورزی کر کے یہ حق چھینا ہوا ہے۔ آزاد کشمیر و پاکستان کی خواتین کے بچوں کو بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر کے اسکولوں میں پاکستان یا پاکستان کے ذیر انتظام آزاد کشمیر میں پیدا ہونے کی بنا پر داخلہ نہیں دیا جاتا اس سے بڑھ کر کوئی اور شاید ہی دکھ ہو درجنوں مسلمان حکمران ہندوستان میں حکومت کرتے رہے ہیں لیکن کسی نے بھی ہندوں کے حقوق سلب نہیں کیے اور ہندو چند درجن سالوں سے مسلمانوں سے کیسا سلوک کر رہے ہیں ؟؟ کچھ عرصہ پہلے ان بہنوں کو امید ہوئی تھی جب بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد تاج کے ساتھ شادی کرنے والی ایک پاکستانی خاتون خدیجہ پروین کو بھارتی وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد بھارتی شہریت دی گئی ، خدیجہ پروین کو بھارتی شہریت سٹیزن شپ ایکٹ 1955 کی دفعہ 5 (1) (سی ) کے تحت دی گئی کیوں کہ انہوں نے ایک بھارتی شہری سے شادی کی ہے ، خدیجہ پروین کو سرٹیفکیٹ آف رجسٹریشن ایک ایسے موقع پر دیا گیا جب بھارت بھر میں متنازع شہریت ( ترمیمی ) ایکٹ کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ، خدیجہ پروین کو بھارتی شہریت دینے کے حکومت فیصلے کو بھارتی کشمیر میں ایک مشکل صورت حال میں گھری پاکستانی خواتین کے اس مطالبے کو منوانے کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے کہ انہیں مقامی شہری تسلیم کیا جاے لیکن امید نے ساتھ نہ دیا کیونکہ بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر کا اپنا شہریت قانون تھا جو بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور اس کے ذیلی دفعہ 35 اے کی منسوخی کے بعد نہیں رہا بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں اپنے ذیر انتظام جموں کشمیر کی آئینی خود مختاری کو ختم کر کے ریاست کو براہ راست وفاق کے کنٹرول والے دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ، اس کے 9 ماہ بعد جموں اور وادی کشمیر کے لیے جو اب یونین ٹیریٹری آف جموں اینڈ کشمیر کہلاتے ہیں ایک نیا قانون اقامت تشکیل دیا گیا جس نے سابقہ ریاست میں جس میں لداخ کا خطہ بھی شامل تھا 1928 سے لاگو اسٹیٹ سبجیکٹ لا کی جگہ لے لی اسٹیٹ سبجیکٹ لا کے تحت جموں و کشمیر کے صرف پشتنی یا حقیقی باشندے ہی ریاست کے صرف پشتنی یا حقیقی باشندے ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیداد خرید اور بیچ سکتے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کر سکتے تھے اس قانون کے تحت ریاست کے مستقل باشندوں کو ایک خصوصی دستاویزات جاری کی جاتی تھی جو اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کہلاتی تھی دفعہ 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کے پشتنی باشندوں کا انتخاب کرنے اور ان کے لیے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار ریاستی قانون سازوں کو حاصل تھا ۔ نئے قانون اقامت کو بھی بھارت کے ذیر انتظام جموں کشمیر میں پھنسی پاکستانی خواتین کو جموں و کشمیر کی شہریت دلانے کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے حالانکہ ان خواتین کی اکثریت پاکستان کے ذیر انتظام آزاد کشمیر کی حقیقی باشندہ ہونے کی حیثیت سے پہلے ہی قانونا جموں و کشمیر کی شہری ہیں لیکن پاکستان و بھارت دونوں ملک اس مسلے پر توجہ نہیں دے رہے اس کی وجوہات کا مجھے تو علم نہیں اس معاملے کو ایک سے زیادہ مرتبہ بھارت کی وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے لیکن 11 سال سے پاکستان بھارت اور آزاد کشمیر کی حکومت کی خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: