Haji Muhammad Latif Khokhar Today's Columns

خوں چکاں فلسطین از حاجی محمد لطیف کھوکھر ( سوچو! ذرا ہٹ کے )

Haji Muhammad Latif Khokhar

خوں چکاں فلسطین پر اسرائیلی ظلم وبربریت کامسئلہ اتنا سنگین ہے کہ اس پر جتنا بھی بولا جائے، لکھا جائے کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے ایک سازش اور پلاننگ کے تحت یہ جنگ چھیڑی ہے، اور ابھی اس کا نشانہ بہت کچھ ہے، ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ظالم دشمن کی معیشت تباہ وبرباد کردی جائے، یہ ایک طرح کی ناراضگی کا اظہار ہے۔اللہ کا ارشاد ہے ’’اے ایمان والو! یہود ونصاری کو دوست نہ بنا، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان کو دوست رکھے گا، وہ ان ہی میں سے ہوگا، بے شک اللہ ظلم شعار لوگوں کو ہدایت نہیں دیتے‘‘ ۔افسوس عرب و مسلم حکمراں ان مٹھی بھر افراد کو سبق نہیں سکھا سکے، وہ ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ناچا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا کی وہ بڑی بڑی طاقتیں ہیں، جو انسانیت اور امن عالم کی بات کرتی ہیں، کیا انہیں سرزمین فلسطین میں خاک و خون میں تڑپنے والی معصوم لاشیں نہیں دکھائی پڑ رہی ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اسکولوں، اسپتالوں اور انسانی آبادیوں کو حملہ کا نشانہ بنایا جائے اور یہی نہیںبلکہ خاک وخوں میں تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں اور لطف اندوزی کا اظہار کرتے ہیں، آج سے چند سال پہلے کی بات ہے، سی این این ٹیلی ویزن کی ایک رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی کہ جب اسرائیلی جیٹ طیارے اسرائیل اور مصر کی سرحد کے درمیان محاصرے میں قید نہتے فلسطینیوں پر بمباری کررہے تھے، تو وہاں کے عوام کی اکثریت اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے یہ مناظر دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دے رہی تھی، سی این این کے ایک نمائند ے نے انہیں کہا کہ اس وقت فٹ بال ورلڈ کپ کے اہم میچ ہورہے ہیں اور تمام دنیا ان میچوں کو دیکھنے میں مگن ہے، تو ان بے حس یہودیوں نے جواب دیا کہ وہ ورلڈ کپ کے فٹ بال میچوں کی بجائے جیٹ طیاروں کی بمباری سے زیادہ لطف اٹھارہے ہیں۔ آپ خود سوچیے اب ایسے لوگوں سے انسانیت کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔اس ستر سالہ عرصے میں ظلم وستم کی کوئی صورت نہیں جس کو اسرائیل نے نہتے فلسطینی مسلمانوں پر روا نہ رکھا ہو، ظلم وجور کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ اس عرصے میں متعدد جنگیں بھی ہوئیں اور اسرائیل کی طاقت وقوت کا مظاہرہ ہوتا رہا۔ عرب حکومتیں ہمیشہ منافقانہ چال چلتی رہیں اور غیرتِ اسلامی کو پامال کرتی رہیں، یہاں تک کہ کچھ عرصے قبل چند عرب ملکوں نے اسرائیل کے ناجائز و ناپاک وجود کو تسلیم کرکے کھلے بندوں اسرائیل کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت فراہم کیا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں پر آرے چلتے رہے اور وہ اسرائیل سے پینگیں بڑھاتے رہے۔ جبکہ حالیہجنگ اسرائیل کی دادا گیری کی ایک مثال تھی لیکن اس کا یہ غرور چند ہی دنوں میں زمیں بوس ہوگیا،مایوسی کے بادل چھٹنے لگے اور امید کی کرن روشن ہوگئی۔ بخاری اور مسلم کی مشہور روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: میری امت کے ایک گروہ کی جو حق پر ہوگا ہمیشہ مدد کی جائے گی اور اللہ کی نصرت اس کے شامل حال ہوگی۔ان کی مدد سے ہاتھ اٹھانے والے بلکہ ان کی مخالفت کرنے والے بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ہوگا۔یروشلم میں موجودہ تنازعہ اور فلسطینی مظاہرے اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہیں۔ موجودہ بد امنی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد اقصی کے قریب شیخ جرح اور دیگر محلوں میں مقیم فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا۔ مسجد اقصیٰ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک مقدس مقام ہے اور اس کے ساتھ ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں۔القدس شہر دنیا کے تین بڑے مذاہب کے لئے اہم ہیں۔اس لئے اسرائیل کو شہر، اس کے ڈھانچے یا حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک کو نہ صرف اس صریح جارحیت کی مذمت کرنی چاہئے بلکہ غیر قانونی عمل کے خلاف وہ تمام اقدامات بھی کرنے چاہئے جن کا حق اقوام متحدہ کے چارٹر نے انہیں دیا ہے۔ انہیں اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہئے اور اس کے خلاف سخت اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کرنا چاہئے۔اسرائیل کے صہیونی حکمرانوں اور فوجیوں پر غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں مظالم کے الزام میں بین الاقوامی عدالت میں جنگی جرائم کے الزام میں فرد جرم عائد کی جانی چاہئے۔اسرائیل اقوام متحدہ کی متعدد قرر دادوں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔یہاں تک کہ دو طرفہ معاہدوں میں بھی اسرائیل اپنے وعدوں پر پیچھے ہٹنے کی تاریخ رکھتا ہے۔اسرائیل کا سیاسی طبقہ اور اس کے حکمراں وقتا فوقتا اپنے سیاسی مفاد کے لئے اپنی جارحیت میں شدت اختیار کرتے رہتے ہیں۔دنیا کو حقائق سے بے خبر رکھنے کے لئے جس طرح سے صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے دفاتر مسمار کئے جاتے رہے ۔ اس مسئلے کا فوری حل یہ ہے کہ القدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کا تیزی سے خاتمہ کیا جائے اور اسرائیل کو اس کے تمام ظالمانہ اور جارحانہ ارادوں اور اقدامات کو روکنے پرمجبور کیا جائے۔اقوام متحدہ کو اسرائیل کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تمام بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف اور پوری دنیا کے خلاف جنگی جرائم کے مترادف اسرائیل کے اقدامات غیر قانونی ہیں۔1948 ء میں اسرائیل نام سے ایک ریاست عالم اسلام کے قلب میں بزور طاقت قائم کی گئی اور 1967 ء میں بیت المقدس پر ناجائز اسرائیلی قبضہ بھی ہوگیا۔ اسی وقت سے بیت المقدس، مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کا کنٹرول ہوگیا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئی لیکن ابھی تک ان کے ناجائز قبضہ سے ا?زادی کی صورت پیدا نہیں ہوسکی، جب کہ اس درمیان قربانیوں اور کوششوں کی زریں کڑی ہے، جو ہمت و حوصلہ کی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ شیخ احمد یاسین وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے بیت المقدس کو ا?زاد کرانے کے لئے عظیم قربانی دی۔ اور ایک تحریک کی بنیاد ڈالی جسے دنیا آج (حماس)کے نام سے جانتی ہے۔ بالا?خر وہ اس عظیم کام کے لئے اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے۔ ان کے بعد شیخ عبد العزیز اور دیگر مشائخ کی قیادتوں سے یہ تحریک زور پکڑتی رہی اور ناجائز قبضہ کے خلاف تحریک جاری رہی۔ لیکن یہودی اپنا ناپاک منصوبہ والا کھیل کھیلتا رہا، شہریوں کو پریشان کرنا، بچوں کو ناحق قتل کرنا، عورتوں پر ستم ڈھانا یہ سب ان کا پرانا حربہ ہے جو برابر استعمال کیا جاتا رہاہے اور ہنوز جاری ہے۔ مگر سلام ہے اس قوم کو جس کے بچے عرب کے فوجی جرنیلوں سے اچھے ہیں، جس کے بوڑھے عرب کے نوجوانوں سے زیادہ جوان ہیں، جن کے رگ و ریشہ میں مسجد اقصیٰ کی محبت پیوست ہے، جو نہتے ہیں مگر یہودی فوجی اپنے تمام تر اسلحہ کے باوجود بے بس نظر ا?تے ہیں۔ سلام ہے ان جیالوں کو جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مسجد اقصیٰ کی حفاظت کررہے ہیں، کتنے معصوم ہیں جو ان کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں، کتنی عورتیں ہیں جو روز بیوگی کا سہتی ہیں، کتنے گھر مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لئے قربان ہوچکے ہیں، مگر پھر بھی وہ مثل جبال ڈٹے ہوئے ہیں۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں فلسطین کے شیخ جراح محلہ کو یہودیوں نے وہاں کے مقامی باشندوں سے خالی کرانا چاہا، تو اس کے دفاع میں فلسطینی عوام نے بھی اپنا حق دفاع استعمال کیا، تو یہودیوں کی طرف سے ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو 11 دنوں تک جاری رہا، مگر اللہ کے نیک بندے ڈٹے رہے اور یہودیوں کا جم کر مقابلہ کیا۔بالآخر اسرائیل نے شکست تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کردیا، اور اپنی پسپائی تسلیم کرلی۔اس موقع پر فلسطینیوں کا خوش ہونا بالکل فطری تھا۔ چنانچہ اس کا اظہار ہوا اور 21 مئی 2021 یوم جمعہ کو انہوں نے فتح کے طور پر منایا۔ فلسطینیوں خاص طور سے حماس کے عزائم اتنے بلند ہیں کہ ارض مقدس کو غیر ملکی استعمار سے آزادی کے خواہاں ہیں۔ اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ ہر لحاظ سے فلسطینیوں کی حفاظت فرما اور ان کی نصرت و اعانت فرما اور بیت المقدس اور ارض فلسطین سے ناپاک یہودیوں کا خاتمہ ممکن ہو۔

٭…٭…٭

About the author

Haji Muhammad Latif Khokhar

Haji Muhammad Latif Khokhar

Leave a Comment

%d bloggers like this: