Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi Today's Columns

وقوف عرفات از صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

میدان عرفات مسجد الحرام کے جنوب مشرق میں ۲۲ کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور بہت عظمت والا مقام ہے لیکن یہ میدان حدود حرم سے باہر ہے اس حد کے تعین کے لئے جگہ جگہ راہ نما بورڈ لگائے گئے ہیں عرفہ کے معنی پہچاننے کے ہیں جب حضرت آدم اور بی بی حضرت اماں حوا جنت سے زمین پر اتارے گئے تو اسی میدان میں پہنچ کر ہی دونوں نے ایک دوسرے کو پہچاناتھا اسی نسبت سے اسے میدان عرفات کہتے ہیں اس میدان کے عرفات کہلانے کی ایک اور وجہ ہے بھی ہے کہ جب اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل ؑ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حج کے احکامات سیکھائے اور بعد میں ان سے پوچھا کہ آپ نے مقامات و احکامات کو پہچان لیا؟یعنی آپ نے ان تمام احکامات حج کو سمجھ لیا یا نہیں تو خلیل اللہ نے فرمایا کہ ہاں میں نے سب سمجھ لیا ہے چنانچہ اس کے بعد اس جگہ کو مقام عرفات کہا جانے لگا میدان عرفات وہ جگہ ہے جہاں حاجی اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے دل سے توبہ کرتے ہیں اور خوب معافی مانگتے ہیں آنسو بہاتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول فرماکر ان کو بخش دیتا ہے ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ عرفات والے دن یعنی نو ذی الحجہ کو اللہ آسمان دنیا پر نازل ہو کر فرشتوں سے کہتا ہے کہ یہ لوگ (یعنی حجاج کرام )پراگندہ حال آئے ہیں اور میری رضا کے طالب ہیں اے عرفات والو میں نے تمہاری مغفرت فرما دی تمام حجا ج کرام نو ذی الحجہ کو اسی مقام پر جمع ہوتے ہیں اور امام حج کی اقتداء میں ظہر اور عصر کی دو نمازیں قصر کی صورت میں ظہر کے وقت ایک ساتھ ادا کرتے ہیں دوران حج ادا کئے جانے والے تما م اعمال اور حج کا نچوڑ ہی وقوف عرفات اور اس وقت اپنے اللہ سے مانگے جانے والی دعائیں ہیں او راگر وقوف عرفہ نہ کیا تو حج ہی نہیں ہوتا حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ عرفات کا وقوف ہی حج ہے اس میدان میں کسی بھی جگہ وقوف کرنے سے حج ہو جائے گا اسی میدان عرفات میں جبل رحمت ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے بلکہ ایک پتھریلی سی پہاڑی ہے جس کا مسجد نمرہ سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر فاصلہ ہے اب تو اس پہاڑ پر چڑھنے کے لئے۱۶۸سیڑھیاں بنا دی گئیں ہیں ورنہ ماضی میں اس پر بہت مشکل سے چڑھا جاتا تھا لیکن اللہ کی رضا حاصل کرنے والے متوالے کسی بھی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور بے دھڑک اس پہاڑی پر چڑھ جاتے تھے اس پہاڑی کی سطح ہموار اور کشادہ ہے جس کے چاروں طرف اونچی سی منڈھیڑ بھی بنی ہوئی ہے منڈیڑ کے درمیان ایک چبوترا ہے جس کے ایک طرف آٹھ میٹر بلند ستون ہے جو دور سے نظر آتا ہے اس پہاڑ کے نیچے مسجد صخرہ ور قریب ہی نہر زبیدہ کی گزرگاہ ہے مسجدصخرہ قدرے بلندی پر ہے جس کے گرد چھوٹی سی چار دیواری سی بنی ہوئی ہے اس کے اندر چٹانیں ہیں جن کے نزدیک عرفات کے دن رسول پاک ﷺ اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر دعائوں میں مشغول ہوئے تھے میدان عرفات کی بڑی مسجد نمرہ پہاڑی کی نسبت سے مشہور ہے عرفات کے دن اللہ کے نبی ﷺ نے اسی مقام پر ایک خیمے میں قیام فرمایا تھا زوال کے بعد قریب ہی وادی میں آپ نے تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا تھا جسے خطبہ حجتہ الوداع کہتے ہیں اس کے بعد آپ جبل رحمت کے قریب چٹانوں کے پاس آکر دعائوں میں مشغول ہو گئے تھے مسجد نمرہ دو حصوں میں منقسم ہے اس کا اگلا حصہ عرفات سے باہر ہے یہ مسجد کا قدیم حصہ ہے اور پچھلا حصہ عرفات کے اندر ہے جسے بعد میں وسعت دی گئی مسجد نمرہ کے اندر عرفات کی حد متعین کرنے کے لئے بورڈ آویزاں کئے گئے ہیں تاکہ حجاج کرام نماز ظہر اور عصر سے فارغ ہو کر مسجد کے پچھلے حصہ میں آجائیں یا پھر مسجد سے نکل کر عرفات کی حدود میں مغرب تک رہیں اگر کسی نے مسجد کے باہر والے حصہ میں زوال تک کا وقت گزار دیا تو اس کا وقوف نہیں ہوگا اور حج مکمل نہیں ہو گا چناچہ وقوف عرفات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہ حج کا بنیادی رکن ہے اللہ سب اہل اسلام کو یہ عظمت والا میدان مقامات حج دکھائے اور ہمیں ہر سال اپنا مقدس گھر دیکھائے اور اپنے محبوب کریم کا وہ مقدس دراقدس دیکھائے جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے غلامی کے لئے حاضر ہوکر اپنے آقا کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں یہی ہر ایک عاشق کی دلی دعا التجا ہے اللہ یوم عرفہ کے مقدس دن کے صدقے امت مسلمہ پر اپنا فضل و کرم فرمائے اور پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم فرمائے اور اسلام دشمنوں کو نیست و نابود فرمادے آمین

٭…٭…٭

About the author

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Leave a Comment

%d bloggers like this: