Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi Today's Columns

یوم عرفہ کی فضیلت وبرکات از صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں اس دن کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے یہ دن بہت ہی برکتوں اور رحمتوں کا دن ہے اس دن کی بڑی فضیلت ہے اسی سن کو اسلام کی تکمیل اور نعمتوں کا اتمام ہوا تھا سیدنا حضرت عمر فاروق اعظمؓ سے حدیث مروی ہے کہ ایک یہودی نے سیدنا حضرت عمر ؓ سے کہا کہ اے امیر المومنین تم ایک آیت قرآن مجیدمیں پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن مناتے ؟سیدنا فاروق اعظم فرمانے لگے وہ کون سی آیت ہے اس نے کہا الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا(المائدہ)آج میں نے تمھارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا تو حضرت عمر فرمانے لگے ہمیں اس دن اور اس جگہ کا بھی علم ہے جب یہ آیت نبی کریم ﷺپر نازل ہوئی تو وہ جمعہ کادن تھا اور حضور پاک صاحب لولاک عرفہ میں تھے یہ عرفہ میں وقوف کرنے والوں کے لئے عید کا دن ہے نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ یوم عرفہ،اور یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل ایمان کے لئے عید کے دن ہیں اور یہ سب کھانے پینے کے دن ہیں اور حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ انھوںنے فرمایا کہ یہ آیت جمعہ اور عرفہ کے دن نازل ہوئی اور یہ دونو ں ہمارے لئے عید کے دن ہیں یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ نے قسم اٹھائی ہے اور عظیم الشان اور مرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان چیز کی اٹھاتی ہے اور یہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ نے اپنے اس فرمان میں فرمایا کہ وشاہد ومشہود (البروج)حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم سیدنا حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب کریم ﷺ نے ارشا د فرمایا کہ (یوم موعود قیامت کا دن ،اور یوم مشہود عرفہ کا دن اور شاہد جمعہ کا دن ہے )اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور یہی دن الوتر بھی ہے جس کی اللہ نے اپنے اس فرمان میں قسم کاکھائی ہے (والشفع والوتر)اور جفت اور طاق کی قسم (الفجر)سیدنا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ الشفع عید الاضحی اور الوتر یوم عرفہ ہے اس بابرکت دن کا روزہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے سیدنا حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ آقا کریم ﷺ نے عرفہ کے دن کے روزہ کے لئے فرمایا کہ یہ گزرے ہوئے اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور یاد رہے کہ یہ روزہ حاجی کے لئے رکھنا مستحب نہیں اس لئے کہ نبی پاک ﷺ نے اس کا روزہ ترک کیا تھا اور یہ بھی مروی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے لہذا حاجی کے علاوہ باقی سب کے لئے اس دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور یہی وہ مقدس یوم ہے جب اللہ نے اولاد آدم ؑسے عہد میثاق لیا تھا سیدنا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ نے آدم علیہ السلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیا اور آدم علیہ السلام کی پشت مبارک سے ساری ذریت نکال کر ذروں کی مانند اپنے سامنے پھیلا دی اور ان سے آمنے سامنے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟سب نے جواب دیا کیوں نہیں ؟ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یہ مت کہو کہ تم اس سے محض بے خبر تھے یا یوں کہوں کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل سے ہوئے تو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا (مسنداحمد)یہ وہ مقدس یوم ہے جسم میں میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کے گناہوں کی بخشش اور آگ سے آزادی ملتی ہے سیدہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ کسی او ردن میں اپنے بندوں کو آگ سے آزاد نہیں کرتا اور بلاشبہ اللہ ان کے قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے ان سے فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہاللہ یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کے ساتھ فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میرے ان بندوں کو دیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں اللہ اس دن میں ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادات رکرنے روزہ رکھنے ذکر ودرودوسلام پڑھنے اور اپنے گناہوں پر نادم ہونے کی توفیق عطا فرمائے اللہ اپنے محبوب کریم ﷺ کی ساری امت کی آج کے مقدس دن مغفرت بخشش فرمائے اور آپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے اور سب کو میدان عرفات جانے کی حج بیت اللہ کی سعادت باربار نصیب فرمائے آمین

٭…٭…٭

About the author

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Leave a Comment

%d bloggers like this: