Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi Today's Columns

لبیک اللھم لبیک فلسفہ حج بیت اللہ از صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

حج صاحب استطاعت لوگوں پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے حج کے لغوی معنی کسی قابل تعظیم چیز کے قصد اور ارادے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں عبادت کی غرض سے بیت اللہ کے قصد کو حج کہتے ہیں بشرط یہ کہ اس میں مقررہ ارکان ،شرائط واجبات و فرائض،اور سنن و مستحبات کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا گیا ہو اور محرمات و منکرات سے اجتناب کیا گیا ہو حج کرنے کا حکم ۹ ہجری میں نازل ہوا نماز، روزہ، زکوۃ کی طرح یہ بھی اسلام کا اہم رکن اور ستون ہے جس پر دین اسلام کی عمارت قائم ہے اور اس اہم رکن اسلام کی بڑی اہمیت ہے حج ایک ایسی عبادت ہے جسے بہتر اور افضل عمل بھی قرار دیا گیا ہے رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ﷺ کون سے اعمال افضل ہیں تو رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا ،اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ،پھر فرمایا مبرور حج یعنی مقبول حج کرنا،اور ایک حدیث پاک میں اسے مشرق و مغرب کے درمیان تمام اعمال سے افضل عمل قرار دیا گیا ایک دوسری روایت میں حج مبرور کے ساتھ عمرہ کا بھی اضافہ کیا گیا ایمان و اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دو عمل وہ افضل ترین اعمال ہیںہاں سوائے اس کے کہ کوئی شخص ان دونوں کے مثل (کوئی نیکی)کرے(اور وہ افضل عمل یہ ہیں ) حج مبرور اور عمرہ حج ایک مالی اور بدنی عبادت ہے یعنی یہ حج ایک مخلوط عبادت ہے کہ بندہ اسے خود ادا کرے لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے خود ادا نہ کر سکتا ہو تو اس کی نیابت میں اس کی خواہش اور مصارف پر دوسرا قابل اعتماد آدمی بھی کر سکتا ہے اسے حج بدل کہتے ہیں اور خوش نصیب ہیں وہ اہل ایمان جنھیں اللہ اپنے گھر کے طواف کرنے کی سعادت عطا فرماتا ہے قرآن مجید میں خود اللہ ارشاد فرماتا ے کہ اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس کے گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (آل عمران) اللہ نے قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں استطاعت والوں پر یعنی جن لوگوں کے پاس اتنا خرچ ہو جو ان کے لئے حج کو جانے اور وہاں سے آنے تک کیلئے پورا ہو سکے اور ان کی غیر حاضری کے لئے ان کے نان نفقہ کے لئے بھی پورا ہو سکے ور راستے کی آسانی وامن بھی انھیں میسر ہو تو ایسے لوگوں پر حج فرض ہو جاتا ہے اور ان کا کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہوتا اللہ کے محبو ب کریم ﷺ نے فرمایاکہ جس شخص کو کسی ظاہری حاجت کی رکاوٹ نہ ہو یعنی اسے زادہ راہ اور راستے کی سواری میسر ہو ور کوئی جابر حاکم بھی اسے روکنے والا نہ ہو اور کوئی ایسا مرض بھی اسے لاحق نہ ہو جس کے باعث وہ سفر نہ کر سکے پھر بھی وہ حج نہ کرے اور مر جائے تو مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا کتنا بڑا گناہ ہے کہ رحمت عالم ﷺ ارشاد فرما ہیں کہ جس شخص کے پاس سب کچھ ہے اہل و عیال کا خرچ بھی ہے اور آنے جانے کا خرچ بھی ہے اور حاکم کی طرف سے رکاوٹ بھی نہیں ہے اسے کوئی مرض بھی لاحق نہیں ہے پھر بھی وہ بہانے ڈھونڈے اور حج کو نہ جائے تو پھر ایسا شخص اگر نصرانی یا یہودی ہو کر مر گیا تو ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ایک اور بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ حج کا لطف بھی جوانی میں ہے کیونکہ یہ کافی محنت اور مشقت طلب کام ہے طواف کعبہ صفا مروہ کی سعی منیٰ کی حاضری کرمیدان عرفات پھر وہاں سے مزدلفہ مزدلفہ سے پھر عرفات ور وہاں سے پھر مکہ معظمہ اور پھر مدینہ منورہ تو اس کے لئے جسمانی صحت تندرستی کی بہت اہمیت ہے بڑھاپے میں اگرچہ فرض ادا تو ہو جاتا ہے مگر وہ لطف کہاں جو جوانی میں ہوتا ہے حضور پاک ﷺ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ اے لوگو تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس حج کرو ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا حج ہر سال فرض ہے اللہ کے نبی ﷺ خاموش رہے اس نے پھر یہی سوال کیا تو آپ پھر خاموش رہے اس نے پھر یہی سوال دھرایا تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال ہی فرض ہو جاتا اسی لئے خاموشی اختیار کی حج ایک عظیم الشان عبادت ہے جو روحانی کیف و سرور اس عبادت میں ملتا ہے وہ حاجی سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا حج معمول کی عبادت نہیں ہے بلکہ معمول کی زندگی کو ترک کرکے مجاہدانہ انداز سے ایک محدود عرصے کے لئے لباس،رنگ،علاقائیت ،زبان اورنسب و نسل کے تمام امتیازات کو کلی طور پر ترک کرنے کا نام ہے اور حقیقت میں یہ سب کچھ تو امام الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحب زادے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت بی بی حاجرہ کی ادائوں کو اپنانے کا نام ہے گویا حج دراصل اس کیفیت عشق اور اللہ کی راہ میں اس وارفتگی اور جذب وجنوں کانام ہے جس کی روایت حضرت ابراہیم ؑ نے ڈالی روایت میں آتا ہے کہ اللہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بھیجنے والا ہوں اس پر فرشتوں نے کہا کہ کیا تو ایسے ہستی بنائے گا جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہائے گی اللہ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے یہ ارشاد سن کر فرشتوں پر خوف طاری ہوا کہ شاید ہماراجواب خلاف ادب تھا اور وہ اس خوف سے عرش کے اردگرد طواف کرنے لگے اللہ کو ان کی یہ عاجزی پسند آگئی اور انھیں عفو و کرم کی نظر سے دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ اچھا زمین پر بھی ایک ایسا ہی مکان بنائو جس کے اردگرد میرے بندے طواف کر کے مجھ سے معافی مانگیں اور میں ان کو معاف کر دیا کروں تو اللہ نے اپنے گھر خانہ کعبہ بنا کر حکم دیا کہ اس کا طواف کریں پوری دنیا سے لوگ اس رب کے گھر کے طواف و زیارت کے لئے دور دراز سے آتے ہیں حج بنیادی طور پر مشقت کی عبادت ہے اس کی یہ کیفیت آج سے ہزار سال پہلے بھی ایسی تھی اور آج بھی ویسی ہی ہے ماضی میں سفر کی صعوبتیں ،زادہ راہ کی دشواریاں،موسم کی ناگواریاں ،پانی کی عدم دستیابی،وسائل کی کمی تھی جب کہ آج مادی لحاظ سے تصورات سے زیادہ راحتیں آسائشیں موجود ہیں لیکن پھر بھی حج کی مشقت کی روح آج بھی وہی ہے دوران حج راحت و آرام ہمارا مقصود نہیں بلکہ ہمیں تو اللہ کی رضا درکار ہے اور اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اس عظیم عبادت کی وجہ سے مومن کی زندگی میں تبدیلی پیدا کردے یہ اپنے تمام گناہوں کو آنے والی زندگی میں کرنے سے بچنے والا بن جائے لیکن اگر ہم نے حج کر کے بھی گناہوں کی زندگی کو ترک نہ کیا برائیوں کو نہ ختم کیا تو گویا ہم نے حج کی حقیقت اور روح کو نہیں پایا اور کچھ بھی حاصل نہ کیا اور حج کی جان مدینہ منورہ کی حاضری ہے اور وہ بد نصیب جو حج تو کرنے جاتے ہیں مگر روضہ رسول کریم ﷺ کی حاضری کو نہیں جاتے وہ حاجی نہیں ظالم ہیں حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا اور جو وہاں حاضری دینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ان خوش نصیبوں کے لئے فرمایا کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہو گئی جس نے میری وفات کے بعد حج کیا اور میری قبر انور پر حاضری دی گویا اس نے میری زندگی ہی میں میری زیارت کی اللہ ہمیں سب کو اپنا گھر دکھائے اور اپنے محبوب کا روضہ دکھائے حج ہوتا تو بے شک مکہ میں ہے اور قبول مدینہ منورہ میں ہوتا ہے حقیقت میں تو حج اللہ کے پیاروں کی ادائوں کا نام ہے اللہ یہ سعادت ہم سب کو نصیب فرمائے اور آج کے اس دن پوری امت کے مسلمان اللہ کے گھر میں حاضر ہیں اور رنگ و نسل زبان و ملک کالے و گورے ادنی و اعلی سب ایک ہی لباس میں ایک ہی جگہ اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر اپنے گناہوںکی معافی مانگ رہے ہیں اللہ پوری امت مسلمہ کو ایسے ہی اتحاد اتفاق عطا فرمائے اور آج کے دن کی عظمت کے صدقے میں سب کا حج قبول فرمائے اور جو مسلمان دنیا کے جس کونے میں بھی اس عظیم عبادت کے کرنے کو تڑپ رہے ہیںاللہ ان کو بھی آج کا یہ مقدس یوم اپنے گھر کے طواف کرنے کی توفیق عطا فرمائے

٭…٭…٭

About the author

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Sahibzada Zeeshan kaleem Masoomi

Leave a Comment

%d bloggers like this: