پاکستان، کرونا اور ہماری ذمہ داریاں

ایک ایسے وقت میں جبکہ کرونا وائرس دنیا بھر میں اپنے پنجے پھیلانے کے بعد پاکستان میں بھی تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس نازک وقت میں حکومتی مشینری کے تمام پرزوں بشول فوج، پولیس، سول انتظامیہ، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف وغیرہ کی جانب سے عوامی خدمت کی ایسی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں جو ہر لحاظ سے نہ صرف قابل ستائش بلکہ قابل تقلید بھی ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہر فرد دوسروں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے پرجوش ہے۔ اکثر لوگ ایک دوسرے سے اور حکومتی اداروں سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ کرونا کے خلاف کوششوں میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں۔ بلا شبہ لوگوں کا یہ جذبہ لائق تحسین ہے تاہم ہمارا سامنا ایک ایسے ان دیکھے دشمن سے ہے جو نہایت ہوشیاری کے ساتھ ہماری تاک میں بیٹھا ہوا ہے اور موقع ملتے ہی ہم پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
ایسے وقت میں اس امر کی انتہائی اشد ضرورت ہے کہ کرونا وائرس جیسے ہوشیار دشمن سے نجات کے لیے طبی ماہرین کی ہدایات کی روشنی میں حکومتی احکامات کے مطابق گھروں تک محدود ہونے کے ساتھ ساتھ ان لمحات کو اپنے اور دوسروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنایا جائے۔ مشکل کی اس گھڑی میں کچھ کر گذرنے کے خواہشمند افراد کے لیے مندرجہ ذیل چند ایسے مفید کام ہیں جنہیں کرکے نہ صرف ان کے جذبہ خدمت کو تسکین ملے گی بلکہ ان کاموں سے قوم کے مجموعی مورال کو بھی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی:
اللہ تعالی سے مدد طلبی اور تعلق کی مضبوطی:
اللہ تعالی ہی سب سے بڑا ہے لہذا اللہ سے گڑ گڑا کر التجا کریں کہ وہ اس وبا سے سب کو محفوظ رکھے اور اس سے نجات عطا کرے۔ دستیاب وقت میں اپنی عبادات بشمول نماز و نوافل اور اذکار میں باقاعدگی پیدا کریں۔ اگر پہلے کسی وجہ سے قرآن کی تلاوت کا موقع نہ ملتا ہو تو اب قرآن کی تلاوت کو اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں۔ کثرت سے استغفار کریں ۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں کے ازالے کی کوشش کریں۔
رضاکارانہ خدمات:
مختلف شعبوں کے ماہرین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا دیگر ذرائع سے اپنی خدمات کو عوام کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ اگر آپ شعبہ تدریس سے منسلک ہیں تو ایسے اساتذہ جن کے پاس انٹرنیٹ اور کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ یا موبائل جیسے آلات کی سہولت موجود ہے، وہ ان وسائل کی مدد سے اپنی اپنی کلاسوں کے طلبا کو ان کی پڑھائی میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ویڈیو کانفرنسنگ، واٹس ایپ، سکائپ جیسے سافٹ ویئر انتہائی معاون ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو لوگوں کو انکی بیماریوں کے متعلق مدد دینے کے لیے سوشل میڈیا پر اپنا گروپ بنا کر انہیں مفید مشورے دیں۔ اگر آپ قانون دان ہیں تو مختلف قوانین کے متعلق لوگوں کو رائے /آگاہی دیں۔ غرضیکہ ہر شعبے کا ماہر اپنے اپنے شعبے سے متعلق رضاکارانہ خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔
کرونہ کے خلاف مصروف عمل اداروں/افراد کی حوصلہ افزائی:
سوشل میڈیا پر اپنے وقت کا موثر استعمال یہ بھی ہے کہ آپ کرونا وائرس کے خلاف مصروف عمل اداروں / افراد کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کے ہر اچھے کام کو دوسروں تک پھیلائیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور انہیں پتہ چلے کہ قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اداروں/افراد کی حوصلہ شکنی کرنے والے عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں اور ان کی کونسلنگ کی کوشش کرتے رہیں۔
افواہوں کا توڑ اور سوشل میڈیا پر آگاہی:
سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں دوسروں کو آگاہی دے سکتے ہیں۔افواہوں پر نگاہ رکھ کر ان کا توڑ کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف گروپس مین شامل ہو کر ایسے مخیر افراد/اداروں کی فہرست مرتب کرکے ضرورتمندوں کو فراہم کر سکتے ہیں جو کسی مسئلے یا راشن کی کمی کا شکار ہوں۔
لوگوں کی خبر گیری اور محلے کی سطح پر رضاکاروں کی تیاری: احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اپنے اردگرد موجود لوگوں کی خبر گیری کی کوشش کریں۔ جن لوگوں کو بالخصوص دیہاڑی دار طبقات کو کھانے پینے کے سامان کی کمی کا سامنا ہو، انکی خود مدد کی کوشش کریں۔ اگر خود مدد نہ کر سکتے ہوں تو مخیر حضرات تک ان کی اطلاع پہنچائیں۔ اپنے دوستوں، گلی محلوں میں ایسے دوستوں، افراد کی نشاندہی کریں اور ان کی فکری تربیت کا اہتمام کریں جو کسی بھی ہنگامی صورت میں رضاکارانہ خدمات کی سرانجام دہی کے لیے تیار ہوں۔
جانوروں پر توجہ:
ایک ایسے وقت میں جبکہ انسانوں کو ایک بڑے مسئلے کا سامنا ہے تو اس دوران نہ صرف انسانوں کی مدد کی کوشش کریں بلکہ بے زبان جانوروں کی توجہ سے بھی ہر گز غافل نہ ہوں۔ اگر آپ کو کسی ایسے بازار کا معلوم ہو جہاں جانوروں کی خریدو فروخت کی جاتی ہو اور وہاں ابھی بھی جانور موجود ہوں لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے انہیں بروقت خوراک نہ فراہم کی جا سکتی ہو تو براہ کرم اپنے اپنے متعلقہ علاقوں کے متعلقہ محکموں کو اس بابت اطلاع دیں تا کہ وہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات کر سکیں۔ اگر آپ کے پاس بچا کچھا کھانا ہو تو اسے گلی محلوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں اور بلیوں کے لیے پانی کے ساتھ کسی مخصوص جگہ پر رکھ دیں۔ پرندوں کے لیے چھتوں پر دانے پانی کا اہتمام کریں۔ اللہ نے چاہا تو اس مشکل گھڑی میں ان جانوروں سے ہمدردی کا بڑا اجر ہو گا۔
گرانفروشوں پر نگاہ:
اجناس اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا مہنگے داموں فروخت کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور متعلقہ اداروں کو ان کے متعلق بلا لحاظ فی الفور اطلاع کریں۔
مذکورہ چند کاموں کے علاوہ بیشمار کام ایسے ہیں جنہیں اس مسئلے کے دوران آپ سرانجام دے سکتے ہیں۔ دراصل یہی قوم بننے کا وقت ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے اس مسئلے سے ہم سب کو جلد از جلد نجات عطا فرمائے اور فوج، پولیس، میڈیکل اور سول انتظامیہ و فلاحی اداروں سے تعلق رکھنے والے ہمارے صف اول کے جانبازوں کی نصرت اور حفاظت فرمائے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: