Today's Columns Zarar Jagwal

عظیم عبادت کے خواہشمند سجاد جگوال از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

سجاد جگوال صاحب آزاد کشمیر کے شہر مظفرآباد (پلیٹ) کے رہائشی ہیں DAM میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں،دیکھنے میں عام سے انسان ہیں لیکن اللہ تعالی’ نے انہیں خاص خوبیوں کا مالک بنایا ہے، بے شمار صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔کیمرے کی آنکھ سے نفرت کرنے والے سجاد جگوال کسی کو بھی غم پریشانی میں دیکھ کر خود بھی پریشان ہو جاتے ہیں پریشانی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں، بے روزگار افراد کے لیے روزگار کی تلاش بھی جاری رکھتے ہیں، مجبور بے سہارا کی مدد کرنے کے لیے تڑپ جاتے ہیں،تعلیم کے خواہشمند طالب علموں کی ضروریات پر خاص نظر رکھتے ہیں،برادری میں اتفاق و اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں،قوم و ریاست کے مفاد کے لیے محنت کرتے ہیں،حکومت،انتظامیہ اور عوام علاقہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں،اپنی مدد آپ کے تحت کسی ضرورت مند کی مدد،احساس زمہ داری،خدمت خلق،مثبت سوچ،خوش مزاجی سجاد جگوال صاحب کو قدرت نے تحفہ دیا ہے عام انسان میں یہ خصوصیات ملنا مشکل ہے۔۔صحابہ کرام ؓ اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورتوں کو ترجیح دیتے تھے، انسانوں کی مشکلات دیکھ کر تڑپ جانا انکی مدد کرنا، بیوائوں اور یتیموں کا خیال رکھنا، محتاجوں فقرا اور مساکین سے ہمدردی، معذوروں بیماروں مصیبت زدگان سے تعاون کرنا یہ سب خدمت حلق کے کام ہیں۔ تو اس حوالے سے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسی کا نام ایثار ہے یہی عظیم عبادت ہے، اللہ تعالی’ نے سجاد جگوال صاحب کو کئی درجنوں مقام پر عظیم عبادت کا موقع دیا سجاد بھائی نے بھی ہمت نہ ہاری مسلسل خدمت حق، آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر میں جیسے ہی کورونا وائرس نے سر اٹھایا انسانوں کو انصاف، امن، خوشحالی دینے والے محکمے بے بس نظر آے لاکھوں میں تنخواہ، ہزاروں میں مراعات، سیکٹروں لیٹر کے حساب سے سرکاری خزانوں سے ڈیزل/پٹرول لینے والے اعلی’ افسران جو نوکر کے بجاے خود کو حاکم سمجھتے ہیں، خالی دماغ والے سیاست دان، میڈیا مالکان، بڑے کاروباری حضرات مارکیٹوں اور دفاتر سے ایسے غائب ہوے جیسے ہلکی سی ہوا اور ایک قطرہ بارش کا پانی آنے سے آزاد کشمیر میں بجلی اچانک غائب ہو جاتی ہے۔۔ جن کی صرف تنخواہ چند ہزار روپے ہے انہوں نے بہادری قوم پرستی کا ذبردست ثبوت دیتے ہوے میدان میں اترے ساری دنیا میں کورونا وائرس نے جال بچھایا ہوا تھا تو آزاد کشمیر میں بھی لاک ڈاؤن لگ گیا تھا یہ کورونا وائرس کی پہلی لہر تھی بھائی سے بھائی ہاتھ ملانے سے ڈرتا تھا، غریب طبقات لاک ڈاؤن لگنے سے گھروں میں قید تھے حالات بھی بہت خراب ہو چکے تھے دیہاڑی دار مظلوم محنت کش کورونا وائرس سے زیادہ بچوں کی بھوک سے پریشان تھے سجاد جگوال صاحب نے اپنی مدد آپ کے تحت چند دوستوں کی مدد سے محنت کش طبقات کے ساتھ جو کچھ ہو سکتا تھا اللہ تعالی’ کی رضا کی خاطر کیا،کورونا کا رونا دھونا وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان بھی کر رہے تھے عوام سے کہتے تھے (ماسک لاؤ اے کھاندا نی لڑدا نی جان بچانڑے واسطے اے اس کو جیباں ویچ نہ بھاؤ اے لاؤ ) ماسک لاؤ اور خاموش ہو جاؤ بھوک سے اور کورونا سے جنگ لڑتے جاؤ ۔۔اس وقت کورونا وائرس سے وفات پانے والوں کو بغیر غسل دئیے دفن کیا جاتا تھا،سجاد جگوال سے یہ حرکت بھی برداشت نہ ہوئی کیونکہ وہ عظیم عبادت کے خواہشمند ہیں انہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت اپنی اور اہل خانہ کی جان خطرے میں ڈال کر اس دنیا سے چلے جانے والوں کی تضحیک کو برداشت نہ کیا کورونا وائرس کی وجہ سے وفات پانے والوں کو غسل دینے، اسلامی طریقے سے تدفین کرنے کا اعلان کر دیا ضلع انتظامیہ سے اجازت لی اعلان پر عمل کرتے ہوے کورونا سے وفات پانے والوں کو غسل تدفین اور ان کے تابوت بھی اپنے پاس سے فراہم کیے وفات پانے والوں کے ورثاء سے کوئی بھی اجرت وصول نہیں کی صرف اللہ تعالی’ کی رضا کی خاطر یہ قدم اٹھایا۔۔ جو کام مراعات یافتہ طبقات نے کرنا تھا ضلع انتظامیہ نے کرنا تھا وہ سجاد بھائی نے کر دکھایا، اپنا مستقبل اپنی اور اہل خانہ کی جان کی پرواہ کیے بغیر احسن کام کیا، آزاد کشمیر حکومت کے پاس تمام وسائل تھے اور ہیں لیکن یہ فرائض ادا نہ کر سکی جو سجاد جگوال اور انکی ٹیم نے ادا کیے۔۔۔۔ابھی دو تین دن پہلے کی اپنی آنکھوں سے دیکھی گئی کاوش کو یہاں تحریر کرنا چاہتا ہوں راقم قریبی رشتہ دار کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے مظفرآباد روانہ ہوا نماز جنازہ کے بعد سجاد بھائی سے ملاقات ہوئی ہم سب میت کو دفنانے کے لیے قبرستان کی طرف چل پڑے قبرستان کی زمین کے ایک حصہ پر چاردیوری پر نظر پڑی باہر ایک بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا یہ قبرستان لاوارث میتوں کا ہے چاردیوری کے اندر تین قبریں بھی موجود ہیں اور چھوٹے چھوٹے درخت بھی پل بڑ رہے ہیں تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا اس عظیم عبادت کو بھی اللہ تعالی’ نے سجاد بھائی کے حساب کے رجسٹر میں درج کیا سجاد جگوال نے ڈپٹی کمشنر بدر منیر کی موجودگی میں چند مرلے زمین لاوارث میتوں کے لیے منظور کروائی اور خود اپنی آمدنی سے اس زمین میں چاردیوری دی خود بلاک لگاتے رہے اپنے ہاتھوں سے درخت لگاے، آزاد کشمیر میں زیادہ تر نا معلوم افراد کی لاشیں دریاؤں سے ملتی ہیں پھر ضلع انتظامیہ بائیومیٹرک سے ان کی شناخت کرنے کی کوشش کرتی ہے بعض کی شناخت ہو جاتی ہے ورثاء کو میت دی جاتی ہے، بعض کی شناخت نہیں ہوتی انہیں ملنے کے مقام کے تھانے کے نام سمیت دیگر کوائف لکھ کر اپنے پاس ریکارڈ رکھا جاتا ہے میت کو سجاد جگوال صاحب کے حوالے کیا جاتا ہے سجاد جگوال میت کو غسل و کفن دے کر نمازجنازہ ادا کرتے ہیں قبر تیار کرتے ہیں تدفین کر دیتے ہیں۔۔کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں لی جاتی۔ ایک ایسا واقعہ پیش آ چکا ہے ایک لاوارث میت کی تدفین کے بعد اس کے ورثاء آ گئے قبر کھود کر میت لے گئے سجاد بھائی نے ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔راقم نے سجاد جگوال کی زبان سے یہ بھی سنا ہے کہ اس ماہ کی تنخواہ مل جاے تو دو قبروں کے لیے بلاک دیگر ضرورت کا سامان لے کر رکھ لوں گا تا کہ ضرورت کے وقت باآسانی استعمال ہو سکے حالانکہ یہاں حکومتی وسائل کا استعمال ہونا ضروری تھا لیکن ہر محکمے کی اپنی اپنی بادشاہی ہے اور سجاد بھائی عظیم عبادت کے خواہشمند ہیں، معاشرے میں 10% لوگوں کو سجاد جگوال کی طرح عظیم عبادت کا خواہش مند ہونا ضروری ہے تا کہ اپنی تکلیف کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تکلیف بھی محسوس ہو اور رب تعالی’ تک پہنچنے کا بہترین راستہ مخلوق خدا سے محبت کرنا اور خدمت کرنا ہے۔ نماز،روزہ،زکوٰۃ اور حج وغیرہ دین کی بنیادیں ہیں لیکن ذرا غوروفکر کریں کیا صرف بنیاد کھڑی کر دینے سے مکان بن جاتا ہےاور آدمی اس میں رہنے لگ جاتا ہے یا اس کی دیواریں بھی اٹھانا ہوتی ہیں،چھت بھی ڈالنا ہوتی ہے اور مکان کی زینت و آرائش بھی کرنا پڑتی ہے ۔دین اسلام میں نفل نمازیں اور بے سمجھے بوجھے قرآن کریم پڑھتے رہنے کے مقابلے میں جو بڑی نیکی ہے وہ ہے ضرورت مندوں کی خدمت میں لگے رہنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہم سب کو سجاد جگوال کی طرح انسانیت کی خدمت کی طرف توجہ دینے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ عبادت سے جنت اور خدمت سے خدا ملتا ہے۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: