Today's Columns Zarar Jagwal

انسانی حقوق کی تنظیمیں فرائض ادا کریں از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

مقبوضہ کشمیر میں رہنے والی 300سے زیادہ آزاد کشمیر و پاکستان کی خواتین دستاویزات کی منتظر ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم انصار برنی ٹرسٹ کے چیرمین انصار برنی بھی گزشتہ کئی سالوں سے اس اہم مسلے کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں،یہ 300وہ خواتین ہیں جنکی شادیاں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مردوں سے ہوئی تھی۔ان مردوں میں سے کچھ تعلیم حاصل کرنے اور کچھ کاروبار کے لیے آے تھے۔سال2010 کے بعد بہت سے جوان اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر واپس مقبوضہ کشمیر چلے گئے،وہاں ان میں سے بہت سے لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا پہلے ان جوانوں کو کہا گیا تھا کہ آپ کو اور آپ کے بیوی بچوں کو شہریت دی جاے گئ،اور سفری دستاویزات مہیا کی جاے گی۔نہ تو شہریت دی گئی اور نہ ہی سفری دستاویزات دیئے گئے،آزاد کشمیر سے جانیوالی خواتین کی تعداد 300سے زیادہ ہے ان 300میں سے کچھ تو بیوہ ہو گئی ہیں اور کچھ خواتین کو طلاق ہو گئی ہے۔یہ خواتین مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے ظلم کا شکار بھی ہیں اور والدین،بہن،بھائیوں کے لیے پریشانی کا باعث بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے اس معاملے میں دلچسپی لیں اور اپنے آئین کے مطابق فرائض ادا کریں۔محترم صغیر صاحب یہ بات شئر کرنے کا بہت شکریہ۔اسلام سے قبل عورت کا معاشرتی سسٹم بہت خراب تھا اس دور میں عورت اپنے بنیادی انسانی حقوق سے عاری تھی،زمانہ جاہلیت میں نومولود بچیوں کو زندہ دفن کرنے کا رواج عام تھا۔اسی طرح شادی کے ایسے مختلف طریقے رائج تھے،جو سراسر خواتین کی تذیل پر مشتمل تھے اور بدکاری کے علانیہ اظہار کا رواج بھی عام تھا،زمانہ جاہلیت میں عورت اپنے حق ملکیت تک سے محروم تھی۔اسلام نے خواتین کو بہت حقوق دیے ہیں،جن میں چند کو تحریر کروں گا۔اسلام نے عورت کو انفرادی حقوق،کےتذکرہ عصمت و عضمت کا حق،عزت اور رازداری کا حق،تعلیم و تربیت کا حق،حسن سلوک کا حق،ملکیت اور جائداد کا حق اور حرمت نکاح کا حق دیا۔ماں بیٹی،بہن اور بیوی الگ الگ حقوق عطا کیے،عورت کے ازدواجی حقوق کے ضمن میں شادی کا حق،خیار بلوغ کا حق،مہر کا حق،حقوق زوجیت،کفالت کا حق،اعتماد کا حق،حسن سلوک کا حق،تشدد سے تحفظ کا حق،بچوں کی پرورش کا حق،اور خلع کا حق شامل ہیں۔طلاق کے بعد مہر کا حق،میراث کا حق اور حضانت کا حق شامل ہے۔معاشی حقوق میں وراثت کا حق،والدین،شوہر کے مال وراثت میں حق شامل ہے۔عورت کو قانونی شخصیت ہونے کا حق بھی حاصل ہے،عورت کی گواہی کا حق مذکور ہے۔جیسے ولادت اور بچے کے رونے پر گواہی،رضاعت اور ماہواری پر گواہی،سیاست میں حقوق ہیں،عورت بطور سیاسی مشیر،انتظامی ذمہ داریوں پر تقرری کا حق،سفارتی مناصب پر فائز ہونے کا حق،ریاست کی دفاعی ذمہ داریوں میں نمائندگی کا حق،عورت کا حق امان دہی اور مسلم معاشرے میں عورت کا کردار جیسے موضوعات زیربحث آے ہیں،جو خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلام مخالف پروپیگنڈا کا دلائل کے ساتھ بھرپور جواب دیتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھی تمام مسلم خواتین ان حقوق کی مستحق ہیں بد قسمتی سے 74 سالوں سے ظالموں کے ظلم کا شکار ہیں،یہ ظلم نا قابل برداشت ہے،تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کی زمہ داری ہے کہ وہ حقوق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ایک عورت ماں ہے اور ماہ بچے کی پہلی درسگاہ ہے،اور بچے قوم کا مستقبل ہیں۔یہ بچے چمنستان زندگی کے مہکتے پھول،چہکتے بلبل اور کھیلتے نو نہال ہیں جن کے ساتھ ہماری امنگیں،آرزوئیں اور قسمتیں وابستہ ہیں۔ہم ان کی درسگاہوں پر قبضہ اور ظلم ہر گز برداشت نہیں کریں گے،کیونکہ ان درسگاہوں سے یہ بچے قوم کا مستقبل بناتے ہیں اگر ہمارے پاس کچھ ہے تو یہی بچے ہیں،انہی سے اپنی قسمت کا اندازہ لگا لیجیئے اور انہی کو سامنے رکھ کر اپنے مستقبل کی تعمیر کا تخمینہ کیجیے،اگر بچے کی درسگاہ کو حقوق مل رہے ہیں تو آپ کامیابی کی سیڑھی پر ہیں۔اگر ان درسگاہوں پر ظلم ہے تو آپ خود اس کا نتیجہ نکالیں جو آپ کی سوچ بتاتی ہے؟بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی شفقت بھری گود،محبت بھری آغوش،ہے جہاں اسکی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔یہ درسگاہ آپ لاکھوں کی دولت لٹا کر بھی کسی سے خرید نہیں سکتے،یہ درسگاہ ہم خون سے رنگی نہیں دیکھ سکتے،یہ حقیقت سورج سے زیادہ روشن،چاند ستاروں کی معصومیت سے زیادہ پاکیزہ اور صاف ہے،کہ قوموں کی قسمت ماؤں کی آغوش میں پرورش پاتی ہے جس سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جانباز اٹھتے ہیں جو پھانسی کے جھولے کو آغوش مادر تصور کرتے ہوے یہ سرمدی نغمات فضاؤں میں بکھیر جاتے ہیں اب بھی ممبر سے نہ اترا یہ خطیب اب بھی گھوڑے سے نہ اترا۔یہیں سے طارق بن زیاد جیسے آفاقی نظریے کے علمبردار اٹھتے ہیں جو ساحل اندئس پر ہر ملک ملک ما است کہ ملک خداے مااست کا ترانہ گا کر تاریخ عزیمت کو وجود میں لے آتے ہیں،یہیں سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ جیسے فرزندان ارجمند ابھرتے ہیں جو تاریخ اسلام کو اپنے نقش دوام سے رنگیں کر کے ملت بیضا کو یہ ابدی پیغام دے جاتے ہیں۔۔۔چڑھ جاے کٹ کے سر ترا نیزے کی نوک پر
لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول۔۔۔
اک شعر اپنا تحریر کیا ہوا تحریر کرنا چاہوں گا۔
حسینی اصولوں سے اگر کام لوں میں ذرا بھی تو کافروں کو بھی مسلمان بنا دوں ۔
اگر بیاں کر دوں میں حضرت امام حسینؓ کا صبر تو سارے زمانے کو حسینی بنا دوں۔
مقدر میں میرے کاش لکھا ہوتا حسینؓ کے واسطے میں اپنی ہستی بھی مٹا دوں۔۔۔۔
تاریخ اسلام ان آبدار موتیوں سے بھری پڑی ہے،جو ماؤں کی قدسی اساس گود سے پل کر اپنی چمک دمک سے تاریکیوں کے بادلوں کو آن واحد میں اڑا دیتے ہیں جنکی ضیا باریوں سے تاریخ کی آنکھیں اب بھی روشنی کا ضیا بنی ہوتی ہیں۔لیکن یہ ان ماؤں کی بات ہے جو اسوہ بتول رضی اللہ تعالی عنہ کی حامل رتھیں،جنکا اوڑھنا بچھونا قرآنی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت تھا،جن کی آہ نیم شی عرش بریں ہلا دیتی تھی،اور جو طاغوتی نظام کی بڑیں اکھاڑنے والے فرزندوں کو جنم دیا کرتی تھیں۔آج ہماری قوم مغرب کی اسیر بنتی جا رہی ہے،عورت سے عورت کا مقام چھینا جا رہا ہے،آج بھی چند مسلم خواتین اپنی آزادی کے نام پر اپنے حقوق سے محروم ہو رہی ہیں وہ صرف جسم فروشی کے دھندے کی طرف دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہیں،جو کچھ مقبوضہ کشمیر کی عورتوں کے ساتھ ہو رہا ہے،اگر کسی آزاد خیالی کے ساتھ ہو جاے یہ خواتین ملک کے زمہ داران کا جینا حرام کر دیں،وہ ہماری نیک بہنیں ہیں جو قربانیاں دیتی جا رہی ہیں،بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو بھی نیک انسانیت سے ہوتا ہوا ظلم دکھائی نہیں دیتا جبکہ فحاشی پسند اور ملک کے دشمن کا سر درد بھی برداشت نہیں کر سکتے،آج بھی اگر خواتین مغربی ممالک کی طرف نظر کریں تو خواتین میں طلاق کی شرخ میں خطرناک اضافہ،خاندانی ڈھانچے کی تبائی اور بعد از طلاق خواتین کی طرف سے لی گئی ہے۔ان آزاد جسم خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں،اور حق تلفیوں پر آپ کی نظر ضرور پہنچے گی۔دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے،دنیا کے دو تہائی کام کے گھنٹوں میں عورت کام کرتی ہے،مگر اسے دنیا کی آمدنی کا دسوویں حصہ ملتا ہے،اور وہ دنیا کی املاک کے سوویں حصہ سے بھی کم کی مالک ہے ان حال پر ہماری آزاد پسند عورتیں خوش ہیں۔سوال یہ ہے کہ آج ہماری قوم پستی کے گڑھے میں کیوں گر رہی ہے؟اسکی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ماؤں نے اس حبل اتمین کو چھوڑ دیا ہے،جو ملت بیضا کے عروج کی ضامن تھی۔مغربی فیشن اندھی تقلید ماؤں کی اوڑھنا بچھونا بن گئی ہے۔فیشن پرستی نے ماؤں کو اپنی تہذیب اور ثقافت سے دور پھینک دیا ہے۔یہ عریانی اور فحاشی،یہ ناچ اور گانے،یہ راگ اور رنگ یہ تصاویر کے ذریعے عورت کی رسوائی اور ٹیلی ویثرن،انٹرنیٹ،پر ان کے رسوا کن نخرے،پیسے کے عوض ان کی بکتی ہوئی ادائیں۔یہ حصول زر کے لیے ان کے ارزاں نخرے،یہ سلامیاں،یہ پریڈیں،یہ غیروں کے سامنے حسن اور اداؤں کی بے حجابی یہ سب ابلیس کے بچھاے ہوے جال ہیں جن میں قوم کی ماں،بہین،بیٹی مرغ ناداں کی طرح پھنس گئی ہے،شیطان کا یہ پرانا حربہ ہے کہ اگر کسی قوم،ملک کا ستیاناس کرنا ہو تو اس کی عورت کو گمراہ کر دو۔پھر یہ بگاڑ سرطان بن کر ساری قوم میں سرائیت کر جاے گا اور اسی نسخے کے یہ اثرات ہیں جو ہم اپنے محلوں،گلی بازاروں،قومی شاہراہوں،منڈیوں اور کارخانوں،تجارتی ایوانوں اور الونات شاہی میں دیکھ رہے ہیں۔اگر ہم خود کشی کرنا نہیں چاہتے بلکہ عزت و وقار کی زندگی کے خواباں ہیں،تو ہمیں عقل کے ناخن لینے چاہیں اور ہماری ماؤں،بہنوں کو اسلام کے چشمہ صافی سے جرعہ نوشی کر کے اپنی پیاس بجھانی چاہیے۔قرآنی تعلیمات کے زیور سے اپنے آپکو آراستہ کرنا چاہیے۔اسوہ بتول رضی اللہ تعالی عنہ کو حرزجاں بنانا چاہیے۔چادریں اوڑھ کر زندگی کی شاہراہوں پر چلنا چاہیے،پھر انسانی جسم میں انسانیت آے گی اور جو نسل اٹھے گی وہ انشااللہ سچے کردار کے حامل ہو گی،اس لیے تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کے تمام لوگوں کو چاہیے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت کام کریں،اور عورتوں کو فحاشی سے بچانے کے لیے بھی اچھی تربیت کا انتظام کریں اور اپنی تنظیم کے بنیادی مقاصد کی اشاعت کریں،تاکہ نئے لوگ بھی ان مقاصد میں اپنے فرائض سر انجام دیں۔کوئی ایسی بات یا ایسا کام نہ کریں جس سے غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا اس کی وجہ سے قانون سے بغاوت کا عنصر نکلتا ہو،یا کسی بھی شخص کے حقوق کو غصب کرنے کی نشاندہی ہوتی ہو۔اپنے مسلمانوں کے ساتھ ہونیوالے ظلم پر آواز حق بلند کریں۔300 سے زیادہ جموں کشمیر والی خواتین کی مدد کریں۔جموں کشمیر کی خواتین آپ کی مدد کو ترس رہی ہیں۔۔۔۔۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: