Today's Columns Zarar Jagwal

شوکت حسین مجددی سابقہ نامزد امیدوار اسمبلی کی گفتگو از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

شوکت حسین مجددی کو آزاد کشمیر الیکشن 2021 میں حلقہ (4) ایل اے (30) سے تحریک لبیک پاکستان نے نامزد کیا ، شوکت حسین مجددی تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کے شاگرد ہیں 2015 سے تحریک لبیک پاکستان کا حصہ ہیں۔آزاد کشمیر انتخابات 2021 میں حلقہ (4) ایل اے (30) سے شوکت حسین مجددی نے (791) ووٹ حاصل کیے ہیں ، یہ مظفرآباد گڑھی دوپٹہ کی UC کائی منجہ کے رہائشی ہیں ان کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان نہ کسی کی حمایت میں ہے نہ کسی کی مخالفت میں ہے ۔۔۔۔۔ 70 سالوں سے ہونیوالی زیاتیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے تحریک لبیک پاکستان نے سر اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔ ہم گولی اور بندوق پر سیاست نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔ہمارے وزیراعظم صاحب عوام کے پیٹ پر لات مار کر قبر کے سکون کا لیکچر دینے سے پرہیز کریں۔۔۔۔۔ختم نبوت پر کوئی بھی سیاست نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔قائد محترم سعد رضوی صاحب کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟؟؟ اس سوال کا جواب نہ حکومت پاکستان کے پاس ہے نہ کسی ادارے کے پاس اور نہ عدلیہ کے پاس ہے نہ ہی کسی کے پاس ثبوت ہے۔۔۔۔۔آزاد کشمیر الیکشن میں ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے ہمارے ووٹ چوری کیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔الیکشن کمشنر کے شکر گزار ہیں ہمیں انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا۔۔۔۔۔مسلہ کشمیر کا پہلا حل حق خودارادیت اور دوسرا حل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔۔۔۔۔۔پاکستان کی بڑی جماعتوں سے آزاد کشمیر انتخابات 2021 میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔جماعت اسلامی نے نہ حمایت کی نہ ہی مخالفت کی شکر گزار ہیں۔۔۔۔ تفصیلاتی گفتگو گرتے ہوے شوکت حسین مجددی نے کہا۔۔
ہم نے نہ کسی کو گرانا ہے نہ کسی کو اٹھانا ہے
فقط حضور ؐ کا دین تحت پہ لانا ہے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم نے نہ کسی اور کی حمایت کرنی ہے نہ کسی اور کی مخالفت کرنی ہے ۔ ہمارا منشور ناموس رسالت ؐ کا تخفظ اور دین اسلام کی خدمت کرنا ہے دین اسلام کو ایک مشکل حالات میں تحت پہ لانا ہے۔ دستور آئین پاکستان ، تمام قوانین اور نظام مملکت کو شریعت محمدیہ میں ڈھالاجائیگا۔ اندرون و بیرون ملک دشمن اور ان کے ایجنٹوں کی ملک کے اندر مداخلت ختم کی جائیگی۔ ہم خیال اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی بلاک بنایاجائے گا اور امت مسلمہ کی مضبوطی کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔ لوگوں کی تمام بنیادی ضرورتیں نظام زکوۃ، عشروخراج و جزیہ اوردیگر ذرائع سے پورا کیاجائیگا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نام سے ایک وزارت قائم کی جائیگی جو دین اسلام کی ترویج کیلئے کام کرے گی۔ خانقاہوں میں اعلیٰ دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا نظم قائم کیا جائیگا اور مخلوط نظام تعلیم ختم کرکے علیحدہ نظام تعلیم رائج کیا جائے گا۔ صنعت و تجارت کی پوری قوم کو تربیت دی جائے گی۔ سود کا خاتمہ کیا جائیگا۔ فوجی و سول حکام کیلئے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم لازم قراردی جائے گی اور حکام کیلئے سادہ طرز معاش کے قوانین بنائے جائیں گے۔ اسلامی حدود و تعزیرات کے ذرائع جرائم کا خاتمہ کیا جائے گا۔ علاج کی سہولت گھر کی دہلیز پر فراہم کی جائے گی۔ احتساب کا نظام دور فاروقی کی طرز پر قائم کیاجائیگا۔ میڈیا کو دینی، ملکی و ملی مسائل کا حل پیش کرنے اور لوگوں کی شاندار فکری ، عملی و اخلاقی تربیت کا پابند بنایاجائیگا۔ جب حضور ؐ کا دین تحت پہ آے گا تو فحاشی بے حیائی رشوت زنا جبر کی ادویات ہوں گی۔ حکمرانوں ، امیروں ، غریبوں ، مردوں ،عورتوں اور بچوں کو وہ تمام تر حقوق میسر ہوں گے جو انسانی بنیادی حقوق ہیں اور اسلامی جموریہ پاکستان کے آئین میں شامل ہیں پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے یہ دوسری اسلامی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی ہے، اس میں نظام بھی رسول اللہ ؐ کا ہونا چاہیے جبکہ 70 سالوں سے ہمارے ساتھ جو زیاتیاں ہو رہی ہیں جو نا انصافیاں ہو رہی ہیں ان کا خاتمہ کرنے کے لیے تحریک لبیک پاکستان سیاست میں آئی اور ختم نبوت ؐ پر ڈٹ کر کھڑی ہے ان شاء اللہ تعالی’ ختم نبوت ؐ کا تحفظ اپنے سر کی بازی لگا کر کریں گے ہم گولی اور بندوق کی بنیاد پر سیاست نہیں کر سکتے کیونکہ سیاست کا مطلب عوامی خدمت ہے نہ کہ عوام کے پیٹ پر لات مارنا ہے نہ ہی عوام کو قبر کے سکون کا لیکچر دینا ہے۔۔کشمیری عوام نے آزادی کشمیر انتخابات میں اچھے نتائج دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیری عوام انتہائی اسلام پسند ہیں، آزاد کشمیر کے کشمیریوں نے پوری امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام اپنی پاور رکھتا ہے لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت جو تحریک لبیک کے ساتھ نا انصافیاں کر رہی ہے اس کی سزا ان کو بھوگتنی ہو گی۔۔ایک سوال کے جواب میں شوکت حسین مجددی صاحب کا کہنا تھا پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں،دھرنے دیتی ہیں، اپنا مشن پورا کرنے کے لیے سڑکوں پر آتی ہیں، طرح طرح کی بداخلاقی بے ہودہ قسم کی تقریبات کرتی ہیں، خواتین کو سڑکوں پر نچاتی ہیں لیکن انکو کالعدم نہیں کیا گیا ان کے قائدین، سربران کو نہیں گرفتار کیا گیا تو تحریک لبیک پاکستان جو صرف نظام رسول ؐ کے لیے نکلی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نظام لاگو کرنے کے لیے نکلی ہے اس کے ساتھ نا انصافیاں کی جا رہی ہیں بد ترین تشدد کیا جا رہا ہے۔ قائد محترم سعد رضوی صاحب کو گرفتار کیے ہوے ہے گرفتاری کی کوئی بھی ٹھوس وجہ سامنے نہیں لائی جا رہی۔۔آزاد کشمیر الیکشن میں ہمارے ساتھ بھی بہت ظلم ہوا ہے، ہمارے ووٹ چوری کیے گئے ہیں میرے 2000 سے زائد ووٹ تھے لیکن 791 ووٹ دکھاے گئے ہیں اصل ووٹ نہیں دکھاے گئے میں پھر بھی اپنی جگہ مضبوط ہوں ان شاء اللہ تعالی’ ہم نیک مقصد میں کامیاب ہوں گے۔کشمیر پر اپنا موقف بیان کرتے ہوے شوکت حسین مجددی کا کہنا تھا کشمیری بھائی بہنوں اور بچوں کے لیے ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں کرتے رہیں گے۔ 70 سالوں سے کشمیر میں ہونے والے ظلم کو تحریک لبیک پاکستان روکے گی فلسطین برما اور کشمیری مسلمان جو ہمیں پکار رہے ہیں کون ان کی مدد کرے گا؟؟ وہی کر سکتا ہے جو دین تحت پہ لاے گا۔مسلہ کشمیر کو سیاسی ہوس بنانے والے ہوش کے ناخن لیں مسلہ کشمیر کا پہلا حل حق خودارادیت اور دوسرا حل جہاد فی سبیل اللہ ہے ایک نئی بات گردش کر رہی ہے کہ آزاد کشمیر کو صوبے میں ضم کیا جا رہا ہے یہ صرف سیاسی ہتھیار ہے کشمیر کو ضم کرنا لے دے والی بات تحریک لبیک پاکستان کے منشور میں شامل نہیں ہم حق خودارادیت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور آگے کا فیصلہ کشمیری قوم کرے گی الحاق کریں یا خود مختار رہیں تحریک لبیک پاکستان کشمیریوں سے ہر گز شناخت نہیں چھین سکتی۔۔سوال کا جواب دیتے ہوے شوکت حسین مجددی نے یہ بتایا کہ میں نے اپنے حلقہ کے ہر پولنگ اسٹیشن کا وزٹ کیا ڈور ٹو ڈور کمپین نہیں کر سکے چونکہ وقت نہیں تھا اور بھی بہت معاملات تھے لیکن میں نے اپنے حلقہ چار میں دیکھا ہے ہر گھر میں جس کا نظریاتی ووٹ تھا وہ تحریک لبیک پاکستان کا تھا شاید کچھ لوگوں کی مجبوریاں تھیں جو ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے الحمد للہ نظریاتی طور پر حلقہ کی اکثریت تحریک لبیک کے ساتھ تھی اور ہے ۔۔پاکستان تحریک انصاف،، پیپلز پارٹی ،،ن لیگ اور مسلم کانفرنس کے نامزد امیدواروں اور کارکنوں کے ساتھ سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے طرح طرح کی افواہیں پھیلائی ہیں کہ تحریک لبیک نے ہمارے ساتھ اتحاد کر لیا ہے تحریک لبیک کالعدم جماعت ہے دہشت گرد جماعت ہے یہ مولوی ایسے ہوتے ہیں ویسے ہوتے ہیں بڑی جماعتوں نے بڑی کوشش کی کہ مولویوں کو راستے سے ہٹایا جاے لیکن الحمد للہ ہم ثابت قدم رہے اس پہ اللہ تعالی’ کا شکر ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالی’ نے ہمیں ثابت قدمی نصیب فرمائی ہے ہم میدان میں کھڑے رہے ہیں اپنے حلقے میں میرے مقابلے میں اسلامی جماعت کے بشیر اعوان صاحب تھے جماعت اسلامی نے کسی بھی موڑ پر ہماری مخالفت نہیں کی نہ ہی کھل کر حمایت کی جس پر ہم جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کرتے ہیں،،تمام ووٹروں سپوٹروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے تحریک لبیک پاکستان پر اعتماد کیا اپنا قیمتی وقت اور ووٹ دیے میں یقین دلاتا ہوں وہ وقت دور نہیں جب حضور کا دین تحت پہ ہو گا حضور ؐ نے ہمیں حق پرستی،،دیانت،،امانت،، صداقت،،شرافت ،، شرم و حیا اور سخاوت کا درس دیا تھا ان شاء اللہ ہم اس درس پر عمل کر رہے ہیں کرتے رہیں گے۔۔۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: