Today's Columns Zarar Jagwal

مظفرآباد، نادرا اور سائل کے مسائل از ضرار جگوال ( قلم کی جنگ )

Zarar Jagwal
Written by Zarar Jagwal

دنیا کا کوئی بھی ملک ہو اس میں رہنے والے ہر فرد کی پہلی ضرورت شناختی کارڈ یا شناختی نمبر ہے ، قومی شناختی کارڈ ہر شہری کو جاری کیا جاتا ہے۔ ہر شہری کو شناختی کارڈ جاری کرنا حکومت کا فرض اور شہری کا بنیادی حق ہے ، کشمیر میں رہنے کے ناتے ، پاکستان میں رہنے کے ناتے ہر کشمیری اور پاکستانی شہریوں کو اور بھی بہت سے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں جن کی فراہمی آئین فراہم کرتا ہے ۔ آزاد کشمیر و پاکستان میں {13} ہندسوں کے منفرد شناختی نمبرز کو ملک بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے ، بچے کی پیدائش کے بعد پہلا کام برتھ سرٹیفکیٹ اور ( ب فارم ) بنانا لازمی ہوتا ہے جس میں {13} ہندسوں پر مشتمل کوڈ ہوتا ہے {18} سال کی عمر تک { ب فارم} ہی بچے کی شناخت ہے لیکن { ب فارم } پر نہ آپ ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں ، نہ لائسنس لے سکتے ہیں ، نہ بینک اکاونٹ ، بجلی کنکشن حاصل کر سکتے ہیں بغیر شناختی کارڈ کے بیرون ملک سفر ، شادی ، اشیاء اور جائداد کی خرید و فروخت ، وراثت کی تقسیم عمر ، جنس ، قومیت اور مختلف دستاویزات ہم نہیں حاصل کر سکتے ، جب تک کوئی فرد {NDRA} سے جاری کیا گیا موثر قومی شناختی کارڈ نہیں حاصل کر لیتا / لیتی تو بہت سے بنیادی حقوق سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا / سکتی اور نہ ہی حکومتی مراعات ، ملازمت ، صحت کارڈ وغیرہ وغیرہ حاصل کر سکتا / سکتی ہے ۔۔ شناختی کارڈ بناوانے کا عام طور پر یہ طریقہ کار ہوتا ہے سائل سب سے پہلے ٹوکن لے گا ،، فیس کاؤنٹر پر فیس جمع کرؤاے گا ،، سائل کی تصویر ، انگلیوں کے نشانات اور دستخط لیے جائیں گے ، سائل کی مکمل معلومات لی جاے گی اور ایک فارم پرینٹ کر کے سائل کو دے دیا جاے گا ۔۔ فارم میں درج معلومات کا سائل نے مطالعہ کرنا ہے اگر سب کچھ درست ہو تو سکیل {16//17} کے افسر سے اپنی تصدیق کروانی ہے ، جو ڈاکومنٹ نادرا کی ڈیمانڈ ہیں ان کو اس فارم کے ساتھ ملائیں اور فارم واپس نادرا دفتر جمع کروا دیں جب کا نادرا عملہ نے کہا ہو گا ٹوکن لے جائیں شناختی کارڈ لے آئیں بس اتنا سا کام ہے ۔۔ لیکن نادرا آفس میں جا کر دیکھیں تو حالات کے اور بھی کئی رخ ہوتے ہیں جس تیزی سے آزاد کشمیر کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس تیزی سے زیادہ یہاں مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے آزاد کشمیر کے کئی اضلاع میں حصول شناختی کارڈ کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی ایک اہم بڑا مسلہ ہے، ہر روز شہریوں کی شکایات بھی تیزی سے گردش کرتی ہیں کہ شہریوں کو صحیح طرح گائیڈ نہیں کیا جاتا ، غیر ضروری اور بے بنیاد اعتراضات لگا کر شناختی کارڈ کے اجرا اور { ب فارم } کے اجرا میں تاخیر کی جاتی ہے ، میں تو کہتے کہتے دنیا چھوڑ جاؤں گا ہمارے سیاستدانوں کے پاس نہ درد دل ہے ، نہ کوئی مشن ، نہ دماغ تو ایسے حالات میں ان والدین کی حالت تو خراب ہونی ہے جو { ب فارم } کے لیے پہلے ایک ہفتہ ذھنی طور پر تیار ہوتے ہیں کم از کم چار مرتبہ لازمی طور پر نادرا کے آفس کے چکر لگانے ہوتے ہیں اس کے لیے دور دراز سے آنے والوں کو اچھے خاصے پیسوں کا بھی بندوبست کرنا ہوتا ہے اور صبح اگر 8 بجے نادرا آفس پہنچیں گے تو تب ہی انہیں دن دو بجے تک اپنے گاؤں کی گاڑی ملے گی اس لیے کبھی چکراتے ہیں تو کبھی نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہوے خاموش ہو جاتے ہیں ، لڑائی جھگڑے سے پرہیز بھی کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں پولیس کا کام کیا ہوتا ہے اور پولیس ہماری کر کیا رہی ہوتی ہے اول تو پولیس کا نام سن کر ہی لوگ گھبراتے ہیں مظفرآباد (پلیٹ) کی نادرا برانچ کے عملہ کو فیس کے ساتھ ساتھ دعا بھی دیتے ہیں لیکن اتنی بڑی عمارت کی بیسمنٹ میں جہاں سے سائل نے ٹکٹ لینا ہوتا ہے وہاں گھنٹوں لمبی قطار میں کھڑے رہنے کے بعد مایوس اور محروم گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔۔ مظفرآباد چھتر میں بھی نادرا آفس موجود ہے پھر بھی عوام در بہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں دراصل جس ریاست کے حکمران بے ضمیر اور بے درد ہو جائیں وہاں کی عوام بھی لاوارث ہوتی ہے۔ جب شہری بیسمنٹ میں جاتے ہیں ٹکٹ دینے والے کاؤنٹر سے پہلے آواز آ جاتی ہے خالہ / باجی / بھائی / چاچا لائین میں کھڑے ہو جائیں مختصر کرسیاں ہیں لیکن ہر کسی کے نصیب میں نہیں اپنی باری کا انتظار کرنے کے لیے سائل کو گھنٹوں کھڑا ہونا پڑتا ہے سائل کے ساتھ آے ہوے کو بیسمنٹ میں پانچ منٹ رکنے کی اجازت نہیں وہ آگ برساتے سورج شدید گرمی / شدید سردی میں باہر سڑک پر انتظار کرنے پر مجبور ہوتا ہے ، سائل لمبی قطار میں طویل انتظار کے بعد اپنی باری پر کاؤنٹر سے ٹکٹ وصول کرتا ہے ، بعض سائل کو ٹکٹ نہیں مل سکتا وہ مایوس ہو کر اپنے اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں راستے میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ہم شہری نہیں یا یہ شہر ہمارا نہیں صبح سویرے لائین میں دھکے کھانے کے بعد بوڑھوں / خواتین / نوجوانوں کا کیا حال ہوتا ہو گا اس کا اندازہ وہاں ہی کھڑے ہو کر لگانا آسان رہے گا۔۔ جو سائل ٹکٹ حاصل کر لیتا ہے وہ نادرا آفس کی انتظار گاہ میں اپنی باری کا انتظار کرتا ہے یہ انتظار گاہ خوبصورت اور آرم دا ہے جب سائل کو ٹکٹ نمبر کے مطابق کاؤنٹر پر آنے کی دعوت دی جاتی ہے تو سائل جلدازجلد کاؤنٹر پر تشریف رکھتا ہے لیکن سائل کے پاس کاغذات کی کمی ہونے کی وجہ سے اعتراض لگا کر سائل کو بھگا دیا جاتا ہے ، اگر سائل شناختی کارڈ {ب فارم } میں سے کسی غلطی کو درست کروانا چاہتا ہے تو عملہ کسی غلطی کو تسلیم کرنا یا درست کرنا گالی سمجھتا ہے ، اسٹاف شہریوں کو صحیح راہ نمائی نہیں کرتا جس کی بنا پر شناختی کارڈ میں غلطیوں کی شکایات ہوتی ہیں میں تمام سائل سے موبادنہ گزارش کر رہا ہوں نادرا آفس آنے سے پہلے ہلپ لائین نمبر 051111786100 یا دیگر کسی ذرائع سے نادرا کے نمائندہگان سے مشورہ و معلومات لے کر نادرا آیا کریں نادرا کے اسٹاف کو بھی شہریوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ سائل کو مکمل معلومات فرائم کرنی چاہیے سب سائل پڑھے لکھے نہیں ہوتے ، سب نادرا برانچ آفس کے پڑوسی نہیں ہوتے ، اور سب ویب سائڈ اور ہلپ لائین نمبرز پر معلومات حاصل نہیں کر سکتے اس لیے ضروری ہے ہر برانچ میں کاغذات چیک کرنے اور مشورہ دینے کے لیے عوام کے لیے نادرا کے نمائندہگان بٹھانے چاہیے یہ حکومت کا کام ہے حکومت کی آئینی زمہ داری ہے حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی آئینی و قانونی حقوق سے محروم کرنے کے بجاے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ و دفاع کرے ان کا اطلاق و نفاد یقینی بناے مگر افسوس کہ حکومتوں کی ترجیحات و توجہ کا مرکز ان کے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات و معاملات ہی رہتے ہیں۔۔
٭…٭…٭

About the author

Zarar Jagwal

Leave a Comment

%d bloggers like this: