Shahzad Hussain Bhatti Today's Columns

الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں نوجوان نرسوں کے ساتھ ی نگ ڈاکٹرز کی طرف سے حراسمنٹ کے واقعات از شہزاد حسین بھٹی

الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں نوجوان نرسوں کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے حراسمنٹ کے واقعات روزکا معمول بنتے جار ہے ہیں، اس سارے کھیل میں ہسپتال کے نان پروفیشنل ایڈمن افسران پیش پیش ہیں۔ہسپتال میں عدم توجہی،بدانتظامی،کرپشن اورگرمی کے باعث مریض رُل گئے۔ تفصیلات کے مطابق ہسپتال کی ایک نرس (ج ش) نے پرائم منسٹر پورٹل، وفاقی محتسب کشمالہ طارق، صوبائی محتسب پنجاب، پاکستان نرسنگ کونسل، اور صدر پاکستان کو ایک درخواست ارسال کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ عرصہ ۹ سال سے اس ہسپتال سے وابستہ ہے جبکہ اس سے پہلے وہ پاکستان آرمی، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، اور دیگر اداروں میں بطور نرس خدمات دے چکی ہے اور ۹۲ سالہ اپنے شعبے میں کیرئیر رکھتی ہے۔ اس کے مطابق اس ہسپتال کا نظام برباد کرنے میں نئے آنے والے ایڈمنسٹریڑ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا ہاتھ ہے۔ ہسپتال کو دی جانے والی زکوۃ اور دیگر فنڈز مریضوں کی فلاح کے بجائے ہسپتال میں بیٹھے نکمے سفید ہاتھی ایڈمن افسران پر لگ رہے ہیں۔ ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ایما پر سفارشی ینگ ڈاکٹر احسن رضا گلزاری کو ہسپتال کے وارڈوں کی دیکھ بھال پر لگایا گیا۔چوبیس مئی۱۲۰۲ سے اس ڈاکٹر نے چارج سنبھالا اس نے میڑن کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی اور لڑکیوں کے رسیا اس ڈاکٹر نے اپنی منظور نظر نرسوں کو من پسند جگہوں اور ڈیوٹیوں پر تعینات کرنا شروع کر دیا۔جب بھی میڑن یا دیگروارڈ انچارج ا ن لڑکیوں کی ڈیوٹی تبدیل کرتیں اُلٹا انہیں وارننگ اورجاب سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتیں اور تاکید کی جاتی کہ ان لڑکیوں کو کوئی کام نہیں کہنا۔ جب اس نرس نے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کیا تو اس کی ڈیوٹی تبدیل کر دی گئی۔ نرس سے اپنے ہسپتال کے صدر کو ای میل کی کہ اس ہسپتال میں سب اچھا نہیں ہے۔ صدر ہسپتال نے دودھ کے نگہبان بلے کے مصداق ایڈمن کے ایک افسر کے ماتحت تین رُکنی انکوائری کمیٹی قائم کی جس نے اُلٹا نرس کو ہی مورد الزام ٹھہرایا اور انکوائری کے بعد لالچ دی کہ اگر آپ استعفیٰ دے دیں توآپ کو تمام مراعات مل جائیں گی وگرنہ نوکری سے برخاست کر دیا جائے گا۔مذکورہ نرس نے ایک سوال پر بتایا کہ یہاں نوکری سے استعفی دینے والوں کوبقایا جات بھی نہیں دئیے جاتے اور بے چارے غریب ملازمین ہسپتال کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے ہیں اور ا نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے بقایا جات آن لائن کر دئیے گئے ہیں۔ مذکورہ نرس نے کہا ہسپتال منیجمنٹ ڈاکڑ کی طرف سے وارننگ، نوکری سے برخاستگی اور حراسمنٹ جیسی دھمکیوں کے خلاف ایکشن لینے کے اُلٹا مجھے گھر بھجوا رہے ہیں تاکہ آج جومعاملہ میرے ساتھ ہو رہا ہے کل وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہو۔ میں استعفی نہیں دوں گی جس پر اگلے دن مذکورہ نرس کو نوکری سے برخاستگی کا لیٹر بھیج دیا گیا۔ مذکورہ نرس سے جب اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال میں ایک مخصوص گروپ ہے جو بظاہر ایڈمنسٹریشن کا کام کرتا ہے لیکن یہ تمام افراد ہسپتال سے متعلقہ کسی شعبے کے ماہر نہیں لیکن یہ ڈاکٹروں کی جگہ ہسپتال کے وارڈوں کے دورے کرتے ہیں اور سارا سارا دن اس کی عاشقی معاشوقی کے ڈرامے چلتے ہیں۔ اس سارا کھیل ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکڑ اور ایڈمینسٹریڑ کے زیر نگرانی چلتا ہے۔مذکورہ نرس نے وزیر اعظم پاکستان، صدر پاکستان اور صوبائی وزیر صحت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی آزادانہ انکوائری کروائیں تاکہ ہسپتال کو پروفیشنلی چلایا جا سکے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے اس ہسپتال کے ایڈمن آفسیر اور ایک نرس کا اسکینڈل سامنے آ چکا ہے جس کے بعد دونوں کو ہسپتال سے نکال
دیا گیا تھا۔

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: