Muhammad Riaz Today's Columns

نیم حکیم خطرہ جان نیم ملا ں خطرہ ایمان از محمد ریاض ( امید سحر )

Muhammad Riaz
Written by Muhammad Riaz

یکم محرم الحرام کو بسلسلہ یوم شہادت امیر المومنین جناب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سوشل میڈیا پر درج ذیل پوسٹ کو وائرل ہوتے دیکھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ (” فرمایا اُٹھو بلالؓ! کعبہ کی چھت پہ چڑھ کے آذان دو۔یہ نہیں ہوسکتا عمرؓ اسلام لے آئے اور نمازچھپ کر ہو”)۔ تھوڑی سی تحقیق کے بعد پتا چلا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منسوب اس عبارت کو بغیر تحقیق کئے ہی پوسٹ کیا جارہا ہے اور تمام دوست احباب اس پوسٹ کے جواب میں ماشاء اللہ، سبحان اللہ، اللہ اکبر لکھ کر اپنے اپنے کمنٹس کررہے ہیں۔ وائرل ہونے والی پوسٹ کی عبارت کو اگر غور سے پڑھا جائے تو یہ عبارت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے قبول اسلام کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جب مسلمان چھپ چھپ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یاد رہے نمازوں کی فرضیت واقعہ معراج کے موقع پر ہوئی جو ہجرت سے کم و بیش ڈیڑھ سال پہلے ہوا۔ اورمشرکین مکہ کی شرارتوں سے بچنے کے لئے مسلمان سرعام نماز پڑھنے کی بجائے درارقم میں پوشیدہ طور پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ مگر ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمانوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی تھی تو نمازیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحاب وبارک وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے مشورہ سے آذان دینے کا حکم جاری فرمایا یعنی یہ بات تو طے شدہ ہے کہ مذہب اسلام میں نماز سے پہلے آذان دینے کا عمل مدینہ منورہ میں شروع ہوا اور جناب حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کو اسلام کے پہلے موٗذن ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اب آتے ہیں وائرل ہونے والی پوسٹ کے دوسرے حصہ یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قبول اسلام کے بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر آذان دینے کا کہنا۔ سیدھی سی بات کہ جب مذہب اسلام میں نماز کے لئے آذان دینے کا حکم مدینہ شریف کے اندر طے پایا تو حضرت عمر ؓنے کس طرح حضرت بلال ؓ عنہ کو کعبہ کی چھت پر آذان دینے کا کہا ہوگا؟ جبکہ عمر بن خطاب ؓ کا قبول اسلام کا واقعہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں ہوا تھا۔ اب آتے ہیں حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے واقعہ پر: عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر ؓکی یہ حدیث حسن صحیح ہے(ترمذی حدیث نمبر 3681)۔ پہلی بات کہ حضرت عمر بن خطاب ؓکے قبولیت اسلام کا واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے، دوسری بات نماز سے پہلے آذان کا حکم نبی کریم ﷺ کی مدینہ ہجرت کرنے کے بعد کا ہے۔روایات میں یہ بات ضرور ملتی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے قبول اسلام کے فورا بعد نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو سرعام مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کے لئے عرض کی اور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ چھپ چھپ کر نماز پڑھنے والے مسلمان حضرت عمر ؓکے قبول اسلام کے بعد سرعام خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کے لئے گئے۔بہرحال سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ کے بارے میں سوفیصد یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس پوسٹ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے حضرت عمر فاروق ؓ کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہ کرام ؓ میں ہوتا ہے یعنی جنکو جنت کی بشارت بذبان رسول اللہ ﷺ سے ملی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ پوسٹ کرنے والے عاشقان صحابہ جذبہ ایمانی اور جذبہ حب صحابہ کرام ؓسے لبریز ہو کرذوق در ذوق وائرل ہونے والی پوسٹ کے الفاظ کو اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر کاپی پیسٹ کرکے شئیر کررہے تھے۔مگر افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہم بغیر تحقیق کئے کسی بھی پوسٹ کو شئیر کردیتے ہیں۔آجکل یہ افسوسناک روایت چل نکلی ہے کہ ہم میں سے بہت سے مسلما ن محبت اور عشق میں مبتلا ہوکر بغیر تحقیق کئے کسی بھی پوسٹ کو شئیر کرنا شاید ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔صحابہ کرام ؓ کی ذات مبارکہ خصوصا حضرت عمر فاروق ؓکی ذات ہم جیسے گناہ گاہوں کی من گھڑت پوسٹوں اور بیانات کی محتاج نہیں ہے۔ ان حضرات صحابہ ؓ کے کیا ہی کہنے، سبحان اللہ۔ کیونکہ جن سے اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ راضی ہوں وہ شخصیات کسی کی جھوٹی تعریفوں کی محتاج نہیں ہوسکتیں۔ راقم نے اپنے پچھلے کالم ”سوشل میڈیا پر جنت کے ٹکٹوں کی تقسیم” میں بھی اس بات کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی کہ سوشل میڈیا کے دور میں نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام ؓاور اہل بیت ؓ سے جھوٹی اور من گھڑت روایات، قصے، بیانات کو منسوب کرکے نہ صرف ہم لوگ گناہگار ہورہے ہوتے ہیں بلکہ جھوٹ پھیلانے کا ذریعہ بھی بن رہے ہوتے ہیں۔ماہ صفر کے اندر سوشل میڈیا پر آپکو اک من گھڑت روایت دیکھنے کو ملے گی کہ فلاں فلاں تاریخ کو ماہ ربیع الاول کا آغاز ہورہا ہے اور حدیث کے مطابق ماہ ربیع الاول کی خوشخبری دینے والے کو جنت کی بشارت ہے (اللہ معاف کرے یہ من گھڑت کسی حدیث سے ثابت نہیں)۔بظاہر ہم اس طرح کی پوسٹوں کو شئیر کرکے ثواب کمانے اور جنت کے امیدوار بن رہے ہوتے ہیں مگر نعوذباللہ خدانخواستہ ہم گناہ گار نہ ہورہے ہوں۔ اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ مذہب اسلام اور اکابرین اسلام سے عشق، محبت اور جذباتیت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن مذہب اسلام ہی میں جھوٹی اور من گھڑت باتوں کی روک تھام کے لئے تعلیمات بھی موجود ہیں، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ: ”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے“۔ (سورۃ الحجرات) اور اس طرح نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ بھی ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے“(صحیح مسلم)۔اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے (میرے علاوہ) کسی ایک (عام آدمی) پر جھوٹ بولنا ہے، جس نے جان بوجھ کر مجھ پرجھوٹ بولا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے (صحیح مسلم حدیث نمبر 5)۔ آخیر میں تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی بات کو قرآن و حدیث سمجھ کر فورا شئیر مت کردیا کریں، سب سے پہلے پوسٹ میں درج بات کے بارے میں مکمل تحقیق کرلیا کریں پھر اسکو شئیر کرلیا کریں۔ یہ نہ ہو کہ ہم جنت کے امیدوار بنتے بنتے جہنم کے حقدار نہ بن جائیں۔ شائد اسی لئے بڑے بزرگ یہ بات کہ گئے ہیں کہ ”نیم حکیم خطرہ جان نیم ملاں خطرہ ایمان”۔ اللہ کریم ہم سب کے حال پر رحم فرمائے ا ور اللہ، اللہ کے پیارے رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے پکی سچی محبت نصیب فرمائے اور ہمیشہ سچ بولنے،سچ لکھنے اور سچ کو پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین نوٹ: بندہ ناچیز اس تحریر میں کسی بھی قسم کی لفظی و معنی کی غلطی، قرآن و حدیث کے حوالہ نمبر، ترجمعہ، پرنٹنگ کی غلطی کا اللہ کے ہاں معافی کا طلبگار ہے۔

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Riaz

Muhammad Riaz

Leave a Comment

%d bloggers like this: