بے نظیر بھٹو … پاکستان کا روشن چہرہ

محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ وہ اندراگاندھی سے بڑی لیڈر ہوں گی اور تاریخ نے یہ ثابت کیا۔ عالم اسلام میںمحترمہ بے نظیر بھٹو کی مثال ڈھو نڈنا ناممکن ہے۔ وہ پاکستان کا روشن چہرہ اور اسلام میںخواتین کے اعلیٰ مقام کی مضبوط دلیل تھیں۔ خواتین کے حقوق کے علمبردار امریکہ کی جمہوری تاریخ میں آج سے 96سال قبل خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہوا اور نومبر2016ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں لہٰذا کسی خاتون کا امریکی صدر بننے کا خواب شر مندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس پاکستان کو اپنے قلیل جمہوری دور میں یہ اعزاز حاصل ہے عوام نے آج سے تقریباً 29سال قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کو نہ صرف پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا بلکہ انہیں عالم اسلام کی پہلی خاتون سربراہ حکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
یوں 2دسمبر1988کو پاکستان ‘بے نظیر پاکستان‘‘قرار پایا اور خواتین کو اعلیٰ مقام دینے میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ محترمہ کی حلف برداری کے یادگار لمحات جمہوریت پسندوں کے خوابوں کی تعبیر تھے۔ بی بی پاکستانی پرچم کے سبز اور سفید رنگوں پر مشتمل لباس پہنے ایوان صدر میں چکا چوند روشنی میں سرخ قالین پر چلتے ہوئے تاریخ رقم کر رہی تھیں، یہ تاریخی لمحات اُن سب کے تھے جنہوں نے جمہوریت کی خاطر بیش بہا قربانیاں دی تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی خود نوشت ‘دختر مشرق‘‘ ان لمحات کا ذکر کچھ یوں کرتی ہیں۔
‘پاکستان کے عوام نے ایک خاتون وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہوئے ہر قسم کے تعصب کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ شاندار عزت افزائی اور بے بہا ذمہ داری تھی۔ میرے لئے اس عہدہ کا حلف اٹھانا ایک جادوئی حقیقت تھا۔ میں قسمت کی قوتوں کو یاد کر رہی تھی جنہوں نے مجھے اس عہدہ پر اس جگہ اور اس وقت براجمان کیا تھا۔ مجھے وہ سب یاد آئے جو مجھ سے پہلے یہاں آئے جنہوں نے مصائب جھیلے ، مار کھائی، جلا وطن ہوئے اور متعدد تھے جو جمہوریت کی خاطر قتل کر دئیے گئے اور خصوصی طور پر میرے والد ۔ میں نے اس کردار کو نہیں چنا تھا اور اس ذمہ داری کی کبھی خواہش نہیں کی تھی لیکن تقدیر اور تاریخ کی قوتوں نے مجھے آگے دھکیل دیا تھا اور میں اس عزت افزائی پر حیران تھی۔ میرے انتخاب کا عالم اسلام پر بہت اثرا ہوا۔ گمنام قدامت پرست جو ایک عورت کے کردار کو گھر کی چار دیواری تک محدود کرنے پر تلے ہوئے تھے بری طرح شکست کھا گئے۔ پاکستان اور پوری دنیائے اسلام ایک نئے حوصلہ افزا نظام کی دہلیز پر کھڑی تھی جہاں جنسی مساوات ایک حقیقت بن گئی تھی۔ ڈکٹیٹر ضیاء نے میری ایک پرانی دوست کو ایک سال قبل بتایا تھا کہ ‘بے نظیر کو زندہ رہنے دینا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی‘‘۔ میں نے دیکھا کہ میری پوزیشن اور میرا کردار میری تقدیر کا حصہ تھے۔ میرے انتخاب نے خواتین کو طاقت بخشی، اسلام کو ایک معتدل مذہب کے طور پر پیش کیا اور پاکستان کے لوگوں کو زندگی کی نئی امید دلائی۔ میری کامیابی افغانستان سے روسی افواج کی پسپائی کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ نتیجتاً مزید تحریکیں معرض وجود میں آئیں اور بہت سی آمریتیں ختم ہو گئیں۔ بعدازاں مجھے متعدد عالمی رہنما ملے جنہوں نے بتایا کہ میری زندگی کے جیل کے ایام اور اس کے بعد عوامی جدوجہد نے انہیں بہت متاثر کیا‘‘۔
اس تاریخی واقعہ نے ثابت کیا کہ بے نظیر بھٹو واقعی بے نظیر ہے اور پاکستان کوئی معمولی ملک نہیں بلکہ ‘ بے نظیر پاکستان‘‘ ہے۔ ایک عورت کے لئے پاکستان جیسے ملک میں اس سطح کی جدوجہد کرنا آسان نہ تھا کیونکہ اس سے قبل بانی پاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ جبکہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد اس سیاہ ترین دور میں تھی جس میں ڈکٹیٹر ضیاء نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس معاشرہ کو رجعت پسند بلکہ انتہا پسند معاشرہ بنا دیاجائے۔ لہٰذا بے نظیر بھٹو کی جدوجہد زیادہ بڑا چیلنج تھا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ مردوں کے برابر ہے۔ اس کے لئے انہیں زیادہ جدوجہد اور زیادہ قربانی دینا پڑی۔ اس کی تربیت بی بی کو شروع ہی سے دی گئی ۔ محترمہ نے حضرت خدیجہؓ الکبریٰ اور حضرت زینب بنت علی کو ہمیشہ اپنا مشعل راہ بنایا۔ مردانہ غلبہ کے اس معاشرہ میں باوقار طریقہ سے جدوجہد کے اسلوب بی بی نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو سے سیکھے اور بے نظیر بھٹو کا اعتماد ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا دیا ہوا تھا۔ جنہوں نے اپنے خاندانی اصولوں سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو تعلیم سے آراستہ کیا اور انہیں اپنے بیٹوں کے مساوی حقوق دئیے بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے ہمیشہ قیادت کے لئے تیار کیا۔ در حقیقت محترمہ بے نظیر بھٹو کی نامزدگی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 21جون 1978کو اپنے خط میں بی بی کو سالگرہ کی مبارکباد ان الفاظ میںدی ‘میری پیاری بیٹی میں تمہیں صرف ایک پیغام دینا چاہتا ہوں یہی تاریخ کا پیغام ہے کہ صرف عوام پر بھروسہ کرو ان کی بھلائی اور مساوات کے لئے کام کرو۔ میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے تمہیں کیا تحفہ دے سکتا ہوں جہاں سے میں اپنا ہاتھ بھی باہر نہیں نکال سکتاآج میں تمہارے ہاتھ میں عوام کا ہاتھ دیتا ہوں‘‘۔
بھٹو کی 24سالہ بے نظیر بیٹی نے عوام کے حقوق کا بیڑا اٹھا لیا۔ جدوجہد کا یہ راستہ انتہائی کٹھن تھا۔ سٹیٹس کو کی تمام قوتیں نہتی لڑکی کے خلاف یکجا ہوگئیں۔ جرأت کا مقابلہ بندوق سے تھا ، جہل کا مقابلہ شعور سے تھا۔ تاریکی کے خلاف روشنی کی جنگ تھی اور قوم بے نظیر کے سنگ تھی۔
روشنی سے ڈرنے والے ظلمت کی تاریک رات کو طویل کرنے کے خواہاں تھے مگر عظیم جدوجہد کی قیادت بے نظیر تھی اور جمہور ہر قربانی دینے پر کمربستہ ۔ پھانسی کے منتظردو نوجوان جیالے ادریس طوطی اور عثمان غنی کال کوٹھڑی میں سگریٹ کے پیکٹ سے نکلنے والے سنہرے کاغذ سے بے نظیر کے لئے تاج بنا رہے تھے۔ دراصل وہ عوامی راج کے خواب بُن رہے تھے۔ گلیوں اور چوراہوں میں اہل جنوں نعرے بلند کر رہے تھے’وزیر اعظم بے نظیر ‘‘ یعنی وہ شہید بھٹو کی نامزدگی کی تصدیق کر رہے تھے۔ اور پھر آواز خلق نقارہ خدا بن گئی۔ سیاہ رات کا خاتمہ ہوا ۔
شہید بھٹو کی نامزدگی کی جمہور نے ووٹ کے ذریعہ منظوری دی، عوام الناس نے تاج حکمرانی بے نظیر کے سر پر رکھا اور نعرہ حقیقت بن گیا’وزیر اعظم بے نظیر‘‘آج پاکستانی فخر کرتے ہیں کہ جو بے نظیر فیصلہ انہوں نے آج سے 29سال قبل کیا وہ امریکی عوام کے لیے آج بھی ایک خواب کی مانند ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: