Mir Afsar Aman Today's Columns

اسیسواں(۸۰)یوم تاسیس جماعت اسلامی از میر افسر امان ( مشرقی اُفق )

Mir Afsar Aman
Written by Mir Afsar Aman

۲۶ ؍اگست ۲۰۲۱ء کو جماعت اسلامی کا اسیواں(۸۰) یوم تاسیس ہے۔جماعت اسلامی ایک ایسی اسلامی نظریاتی سیاسی جماعت ہے جن نے امت مسلمہ کو اُس کابھولا ہوا سبق یاد کرایا۔ وہ بھولا ہوا سبق دنیا میں اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کا ۱۹۴۱ء میں لاہور شہر میں پچھتر(۷۵) افراد اور پچھتر( ۷۵) روپے ۱۴؍ آنے کے اثاثے سے آغاز ہوا۔اس کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۲۶ ؍ اگست ۹۷۰ ء میں اپنی ایک تقریر جو’’جماعت اسلامی کے ۲۹ سال‘‘ کتاب کی شکل میں شائع ہوئی۔ جماعت اسلامی کے قیام کے متعلق فرماتے ہیں’’دراصل یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا کہ کسی شخص کے دل میںیکایک یہ شوق چرایا ہو کہ وہ اپنی ایک جماعت بنا ڈالے اور اس نے چند لوگوں کو جمع کر کے ایک جماعت بنا ڈالی ہو، بلکہ وہ میرے ۲۲ سال کے مسلسل تجربات، مشاہدات، مطالعے اور غور و خوص کا نچوڑ تھا جس نے ایک اسکیم کی شکل اختیار کی تھی اور اسی اسکیم کے مطابق جماعت اسلامی بنائی گئی تھی‘‘ جماعت اسلامی نے ملک پاکستان اور دنیا میں مدینہ کی اسلامی ریاست جیسی ’’حکومت الہیّا‘‘ قائم کرنے کا بیڑا اُٹھا۔ سید مودودی ؒ نے جماعت اسلامی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقعہ پر کہا تھا’’ قرآن اور حدیث کی دعوت کولے کر اُٹھو اور ساری دنیا پر چھا جائو‘‘ اس کے کارکن ہر سال یہ ہی سبق یاد رکھنے کی غرض سے جماعت اسلامی کا یوم تاسیس مناتے رہتے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ وحی کی روشنی کے تحت رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مدینہ کی اسلامی فلاحی جہادی ریاست وجود میں آئی۔ سارا عرب شرک اور دوسری خرابیوں سے توبہ کر کے اسلام کے بابرکت نظام میں آ گیا۔ اللہ کے رسول ؐ نے اللہ کی منشا اور اللہ کے احکامات کے مطابق ایک رول ماڈل انسانوں کے سامنے پیش کر دیا ۔ اسی رول ماڈل پر چلنے میں دنیا کی فلاح ہے۔اس میں مسلمانوں کے آپس کے معاملات غیر مسلوں،جن میں یہود و نصارا،مجوسی ،صابی اورمشرکوں سے ڈیل کرنے کے طریقے بیان کر دیے گئے۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسولؐ اللہ نے ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کے اجتماع میں انسانیت کو آئیدہ ا لائحہ عمل بھی بتا دیا۔رسول ؐ اللہ نے پہلے اللہ کی کبریائی بیان کی پھرفرمایا جاہلیت کے تمام دستور میرے پا ئوں کے نیچے ہیں،عربی کو عجمی سفید کو سیاہ پر کوئی فضلیت نہیں مگر تقویٰ،مسلمان بھائی بھائی ہیں،جو خود کھائو غلاموں کو کھلا ئو ،جاہلیت کے تمام خون معاف،سود پر پابندی،عورتوں کے حقوق،ایک دوسرے کا خون اور مال حرام،کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی تاکید،حقدار کو حق،لڑکا اس کا جس کے بستر پر پیدا ہوا، اس کے بعد ایک لاکھ چالیس ہزار انسانوں کے سمندر کو آپ ؐنے فرمایا میر ے بعد کوئی بنی ؑ نہیں آنا ہے۔ اللہ کی عبادت کرنا پانچ وقت کی نماز رمضان کے روزے زکوٰۃ اللہ کے گھر کا حج اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا جنت میں داخل ہو گے ۔تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے صحابہ ؓ نے کہا آپؐ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور حق ادا کر دیا۔یہ سن کر رسولؐ اللہ نے شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا اے اللہ آپ بھی گواہ رہیے۔اس خطبے کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا‘‘ (المائدہ۔۳)۔ مدینہ کی اسلامی ریاست مسلمانوں کے لیے رول ماڈل ہے۔ اسے خلفائے رشدینؓ نے اسی طریقے سے چلایا ۔ جیسے رسولؐ اللہ نے متعین کیا تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے عہد میں روم اور ایران یعنی قیصر اور کسرا کو شکست ہوئی۔
مگر اس کے بعد اُس وقت خرابی پیدا ہوئی جب خلافت ملوکیت میں تبدیل کر دی گئی۔ اس کو بانیِ جماعت اسلامی سید مودددیؒ نے اپنی مشہورکتاب ’’ خلافت و ملوکیت‘‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید موددودیؒ نے کافی سوچ بچار اور گہری فکر کے بعد سوچا ،کہ مسلمانوں کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ پھر سے اپنی اصل سے جوڑ جائیں۔ ظاہر ہے یہ کام مشکل ہے۔ مگر مطلوب بھی یہ کام ہے۔جماعت اسلامی عوام سے وہی کہتی ہے جو قرآن کے احکامات ہیں۔جماعت اسلامی کہتی ہے ،شرک کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ جماعت اسلامی حکومت الہیٰا قائم کرنے میں کسی سے اجر نہیںمانگتی۔ اس کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ جماعت اسلامی امین ہے۔ کرپشن سے پاک ہے۔ ا ب تو اس کی صدیق پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی کر دی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری پیغمبر ؐ ہیں اور یہ دین آخری دین ہے۔ قیامت تک نہ کوئی نیا نبی ؑآئے گا نہ نیا دین آئے گا۔ اب اس دین کو دوسری قوموں تک پہنچانے کا کام امت محمدی ؐ کرے گی۔ لہذا ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال ٹھیک کریںاسلام کے دستور میں جتنی بھی انسانوں کی خواہشات داخل کر دی گئیں ہیں انہیں ایک ایک کر

کے اپنے دستو ر عمل سے نکال دیں اور اپنے ملکِ پاکستان میں ’’حکومت الہیّا‘‘ جس کو نظام مصطفیٰ یا اسلامی نظام(جو بھی نام ہو) اس کو قائم کریں۔ اور اس بابرکت نظام کو ساری دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں۔ حکومت الہیّا کے دستور کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ جنت کے حق دار بنیں ۔ جہنم کی آگ سے نجات پائیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جنت میں داخل ہوں جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ جہاں نہ موت ہو گی نہ تکلیف ہو گی۔ اللہ مومنوں سے راضی ہو گا۔ اور یہی کامیابی ہے۔
اس سال ۲۰۲۱ء کی طرح جماعت اسلامی کے یونٹ ہر سال سال اپنے اپنے طورپر جماعت اسلامی کا یوم تاسیس مناتے ہیں۔ ایک یوم تاسیس کے موقعہ پر شہر راولپنڈی میں جماعت اسلامی پاکستان کے جرنل سیکر ٹیری امیر العظیم صاحب ،جو اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ رہ چکے ہیں اور نوجوان ہیں اور سیاست کے دائو پیچ سے اچھی طرح واقف ہیں کہا کہ یہ خوش آیند بات ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کو مرکزی قیادت اسلامی جمعیت طلبہ ہی فراہم کر رہی ہے۔ مثلاًسابق امیر سید منور حسن صاحب، موجودہ امیر سراج الحق صاحب،موجودہ سیکر ٹیری جرنل امیر العظیم صاحب، موجودہ نائب امیر لیاقت بلوچ صاحب،موجودہ نائب امیر سید راشد نسیم صاحب وغیرہ ،سارے صاحبان اپنے اپنے وقتوں میںاسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم ا علیٰ رہ چکے ہیں۔ یہ حضرات پاکستان کے چپے چپے سے واقف ہیں۔انہوں نے اپنی جوانیاں اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے وقف کی ہوئی ہیں۔ ماشاء اللہ نوجوان اور تازہ دم ہیں۔ان ہی سے کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سید مودودیؒ نے رسالے ترجمان القرآن کے ذریعے مسلمانوں کو سبق یاد کرایا۔ اسکے لیے رسالہ ترجمان القرآن میں مضامن شائع کرنے کا سلسلہ جاری کیا۔ مسلمانوں میں مغربی سوچ کو زائل کرنے کی کوشش کی۔مولانا مودودیؒ علامہ اقبالؒ کی خواہش کے مطابق حیدر آباد دکن سے نے۱۹۳۸ء میں پٹھان کوٹ پنجاب منتقل ہوئے۔ ۱۹۴۷ء تک پٹھان کوٹ جمال پور میں رہے اورپاکستان بننے کے بعد اس کو اسلامی کی بنیاد پر چلانے کے لیے اسلامی لٹریچر اور کارکن تیار کیے۔۱۹۴۷ء میں پاکستان بنا تو جماعت اسلامی نے تعلیم اداروں، فیکٹریوںاورسیاست میں سیکولرسٹو ںاور کیمونسٹوںکو شکست فاش دی۔ اسلامی آئین میں قراداد مقاصد شامل کروائی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں موجودہ اسلامی آئین منظور ہوا۔جماعت اسلامی کے سیکرٹیری جنرل امیر اعظیم نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ جماعت اسلامی کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ اپنے بچوں اور خاندان کو اس سے روشناس کرائیں اور اسے پھیلائیں۔ جماعت اسلامی کے ایک سدا بہارکارکن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جب اللہ کو پیارے ہوئے تو ان کے ایک دوست نے ان کے بچوں سے کہا کہ با با جی کی ایک پوٹلی ہمارے ہاںہے اُسے لے جائیں ۔ جب پوٹلی کو کھولا گیا تو اس میں جماعت اسلامی کے پمپلٹ اور کچھ اعانت کاحساب کتاب نکلا تھا۔ہمیں ایسی پوٹلیاں چھوڑ کے جانا چاہیے نہ کہ جائیدادیں۔اس لیے جماعت اسلامی کے لٹریچر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔سیدمودودیؒ نے اسلام کی طاقت سے خدا بیزار کیمونسٹ سویٹ یونین کو ماسکو، سرمایہ درانہ نظام کے حامی امریکا کو واشنگٹن اور لندن اور قومیت کے پرچارک کو جرمنی میں چیلنج کیا۔ کیمونسٹ روس توختم ہوا۔ اب سرمایادارانہ نظام کی باقیات کو ختم ہو نا ہے ۔ پھررہے گا نام اللہ کا!۔
صاحبو!ہمارے پڑوسی برادر مسلمان ملک میں افغان طالبان نے چالیس(۴۰) نیٹو صلیبی فوجوں کو جہاد کی مدد سے شکست فاش دے کر اپنے ملک سے نکال دیا ہے۔ اب افغانستان میں پھر سے اسلامی امارت افغانستان کا اعلان کر دیا ہے جماعت اسلامی پاکستان بھی طاقت ور پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔ کئی شعبوں میں ترقی کرتی ہوئے، اپنے جاندار اسلامی نظام زندگی کے بیانیہ ، اپنے تعین کردہ ا یجنڈے اور اپنے جھنڈے کے تحت ماس موومنٹ بن کر انتخابی مورچہ بھی فتح کر لے گی۔ اس ہم جماعت کے ان ساتھیوں جو کسی بھی وجہ سے الگ تھلگ ہو گئے ہوں ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اب جب جماعت اسلامی نے اپنے بیانیہ،اپنے منشور اور اپنے جھنڈے تلے الیکشن میں حصہ لینے کا واضع اعلان کر دیا ہے۔ تو اب یک سوہو کر جماعت اسلامی کے نمایندوں کو ملک میں جاری کنٹونمنٹ کے الیکشن میں کامیاب کرانے کے لیے سر ددھڑ کی بازی لگا دینی چاہیے ۔ہم عوام سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ کرپشن سے پاک اور اسلامی نظام ِ حکومت قائم کرنے والی جماعت اسلامی کے نمایندوں کو کنٹونمنٹ کے الیکشن میں کامیاب کرائیں ۔ ہی یوم تاسیس کا پیغام ہے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔

٭…٭…٭

About the author

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

Leave a Comment

%d bloggers like this: