Orya Maqbool Jan Today's Columns

بند گلا (Closed Collar) از اوریا مقبول جان ( حرفِ راز )

Orya Maqbool Jan
Written by Orya Maqbool Jan

عامر خاکوانی کا قلم بہت حساس ہے اور ایسا قلم وہ نشتر ہوتا ہے جو بہت سے پوشیدہ مسائل کی نشاندہی کرتا رہتا ہے۔ یہ مسائل اس اُبلتے ہوئے بدبودار گٹر کی طرح ہوتے ہیں جن پر ہم نے شاندار خوشنما ڈھکن رکھے ہوتے ہیں، چونا لگایا ہوتا ہے ،دو تین گملے رکھ کر اُبال اور بدبو کا راستہ بھی روک رکھا ہوتا ہے، مگراُبال اور بدبوتو بہر حال جاری رہتی ہے۔ انہوں نے اپنے کل کے کالم میں یوں تو بچوں کے سکول یونیفارم میں لازمی ٹائی کی اذیت سے بات شروع کی مگر انکی گفتگو ہماری منافقت اور مغربی تہذیب کی مرعوبیت تک جا نکلی۔ خاکوانی کے کالم سے پاکستان ہی نہیں بلکہ لاتعداد ملکوںکے منافقانہ ’’جدید‘‘ معاشروں میں لباس کی موزونیت کے لیئے ایک لفظ شدت سے یاد آگیااور اس لفظ کی اذیت نے گذشتہ چالیس سال کے تلخ تجربوںکی پٹاری میرے سامنے کھول کر رکھ دی۔ یہ لفظ جسے لباس کی موزونیت کیلئے’’بند گلا‘‘ (Closed Collar)کہتے ہیں۔ یہ تومیری خوش بختی ہے کہ میں نے ایک ایسے سکول میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی ہے جہاں ٹاٹ بچھے ہوتے تھے اور موسم کے اعتبار سے پسینہ جذب کرنے والے ملیشیاکی شلوار قمیض کا یونیفارم پہنا ہوتا تھا، جس کا کالر پکڑ کر اگر ہم ہلاتے تو تھوڑی سی ہوا بھی ہمیں تازگی کا احساس دلاتی۔ کارکردگی کے اعتبار سے بھی یہ ایم سی پرائمری سکول گجرات، کسی دوسرے سکول سے کم نہیں تھا۔ صرف میری ایک کلاس سے تین لوگوں نے سول سروس کا امتحان پاس کیا ۔ میں اور سیرت اصغر جوڑا ڈی ایم جی میں آئے اور فیڈرل سیکرٹری تک پہنچے، جبکہ جاوید اقبال رانا، کمشنر انکم ٹیکس ہوتے ہوئے انتقال کر گئے ،ورنہ چیئرمین ایف بی آر تک جا نا اس ذہین آدمی کے لیئے مشکل نہ تھا۔ یہ بتانا اس لیئے ضروری خیال کیا کہ ظاہری لباس اور فرنیچر کسی اچھے استاد اور بہتر تعلیمی ماحول کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔’’بند گلے‘‘کا پہلی دفعہ سخت اور اذیت ناک تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب میں سول سروس اکیڈیمی میں تربیت کے لیئے پہنچا۔ اعلیٰ آفیسر بننے والے نوجوان کو لباس سلوانے کے لیئے اس وقت تین ہزار روپے الاؤنس دیا جاتا تھا اور ساتھ ہی ایک فہرست بھیج دی جاتی کہ یہ سب سلوا کر ساتھ لائیں۔ ان میں سے اہم چیز سات بٹنوں والی ’’سیاہ شیروانی‘‘ (Sherwani with seven buttons)تھی۔ شیروانی اس لیئے کہ ہم نے 1984ء میں ضیاء الحق کے زمانے میں سول سروس اکیڈیمی کا رخ کیا تھا، ورنہ ہم سے پہلے اس ’’بند گلے‘‘ کی پابندی کے لیئے کوٹ اور ٹائی لازم ہوتی تھی۔ جیسے ہی اس سیاہ شیروانی کو میں نے لاہور کی گرمی میں زیب تن کیاتو خود کو نہایت ناآسودہ محسوس کیا۔ ’’بند گلا‘‘ (Closed Collar) انگریز کا عطا کردہ لباس ایک ایسی علامت ہے جس سے ہماری غلامانہ ذہنیت کی تاریخ وابستہ ہے۔ آپ پرانے سرداروں، وڈیروں، تمن داروں اور انگریز کے وفاداروں کی تصویریں دیکھ لیں، شلوار قمیض پر ٹائی لگائی ہوگی اور اوپر پگڑی پہنی ہوگی۔پوری دنیا میں اس ’’کلوزڈ کالر‘‘ یا بند گلے کا اطلاق آج کے کارپوریٹ کلچر میں بھی اس شدت سے ہے کہ گرم ترین ممالک کے بینکوں میں بھی جہاں پنکھا تک مشکل سے میسر آتا ہو، ملازمین آدھے بازو والی قمیض پر ٹائی باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹائی کی مخالفت مذہبی افسانے کے طور پر ہے، تہذیبی غلبے کی وجہ سے نہیں۔جہالت کی وجہ سے ٹائی کو صلیب سے مشابہت دیکر ایک خاص مذہبی طبقے نے اس سے نفرت کا سامان پیدا کیا، حالانکہ ٹائی تو چین کی ٹیرا کوٹا (Terracotta)آرمی کے مجسموں نے بھی پہنی ہوئی تھی جو 221قبل مسیح پرانے ہیں۔ یعنی اسوقت تک نہ حضرت عیسیٰ ؑ اس دنیا میں آئے تھے اور نہ انہیں صلیب دی گئی تھی۔ یہی وہ جہالت ہے جس کے تحت ہمارے ہاں انگریز کا دیا ہوا نظامِ تعلیم نظام عدل و انصاف اور نظام حکومت سب پر خاموشی ہے، مگر ٹائی حرام ہے۔اصل میں ’’کلوزڈ کالر‘‘ کا تصور مغربی تہذیب کی علامت کے طور پر قابلِ نفرت ہونا چاہیے تھا جس نے آج تک ہمیں غلام بنا رکھا ہے۔ اس ’’بند گلے‘‘ کی وجہ سے جھیلی جانے والی اذیتوں اور مغربی لباس کی سختیوں کے ہزاروں ایسے واقعات ہیں جو اگر تحریر کروںتو شاید پورا سال کام لکھتا رہوں، لیکن ایک واقعہ ایسا ہے کہ آج بھی یاد آتا ہے توپورے جسم میں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اسوقت بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور وہ صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کی حالتِ زار درست کرنے کے لیئے طوفانی دورے کرتے تھے۔ میں چونکہ ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر تھا اس لیئے مجھے قیدیوں کو فوری امداد کے لیئے ساتھ رکھتے۔ ان دنوں وہ اکثر کہتے کہ میں جولائی کے مہینے میں تم سب کو جعفرآباد جیل لے جاؤں گا۔ جعفرآباد، سبی اور جیکب آباد کے درمیان ایک شہر ہے ،جہاں گرمی اپنی انتہا کو ہوتی ہے۔ جعفرآباد کی جیل کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ ایک بڑا سا پنجرہ ہے جس پر دس فٹ کی بلندی پر ٹین کی چھت ہے۔ گرمیوں میں دھوپ سے کھولا دینے والی تپش قیدیوں کے لیئے جہنم کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ جولائی 2000ء میں ہمارا قافلہ جعفرآباد پہنچا۔ جیل انتظامیہ نے جیل کے پنجرے سے باہر برف کے بلاک رکھے ہوئے تھے اور ان کے پیچھے پنکھوں کی ہوا ٹھنڈی ہوکر قیدیوں تک پہنچ رہی تھی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سب سے پہلے اس ’’عالی شان‘‘ خصوصی اہتمام کا خاتمہ کروایا، پھر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو لے کر عین گیارہ بجے اس ٹین کی چھت والی جیل میں داخل ہوگئے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم پر جہنم کے دروازے کھول دیئے گئے ہوں۔ لیکن اس واقعے کی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کالاسوٹ اور ٹائی لگا کر کئی گھنٹے تک ایک ایک قیدی سے اس کی شکایات سنتے رہے اور ماتھے پر بل تک نہ لائے۔ ان کی اندرونی اذیت یا سکون کا تو مجھے اندازہ نہیں لیکن اس ’’کلوزڈ کالر‘‘ کے مروجہ عذاب کا مجھے اس دن اندازہ ہوا۔ اس سے زیادہ حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب وہ بحیثیت چیف جسٹس سپریم کورٹ ،ججوں اور وکیلوں کے اس ’’مکروہ‘‘ لباس کو سپریم کورٹ رولز کے تحت بدل سکتے تھے مگر وہ ایسا نہ کرسکے۔ ہماری تمام تر تہذیبی روایت کو جس طرح انگریز کا غلام بنایا گیا ہے، اس کیلئے انگریز نے ہر سطح پر اس کا بندوبست کیا تھا۔ہمارے نصاب کی کتابوں میں پینٹ کوٹ پہنے ہوئے ’’عظیم‘‘ کرداروں کی تصویریںہیں اور کارٹونوں تک میں مغربی لباس ہوتا ہے جبکہ منفی اور دقیانوسی اور فرسودہ کرداروں کے لیئے شیخ چلی جیسی پگڑیاں اورلبادے۔ یہ سب ایک بچے کے ذہن میں یہ تصور راسخ کرنے کے لیئے کافی ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ، مہذب، یہاں تک کہ قابلِ تقلید صرف مغربی لباس اور وضع قطع ہی ہے۔ وہ کارٹون تک میں ٹارزن دیکھتے ہیں جو جنگل میں رہتا ہو مگر صبح حجام سے شیو ضرور بنواتا ہے۔ ہماری مرعوبیت کا عالم یہ ہے کہ لندن کے کلبوں میںان دنوںدرجہ حرارت 15ڈگری سینٹی گریڈ ہے اوروہاں لوگ موسم کے اعتبار سے کالا سوٹ اور ٹائی پہن کر آتے ہیں جبکہ لاہور کے جم خانہ میں گرمی 45ڈگری سینٹی گریڈ پر ہے اور یہاں بھی کالا سوٹ اور ٹائی لازم ہے۔ یورپ کے سرد ممالک میں بھی بند گلا دفتروں، عدالتوں اور سکولوں میں پہنا جارہا ہے اور لاہور حیدرآباد اور کراچی کے گرم علاقوں میں بھی۔ اس تہذیبی مرعوبیت، نالائقی، نااہلی اور نقالی نے ہمارے قدیم رہائشی طریقے تک بدل دیئے ۔چھتوں پر سونے کی عادتیں ختم ہوئیں،بڑے صحنوں اور دالانوں کا ماحول ہم سے روٹھا، موٹی دیواروں اور اونچی چھتوں سے گرمی کا توڑ کرنے کی بجائے تنگ کمروں اور ایئرکنڈیشنوں کو رواج ملا ۔ یہ ’’بند گلا یا کلوزڈ کالر‘‘،اس تہذیبی زوال کی علامت ہے جس نے ہمیں اپنی زبان، تہذیب، اخلاق، اقدار یہاں تک کہ ماضی پر فخر کرنے سے بھی دور کر دیا ہے۔ بند گلے یا ’’کلوزڈ کالر‘‘ کے مقابلے میںسید الانبیائﷺ کی لباس پہنے کی سنت پر ایک حدیث کا مفہوم درج کر رہا ہوں، ’’آپ نے قمیض کو بحیثیت لباس پسند فرمایا اور وہی زیب تن فرماتے اور موسم کے اعتبار سے یا ویسے ہی کبھی اس کا گریبان بھی کھلا رکھتے‘‘ (عن ام سلمہؓ القمیص:ترمذی)۔ جو قوم لبا س پہننے کے لیئے گوروں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خود ہی جہنم بنالے، آپ ایسی قوم سے غیرت ، عزت اور حمیت کی توقع رکھتے ہیں۔۰

About the author

Orya Maqbool Jan

Orya Maqbool Jan

Leave a Comment

%d bloggers like this: