Siraj ul Haq Today's Columns

بیت المقدس، عالم اسلام اور اقوام متحدہ از سراج الحق

Siraj ul Haq
Written by Siraj ul Haq

رمضان کریم کی بابرکت اور ایک ہزار مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر میں جب پوری دنیا کے مسلمان عبادت و ریاضت میں مصروف تھے ۔فلسطین کے ہزاروں مسلمان بھی بیت القدس میں اپنے رب کے حضور سربسجود تھے کہ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا اور گولہ باری اور فائرنگ سے عبادت میں مصروف سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا۔مسجد کا صحن لاشوں اور زخمیوں سے بھر گیا اور فرش فلسطینیوں کے پاکیزہ خون سے لہو رنگ ہو گیا۔ اسرائیل نے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے غزہ کو کھنڈر اور ملبے کا ڈھیر بنادیا ۔دنیا میں میڈیا کی آزادی کے بڑے بڑے دعویدار وں کے سامنے غزہ میںکئی منزلہ عمارت کو میزائلوں سے تباہ کردیا گیا جس میں مختلف ملکوں کے درجنوں ٹی وی چینلز کے دفاتر تھے مگر مجال ہے اس اندھی گونگی اور بہری اقوام متحدہ پر کہ ایک بھی لفظ مذمت کا بولا ہو۔اسرائیل نے گیارہ روزہ جنگ میں ساڑھے تین سو نہتے فلسطینیوں کو میزائلوںکی بارش کرکے شہید کردیا ،جن میں سو سے زائدمعصوم بچے اور چالیس خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ہزاروں زخمی اور ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہیں۔ امریکہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کے خلاف چار بار مذمتی قرارداد کو روکا اور مسلسل اسرائیل کی سرپرستی کرتا رہا۔ امریکہ نے محض اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے جگہ جگہ جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔یواین او نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کی ،سلامتی کونسل میں سات کفن چوروں کا ٹولہ بیٹھا ہے ۔یواین او کا کردار مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ متعصبانہ رہا ہے ۔فلسطین اور کشمیر کے مسائل ابھی تک صرف اس لئے حل نہیں ہوسکے کیونکہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔اسلامی ملک کے حصے بخرے کرنے ہوں تو مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسے مسائل خود ہی پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر گھنٹوں میں حل ہوجاتے ہیں ۔عالم اسلام کے کمزور حکمران عالمی استعمار کی غلامی پر راضی ہیں۔یہ یہودیوں یا ہندوئوں کو نہیں بلکہ اپنے ہی عوام کو ڈراتے رہتے ہیں۔
بیت المقدس وہ مسجد ہے جس میں امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے حضرت آدم ؑ سے لیکر حضرت عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء کی امامت کی اور وہیں سے آپ ﷺمعراج شریف پر تشریف لے گئے ۔بعثت کے بعد آپ ﷺ ڈیڑھ سال تک مسجد اقصیٰ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اسی لئے اسے مسلمانوں کے قبلہ اول کی حیثیت حاصل ہے ۔یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کایہ دعویٰ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑان کی قوم سے تھے ۔یہودی حضرت ابراہیم ؑ یہودی اور عیسائی انہیں نصرانی کہتے تھے جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دیا کہ ’’حضرت ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی وہ تو مخلص اور یکسو مسلمان تھے ۔ مسلمانوں نے یروشلم پر 12سو سال حکومت کی ،حضرت عمر فاروق ؓ کو یروشلم کے عیسائی پادریوں نے شہر کی چابیاں خودپیش کیں اور برملا اعتراف کیا کہ ہماری کتب میں یروشلم کی چابیاں لینے والے کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں وہ تمام نشانیاں حضرت عمر فاروق ؓ میں موجود ہیں۔ گزشتہ ایک صدی سے انبیاء کی سرزمین فلسطین اور مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقد س پر اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے ۔
مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی برطانیہ کا پیدا کردہ ہے جس نے پہلی عالمی جنگ کے بعد 1918 سے دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر سرزمین فلسطین پر بسانا شروع کیا اور اس کو یہودیوں کیلئے ’’قومی گھر ‘‘قرار دیا ۔1948میں اسرائیل کو باقاعدہ ایک ملک کی حیثیت دیکر عالم اسلام کے عین سینے میں خنجر گھونپ دیا گیا۔ اسرائیل ایک فاشسٹ اور ناجائز ریاست ہے جس کی پون صدی سے امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی استعماری قوتیں سرپرستی کررہی ہیں ۔ 636ء میں عرب فاتحین نے خون کا ایک قطرہ بہائے بغیراسے فتح کر لیا یہودی یہاں ہمیشہ اقلیت میں رہے۔یہودیوں نے اپنی سازشوں سے کبھی اس خطہ کو امن نصیب نہیں ہونے دیا،صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کو مسلمانوں کا قتل عام کیا اور بیت المقدس پر قبضہ کرلیا ،1189ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا اور یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی۔چار صدیوں تک عثمانیوں کی حکمرانی کے بعد 1917ء میں برطانیہ نے اس خطے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اعلان بالفور کے ذریعہ یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔
1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو تقسیم کر کے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے اس علاقے سے 1948ء میں اپنی افواج واپس بلالیں اور 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ عالم اسلام نے ظلم و جبرکے اس فیصلے کومسترد کر دیا اور مصر، اردن، شام، لبنان، عراق اور سعودی عرب نے اسرائیل پر حملہ کر دیا،مگر اپنوں کی بے وفائی اور اغیار کی سازشوں کی وجہ سے اسے ختم کرنے میں ناکام رہے۔ 1949ء میں اسرائیل نے عربوں کے ساتھ الگ الگ صلح کے معاہدے کیے اس کے بعد اردن نے غرب اردن کے علاقے پر قبضہ کر لیا جب کہ مصر نے غزہ کی پٹی اپنی تحویل میں لے لی۔ 1967میں اسرائیل نے مصر پر حملہ کرکے نہ صرف نہر سوئیزپر قبضہ کرلیا بلکہ غزہ فلسطین کے ایک لاکھ آٹھ ہزار مربع میل پر قبضہ کرلیا۔
عالم اسلام اب اس حقیقت کو تسلیم کرلے کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل قراردادوں اور امریکہ سمیت عالمی استعماری قوتوں کی لونڈی یو این او سے اپنے مسائل کے حل کی بھیک کب تک مانگتے رہیں گے۔ساٹھ سے زیادہ مسلم ممالک جن کے پاس چالیس لاکھ سے زیادہ منظم افواج ہیں ، پاکستان ایٹمی قوت بھی ہے مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان کی پر کاہ کے برابر وقعت نہیں ، پونے دو ارب مسلمانوں کو سلامتی کونسل میں نمائندگی اس لئے نہیں دی جارہی کہ ان کیلئے کوئی ٹھوس آواز اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ امت کے مسائل کے حل کیلئے اگر عالم اسلام کے حکمران متحد نہ ہوئے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب بزدل حکمرانوں سے نجات کیلئے دنیا بھر کے مسلمان متحد ہوجائیں گے ۔
اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ عالم اسلام فلسطین ،کشمیر ،اراکان سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ طور پر ٹھوس قدم اٹھائیںاور غلامی کی زنجیروں کو ہمیشہ کیلئے کاٹ پھینکیں۔پاکستان ترکی ،انڈونیشیا ،ایران ، ملائشیا اور سعودی عرب سلامتی کونسل میں نمائندگی کیلئے متحد ہوجائیں اور جنرل اسمبلی میں دو ٹوک موقف اختیار کریں کہ اگر مسلمانوں کو سلامتی کونسل میں نمائندگی نہ دی گئی تو وہ عالم اسلام کی الگ مسلم اقوام متحدہ بنالیں گے ۔قبلہ اول کی حفاظت کیلئے مسلم ممالک اپنی فوج بھیجیں ۔جن مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے وہ فوری طور پر اعلان لاتعلقی کریں ۔ فلسطین کے تحفظ اور بحالی کیلئے عالم اسلام مشترکہ فنڈ قائم کرے ۔عالم اسلام کو امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے فیصلے خود کرنا ہونگے ۔پاکستان کے لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے عالم اسلام کے ہر مسئلے پر اپنی ذمہ داری پوری کی۔
میں دنیا بھر کے مسلمانوں خاص طور پر پاکستانی قوم کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ انہوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بے مثال یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت ،دہشت گردی اور درندگی کے خلا ف بھرپور آواز بلند کی ۔لاکھوں پاکستانی شہریوں نے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ملک گیر مظاہروں میں شرکت کی ،خاص طور پر ہماری مائوں بہنوں بیٹیوں نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ ان مظاہروں میں جوش وجذبے اور عزم کے ساتھ حصہ لیا۔
مسئلہ صرف بیت المقدس پر قبضہ کرنے تک محدود نہیں ،یہودیوں کا اگلا ہدف پاکستان ،سعودی عرب اور باقی عرب دنیا ہے ۔پاکستان ترکی اور ایران ان کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔آقا ﷺ نے یہودیوں کی شرانگیزیوں کی وجہ سے انہیں مدینہ سے باہر نکالا تھا وہ زخم اب بھی ان کے دلوں میں تازہ ہے ۔یہ سازشی قوم خود سامنے آنے کی جرأت نہیں کرتی لیکن سازشوں کے ذریعے لوگوں کو آپس میں لڑانے میں ید طولیٰ رکھتی ہے ۔اس وقت دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ان کا قبضہ ہے ۔عالمی بینک اور مالیاتی ادارے ان کے زیر اثر ہیں،جنہیں یہ ہمیشہ اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ماضی کے مقابلے میں آج کا عالم اسلام ایک زندہ و جاوید حقیقت ہے ۔اگر عالم اسلام اپنے باہمی اختلافات ختم کرکے اپنی قوت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے تودنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گی اور فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل خو د بخود حل ہوجائیں گے ۔ہماری حکومتوں کو اپنا بیانیہ بھی ایک کرنا ہوگا۔عالم اسلام اپنے عوام کو حقیقی آزادی دے اوراپنے وسائل امت کے مسائل کے حل کیلئے استعمال کیئے جائیں۔

About the author

Siraj ul Haq

Siraj ul Haq

Leave a Comment

%d bloggers like this: