Syed Muniem Hassan Rizvi Today's Columns

14 جون عطیہ خون کا عالمی دن‎ از سید منعم حسن رضوی

Syed Muniem Hassan Rizvi

پاکستان سمیت دنیا بھر میں عطیہ خون کا عالمی دن ہر سال 14 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا اصل مقصد عوام میں مقصد خون کے عطیہ کرنے کا شعور اجاگر کرنا ہے ۔ یہ دن منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خون عطیہ کرنے والوں کا اس دن کے موقع پر شکریہ ادا کیا جائے اور ان کا حوصلہ بڑھایا جائے تاکہ آئندہ بھی وہ یہ کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیں۔ اس سال عالمی یوم عطیہ خون کا موضوع ’’محفوظ خون سب کیلئے‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی 14 جون کو عطیہ خون کے عالمی دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی ۔

رگوں میں دوڑتے خون سے انسانی زندگی کی ڈور بندھی ہوئی ہے۔ یہ احساس شدت سے اس وقت ہوتا ہے جب کسی بیماری یا حادثے کی صورت میں ہمارے کسی پیارے کو اچانک خون کی ضرورت پڑ جائے۔ ایسے میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والے افراد کا کردار کسی فرشتے سے کم نہیں جو کسی نفع ،نقصان اور رشتے کے بغیر اپنا خون دے کر ایک انسانی زندگی کو بچاتے ہیں۔ کسی بیمار کو خون دینا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ اس سلسلے میں شعور اور آگاہی کے لیے 14 جون کو خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

عطیہ کیے گئے خون کی بدولت ہر سال لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔ زندگی اور موت کی کیفیت میں مبتلا مریضوں کے لیے خون کی منتقلی کے عمل سے جینے کی ایک نئی امید پیدا ہوتی ہے ، اور زندگی سے مایوس مریض خون کی منتقلی کے بعد پہلے سے زیادہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں. لیکن ابھی بھی دنیا کے بہت سے ممالک میں صحت مند اور محفوظ خون کی شدید کمی ہے اور ضرورت کے وقت محفوظ خون کا انتظام کرنا انتہائی مشکل ہے۔

آج کے دن کے موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(W.H.O) کی جانب سے پوری دنیا کے لوگوں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو آگہی دی جاتی ہے کہ رضاکارانہ طور پر باقاعدگی سے خون عطیہ کرنا کس طرح لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

ہر سال کی بلڈ ڈونر ڈے کی اشتہاری مہم کو ایک نیا نام دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 2012 میں اشتہاری مہم کا سلوگن تھا کہ ’’ہر خون کا عطیہ کرنے والا ہیرو ہے۔‘‘ 2013 میں سلوگن تھا ’’زندگی کا تحفہ دیں، خون دیں۔‘‘ 2014 کا سلوگن تھا ’’ماؤں کو بچانے کے لیے خون دیں۔‘‘ 2015 کا سلوگن تھا ’’میری زندگی بچانے کا شکریہ۔‘‘ 2016 کا سلوگن تھا ’’خون ہم سب کو جوڑتا ہے۔‘‘ 2017 کا سلوگن تھا ’’خون دیں، ابھی دیں اور اکثر دیں۔‘‘ 2018 کی کمپین کا سلوگن تھا ’’ کسی کے لیے موجود رہیں، خون دیں، زندگی کو شئیر کریں۔‘‘ 2019 کی کمپین کا سلوگن تھا ’’محفوظ خون سب کیلئے‘‘ ، 2020 کی کمپین کا سلوگن تھا “خون دو اور دنیا کو ایک صحت مند مقام بنائیں” اس سال 14 جون 2021 عالمی یوم عطیہ خون کا موضوع “خون دو اور دنیا کو دھڑکاتے رہو” ہے

ایک طرف پاکستان زکوٰۃ، عطیات اور خیرات دینے والے ممالک میں سر فہرست ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جہاں باقاعدگی سے رضاکارانہ طور پر مفت خون کا عطیہ دینے کی شرح صرف دس فیصد ہے۔ ضرورت پڑنے پر یا تو خون خریدا جاتا ہے یا رشتہ داروں سے لیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں ہر سال پینتیس لاکھ خون کے عطیات اکٹھے کیے جاتے ہیں جن میں نوے فیصد رشتہ داروں سے اور صرف دس فیصد مفت رضاکاروں سے لیے جاتے ہیں۔ جبکہ ملک کی آبادی کا ستر فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں 75 فیصد ہسپتالوں میں خون کی منتقلی کے حوالے سے کمیٹیاں موجود نہیں ہیں۔ خون کو اسکریننگ کیے بغیر ہی منتقل کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اے، بی، سی جیسی بیماریوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ان حالات میں ملک پاکستان میں خون کے عطیات کی اہمیت کو اجاگر کرنے، معیاری اور محفوظ خون اکٹھا کرنے، اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوط کرنے اور ضرورت مندوں کو بروقت خون مہیا کرنے کے حوالے سے کئ ادارے کام کر رہے ہیں لیکن آج کل ہمیں ایک اور چیز کو اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم خون کا عطیہ خود دیں، آجکل لوگ چاہتے ہیں کہ انکے عزیز و اقارب کے لیے کوئی باہر کا بندہ آکر خون کا عطیہ دے اور وہ صرف بیمار کی عیادت کریں. اصل میں ہونا کیا چاہیے وہ یہ کہ سب سے پہلے اپنے خاندان سے ڈونر تلاش کریں ان سے خون کا عطیہ دلوائیں اور خدانخواستہ خون کی ضرورت زیادہ ہے تو پھر مختلف تنظیموں سے رابطہ کریں اور انکو بولیں خون کے عطیہ کے لیے. ہماری ستر فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر ہم ان میں خون دینے کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ملک پاکستان میں ایک بھی موت خون کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں ہو گی۔

میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ خون عطیہ کرنے کے فوائد کے حوالے سے یونیورسٹیوں اور کالجز میں ہر سال سیمینار منعقد کروائیں ۔ ریگولر بلڈ ڈونرز کو یونیورسٹی اور کالجز میں ماڈلز کے طور پر پیش کیا جائے۔ ٹیلی ویژن اور اخبار میں ان کے انٹرویو دکھائے اور چھاپے جائیں۔ دفتروں میں آگہی مہم کے حوالے سے پمفلٹ تقسیم کیے جائیں۔ دفاتر میں ہر چھ ماہ بعد بلڈ ڈونر کے نام سے ورکشاپ منعقد کی جائے۔ ملک کی سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا کے لوگوں کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جائے۔ اور ساتھ ساتھ دینی مدرسوں میں خون عطیہ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے تمام فقہوں کے علما اور مشائخ کو اعتماد میں لیا جائے۔

کوڈ 19 کے بعد سے پاکستان میں عطیہ خون کی رضاکارانہ شرح روزبروزکم ہورہی ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ہمیشہ یہ آگاہی دلائی جائے کہ خون عطیہ کرنے میں ایک صحت مند شخص کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، لوگوں میں یہ احساس اجاگر کیا جائے کہ خون خریدنا مریض کیلئے کسی فائدے کی بجائے کسی نقصان کا باعث نہ بنے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک صحتمند بالغ مرد ایک سال میں 4 مرتبہ جب کہ عورت 3 مرتبہ عطیہ دے سکتے ہیں، جس کا کوئی نقصان نہیں فائدے بے شمار ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ خون کا عطیہ جسم کے لیے بے حد فائدہ مند بھی ہے؟

ایک تحقیق کے مطابق خون کا عطیہ کرنے سے دوران خون یعنی خون کی رفتار کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے جس وجہ سے شریانوں میں خون نہیں جمتا جو کے مختلف امراض جیسے ہارٹ اٹیک فالج اور کینسر جیسی بیماریوں کے خطرات میں(80٪) اسی فیصد تک کمی کر دیتا ہے۔

مفت طبی چیک اپ

خون عطیہ کرنے سے قبل ہر فرد کا طبی چیک اپ لازمی ہوتا ہے جس میں جسمانی درجہ حرارت، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور ہیموگلوبن کی سطح کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، اسی طرح خون اکھٹا کیے جانے کے بعد خون کے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ جانا جاسکے کہ وہ خطرناک مرض سے آلودہ تو نہیں، جس سے لوگوں کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

آئرن کی سطح متوازن رہتی ہے

صحت مند بالغ افراد کے جسم میں پانچ گرام آئرن کی موجودگی ضروری ہوتی ہے جن میں سے بیشتر خون کے سرخ خلیات میں ہوتی ہے۔ جب خون عطیہ کیا جاتا ہے تو جسم میں آئرن کی کمی ہوتی ہے، جو کہ عطیہ کیے جانے کے بعد خوراک سے دوبارہ بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آئرن کی سطح میں اس طرح کی تبدیلی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس جز کی بہت زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

لمبی زندگی

ایک تحقیق کے مطابق رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ کرنے والی افراد میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور اوسط عمر میں چار سال تک کا اضافہ ہوتا ہے ۔

میرے اپنے تمام دوستوں اور قارئین سے گزارش ہے کہ 14 جون کو اپنے قریبی بلڈ بینک جاٸیں اور خون کا عطیہ دیں کیونکہ آپ کے ایک خون کی بوتل سے 3 انسانی جانیں بچتی ہیں ۔ جس نے ایک انسان کی جان بچاٸی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچاٸی۔

اگر آپ کے خون سے کسی ایک انسان کی جان بچتی ہے تو جب تک اس انسان کی رگوں میں آپ کا خون دوڑتا رہے گا آپ کو ثواب ملتا رہے گا.

About the author

Syed Muniem Hassan Rizvi

My name is Syed Muniem Hassan Rizvi holding Masters degree in computer science and I am serving as a Visiting Lecturer at Islamia University of Bahawalpur. Now a day's working as an interviewer with Rehan Foundation. Moreover I'm a Founder of Go Adventure, a Social Activist running a society named as Hope Of Life and a Traveler

Leave a Comment

%d bloggers like this: