بھارٹ ٹوٹ رہاہے

بھارت میں جب بھی بدترین مسلم کش فسادات ہوئے لوگ کہتے ہیں دو قومی نظریہ ایک بارپھر زندہ ہوگیا ہے اب تو اپنے پرائے سب تسلیم کررہے ہیں کہ برصغیرمیں تقسیم کے حوالہ سے قائداعظمؒ کی سوچ درست تھی اب تو امریکی اور پورپین اخبارات و مرائدبھی چیخ چیح کرکہہ رہے ہیں کہ مودی سرکارجان بوجھ کر مسلم کش فسادات کو ہوادیتی ہے حال ہی میں ایک امریکن نیوز ایجنسی کی خفیہ رپورٹ نے بھارتی سیکولر ازم کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑڈالاہے ایک خیال یہ بھی ہے کہ بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کو واضح پیغام ہے کہ ان کی بھارت میں میں جان و مال محفوظ نہیں غورکیاجائے تو محسوس ہوگا کہ مسلم کش فسادات نے درحقیقت گجرات اور دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام نے بھارت کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ہندو جنونی پاگل جتھوں نے بے گناہوں کا خون بہا کر دوقومی نظریہ کی صداقت کو تسلیم کرلیا۔ قائد اعظم کے نظریے کی سچائی کی گواہی آج ہر بے گناہ بھارتی مسلمان کا گرتا ہوا لہو دے رہا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر ظلم اور شب خون کی داستان نئی نہیں ماضی میں بھی مسلمانوںکے گھروں پرحملے اور عزتوںکو پامال کیا گیا لیکن مودی کے دور میں ہندو انتہا پسندی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ آج مودی کا فسطائی نظریہ بانیان بھارت کے فلسفے پر کالک مل رہا ہے۔ اقلیتیں تباہ حال ہیں اور معاشرہ منقسم ہے نئی دلی میں مسلم کش فسادات کے بعد مسلمان اپنے ہی دیس میں پناہ گزین بن گئے۔ جلاؤ گھیراؤ کے بعد کئی بستیاں اجڑ گئیں، مسلمان گھروں کو واپس جاتے ہوئے خوفزدہ ہیں جبکہ امدادی راشن سے گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ نئی دلی میں بلوائیوں سے بی ایس ایف کے مسلمان جوان کا گھر بھی نہ بچ سکا، بار بار التجا کے باوجود پولیس نے مدد نہیں کی ایسے ایسے دلخراش واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ انسانیت شرما گئی ایک جگہ سے اجتماعی قبربھی دریافت ہوئی نصف درجن سے زائد چھوٹے بچوں،لڑکیوں اور عورتوںکو بے گورو کفن گڑھا کھودکر دبا دیا گیا تھا یہ ہے سیکولربھارت کا اصل چہرہ جس میں اقلیتوںکا جینا عذاب بن چکاہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی گئی یہ فسادات عین اس وقت کئے گئے جب امریکی صدر بھارت کا دورہ کررہے تھے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور منظم تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران صدیوں سے بھارت کا دوست رہا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں ایران تمام بھارتی شہریوں خصوصاً مسلمانوں کی سلامتی کی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے،مہاتیر محمد،رجب طیب اردگان اور کئی عالمی رہنمائوںنے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے بھارتی صحافی مصنف کینان ملک نے کہا ہے کہ دلی میں تشدد اور فسادات نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف منظم بربریت ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ دلی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کی ذمہ دار ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پھیلایا ہوا نفرت کا زہر ہے۔ شہریت قانون کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کو بھارت کے روہنگیا بن جانے کا خدشہ لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت ہندوتوا کے نظریے پر عمل پیرا ہے، جو بھارت کو صرف ہندو ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ کینان ملک نے کہا کہ بی جے پی کے وزیر گری راج سنگھ آزادانہ کہتے پھرتے ہیں کہ تقسیم کے وقت تمام مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا دوسری جانب بھارتی نوجوان نے دلی میں فسادات اور بی جے پی کی مذہب کے نام پر لڑوانے اور مروانے کی پالیسی نظم میں بیان کردی۔بھارتی مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے انتہا پسندی کو ’بھارت کا کورونا وائرس‘ قرار دے دیا۔ نئی دلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اروندھتی رائے نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ’بدترین آمر‘ اور ریاستی سر پرستی میں مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ بھارتی مصنفہ کا کہنا تھا کہ انتخابات میں شرمناک شکست پر بی جے پی اور آر ایس ایس دلی سے انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے اور آنے والے بہار الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے انتہا پسندی وہ بیماری ہے جس میں بھارت مبتلا ہے۔ یہ جنگ آمریت اور مزاحمت کے درمیان ہے، جس میں مسلمان سب سے پہلا نشانہ ہیں۔ اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت کے رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقاریر، جے شری رام کے نعرے لگا کر حملہ کرنیوالوں، خاموش تماشائی بنے یا جلاؤ گھیراؤ میں شامل اور نیم مردہ حالت میں مسلمان نوجوانوں پر ڈنڈے برسا کر ترانہ گانے پر اصرار کرنیوالے پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز موجود ہیں تمام حقائق رکارڈ پر موجود ہیں لیکن حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ بہرحال دلی کے مسلم کش فسادات نے ایک بارپھر دوقومی نظریہ کو زندہ کردیاہے یہ بھارت کے ٹوٹے ٹوٹے ہونے کاآغازہے جس کے نتیجہ میں ایک نیا پاکستان وجودمیں آئے گا،اب خالصتان بھی بنے گا،تامل ملک کاقیام بھی عمل میں آکررہے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: