Raja Muneeb Today's Columns

پُرامن افغانستان پُرامن پاکستان از راجہ منیب

Raja Muneeb
Written by Raja Muneeb

پاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیاء کے دو اہم پڑوسی ممالک ہیں۔دونوں ممالک تاریخی، جغرافی، لسانی، نسلیتی اور مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔دونوں ممالک کے تعلقات 1947 سے شروع ہوئے جب پاکستان ایک آزاد ملک بنا۔ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام سارے خطے خاص طور پرافغانستان کے ہمسایوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ان میں سرفہرست ہے کہ اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد مشترک ہے۔ اور سرحد بھی ایسی جس کی نگرانی کا کوئی مستقل بندوبست نہیں۔اس صورت حال کے تدارک کے لیے پاکستان نے پاک افغان سرحدی انتظام پر توجہ دی ہے لیکن سرحدی انتظام کے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں افغانستان کی طرف سے ان کی مزاحمت کی جاری ہے۔ چین کو بھی افغانستان میں بدامنی پر تشویش ہے اور روس کو بھی تشویش ہے کہ افغانستان سے مسلح گروہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے راستے روس میں داخل ہو سکیں گے۔ افغانستان کے ہمسایوں میں افغانستان میں عدم استحکام کی صورت حال پر تشویش لازمی امر ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوتے۔ پاکستان کے سپاہ سالار قمر جاوید باجوہ نے خطے میں امن کے لیے افغانستان کو ساتھ چلانے کا عزم کیا ہے۔ پاکستان، چین اور روس کی مشترکہ کوشش کے آغاز کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں خطے میں دہشت گردی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کا اثر پاکستان پر بھی ہو رہا ہے افغان کے راستے بھارتی اور دیگر دہشت گرد پاکستان اور پاکستان میں شروع ترقیاتی سی پیک جیسے منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔افغانستان کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے۔ افغانستان میں دیر پا امن قائم کرنا پاکستان کی خواہش ہے۔ تجارتی سہولتوں کو طریقے سے بڑھانا ہے تاکہ تجارت بھی ممکن ہو مگر سیکورٹی کلئیرنس ہونے کے بعد باڈراور گیٹ کا مقصد تجارت بند کرنا نہیں ہے بلکہ فلٹر کرنا ہے چیک کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان پرامن تجارت ہوسکے۔۔ اور دہشت گردوں کا بھی خاتمہ کیا جاسکے۔۔ غیرقانونی تجارت کو ختم کرکے قانونی تجارت کو فروغ دینا ہے۔۔ قانونی راستے سے افغان اور پاکستان آنے جانے کا آسان اور بہتر طریقہ بنانا ہوگا۔ تاکہ فلٹر ہونے کر تجارت بھی ہو اور امن بھی۔افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو بہترین حکمت عملی اور باوقار فتح دکھانے کے لئے پاکستان کا کلیدی کردار تصور کیا جارہا ہے۔دوسری طرف امریکی فوج دُنیا کو یہ باور نہیں کروانا چاہ رہی کہ افغانستان میں 20برس تک موجود رہنے کے باوجود وہ اس ملک میں اپنے اہداف کے حصول میں شرمناک حد تک ناکام رہی۔ جدید ترین اسلحے کا استعمال اور کھربوں ڈالر بھی اس ضمن میں کام نہیں آئے۔ تین ہزار کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ان میں سے ہزاروں عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ اپنے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے تسلی دے رہی ہے کہ اس کی حکمت عملی کی بدولت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء اس ذلت آمیز انداز میں نہیں ہوگاجس کا مظاہرہ 1970کی دہائی میں ویت نام میں ہوا تھا۔امریکی افواج افغانستان سے شکست خوردہ ہوکر ’’بھاگتی‘‘ نظر نہیں آئیں گی۔ادھر دوسری طرف اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے افغانستان کو چالیس سے زیادہ برس گزرچکے ہیں۔ اس طویل عرصے میں بے روزگار نوجوانوں کی بے پناہ اکثریت کو مزاحمت یا جنگ کے علاوہ رزق کمانے کا کوئی اور طریقہ ہی نہیں آتا۔ امریکہ افغانستا ن میں جنگ ہار چکا ہے۔ افغانستان میں امن کے قیام کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان اور CPEC کو ہو گا۔ ایسی صورت میں امریکہ اور اسکی نئی محبت بھارت کبھی نہیں چاہیں گے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو۔ امریکہ کی پہلی عالمی ترجیح چین کے عالمی اثر رسوخ اور بڑھتی اقتصادی طاقت کو روکنا ہے۔ یہ بھی کوئی راز نہیں کہ اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر صف آرائی کر رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس خطے میں امریکہ کا سب سے قریبی حلیف بھارت ہی ہو گا۔ افغانستان امن عمل میں سب سے اہم و کلیدی کردار پاکستان نے ادا کیا ہے۔پاکستان، چین اور روس کو افغان حکومت کے ساتھ ملکر افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے کام کرنا چاہئیے۔اس ساری صورتحال میں ہمیں بھارت پر بھی نظر رکھنی ہو گی۔بھارت پاکستان اور اسلام دشمنی میں افغانستان میں کھربوں روپے خرچ کر چکا ہے۔ کیا اس سے یہ برداشت ہو پائے گا کہ اس سارے عمل میں اسکا نہ تو کہیں نام آ رہا ہے اور نہ کوئی کردار نظر آ رہا ہے۔ ظاہر ہے بھارت کو جب محسوس ہو گا کہ اسکے ہاتھ کچھ نہیں آ رہا تو وہ چاہے گا کہ اور کچھ ہو یا نہ ہو کم ازکم افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے تاکہ پاک افغان سرحد پر سکون نہ ہو۔ایسی صورت میں بھارت کے پاس دو ہی راستے ہونگے۔ یا تو وہ کسی طرح سے افغان طالبان کے قریب آ جائے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرے۔ یا پھر یہ کہ وہ ایک بار پھر افغان طالبان کیخلاف شمالی اتحاد کا ساتھ دے کر انہیں استعمال کرے اور افغانستان میں ایک طویل خانہ جنگی کا سرپرست بن جائے۔ ایسے میں پاکستان کو ہر قدم پھونک پھونک اور کسی بھی اقدام کے دور رس نتائج ذہن میں رکھ کر اٹھانا ہو گا۔پرامن افغانستان کا مطلب یقیناً پرامن خطہ اور خاص طور پر پرامن پاکستان ہے۔پاکستان، شروع سے افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے لئے اسلام آباد، کابل اور بیجنگ کے مابین قریبی سہ فریقی تعاون کی کوششیں کر رہا ہے. پاکستان مستقل طور پر تمام فریقوں سے ایک سیاسی سمجھوتہ کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے تاکہ تنازعہ کا خاتمہ ہوسکے۔ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن مذاکرات کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 83،000 افراد کو کھویا ہے۔ پاکستان نے زیادہ سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔پاکستان کی اپنی معیشت کو سوا سو ارب کا نقصان ہوا ہے.پاکستان نے مختلف افغان سیاسی دھڑوں کے ساتھ افغان رہنماؤں اور دوطرفہ ملاقاتوں کی میزبانی کی ہے جو پاکستان کے افغانستان میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔صحت اور تعلیم جیسے بنیادی سفر کے لئے پاکستان ہر ماہ افغان لوگوں کو 55000 ویزا فراہم کرتا ہے۔پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لئے پرعزم ہے اور وہ امریکہ کو کسی صورت اڈے فراہم نہیں کرے گا۔افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔اگرچہ امریکہ کے انخلاء کے نتیجے میں سیکیورٹی چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں، لیکن اس نے امن کے بہتر امکانات کو بھی جنم دیا ہے.افغانستان میں امن و استحکام علاقائی رابطے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے اور جدت طرازی اور تکنیکی ترقیوں کے استعمال کے ذریعے معاشی باہمی انحصار کو مزید گہرا کرنے کے لئے موزوں ماحول کا باعث ہوگا۔پاکستان ایک واحد پائیدار حل کے طور پر افغان قیادت کے لئے قابل قبول ایک جامع سیاسی گفت و شنید کی حمایت کرتا ہے۔پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے افغانستان میں امن کا خواہاں نہیں۔افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو عالمی برادری تسلیم کررہی ہے۔افغانستان میں تمام فریقین کے استحکام اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے باز آنا امن کا حتمی مقصد ہونا چاہئے۔افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اعلی ترجیح ہے اور ہمارے ”پر امن محلے” کے وژن کا ایک اہم جز ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن عمل سے وابستگی کی تصدیق کی ہے۔ یہاں خطے کا امن بگاڑنے والا بھارت ہے، جس نے اپنی خفیہ ایجنسی را کو دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے سرگرم عمل کیا ہے تاکہ وہ امن عمل کو پٹڑی سے اتار سکتا ہے۔پاکستان عام افغانوں کی زندگیاں بنوانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے تاکہ وہ اپنے معاشرے کا ایک اہم حصہ بن سکیں۔پاکستان اور افغانستان ایک طویل سرحد، نسلی تعلقات اور جغرافیائی تعلقات کو شیئر کررہے ہیں۔پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ بھارت متعدد طریقوں اور ذرائع سے امن عمل کو درہم برہم کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کے باہمی اتفاق رائے پر مبنی‘افغان-زیرقیادت افغانی ملکیت’امن عمل کی ہمیشہ حمایت کرے گا۔ہند پیسیفک امور کے سیکرٹری دفاع برائے ڈیوڈ ہیلوی نے ایک بیان میں کہا کہ ”پاکستان نے افغانستان میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔”. حق، قومی کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین عبداللہ عبد اللہ نے 10 مئی 2021 کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات کی۔بھارت امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے لیکن اب تک ناکام رہا. پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر باڑ لگانا اور اس کا% 80 فیصد کام ہوچکا ہے – ہندوستان، افغان طالبان امن معاہدے سے خوش نہیں ہے اور افغانستان کی جگہ استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کا بھارت کا خواب اب تباہ ہوگیا ہے۔پراکسی اور را کے ذریعے بھارت ایک طویل عرصے سے افغانستان اور پاکستان میں پرامن ماحول کو درہم برہم کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔پاکستان کے ریاستی حکام نے ہمیشہ علاقائی امن کو برقرار رکھنے کے لئے کام کیا ہے۔ تاہم، افغان حکومت کو امن بگاڑنے والوں کو شکست دینے اور ان کے خاتمے کے لئے پاک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے جو خطے میں تباہ کن اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں چاہتے ہیں۔بارڈر سیکیورٹی اور بارڈر منیجمنٹ سسٹم پاکستان کے امن کے عزم کا حقیقی عکاس ہیں. پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر اس کی کوششوں کو تسلیم کیا گیاہے۔ پاکستان خصوصا افغانستان میں اپنے پڑوس میں امن و استحکام کا سب سے بڑا حامی ہے۔افغانستان میں عدم استحکام پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے دعوؤں کو ختم کرنے کے لئے بھارت پر سوار ہے۔ بھارت امن معاہدے میں خلل ڈالنے کا پابند ہے۔ اسی لئے را اور این ڈی ایس کے پراکسی دہشت گردی کے حملوں کے ذمہ دار ہیں۔افغانستان میں پائیدار امن علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لئے ایک شرط ہے۔امریکہ، علاقائی طاقتیں جیسے پاک، بھارت، چین، روس، ناٹوبھی امن عمل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں.امریکہ اور طالبان نے دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے، قطر نے باضابطہ طور پر افغانستان میں امن لانے کے معاہدے کا عنوان دیا۔اسلام آباد نے افغان امن عمل میں سہولت فراہم کر کے اہم کردار ادا کیا ہے اور امریکی اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس صورت میں اصولی فیصلے کی حمایت کرتا ہے جس میں ’افغانستان میں موجود سٹیک ہولڈرز کے تعاون کے ساتھ فوجی انخلا ذمہ داری سے کیا جائے گا۔‘۔پاکستان کو امید ہے کہ امریکہ افغان رہنماؤں کو باور کرائے گا کہ ملک میں سیاسی حل کیسے ممکن ہے۔گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے افغان حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھنے کے لیے طالبان کو قائل کرنے کا خاموش مگر اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کی مکمل حمایت کے بغیر بین الافغان مذاکرات ممکن نہ ہو پاتے۔اس وقت اسلام آباد کی کوشش ہے کہ امن کے لیے جاری کوششوں کو برقرار رکھا جائے اور مزید کامیابیاں حاصل کی جائیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی برداری کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔‘ مگر پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ انڈیا کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں موجود افغان پناہ گزین کی واپسی کے مسئلے کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔‘۔گذشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزین کو ملک میں جگہ دی ہے۔ یہ پناہ گزین محض کیمپوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کاروبار کر رہے ہیں۔پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برداری اس کی ذمہ داری لے اور یہ یقینی بنائے کہ ملک کے مستقبل کے لیے بات چیت میں پناہ گزین کی واپسی بھی زیر بحث ہو۔افغان امن عمل میں افغان خود جو بھی فیصلہ کریں گے پاکستان اس کی حمایت کرے گا۔مگر ہمیں بھارت پر بھی نظر رکھنی چاہیے وہ افغانیوں کی نظر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی پوری کوششیں کر رہا ہے۔ہمیں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت رکھنے اور پھیلانے والے کون ہیں؟ افغانستان میں بھی ایک ایلیٹ لبرل کا طبقہ ہے اسکو جہاں سے فائدہ ہو وہ اس طرف ہو جاتا ہے چاہیے روس، امریکہ یا پھر بھارت جو بھی انھیں فائدہ دے وہ اسکے ساتھ کام کرنے لگ جاتے ہیں۔۔ ان کا لباس مغربی اور لہجے پر انڈیا کا اثر تھا۔ انھوں نے پہلے روس کو خوش آمدید کہا اور ان سے خوب مالی فائدے اٹھائے۔ اس زمانے میں روس اور انڈیا کے تعلقات بھی بہت اچھے تھے۔ بعد میں جب روس کو شکست ہونے لگی تو یہ لوگ بھاگ کر پشاور آئے۔ یہ وہی کابل ایلیٹ ہیں جو پاکستان سے انسیت نہیں رکھتے کیونکہ ان کے بڑوں کی تربیت روسیوں نے کی ہے۔دنیا میں جنگوں کا اختتام اسی سوچ پر ہوا کہ معاملات کا حل مذاکرات میں ہے۔ ’کئی قوموں کے مابین صدیوں پرانی دشمنیاں ہموار کی جا رہی ہیں۔ وہ تجارت اور باہمی ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ افغانستان کے اندر موجودہ نفرت میں بہت حد تک دوسرے ممالک کا ہاتھ ہے۔ انڈیا اس میں سب سے آگے ہے۔ افغانستان پاکستان کے درمیان خراب حالات کے نتیجے میں پہلا بینفشری بھی وہی ہوگا۔ بھارت کی مکار ذہنیت اور موجودہ حکومت کا ٹریک ریکارڈ دیکھ کر لگتا ہے کہ بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں امن قائم ہوں۔ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وہاں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان نے باڈر پر گیٹ اسی لیے بنایا تھا تاکہ تلاشی اور ویزہ کے بعد ہی لوگ ادھر ادھر جاسکیں اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہو۔ باڈر بھی اسی لیے بنایا تھا تاکہ حالات پرامن ہوں اور دونوں اطراف کے شہری محفوظ ہوں۔ پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے کی بھارت کی کوششیں زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتیں۔۔ کیونکہ پاکستان افغانستان کا خیر خواہ اور دوست ملک ہے۔۔ مگر یہ بات افغانستان کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بگاڑنے کی بھارت کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔بھارت کی کوششوں سے افغانستان کا پاکستان سے رشتہ خراب نہیں ہو گا۔ افغانستان اس وقت بدامنی اور لاقانونیت کا ایسا گندہ تالاب بن چکا ہے جس میں دہشت گردی کی ہر قسم اور نوع کی گندی مچھلی پائی جاتی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دہشت گردی کی اس بہتی گنگا میں بہت سی پوشیدہ قوتیں بھی اپنے اپنے ہاتھ دھو رہی ہیں۔ خاص طور پر بھارت اس سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ اور پاک افغان تعلقات میں گہری خلیج پیدا کرنے کے لیے انہیں مسلسل اکسا رہا ہے۔ بھارت کی ان سازشوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے۔بھارت پہلے خود افغانستان میں دہشت گردی کر کے پاکستان پر الزام لگاتا ہے پھر کمال مہارت و چلاکی سے کسی نا کسی ترقیاتی منصوبے کی مد میں رقم ومدد بھیج کر بھارت ہمدردی و دوستی کا دکھاوا کررہا ہے جبکہ حقیقی برادر و اسلامی ملک صرف اور صرف پاکستان ہی افغانستان کی خوشحالی چاہتا ہے اور ساتھ ساتھ افغانستان کو تجارت و کاروبار کے مواقع میں شمولیت کی دعوت دیتا رہتا ہے۔ کہ افغانستان بھی سی پیک منصوبے سے استفادہ حاصل کر امن و خوشحالی کی طرف جائے کیونکہ پرامن افغانستان ہی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں امن کے لیے لازمی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان قیادت تیسری قوت کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے پاکستان کی پرخلوص کوششوں کا مثبت جواب دے۔اسے اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ پاکستان اس کا اہم ترین ہمسایہ ہے،اس کے خلاف کسی تیسری قوت کے مفادات کی تکمیل خود اس کے وجود کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے۔ اس ضمن میں اس کے ٹھوس اقدامات اور کارروائیاں اس کے اخلاص کا واضح اظہار کررہی ہیں۔ پاک افغان بارڈر کو منظم کرنے کے حوالے سے بھی پاکستان پر عزم ہے اور بہت جلد اسے بھی مکمل طور پر محفوظ بنا دیا جائے گا۔ پاک افغان تعلقات کے ساتھ بہت سے عوامل جوڑے ہوئے ہیں جس کا براہ راست تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے عوام پر بلکہ اس خطے میں دوسرے ہمسایہ ملکوں پربھی ہوگا۔ برادر اسلامی ممالک پاکستان اور افغانستان کواپنے مسائل باہم ملکر حل کرنا چاہئے۔ دہشت گردی علاقائی مسئلہ ہے ہر ملک اپنی قومی حکمت عملی کے تحت اس کے انسداد کیلئے کوششیں کررہا ہے۔ پاکستان کی دشمن قوتیں سال ہا سال سے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔مستقبل میں اس عمل کو روکنے کے حوالے سے ہمیں چین،ایران، وسط ایشیا اور دیگر ریاستوں کی معاونت حاصل کرنی چاہئیے۔ پاکستان میں امن کے قیام، اقتصادی ترقی اور سی پیک کو کامیاب بنانے کے لیے بھی ہمیں افغان سرحد کو محفوظ بنانا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی شکل میں ایک موقعہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے لیے موجود ہے کہ وہ آگے بڑھ کرسی پیک کا حصہ بنے مگر کاروبار سے پہلے امن ناگزیر ہے۔ افغانستان سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی کو خیرباد کہنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور افغانستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی اور عالمی سازشوں کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے مسلسل اقدامات اور بیش بہا قربانیوں کے بعد دہشت گردی کے عفریت پرکافی حدتک قابوپالیا ہے تاہم افغانستان مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو خطے میں امن ہو۔ تاکہ ترقی کی نئی راہیں کھلیں۔ سی پیک کو علاقائی ملکوں کے درمیان طویل المدتی ترقی اور تمام شعبوں میں خصوصی تعلقات کی بہتری میں معاون ہوگا۔ اس منصوبے کو بعض حلقے جنوبی ایشیائمیں ’گیم چینجر‘کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اور افغانستان اس گیم چینجر منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتاہے۔اگر افغانستان و اپنی بقائاور اقتصادی ترقی مقصود ہے تو اسے سی پیک کو بھی ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ اب ہماری اقتصادی ترقی ہی نہیں‘خطے میں امن و سلامتی کے تحفظ کا بھی ضامن بن چکا ہے کیونکہ اس سے منسلک ہونیوالی دنیا اب پاکستان کو کبھی کمزور یا خدانخواستہ ختم نہیں ہونے دیگی۔ افغانستان کو اب اس حقیقت کا ادراک ہو جانا چاہیے۔ وہ اب پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی برقرار رکھ کر علاقائی اور عالمی امن خراب کریگا تو سی پیک کے ساتھ اقتصادی ترقی کے حوالے سے اپنا مستقبل وابستہ کرنیوالے ممالک خود ہی اس سے نمٹ لیں گے۔پُر امن افغانستان کا مطلب پُرامن خطہ بالخصوص پُر امن پاکستان ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے رائے بالکل واضح ہے کہ پُر امن افغانستان خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے‘ اسی نیت اور مقصد سے پاکستان افغان امن عمل میں بھی معاونت فراہم کررہا ہے اور افغان فریقین کو اس بات کا برابر احساس بھی دلاتا آرہا ہے کہ قیام امن کے حوالے سے پورے خطے بلکہ دنیا کے اس حصے کی نظریں ان پر ہیں۔افغان عمل کے شراکت دار اس کام میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں مگر حتمی طور پر افغان دھڑوں ہی کو اس بڑی تبدیلی کا بیڑا اٹھانا ہے۔افغانستان کی جنگ و جدل سے خود افغانستان کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے‘ یہ اثرات جانی اور مالی‘ دفاع اور امن و امان یہاں تک کہ سماجی تبدیلیوں کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں۔ کرہ? ارض پر دوسرا کوئی ملک نہیں جس نے جنگ زدہ ہمسایہ ملک کے کروڑوں پناہ گزینوں کو اس طرح پناہ دی ہو۔افغانوں کی دو نسلیں یہاں پروان چڑھی ہیں‘ جہاں جی چاہا مرضی کے کاروبار کئے ہیں‘ منفی سرگرمیوں سے پاکستان کی معیشت کو نقصان بھی پہنچایا ہے مگر اس ملک کے عوام اور حکومت نے افغانوں کو جس طرح یہاں آباد ہونے کے مواقع فراہم کئے اور جس کشادگی سے انہیں قبول کیا وہ اپنی جگہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔بہرحال افغانستان کی شورش زدہ صورتحال میں پروان چڑھنے والی شر پسندی‘ تخریب کاری اور انتہا پسندی سے پاکستان شدید طور پر متاثر ہے۔ بد قسمتی سے اس کام میں صرف غیر ریاستی عناصر ہی شامل نہیں بلکہ افغانستان کے سرکاری اداروں اور حکومت کے بعض افراد بھی ان واقعات میں ملوث پائے جاتے ہیں جو کہ بلا شبہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے نیکی اور خلوصِ نیت ظاہر و باہر ہے مگر جب افغان حکومت اور سرکاری دستوں کی جانب سے معاندانہ جذبات اور ناپسندیدہ حرکات سرزد ہوتی ہیں تو پاکستان کے لیے حکومتی اور عوامی سطح پر یہ صورتحال باعث تشویش اور تکلیف ہوتی ہے۔ افغانستان کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ پائیدار مستقبل اور دنیا کی ابھرتی ہوئی اقوام میں شامل ہونے کے لیے انہیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس میں باہمی افہام و تفہیم اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات سب سے اہم ہیں۔ افغانستان کے پائیدار امن اور ترقی کے لیے یہ دو بنیادی سنگ میل ہیں۔ افغانوں کو پائیدار قیام امن اور استحکام کے لیے داخلی امن اور ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ مضبوط اور قابلِ اعتماد تعلقات کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب قوم متحد اور پرعزم ہو تو بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دینا ممکن ہے۔ بس ہمیں اتحاد اور محبت کے ساتھ پرامن پاکستان کی پرامن افغانستان کے ساتھ مل کر تعمیر کرنی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں انکی قدر کرنی ہے اور انکی لاج رکھنی ہے اور دشمن کو اپنی صفوں میں نہیں داخل ہونے دینا انشائاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان پرامن ممالک کی نمائیندگی کرے گا۔ اور معاشرتی حب بن کر دنیا کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے گا۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانی دی اسے دنیا میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔۔ گذشتہ چند برسوں میں پاکستان نے تمام مشکلات پر قابو پا لیا ہے اور سکیورٹی اور استحکام قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں جس کو دنیا مانتی ہے۔ پر امن افغانستان کا مطلب پر امن خطہ بالخصوص پر امن پاکستان ہے، پاکستان افغان عوام کی دیرپا امن کی کوشش کی حمایت کرتا رہے گا۔ افغانستان میں امن ہوگا تو خطے میں امن ہوگا۔

About the author

Raja Muneeb

Raja Muneeb

Leave a Comment

%d bloggers like this: