Ali Ahmad Dhillon Today's Columns

سانحہ گھوٹکی؛ ہم اب بھی کچھ نہیں کریں گے! از علی احمد ڈھلوں ( تلخیاں )

Ali Ahmad Dhillon
Written by Ali Ahmad Dhillon

یہ تین ماہ قبل مارچ کی بات ہے ، کراچی سے لاہور جانے والی ’ کراچی ایکسپریس‘ روہڑی شہر کے نزدیک پٹری سے اتر ی، میں ایک مسافر جاں بحق اور30 زخمی ہوئے۔

چونکہ ’’ہلاکتیں‘‘ کم تھیں ،اس لیے کسی نے توجہ نہیں دی۔ پھر دوبارہ اسی روٹ پر روہڑی سے 50کلومیٹر دور گھوٹکی پر بالکل اسی نوعیت کا حادثہ ہوگیا، یہاں پرکراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اُتر کر ڈاؤن ٹریک پر جا گریں اور راولپنڈی سے کراچی آنے والی سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

اگر سرسید ایکسپریس نہ ٹکراتی تو یہاں بھی اکا دکا ہلاکتیں ہونا تھیں اور اعلیٰ حکام نے ’’افسوس‘‘ تک کا اظہار نہ کرنا تھا۔ اب گھوٹکی حادثے میں تادم تحریر ہلاکتوں کی تعداد 62سے زائد اور زخمیوں کی تعداد سوسے زائد ہے تو اب محترم وزیر اعظم سے لے کر وزراء اور مشیران تک اظہار افسوس بھی کر رہے ہیں اور ’’شفاف‘‘ تحقیقات کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہے…

حیرت ہے کہ ہم ’’چھوٹا حادثہ‘‘ ہونے کو حادثہ ہی نہیں سمجھتے اور کہتے پائے جاتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ ’’بال بال بچ گئے ہیں‘‘پھر مزید حیرت یہ کہ اُس حادثے کے بعد بھی کوئی حفاظتی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے کسی بڑے حادثے کا انتظار کرتے ہیں۔

پچھلی حکومتوں کو آپ چھوڑیں موجودہ حکومت کو دیکھ لیں، خدا کی پناہ اب تک تین سالوں میں 455 حادثات ہو چکے ہیں، جن میں سیکڑوں افراد جان سے گئے۔ سال 2019 پاکستان ریلوے کی تاریخ کا بدترین سال ثابت ہوا، جس میں 100سے زائد حادثات ہوئے۔سب سے زیادہ جون2020 میں 21 حادثات رونما ہوئے، ان حادثات کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی خطیر رقم کا نقصان ہوا ہے۔

دنیا بھر میں ریلوے کے سفر کو محفوظ تر ین سمجھا جاتا ہے، اور اسے مزید محفوظ بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ریسرچ کی جاتی ہیں اورانجینئرز کوشش کرتے ہیں کہ چھوٹا سا حادثہ بھی نہ ہونے پائے۔ تبھی چین میں ہر سال 1550ارب لوگ، بھارت میں 14سو ارب ، جاپان میں 5سو ارب، روس میں دو سو ارب، فرانس ، جرمنی ، جنوبی کوریا میں 100ارب، برطانیہ میں 80ارب اور امریکا میں ہر سال 35ارب لوگ ٹرین کا سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر روڈ حادثات میں روزانہ 100افراد ہلاک ہوتے ہیں تو ٹرین کے حادثات میں ہلاکتوں کا تناسب 7فیصد جب کہ ہوائی سفر میں یہ تناسب کم ہو کر 0.04فیصد رہ جاتا ہے۔

لیکن پاکستان میں نہ تو کبھی ٹریفک حادثات رکے ہیں، نہ کبھی ٹرین حادثات اور نہ کبھی ہوائی حادثات۔ آج دنیا 500فی کلومیٹر رفتار حاصل کرنے کے لیے نت نئے ٹریکس بنا رہی ہے مگر ہم 90کلومیٹر کی رفتار سے 30کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار تک آچکے ہیں۔ بقول شاعر

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

بہرحال پاکستان میں ریلوے حادثات کی وجوہات جو بھی ہوں لیکن ہم نے ابھی تک کونسی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ ابھی ٹی وی پر دیکھ رہا ہوں کہ پٹری پر پڑی لاشوں سے بے نیاز اہل سیاست اور ان کے مجاور ایک دوسرے کو بھنبھوڑ رہے ہیں۔حکومت کے مخالفین عمران خان کے پرانے ارشادات نکال نکال کر سامنے لا رہے ہیں کہ ریلوے کے حادثے پر وزیر ریلوے کا مستعفی ہو جانا کیوں اور کتنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے پرانے خطبے اور اقوال زریں اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔

انسانی المیے سے کسی کو غرض نہیں ہے ، سب اپنی اپنی سیاسی ضرورتوں کو پیٹ رہے ہیں۔ اس ساری نا مبارک مشق کا مقصد انسانی جان کی حرمت کا تحفظ نہیں ہو گا بلکہ ان کے پیش نظر صرف یہ ہو گا کہ سیاسی حساب کیسے چکائے جا سکتے ہیں۔

خیر اگر موجودہ حادثے کی طرف آئیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ پٹریاں کمزور ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ چلو یہ تو مان لیتے ہیں کہ پٹریاں کمزور ہیں، لیکن یہ حادثہ پٹریوں کی وجہ سے نہیں ہوا۔بلکہ یہ ’’مس مینجمنٹ ‘‘ کا واقعہ ہے۔ ایک ٹرین جب کھڑی ٹرین پر جا کر لگتی ہے ، تو مطلب رابطے کا فقدان ہے۔ ہمیں اس معاملے میں سفاکی، بے رحمی دکھانے کے بجائے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اس قسم کی کہانیاں گھڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان حادثات میں قصور کس کا ہے؟موجودہ وزیر ریلوے اعظم سواتی، یا سابق وزرائے ریلوے شیخ رشید، سعد رفیق وغیرہ کا۔ بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کو بہتر بنایا جائے، ریلوے گزشتہ 50سال سے خسارے میں ہے۔لہٰذاریلوے اگر گزشتہ پچاس سالوں سے ٹھیک نہیں ہوسکا تو اسے اعظم سواتی یا کوئی ’’مغل اعظم‘‘ بھی نہیں ٹھیک کر سکتا۔ اگر اسی نظام کے تحت ریلوے کو چلانا ہے تو کم از کم پٹری اور سگنل سسٹم کی تجدید ہی کر دی جائے، یا اس ریلوے کو بھی ایم ایل ون منصوبے کے تحت نئی زندگی دی جائے ۔

ایم ایل ون منصوبہ 6ارب ڈالر یعنی 900ارب روپے سے زائد کا ہے جس کی منظوری ایکنگ دے چکا ہے تاہم ایک سال بعد بھی ایم ایل ون منصوبے پر کام شروع نہیں ہوسکا۔ یہ کب ہو گا، ابھی تک اس بارے بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذاوزیراعظم کو ذاتی طور پر دلچسپی لینے کے ساتھ اپنے دور میں ہوئے حادثات کی مکمل انکوائری رپورٹس مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو بھی ذمے دار ہوں انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ورنہ ہم یونہی اپنے پیاروں کے لاشے اکٹھے کرتے رہیں گے اور یونہی ایک دوسرے پر تہمتیں لگا کر بری الذمہ ہوتا جائیں گے!

About the author

Ali Ahmad Dhillon

Ali Ahmad Dhillon

Leave a Comment

%d bloggers like this: