Amar Jaleel Today's Columns

ٹارزن کی واپسی از امر جلیل ( سب جھوٹ )

Amar Jaleel
Written by Amar Jaleel

آپ سب جانتے ہیں کہ ٹارزن کی واپسی ہوچکی ہے۔ اس بات کو عرصہ گزر چکا ہے،لیکن پچھلے کئی روز سے ٹارزن اچانک کہیں غائب ہوگیا تھا؟میں جانتا ہوں ٹارزن کہاں غائب ہوگیا تھا۔ وہ اس لئے کہ میں ٹارزن کا دم چھلا ہوں۔ سائے کی طرح ٹارزن سے چپکا رہتا ہوں۔ ٹارزن کوچھان بین کی عادت ہے۔ جو واردات، واقعہ،گھٹنا ٹارزن کی سمجھ میں نہیں آتی، بیس منٹ تک صابن سے ہاتھ دھونے کے بعد اس کے پیچھے پڑجاتا ہے۔ بات کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

ٹارزن کواس بات نے سوچ میں ڈال دیاتھا کہ کیا اسرائیل دنیا کی سپر پاور ہے؟ کیا دنیابھر کے امن پسند اور مثبت سوچ رکھنے والے ممالک مل کر اسرائیل کو انسانیت کا قتل عام کرنے سے روک نہیں سکتے؟ کیا دنیا کا کوئی ملک اسرائیل کو اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا؟ کتنی طاقت ہے اسرائیل کے پاس؟ کیسے ممکن ہے کہ بالشت بھرکے ملک کے آگے دنیا بھرکے ممالک بے بس بنے ہوئے ہیں؟

تحقیق کے دوران ٹارزن نے کھوج لگالی کہ پاکستان میں ایک غیر معمولی قوت بکھری ہوئی ہے۔اگر اس قوت کو یکجا کیا جائے توا سرائیل جیسے پچاس ممالک کو ہم ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔ پہلی مرتبہ یہ بات سن کر مجھے تعجب ہواتھا۔پاکستان بننے سے بہت پہلے سے میں یہاں موجود ہوں۔ مگر مجھے نہیں یادپڑتا کہ ایسی کوئی غیر معمولی قوت، یا طاقت سے میرا کبھی واسطہ پڑا ہو، یا کبھی ان قوتوں کے بارے میں سنا ہو۔ مگر ٹارزن ٹارزن ہے۔ اس کی کھوج لگائی ہوئی معلومات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ٹارزن کی تمام تر معلومات تحقیق پر مبنی ہیں۔

میرے پوچھنے پر کہ غیر معمولی قوت یا قوتوں سے تمہاری مراد کیا ہے؟ ٹارزن نےکہا، تم نے سنیاسی باوا بھبھوت کانام سنا ہے؟ میرے انکار کرنے پر ٹارزن نے کہا، دبنگ قسم کا Bossباس جب اپنے ماتحتوں کاجینا دوبھر کردیتا ہے، ان کو ذلیل وخوار کردیتا ہے، ان کی عزت نفس کو تاراج کردیتا ہے تب بے بس ماتحت سنیاسی باوا بھبھوت کے چرنوں میں جاکر بیٹھتے ہیں۔ ظالم اور بے رحم باس سے جان چھڑانے کے لئے مدد مانگتے ہیں۔ سیاسی باوا بھبھوت پروفیشنل ہے۔ کام کرنے کے لئے فیس وصول کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ اس کا حق بھی بنتا ہے۔ دوتین دن بعد دبنگ باس کا کسی کو کہیں بھی نام ونشان نہیں ملتا۔ کوئی نہیں جانتا باس کو دھرتی کھا گئی، آسمان نگل گیا۔

میں نے حیرت سے پوچھا،’’ اغوا؟‘‘

’’ کوئی نہیں جانتا‘‘۔

’’ قتل؟ ‘‘

ٹارزن نے کہا ۔’’ کوئی کچھ نہیں جانتا۔ بس ڈرے ڈرے سہمے ہوئے ماتحتوں کی ایک بے رحم باس سے جان چھوٹ جاتی ہے‘‘۔

ایک شخص اچانک غائب ہوجائے، اپنے نام ونشان کے ساتھ گم ہوجائے، یہ کیوںکر ممکن تھا؟ مگر ٹارزن جو کچھ بتارہا تھا وہ تحقیق پر مبنی تھا۔ پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس غیرمعمولی طاقت ہے۔ وہ ناممکن کو ممکن بناسکتے ہیں۔ آپ کے پیچیدہ مسائل حل کرسکتے ہیں۔ قبضہ مافیا کتنی ہی زبردست کیوں نہ ہو سائیں بابا آپ کی جدی پشتی زمین ان کے قبضے سے چھڑا کرآپ کو دے سکتے ہیں ۔اگر آپ کسی کی املاک ہتھیانا چاہتے ہیں، تویہ کام بھی کرنے والی قوتیں پاکستان میں موجود ہیں۔ میں ہکابکا ہوکر ٹارزن کی طرف دیکھتا رہا۔

ٹارزن نے کہا۔’’ پاکستان میں ایسے ایسے سنیاسی باوا اور مائیاں موجود ہیں جن کے قبضے میں جنات ہیں۔ یہ ایسی طاقت ہے جس کا توڑ کسی کے پاس نہیں ہے‘‘۔

نہ جانے کیوں مجھے کپکپی محسوس ہونے لگی ۔خوف سا چھانے لگا۔ میں نے ٹارزن سے کہا۔’’ مجھے تمہاری باتوں سے ڈر لگ رہا ہے‘‘۔

’’ کیسا ڈر؟‘‘

میں نے کہا۔’’ ایسے طاقتور لوگ جنات اور جادوٹونوں کی مدد سے جب چاہیں حکومتوں کا دھڑن تختہ کرسکتے ہیں۔ جس کو چاہیں حاکم وقت بناسکتے ہیں۔ جس کو چاہیں اقتدار اعلیٰ سے محروم کرسکتے ہیں۔ یہ مجھے اپنی بہتر سالہ تاریخ کا بند پڑا ہوا باب سجھائی دے رہا ہے‘‘۔

اس کے بعد ٹارزن نے جوکچھ کہا، وہ مجھے افسانوی لگ رہاتھا۔مگر لب لباب سننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سن لیتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ پچھلے بہتر برسوں میں کسی نے کسی کو جم کرحکومت کرنے نہیں دی ہے۔ یہ جادو ٹونے اور جنات والے باواں اور سائیوں کا کارنامہ ہے۔ ٹارزن کویقین ہے کہ جادو ٹونے اور جنات والی قوت پر قبضہ رکھنے والوں کو یکجا کیاجائے، توان کی مجموعی طاقت کا توڑ کائنات میں ملنا محال ہے۔ وہ بدتمیز، بے درد،ظالم جیسے باس اسرائیل کو صفحہ ہستی سے غائب کرسکتے ہیں۔

میں ٹارزن کا دم چھلا ہوں مگر میں کوشش کے باوجود ٹارزن کی افسانوی باتیں قبول کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ ویسے آپس کی بات ہے۔ ٹارزن بھائی کی بات میں دم ہے۔ اگر پاکستانی جادوگر اور جادوگرنیاں آپس میں مل جائیں اور اپنے کالے علم، تعویذ،ٹونے اور جنات کی فوج سے اسرائیل پر چڑھ دوڑیں توپھر ہم اسرائیل کے عذاب سے دنیا کو نجات دلوا سکتے ہیں۔ دنیا بھول جائے گی کہ کبھی اسرائیل نام کا کوئی ملک وجود رکھتا تھا۔

About the author

Amar Jaleel

Amar Jaleel

Leave a Comment

%d bloggers like this: