Qazi Javaid Today's Columns

پیوٹن کو گرم پانیوں کا خواب پاکستان لارہا ہے از قاضی جاوید ( حرف خواب )

Qazi Javaid
Written by Todays Column

روس کی تجارتی اور عسکری برتری میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے منجمد سمندر ہیں جہاں آٹھ سے نوماہ کے دواران مستقل طور پر برف جمی رہتی ہے۔ ایک وقت تھا جب روس کی تجارت وسط ایشائی ریاستوں اور مغرب میں ریاست الاسکا سے کی جاتی تھی لیکن 1959ء ریاست الاسکا کی امریکا کے ہاتھوں فروخت کے بعد سمندروں کے راستے سے تجارت بہت کم رہ گئی تھی۔ اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے یو ایس ایس آر نے افغانستان پر خاص نظررکھتے ہوئے 9 سال تک لڑائی لڑی، اس کا آغاز دسمبر 1979ء میں ہوا لیکن قبل ازیں 1885ء میں روسی افواج نے آمو دریا کے جنوب میں واقع متنازع نخلستان پنج دہ کا قبضہ بزورِ طاقت افغان فوج سے حاصل کر لیا تھا اور اس پورے منصوبے کا ایک ہی مقصد تھا کہ سوویت یونین یا روس گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرے گا لیکن برسوں کی جنگ کے بعد روس کا گرم پانیوں تک پہنچنا تو در کنار اس کی افواج کو دریائے آمو سے یہ کہہ کر واپس لوٹنا پڑا کہ اب افغانستان کبھی واپس نہیں آئیں گے۔
برسوں گزرنے کے بعد روس نے ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کیا کہ وہ قانونی راستوں سے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرے گا اسی مقصد کے لیے اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے پہلے دورہ پاکستان کی امیدیں پیدا ہوچلی ہیں اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہو ا کہ آئندہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن۔ نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن جسے اب پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا بڑا مشترکہ منصوبہ ہے اور سیاسی ماہرین کو امید ہے کہ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
اس معاہدے پر پہلی بار 2015ء میں دستخط ہوئے تھے لیکن اس منصوبے پر 2010ء سے مذاکرات جاری تھے تاہم اس وقت روسی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے 1122 کلومیٹر طویل پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم دونوں ممالک نے ان تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے بالآخر ایک نئے ترمیمی معاہدے پر گزشتہ ہفتے دستخط کردیے ہیں جس کے تحت اس منصوبے میں 74 فی صد حصہ پاکستان کا ہوگا۔ 2 ارب 25 کروڑ ڈالر مالیت منصوبے کی تکمیل کے بعد پنجاب میں گیس کی قلت پر قابو میں مدد ملے گی۔ اس وقت پاکستان جو قدرتی مائع گیس (ایل این جی) درآمد کرتا ہے اسے بھی اسی پائپ لائن کے ذریعے درآمد کیا جاسکے گا جس سے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے ملک میں صنعتی پیداوار کو بغیر رکاٹ کے تسلسل سے جاری رکھا جا سکے گا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بھی خواہش ہے کہ وہ خود اس اہم منصوبے کا افتتاح کریں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے روسی صدر کے دورۂ پاکستان کے حوالے سے کوششیں کی جارہی ہیں اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دورے کی باضابطہ دعوت بھی روسی صدر کو بھجوادی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ روسی صدر چاہتے تھے کہ وہ پاکستان کا دورہ ایسے موقع پر کریں جب کوئی بڑا معاشی منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان شروع ہو اور اب اس گیس پائپ لائن معاہدے کے بعد انہیں یہ موقع فراہم ہوگیا ہے اور ان کے دورے کے امکانات قوی ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ اس گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کریں۔
پاکستان کے لیے عالمی سطح پر بدلتے رشتوں اور ترجیحات کے درمیان نئے اور پرانے دوستوں میں توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا گیا ہے۔ چین اور روس کی جانب سے پاکستان کی مکمل حمایت، تجارت اور دیگر امور پاکستان کو روس سے قریب لا رہے ہیں۔ پاکستان کے یہ نئے اور پرانے دوست یعنی امریکا اور روس ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے الزامات پر روس اور امریکاکے مابین اکثر تنازع ہوتا رہتا ہے اور اب امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مابین جنگ شروع ہو گئی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب روس اور بھارت ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور اس قربت نے ان کو عسکر ی بندھن میں مضبوطی سے باند ھ رکھا تھا اب بھارت امریکا کی جھولی میں ہے اور بھارت کواڈ میں امریکا، جاپان، آسٹریلیا کے ساتھ شامل ہے۔ امریکا نے چین کی جانب سے سامنے آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کواڈ کی تشکیل کی ہے۔ تاہم روس پہلے ہی کواڈ کے بارے میں اپنی ناراضی کا اظہار کر چکا ہے۔ اس نے اپنی بھی علاقائی سلامتی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ روس اور بھارت کے مابین 20 برسوں سے ہونے والی سالانہ کانفرنس کا انعقاد پچھلے سال نہیں ہوا اور کواڈ بھی اس کی ایک وجہ سمجھی جا رہی ہے تاہم بھارت اور روس نے اس کانفرنس کے عدم انعقاد کی وجہ کورونا کی وبا بتائی ہے۔ 8 دسمبر 2020ء کو ایک ویڈیو کانفرنس میں روسی بین الاقوامی امور کونسل سے خطاب کے دوران روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی ممالک بھارت کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ روسی فوجی مشق نے بھی بھارت کو بے چین کر دیا ہے۔
بھارت کی روس سے ایس 400 میزائل سسٹم کی خریداری پر امریکا رکاوٹ ہے۔ امریکی کانگریس کی ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ کی حالیہ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’روس میں بنے ایس 400 ائر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے لیے بھارت کے اربوں ڈالر کے سودے کے سبب امریکا (سی اے اے ٹی ایس اے) کے تحت بھارت پر پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ بھارت نے ایس 400 میزائل سسٹم کی خریداری پر دوبارہ مذاکرات شروع کر دیا ہے۔
اس پوری صورتحال نے بھارت کے ساتھ روس کی برسوں کی دوستی کو ختم کر دیا ہے اور پاکستان بہت تیزی کے ساتھ روس کے قریب آگیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ روس پاکستان سے قریب آتا جارہا ہے لیکن اس کی ایک وجہ وہی ہے جس کا ذکر میں اُ وپر کر چکا ہوں کہ روس کو اپنے عسکری اور تجارتی پھیلائو کے لیے گرم پانیوں کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے وہ قانونی راستے وسط ایشیائی ممالک سے ہوتا ہوا افغانستان سے ’’سی پیک میں شامل ہو کر گوادر تک پہنچ سکتا ہے۔ پیوٹن کی مسلمانوں سے ہمدردی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اسرائیل حماس جنگ میں پیوٹن کا کر دار بہت اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں اسرائیل کو دو ٹوک لفظوں میں دھمکی دی کہ اگر اس نے مسجدِ اقصیٰ کی پوزیشن کو تبدیل کر کے ہیکلِ سلمانی بنانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف روس حملہ کردے گا۔ پاکستان سے دوستی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہوسکتی لیکن پیوٹن کو گرم پانیوں کا خواب پاکستان لارہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ روس نے گرم پانیوں تک پہنچنے کے لیے قانونی راستے کا انتخاب کیا اور پاکستان اس کے ساتھ ہے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: