Aneela Afzal Today's Columns

پاکستان میں ڈرامہ کے اداکاروں کے لیے مواقع از انیلہ افضال

Aneela Afzal
Written by Todays Column

ایک دور تھا کہ پاکستان میں انٹرٹینمنٹ کے لیے صرف فلمیں ہی میسر تھیں۔ بہت عمدہ اور کلاسیکل فلمیں بنتی تھیں اور سالوں عوام پر سحر طاری کیے رکھتی تھیں۔ پھر ٹیلی ویژن کا دور شروع ہوا۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز 26 نومبر 1964ء کو لاہور کے اسٹیشن سے ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد ٹی وی پر ڈرامہ کا بھی آغاز ہو گیا۔ پی ٹی وی نے اپنا پہلا ڈرامہ ’’نذرانہ‘‘ پیش کیا، جس میں محمد قوی خان، کنول نصیر اور منور توفیق نے اداکاری کی۔ اس کا سکرپٹ نجمہ فاروقی نے لکھا تھا اور اسے ڈائریکٹ فضل کمال نے کیا تھا۔ یوں پاکستان ٹیلی ویژن پر ڈرامہ کا ارتقاء عمل میں آیا۔ جب کیبل یا ڈش کا وجود نہیں تھا تو گھروں میں پی ٹی وی کے ڈراموں کا سحر طاری رہتا تھا۔ جن گھرانوں کو ٹی وی جیسی نعمت میسر تھی وہ خوش قسمت گردانے جاتے۔ ٹی وی بھی آج کل کے ٹی وی کی طرح سمارٹ نہیں تھا بلکہ عظیم الجثہ ہوتا تھا۔ گرمیوں میں اس دیو ہیکل ٹی وی کو کمرے سے نکال کر صحن میں رکھنا ایک عذاب عظیم سمجھا جاتا تھا، سو ہر شام اسے اٹھانے کے لیے بہن بھائیوں میں سے دو افراد کی باریاں مقرر ہوتی تھیں۔ ایک ہی چینل پی ٹی وی ہوتا تھا۔ اس دوران سر شام ہی صحن میں چھڑکاؤکر کے چارپائیوں کے آگے بچوں کے بیٹھنے کے لیے چٹائیاں بچھا دی جاتی تھیں۔ صبح سات بجے پی ٹی وی کی نشریات کا باقاعدہ آغاز ہوتا تھا تو اس وقت بچے سکول جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے۔ ’’چاچا جی‘‘ مستنصر حسین تارڑ صبح کی نشریات میں ہر صبح نئے پیغام اور آہنگ کے ساتھ پی ٹی وی پر جلوہ گر ہوتے۔ یہ نشریات سوا آٹھ بجے تک چلتیں۔ شام میں باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوتا تھا۔ جہاں چھ بجے علاقائی ڈرامے دکھائے جاتے تھے اور آٹھ بجے پرائم ٹائم ڈرامہ پیش کیا جاتا تھا۔ پی ٹی وی کا ڈراما تفریح طبع کے ساتھ ساتھ معاشرتی تربیت کے حوالے سے ایک بہترین اتالیق، مبلغ اور مصلح کا انداز اپنائے ہوئے تھا۔ وارث، تنہائیاں، جانگلوس، عروسہ، اندھیرا اجالا، دھواں، آہٹ، عینک والا جن اور گیسٹ ہاؤس جیسے ڈراموں کو دیکھنے کے لیے محلے کی عورتیں اور بچے اکثر ٹی وی والے گھر میں براجمان ہو جاتے تھے۔ پی ٹی وی پر ہر جمعرات کو طارق عزیز کا نیلام گھر پروگرام نشر ہوتا تھا اور پھر رات گئے ایک اردو فلم بھی ضرور لگتی تھی۔ جمعۃ المبارک کو ہفتہ وار سرکاری تعطیل ہوتی تھی۔ اس دور میں پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامے نے اپنے ناظرین کو سحر میں لے رکھا تھا۔ تب ہماری فیچر فلمیں بھی تہذیبی زندگی اور بڑی حد تک عمومی شائستگی کا مظہر ہوا کرتی تھیں۔
پھر گزرتے وقت نے دیکھا کہ ٹیلی ویژن نے ایسے ایسے مایہ ناز اور تاریخ ساز ڈرامے پیش کیے جن کی مثال نہیں ملتی۔ خدا کی بستی، دھواں، وارث، ہوائیں، دھوپ کنارے، تنہائیاں، انکل عرفی، شمع اور ایسے ہی بے شمار نام کہ جن کا وقت شروع ہوتے ہی سڑکیں ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ مگر یہاں ہمارا موضوع ٹی وی ڈراما نہیں بلکہ ڈرامے کے فنکار ہیں۔
ایک طویل عرصے تک پی ٹی وی نے تن تنہا ڈرامہ انڈسٹری پر راج کیا۔ اس دور میں پی ٹی وی پر اداکارہ کا موقع ملنا گویا ایسا ہی تھا جیسے کسی طالب علم کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے اور وہ بھی سکالر شپ کے ساتھ۔ پی ٹی وی پر اداکاری کا معیار بھی بہترین تھا یہی وجہ ہے کہ اس دور نے نہ صرف بہترین ڈرامے دئیے بلکہ بہترین اداکار بھی پیدا کیے۔ خالدہ ریاست، شفیع محمد، آصف رضا میر، شہناز شیخ، ثمینہ پیرزادہ، اور بے شمار نام ہیں جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ 90ء کی دہائی کے آغاز میں پاکستان میں ایک نیا چینل شروع کیا گیا۔ جس سے فنکاروں کو کام کے بہتر مواقع میسر آئے۔ نئی صدی میں تو جیسے چینلز کا سیلاب آ گیا۔ مقابلے کی ایک فضا قائم ہو گئی۔ اداکاروں کو بہترین کام ملنے لگا اور اس کے ساتھ ساتھ بہترین معاوضہ بھی۔ دیکھے ہی دیکھتے چھوٹے اداکار بھی بڑی سوسائٹیوں میں منتقل ہو گئے۔ ان مواقع کو دیکھتے ہوئے شوبز کے دوسرے اداروں سے بھی لوگوں نے اداکاری کا رخ کیا، خاص طور پر ماڈلنگ سے اداکاری کی طرف نقل مکانی کا ایک سفر شروع ہو گیا۔ بابرہ شریف سے لے کر موجودہ دور کے کئی کامیاب اداکاروں کی ایک طویل فہرست ہے، جنہوں نے ماڈلنگ سے اداکاری کی طرف ہجرت کی۔ اس وقت ملک میں کئی انٹرٹینمنٹ چینلز کام کر رہے ہیں۔ ان میں مقابلے کے فضا بھی خوب ہے۔ ہر چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے نت نئے موضوعات پر ڈرامے تخلیق کر رہا ہے۔ نتیجتاً اداکاروں کے پاس اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے زیادہ مواقع موجود ہیں۔ بلاشبہ ان حالات میں اداکار زیادہ پیسہ بھی کما رہے ہیں۔ اے آر وائے، اے پلس، اے آر وائے زندگی، اے ٹی وی، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ، جیو کہانی، جیو ٹی وی، ہم ٹی وی، ہم ستارے اور بہت سے دوسرے ٹی وی چینلز نے اپنے دروازے باصلاحیت فنکاروں کے لیے کھول رکھے ہیں۔
ایک وقت تھا جب مواقع نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی اداکار پڑوسی ملک کا رخ کرتے تھے اور وہاں چھوٹے موٹے رولز کرنے کو بھی اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے۔ مگر بلندیوں کو چھوتی اس ڈرامہ انڈسٹری نے اداکاروں کا معیار بھی بلند کر دیا ہے۔ اب اگر وہ کسی دوسرے ملک میں کوئی پروجیکٹ کرتے ہیں تو معیار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ عدنان صدیقی پاکستان کے واحد اداکار ہیں جو بالی وڈ اور ہالی وڈ کی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں۔ ہالی وڈ فلم ’’اے مائٹی ہارٹ‘‘ میں اینجلینا جولی، عرفان خان، اور علی خان کے ساتھ اسکرین شئیر کرنا ہو یا بالی وڈ فلم ’’موم‘‘ میں سری دیوی، اکشے کھنہ اور نواز الدین صدیقی کے ساتھ اداکاری کرنا ہو۔ عدنان صدیقی جہاں بھی گئے ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اس کے علاوہ ماورا حسین نے بھی پڑوسی ملک کی ایک فلم میں ہیروئین کے کردار میں خوب داد سمیٹی۔
پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں اداکاروں کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع دیکھتے ہوئے کئی غیر ملکی فنکار بھی پاکستانی ڈراموں میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ان میں ترک اداکار ارتغرل، بنسی اور عبدالرحمن سر فہرست ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ترکی ڈراموں کو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا مگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور ترک اداکار خود پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
ڈرامہ انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے مواقع نے جہاں اداکاروں کو معاشی طور پر خوش حال کیا ہے، وہیں ان میں کچھ منفی رویے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ سینئر ہدایت کارہ مہرین جبار نے اداکاروں کے رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک اداکار ڈرامے کے سیٹ پر دوپہر ایک بجے سے پہلے نہیں پہنچتا اور پوری ٹیم اس کا انتظار کرتی رہتی ہے۔
انہوں نے اداکاروں کے ایسے رویوں کو باقی پوری ٹیم کی بے عزتی بھی قرار دیا اور کہا کہ اوپر سے ٹی وی چینلز مالکان کا ٹیم پر دباؤ رہتا ہے کہ وہ وقت پر انہیں منصوبے پیش کریں۔ ایک اور ہدایت کار کا کہنا ہے کہ بعض اداکار لگژری ہوٹلوں سے کھانا آرڈر کرتے ہیں جبکہ وہیں پر ان کے ساتھی سادہ بریانی کھا رہے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک منفی رویہ ہے۔ اگر بات کریں کہانی کی تو پاکستانی ڈراموں کی بیشتر کہانیاں ساس بہو کے جھگڑوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ڈرامہ نگاروں سے لے کر ہدایت کار، پروڈیوسرز حتیٰ کہ پروڈکشن ہاؤسز بھی کہانیوں کی اس یکسانیت کا ذمہ دار چینلز کو ٹہراتے ہیں جو ان کے بقول ’’ٹی آر پیز‘‘ کے چکر میں کسی نئی کہانی کو موقع دینے سے کتراتے ہیں۔ ٹی وی چینلز کا موقف ہے کہ ان کا ڈرامہ عورتیں دیکھتی ہیں اور وہ انہی کے لیے ڈرامہ بناتے ہیں۔ ڈرامہ نگار ابو راشد کہتے ہیں ’’کہانیوں پر کام کرنے کے لیے ڈرامہ نگار کو آزادی نہیں دی گئی۔ سکرپٹ اور لیرکس بتاتے ہیں کہ یہ چلے گا یا نہیں چلے گا۔‘‘
گزشتہ دہائی سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کامیابی کی نئی بلندیوں کی جانب گامزن تھی۔ سال 2020ء کے پہلے ہی مہینے میں ہمایوں سعید کے سپر ہٹ ڈرامے ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط سنیما اور ٹی وی پر بیک وقت پیش کی گئی۔ اس کے بعد تو وباء کی وجہ سے جیسے زندگی کو بریک لگ گئی۔ ڈرامہ انڈسٹری بھی اس کی زد سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اس جھٹکے کو بڑے اداکار تو جھیل گئے لیکن چھوٹے فنکاروں نے بہت مشکل وقت دیکھا۔ دراصل فلم اور ڈرامے سے وابستہ ہر شخص کو شکایت ہے کہ پاکستان میں ان کی انڈسٹری نہیں ہے۔ نوجوان پروڈیوسر سعدیہ جبار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’حکومت اسے ایک انڈسٹری کا درجہ دے تا کہ ٹیکس سے لے کر تکنیکی سہولیات تک ریاستی سپورٹ حاصل ہو اور پروڈیوسرز اور سرمایہ کاری کرنے والے بلا خوف کام کر سکیں۔‘‘ ہدایت کار احتشام الدین نے حکومتی سرپرستی اور کسی اکیڈمی کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ارتغرل غازی ڈرامہ جس نے شہرت کے ریکارڈ توڑے ہیں دراصل حکومتی سر پرستی کے باعث ہی ممکن ہو سکا ہے۔‘‘ ان حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت انڈسٹری اور فنکاروں کی سرپرستی کرے تا کہ اس انڈسٹری سے ٹیکس حاصل کیا جا سکے اور ملکی ترقی پر خرچ کیا جائے۔ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جائے اور اداکاروں کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹرز اور تکنیکی عملے کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔ آج اگرچہ ٹی وی چینلز کی بھر مار کے باعث اداکاروں کو بہت سے مواقع حاصل ہیں مگر ڈرامہ انڈسٹری کا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: